اقتباسات

03رجب المرجب یومِ وصال عاشقِ رسولؐ حضرت اویس قرنیؓ۔۔

03رجب المرجب یومِ وصال
عاشقِ رسولؐ حضرت اویس قرنیؓ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ایمان کا لازمی جز ہے لیکن اس محبت کا صرف زبانی اظہار کافی نہیں بلکہ مذہب اسلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان اپنے آقا ومولیٰ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں اتنے سرشار ہو جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت تمام محبتوں پر غالب آ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بے حد محبت فرماتا ہے اور انہی لوگوں کو عزیز رکھتا ہے جو اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور ان کا درجہ و مرتبہ تو اس کی بارگا ہ میں بہت بلند ہے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق کرتے ہیں۔ ایسے ہی عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں صحابہ کرامؓ کے بعدسر ِ فہرست نام حضرت اویس قرنیؓ کا ہے۔

حضرت اویس قرنیؓ کی ولادت مبارک
حضرت اویس قرنیؓ کی ولادت باسعادت یمن کے ایک گاؤں قرن کے قبیلہ مراد میں ہوئی۔ آپ ؓکے والد محترم کا نام عامر ہے۔ آپؓ کی والدہ نے آپؓ کا اسم ِمبارک اویس رکھا اور اسی نام سے آپ ؓنے شہرت پائی۔ آپؓ کے والد محترم عامر کا انتقال آپؓ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔آپؓ کی والدہ ماجدہ کافی ضعیف اور نابینا تھیں۔ آپ ؓ کی والدہ کا نام بدار بیان کیا گیا ہے۔ آپؓ کی عمر کا زیادہ تر حصہ اپنی والدہ محترمہ کی خدمت میں ہی گزرا۔

قرن کی وجہ شہرت
قرن یمن کے نواح میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جب اس کی تعمیر کے سلسلہ میں کھدائی کی گئی تو زمین سے گائے کا ایک سینگ نکلا۔ عربی میں سینگ کو قرن کہتے ہیں اس لیے گا ؤں کا نام قرن مشہور ہو گیا۔ آپؓ کی پیدائش اس گاؤں میں ہوئی اس لیے آپؓ کے نام کے ساتھ قرنی پکارا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپؓ کے جسم مبارک پر کافی زیادہ بال تھے اس لیے ان کوقرنی کہا جاتاہے اور قرن کے معنی بال بھی ہے۔(بحوالہ کتاب:سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل)

حلیہ مبارک
حضرت عبد الوہاب الشعرانی قدس سرہٗ کے مطا بق آپؓ کا حلیہ مبارک اس طرح ہے کہ آنکھوں کا رنگ سرخی مائل زرد اور رنگت گہری گندمی تھی۔ چہرے مبارک جھکائے رکھتے اور نظر سجدہ کے مقام کی طرف ہوتی اور اپنے بائیں ہاتھ پراپنا دایاں ہاتھ رکھے ہوتے۔
حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا ہے کہ:
’’ میں نے حضرت اویس قرنیؓ کو اون کاکمبل لیے دیکھا ہے جس میں پیوند لگے ہوئے تھے۔‘‘
( بحوالہ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری)

’’فصل الخطاب‘‘ کتاب کے مصنف حضرت محمد پارسا رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف میں حضرت حسن بصریؓ کے حوالے سے روایت لکھتے ہیں کہ حضرت حسن بصریؓ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کو پیوند لگے ہوئے کمبل میں اور حضرت اویس قرنیؓ کو اونٹ کی کھال کے پیوند لگے ہوئے لباس میں دیکھا ہے۔
حضرت اویس قرنیؓ لباس کے معاملے میں اس قدر کفایت شعار تھے کہ روایات میں آتا ہے کہ آپؓ کے پاس بالوں کی ایک چادر اور ایک پاجامہ تھا۔
’مستدرک‘ میں ہے کہ حضرت اویس قرنیؓ وہ کھانا جو پیٹ کے اندر موجود ہ ہوتا اور وہ لباس جو پہنے ہوئے ہوتے تھے‘ کے علاوہ کوئی بھی چیز اپنے پاس نہ رکھتے تھے اورفرمایا کرتے تھے :
’’اے اللہ! میں تجھ سے بُھوکے پیٹ اور ننگے بدن کی معذرت چاہتا ہوں، وہ لباس جو میرے بدن پر ہے اور وہ غذا جو میرے پیٹ میں ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ (بحوالہ کتاب: سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل)

