وہ فقیر چالیس دروازوں سے مانگتا رہتا تھا

بھرے مجمع میں ایک شخص نے اِمام حسن علیہ السلام سے سوال کیا "کہ آپکے بابا علی علیہ السلام زیادہ سخی ہیں یا حاتم؟؟
اِمامؑ نے فرمایا کہ تُو بتا؟
اُس نے کہا گستاخی معاف ! حاتم زیادہ سخی تھا، اِمامؑ مُسکراکر فرماتے ہیں،، وجہ؟؟
اُس بندے نے کہا : حاتم طائی کے چالیس دروازے تھے فقیر پہلے دروازے سے خیرات لیتا تھا،پھر دُوسرے دروازے پرآجاتا تھا،
اور حاتم اُسے پھر خیرات دیتا تھا اِسی طرح وہ فقیر چالیس دروازوں سے مانگتا رہتا تھا اور حاتم دیتا رہتا تھا،،
مولا حسن ؑ کے چہرے پے مُسکراہٹ آئی اور فرمانے لگے تعریف کر رہا ہے یا شکایت؟
اُس نے کہا مولا آپ کیا فرماتے ہیں؟
اِمام نے فرمایا سُن: حاتم پہلے دروازے سے فقیر کو خیرات دیتا تھا لیکن فقیر کوضرورت رہ جاتی تھی اِسلیے وہ دُوسرے دروازے پر آکر مانگتا تھا پھر تیسرے سے بھی اور اِسی طرح چالیس دروازوں تک جاتا تھا لیکن جسے علیؑ ایک بار دے دیتے ہیں اُسے پھر در در مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی، ،،