مرید نے مرشد کریم سے سوال کیا حضور یا حیّی یا قیوم کا کیا مطلب ہے؟

مرید نے مرشد کریم سے سوال کیا حضور یا حیّی یا قیوم کا کیا مطلب ہے؟
فرمایا۔ اے زندہ ….. اے قائم …… رکھ ہمیں زندہ اور قائم ….. یعنی زندگی کو پکارنے سے اللہ کی صفت حیات متوجہ ہوتی ہے زندگی قائم رکھنے کے لیئے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے لٰہذا وسائل فراہم کرنے والا۔ روحانیت کے لیئے کوئی دو سو سلاسل ہیں اور ان سب میں یاحُّی یا قیوم کسی نہ کسی طور رائج ہے اور حضور قلندر بابا اولیا ؒ کا فیض ہے کہ انہوں نے اس کے ورد کی اجازت کو عام فرما دیا ہے۔
مرید نے دریافت کیا کہ اجازت سے کیا مطلب ؟ کیا اللہ کا ذکر کرنے کے لیئے بھی کوئی اجازت لینا ہوتی ہے؟
نہایت مشفقانہ انداز میں کہا ۔ کسی اسم الٰہی کا کسی ایسے بندے کی اجازت سے ذکر کرنا جس نے اُس کی زکٰوۃ ادا کی ہو ….. فائدہ دیتا ہے۔ بغیر اجازت اسماء الٰہی کا ذکر کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کسی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوائی کھانا شروع کر دیں۔ اب ہوسکتا ہے کہ وہ فائدہ دیے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کسی نقصان کا سبب بن جائے۔ اکثر لوگوں کو زیادہ و ظائف پڑھنے کی عادت ہوتی ہے۔ انہیں پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے۔ جب وہ وظائف پڑھتے ہیں ۔ تو اُن کے اندر انوار کا ذخیرہ ہو نے لگتا ہے۔ چونکہ شعور کو ان انوار کو برداشت کرنے کی نہ سکت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تربیت لٰہذا وہ انوار اُن کے لئے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور اسی میں خرچ ہوتے ہیں۔
بالکل جیسے وٹامن اور طاقت کی ادویہ زیادہ اور بلا ضرورت کھانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ مرید نے سوچا اور دریافت کیا ۔ یہ زکٰوۃ دینا کیا ہوتا ہے؟
فرمایا۔ کسی اسم کی زکٰوۃ یہ ہے کہ اُس اسم کو مخصوص تعداد میں جو کم از کم سوا لاکھ ہوتی ہے، وقت اور جگہ مقرر کرکے پڑھا جاتا ہے اسے چالیس روز تک مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اسے اپنے پیر و مرشد کی اجازت سے ہی کرنا چاہیے ورنہ رجعت ہوتی ہے۔