ذریعہ معاش اور بود وباش
مجالس المومنین میں درج ہے کہ حضرت اویس قرنیؓ شتربانی کیا کرتے تھے اور یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔ اس سے ملنے والی مزدوری سے اپنے اور اپنی والدہ ماجدہ کے خورد و نوش کا انتظام کرتے تھے اور قرن میں آپؓ جیسا کوئی مفلس اوربے نوا کوئی دوسرا نہ تھا۔ جس گلی کوچے سے گزرتے لوگ آپؓ سے گھن کرتے اور آپؓ پر پتھر پھینکتے اور سر پر خاک اچھالتے تھے۔
حضرت اصمع رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں ـ’’جو کچھ رات کو آپؓ کے ہاں باقی بچتا تو آپؓ سب خیرات کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ’’یاالٰہی ! اگر کوئی بھوکا پیاسا مرگیا تو مجھ سے مواخذہ نہ کرنا۔‘‘( بحوالہ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری)
حضرت اویس قرنیؓ عشق ِمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں اس قدر مستورالحال تھے کہ لوگ آپؓ کو دیوانہ سمجھتے تھے۔ عشق ِمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وہ مطہر جذبہ جو اویس قرنیؓ کے قلب ِ اطہر میں موجزن تھا تاریخ ِانسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپؓ عشق کے جس عظیم مقام و مرتبہ پر فائز تھے اسے دیکھ کر صحابہ کرامؓ نے بھی رشک کیا۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باطنی فیض سے حضرت اویس قرنیؓ کا سینہ منور و تاباں تھا۔ یہ پروردگار ِ عالم کا آپ ؓپر خصوصی فضل وکرم تھاکہ اس نے اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت وعشق کی دولت سے آپؓ کے قلب کو مالا مال کر دیا تھا۔ اس باطنی فیض کے نور سے آپؓ نے حقیقت ِ محمدیہ کی معرفت حاصل کی۔ و ہ سر ِ الٰہی جسے ہر کوئی نہیں پا سکتااُسے آپؓ نے مدینہ طیبہ سے دور قرن میں بیٹھ کر پالیا۔
حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آپؓ پر خصوصی نگاہِ کرم تھی۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق کی جو تڑپ ولگن حضرت اویس قرنیؓ کے د ل میں موجود تھی حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سے بخوبی آگاہ تھے۔ عشق ِ مصطفیؐ نے آپ ؓکے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مابین ایک مضبوط باطنی و روحانی تعلق قائم کردیا۔

شانِ حضرت اویس قرنیؓ احادیث کے آئینہ میں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ـ’’تابعین میں سب سے بہتر ایک شخص ہے جس کا نام اویسؓ ہے اس کی ضعیفہ ماں ہے۔ اویسؓ کے ہاتھ پر برص کا نشان ہے۔ تم جب اُس سے ملوتو اسے کہنا کہ امت کے حق میں دعائے مغفرت کرے۔ (مسلم 6491)

حضرت ابن سعد ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’تابعین میں میرا بہترین دوست اویس قرنیؓ ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم۔ابن ِسعد)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ایک شخص میری اُمت میں ہو گا جس کو لوگ اویس قرنیؓ کہتے ہیں اس کی مغفرت کی دعا سے قبیلہ ربیع اور قبیلہ مضر کی بھیڑ بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر میری اُمت بخش دی جائے گی۔‘‘(بحوالہ کتاب:سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل)

فرید الدین عطارؒ اپنی کتاب ’’تذکرۃ الاولیا‘‘ میں فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اکثر اوقات غروبِ آفتاب کے وقت صحابہ کرامؓ کے ہمراہ شہر سے باہر تشریف لے جاتے اور یمن کی جانب اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے ’’مجھے یمن کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی خوشبو آتی ہے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ محشر کے روز ستر ہزار ملائکہ کے جلو میں اویس قرنیؓ جنت میں داخل ہو ں گے اور وہ ستر ہزار ملائکہ آپؓ کے ہم شکل ہوں گے تاکہ حضرت اویس قرنیؓ کی شناخت نہ ہو سکے۔ صرف اُس شخص کو ان کی شناخت ہو گی جس کو اللہ تعالیٰ اُن کے دیدار سے مشرف کرنا چاہے گا۔ یہ اس وجہ سے ہو گا کہ آپؓ نے اپنی ساری زندگی خلوت نشین ہو کراور مخلوق سے پردہ پوشی اختیارکر کے محض اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت و ریاضت میں صَرف کی۔ (بحوالہ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں ایسے برگزیدہ بندوں کو دوست رکھتا ہے جو دُنیا داروں کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ ان کے چہروں کے رنگ سیاہ، پیٹ ساتھ لگے ہوئے، کمریں پتلی ہوتی ہیں اور وہ ایسے لاپروا ہوتے ہیں اگر بادشاہ بھی ملے اور ان سے ملاقات کی اجازت طلب کرے تو وہ اجازت نہ دیں، اگر مالدار عورتیں نکاح کرنا چاہیں تو نکاح نہ کریں، اگر گُم ہو جائیں تو کوئی اُن کی جستجو نہ کرے، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے پر لوگ شریک نہ ہوں، اگر ظاہر ہوں تو ان کو دیکھ کر کوئی خوش نہ ہو اوراگر بیمار ہوں تو کوئی مزاج پُرسی نہ کرے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! فرمائیے وہ کون ہے؟فرمایا: وہ اویس قرنیؓ ہے۔‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیاکہ یہ اویس قرنیؓ کون ہے؟ فرمایا: اس کا حلیہ یہ ہے کہ اس کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی، قد درمیانہ ہو گا اور دونوں کانوں کے مابین خاصا فاصلہ ہوگا۔ دایاں ہا تھ بائیں ہاتھ پر رکھا ہوگا۔ آنکھیں سجدہ گاہ پر لگی ہوئی ہوں گی، ٹھوڑی سینے کی جانب جھکی ہوئی ہوگی۔ جسم پر پرانے کپڑے ہوں گے جو پہنے ہوئے ہو گا ایک پاجامہ اور دوسری چادر،دنیا میں کوئی بھی اسے نہیں جانتا لیکن آسمانوں پر بڑی شہرت ہے اگر وہ کسی بات پر قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو سچ کر دے۔‘‘ (بحوالہ کتاب:سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشق ِ رسولؐ،محمد الیاس عادل، کتاب: حضرت اویس قرنیؓ اور ہم،ڈاکٹر سید محمد عامر گیلانی)

عبادات و مجاہدات کا ذوق و شوق
مولانا معین الدین ندوی اپنی کتاب سیرت الصحابہ میں رقم کرتے ہیں ’’آپؓ ساری رات قیام میں گزار دیا کرتے تھے۔‘‘ دوسری رات آپؓ رکوع میں گزار دیتے تھے اور اسی طرح تیسری رات سجدہ میں گزار دیتے تھے۔‘‘ جب لوگوں نے آپؓ سے پوچھا کہ کیا آپؓ اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ روزانہ ایک ہی حالت میں دراز رات گزار دیتے ہیں۔ آپؓ نے جواب میں فرمایا ’’دراز راتیں کہاں ہیں؟ کاش ازل سے ابد تک ایک ہی رات ہوتی جس سے ایک سجدہ کر کے گریہ بسیار کرنے کا موقع نصیب ہوتا مگر افسوس کہ راتیں اتنی چھوٹی ہیں کہ صرف ایک ہی مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ کہنے پاتا ہوں کہ دن طلوع ہوجاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے عبادت کرو ں جیسے فرشتے عبادت کرتے ہیں۔‘‘ آپؓ کو نماز سے بہت زیادہ محبت تھی کیونکہ آپ کے محبوب تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی نماز سے بہت زیادہ محبت تھی۔( بحوالہ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری)

ترکِ دنیا
حضرت اویس قرنیؓ کی توجہ دنیا سے ہٹ کر آخرت کی طرف مائل ہو چکی تھی۔آپؓ دنیا سے صرف اس قدر ہی واسطہ رکھتے تھے جس قدر زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ آپؓ گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے اسی لیے آبادی سے دور رہنے کو ترجیح دیتے تھے اس کی خاطر آبادی سے دور ایک مکان میں مقیم تھے۔ جب اُس مکان تک بھی لوگوں کی رسائی ہو گئی اور آپ ؓکی عبادت میں خلل پیدا ہونا شروع ہوا تو آپ نے وہ مکان کو چھوڑ دیا اور جنگل کی جانب نکل گئے اور یکسوئی کے ساتھ عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔

آپؓ فجر کی اذان کے وقت گھر سے نکلتے اور نمازِ عشا پر واپس تشریف لاتے تھے۔ اپنے کھانے سے زیادہ جو خوراک آپؓ کے پاس ہوتی وہ غریبوں میں بانٹ دیتے،آپ ؓ کو دنیاوی چیزوں سے قطعاً محبت نہ تھی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مبارک بھی یہی ہے کہ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے (اس لیے دنیا سے محبت نہ رکھو۔)

یہی وجہ تھی کہ حضرت اویس قرنیؓ بھی دنیا کی پروا نہ کرتے تھے اور دنیا سے الگ تھلگ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رکھا ہوا تھا۔ آپؓ جانتے تھے کہ دنیا سے محبت رکھنے کا مقصد اپنی آخرت برباد کرنے کے مترادف ہے۔

اس ترکِ دنیا پر آپؓ کو بہت مصائب کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لوگ آپؓ کو تنگ کرتے مگر آپ نے کسی کے لیے بددعا نہ فرمائی۔ جب کبھی آبادی کی طرف آتے تو ناسمجھ لوگ اور بچے آپؓ کی حالت دیکھ کر ہنستے اور آپؓ کو دیوانہ سمجھتے اور تنگ کرنے کی غرض سے آپؓ پر پتھر پھینکتے تو آپؓ ان سے مخاطب ہو کر فرماتے:

’’لوگو! چھوٹی کنکریاں مارا کرو، بڑے بڑے پتھر مارنے سے میرا خون بہہ جاتا ہے اور میرا وضو جاتارہتا ہے ،تمہارے ایسا کرنے سے میری نماز قضا ہو جاتی ہے۔‘‘(بحوالہ کتاب:سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل)

درِمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر حاضری
امام التابعین حضرت اویس قرنیؓ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا زمانہ پایا اور غائبانہ اسلام قبول کیا لیکن عہد ِ رسالت میں موجود ہونے کے باوجود ظاہری ملاقات سے محروم رہے۔ آپؓ نادیدہ جمالِ نبویؐ کے پروانوں میں سے تھے۔ آپ ؓ کا شمار ان برگزیدہ وارفتگانِ محبت میں ہوتا ہے جن کی تخلیق ہی عشق ومحبت کے خمیر سے ہوئی تھی۔ بندگانِ خدا مقربین ِخدا ہوتے ہیں۔ ذاتِ باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے آپؓ کا تعارف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کرادیا تھا۔ محب اور محبوب کے درمیان ظاہری نہیں بلکہ باطنی طور پر ربط وتعلق تھا۔ غلبہ ٔحال اور استغراق کے باعث آپؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شرفِ دیدار سے محروم رہے۔ دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر نہ ہونے کی ایک وجہ آپؓ کی والدہ ماجد ہ بھی تھیں جو ضعیفہ اور نابینا تھیں اور آپؓ کو خود سے جدا نہ ہونے دیتی تھیں۔ آپؓ دن رات ان کی خدمت و اطاعت میں رہتے تھے۔ قرآنِ کریم میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے بعدوالدین کی اطاعت و خدمت کاحکم اکثر ملتا ہے۔ اس لیے آپؓ حکم ِ ربانی کے پیش ِنظر والدہ کی خدمت میں رہنا ضروری سمجھتے تھے۔آپؓ استطاعت نہ رکھتے تھے کہ والدہ کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں پیش ہو سکیں اورنہ ہی اُن کو ایک لمحہ کے لیے تنہا چھوڑ سکتے تھے۔اس لیے آپؓ زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محروم رہے۔

دیدارِ جما ل مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شوق اور عشق ِ حبیبؐ خدا نے حضرت اویس قرنیؓ کو انتہائی بے قرار کردیا۔آپؓ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے تو ایک دن ہمت کرکے والدہ ماجدہ سے رخصت کی اجازت طلب کرہی لی۔والدہ نے اجازت دیتے وقت فرمایا کہ جلد واپس آ جانا۔ آپؓ نے ضرورت کی چند چیزیں لیں اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ننگے پائوں بے تابی سے بھاگے چلے گئے۔ قرن سے مدینہ کا طویل سفر پا پیادہ طے کر کے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچے۔ حضرت عائشہؓ کے حجرہ پر تشریف لے گئے اور دریافت کرنے پر پتہ چلاکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باہر تشریف لے گئے ہیں تو آپؓ نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے میرا سلام عرض کر دیجئے گا۔ والدہ ماجدہ کے حکم کے مطابق آپؓ انتظار کیے بغیر واپس لوٹ آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گھر تشریف لائے تو ایک نور کا ہالہ دیکھا جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا کہ یہاں کون آیا تھا، انہوں نے کہا کہ ایک شتر بان تھا جو سلام کہہ کر چلا گیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاتحقیق یہ نور اویس قرنی کا ہے۔ (بحوالہ کتاب: سیرت حضرت اویس قرنیؓ،پروفیسر محمد طفیل چوہدری)

سفرمدینہ
حضرت اویس قرنیؓ نے والدہ ماجدہ کی وفات کے بعدکئی بار مدینہ طیبہ کا سفر کیا۔ مدینہ طیبہ میں درِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حاضری کے بارے میں حضرت سلطان ولد نے اپنی کتاب ـ’’ مثنوی‘‘ میں لکھا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد آپؓ کو روضہ مقدسہ کی زیارت کا شوق غالب آیا۔آپؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔صحابہ کرام ؓ نے آپؓ سے سوال کیا کہ آپؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں زیارت کا شرف کیوں نہ حاصل کیا۔آپؓ نے فرمایا کہ میری والدہ بیمار رہتی تھی اورمجھے اپنے پاس سے کہیں جانے نہیں دیتی تھیں۔صحابہ کرامؓ نے فرمایا ہم نے تواپنے مال و متاع اور ماں باپ کو بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت اور شوق میں قربان کر دیا اور آپؓ فقط اپنی ماں کو چھوڑ کر نہ آسکے۔آپؓ نے فرمایاکہ آپ حضرات کو تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اور خدمت میں رہنے کا شرف حاصل رہا ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حلیہ مبارک تو بیان فرمائیے۔ صحابہ کرام ؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری صورت اور دیگر اعضا مبارک کی بعض نشانیاں اور کچھ معجزات بیان فرمانے لگے۔ حضرت اویس قرنیؓ نے فرمایا میری مراد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری شکل و صورت سے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باطنی شکل و صورت اور معنوی جمال دریافت کرنا چاہتا ہوںوہ بیان فرمائیے۔صحابہ کرامؓ نے فرمایا ہمیں جس قدر معلوم تھا بیان کر دیا اگر اس سے زیادہ آپؓ کو معلوم ہو تو بیان فرمائیں۔ اس پر حضرت اویس قرنیؓ نے عشق ِ مصطفی میں سرشار ہو کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جمال و کمال، عادات وخصائل اور حلیہ مبارک کا اس طرح سے بیان فرمایا کہ صحابہ کرامؓ پر بے خودی اور جذب کی کیفیت طاری رہی پھرجب حالت سنبھلی تو صحابہ کرامؓ کو حضرت اویس قرنیؓ پر بہت رشک آیا اور محبت کے جذبات سے مغلوب ہو کر آپؓ کے ہاتھوں کے بوسے لیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ؓ کوسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کس قدر عشق تھا اور کتنا قربِ باطنی حاصل تھا۔ (بحوالہ کتاب: سیرت حضرت اویس قرنیؓ،پروفیسر محمد طفیل چوہدری ،بحوالہ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری)

حضرت اویس قرنیؓ کی تلاش
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے وصا ل سے پہلے صحابہ کرامؓ کو وصیت فرمائی کہ میرا جبہ مبارک میرے اویس قرنیؓ کے پاس لے جانا اور میرا سلام پہنچانا اور میری اُمت کے لیے دعا طلب کرناکیونکہ اویسؓ کی دعا میری اُمت کے لیے مقبول ہو گی جب آپ لوگ یمن جاؤ گے تو اویسؓ کو شتربانوں کے درمیان بیٹھا پاؤ گے۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت عمرفاروقؓ دونوں قرن تشریف لے گئے اور لوگوں سے اویس قرنیؓ کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتا یا کہ ہاں ایک دیوانہ شخص لوگوں سے الگ بیٹھا رہتا ہے۔ وادی عرفہ میں شتربانی کرتا ہے۔ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ وادی عرفہ تشریف لے گئے اور حضرت اویس قرنیؓ کو نماز میں مصروف دیکھا۔ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت علیؓ اورحضرت عمرؓ دونوں آپؓ کے سامنے بیٹھ گئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سلام پہنچایا اور جبہ مبارک پیش کیا اور اُمت ِ محمدیہ کے لیے دعائے مغفرت طلب کی۔ حضرت اویس قرنیؓ نے جبہ مبارک چوما اور سر بسجود ہو گئے اور روتے ہوئے مناجات کی ’’یا اللہ!تیرے محبوب کا جبہ مبارک اس وقت تک نہ پہنوں گا جب تک اُمت ِمحمدیہ بخشی نہ جائے۔ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ کام میرے ذمہ لگایا ہے ۔ غیب سے آواز آئی کہ اتنے ہزار لوگوں کو بخش دیا ہے۔آپؓ نے کہا میں نے تو سب کی مغفرت طلب کی ہے۔آواز آئی اتنے ہزار مزید بخش دئیے ہیں۔ آپؓ اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ آواز آئی کہ اتنی اُمت محمدیہ بخش دی گئی جتنی تعداد میں قبیلہ ربیع اور قبیلہ مضر کی بھیڑ بکریوں کے جسموں پر بال ہیں۔ یہ بشارت پا کر آپؓ نے اپنا سر مبارک سجدے سے اٹھایا اور جبہ مبارک پہنا اور حضرت علیؓ اور حضرت عمر ؓکو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آگاہ کیا۔

حضرت اویس قرنیؓ ایک عاشق رسولؐ
حضرت اویس قرنیؓ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظاہری دیدار سے مشرف نہ ہو سکے مگر اتباعِ رسالت کا مکمل حق ادا کر کے دنیا کو درسِ ادب دیتے ہوئے رخصت ہوئے۔ عشق کے اظہار کا یہ ایک ایسا منفرد انداز تھا جو صرف آپؓ ہی کا خاصہ تھااور آپؓ کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق درجہ کمال تک پہنچا ہواتھا۔

حضرت اویس قرنیؓ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدس میں بہت بلند تھا۔ آپؓ سچے عاشق رسول تھے یہی وجہ تھی کہ آپ ؓ کا شمار اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں میں کیا۔ آپؓ ذاتِ واحد کا راز پا چکے تھے اور ہر وقت اللہ پا ک کے اسرار اور مشاہدہ میں مستغرق رہا کرتے تھے۔

حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ولی ٔخاص اور خیر التابعین حضرت اویس قرنیؓ کی شخصیت عشق ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ آپؓ کی سیرتِ طیبہ عاشقانِ رسولؐ کے لیے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ ؓ متلاشیانِ حق کے لیے منبع ِہدایت ہیں۔

وصال
مسلم شریف کی شرح اور تذکرۃ الاولیا میں درج ہے کہ حضرت اویس قرنیؓ حضرت علیؓ کی حمایت میں جنگ صفین میں شریک ہوئے اور لڑتے لڑتے شہادت کا مرتبہ پایا۔ حضرت موسیٰ راعیؒ بموجب وصیت آپؓ کے جسد مبارک کوقرن میں لائے اس لیے مزار شریف قرن میں ہے۔ (بحوالہ کتاب: سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل)

منزل عشق کا مینار اویس قرنیؓ
عاشق ِ سید الابرار اویس قرنیؓ
ظاہری آنکھوں کو دیدارِ محمدؐ نہ ہوا
پھر بھی کرتے تھے بہت پیار اویس قرنیؓ
دل کے آئینے میں حبیبؐ ِ حق کا
روز کر لیتے تھے دیدار اویس قرنیؓ
استفادہ کتب:
۱۔ کتاب:سیرت حضرت اویس قرنیؓ عاشقِ رسولؐ،محمد الیاس عادل
۲۔ کتاب: سیرت حضرت خواجہ اویس قرنیؓ، محمد حسیب القادری
۳۔ کتاب: سیرت حضرت اویس قرنیؓ،پروفیسر محمد طفیل چوہدری
۴۔کتاب: حضرت اویس قرنیؓ اور ہم،ڈاکٹر سید محمد عامر گیلانی
۵۔سیرت پاک عاشقِ رسول حضرت اویس قرنیؓ
پیر سیّدارتضٰی علی کرمانی

نیوز رپورٹ
عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام پاکستان