حضرت سید شاہ عبداللطیف بری امام سرکارالمعروف امام بری سرکار

……. . ….. 🌹بری امام سرکار 🌹
حضرت سید شاہ عبداللطیف بری امام سرکارالمعروف بری امام سرکار. اسلام آباد ٗ نام ہی ایسا ہے کہ کسی اللہ والے کی منظوری کی دلالت کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد جیسے پاکستان کے خوبصورت ترین اور دنیا کے بے مثال دارالخلافوں میں شامل شہر کی بنیاد گیارہویں صدی عیسوی میں حضرت شاہ عبدالطیف المعروف بری امام سرکار نے رکھی تھی ٗ آج بھی مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں آپ کا دربار مرجع خلائق ہے جہاں روزانہ ہزاروں لوگ پیٹ کی بھوک اور روح کی پیاس بجھاتے ہیں ٗ بری امام سرکار نے اس جگہ اس وقت ڈیر جمایا جب پنجاب سے کشمیر جانے والی سڑک کے نزدیک اس جنگل میں چور اور لٹیرے رہا کرتے تھے جو کشمیر جانے والے قافلوں کو لوٹ کر یہاں چھپ جاتے مگر مارگلہ کی پہاڑی کے اور ایک غار ( لوہی دندی ) میں آپ نے چلہ مکمل کیا اور تصوف و سلوک کے رمز آشنا ہوئے تو مرشد کے حکم سے اس جگہ قیام کرنے کا فیصلہ کیا جب یہ جگہ "چور پور "کہلاتی تھی مگر شاہ عبدالطیف بری امام سرکار کی نظر فیض بار نے نہ صرف چوروں کو سیدھا راستہ دکھایا بلکہ آپ کے فیض و برکات کا نور پھیلنے لگا تو یہ علاقہ "نور پور "بن گیا ۔ اور یہ بھی حضرت بری سرکار کی زندہ کرامت ہے کہ نور پور پھیل کر "اسلام آباد "بن گیا ٗ آپ کا عرس ہر سال مئی کے مہینے میں منایا جاتا رہا ہے مگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دربار کے احاطہ میں ایک خود کش دھماکہ ہوا اس کے بعد سکیورٹی کے بہانہ پر عرس کا انعقاد بندکردیا گیا یہ الگ بات ہے کہ دربار پر ہر روز اور جمعرات کے دن خصوصی طور پر ہزاروں لوگ آتے ہیں لنگر میں نیاز کی دیگیں چڑھاتے ہیں اس سال 28مئی کو عرس کی باقاعدہ روایتی تقریبات دوبارہ شروع ہو رہی ہیں جس سے ملک کے طول و عرض اور بیرون ملک حضرت بری امام سرکار کے عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ بر صغیر میں اسلام کی تبلیغ اور پھیلانے میں اولیاء کرام اور صوفیائے عظام کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے ہندوستان کے اونچ نیچ اور چھوت چھات کے معاشرے میں ان صوفیاء نے ہر مذہب ٗ ملت اور قوم کے افراد کو نہ صرف اپنے قریب کیا بلکہ انسانیت کا درس دے کر ہر قسم کے تعصب کا خاتمہ کیا یہی وجہ تھی کہ ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے ان ہی بزرگان پاک طینت نے مخلوط معاشرے اور کثیر المذاہب خطے میں امن ٗ بھائی چارے اور رواداری قائم کی ٗ آج ہم ان بزرگوں کے سبق اور درس سے دور ہو چکے ہیں اسی لیے مذہبی ٗ قومی اور نسلی تعصب نے معاشرے کو بے سکون اور بے امان کر دیاہے اس کے تدارک کیلئے پاکستان میں سینکڑوں صوفیائے عظام اور بزرگان دین کی خانقاہیںموجود ہیں جہاں دلوں کو گداز اور محبت سے لبریز کیا جاتا ہے ۔
حضرت سید شاہ عبداللطیف المشہدی کاظمی المعروف بری امام ؒ سرکار برصغیر پاک و ہند کے ان اولیاء کرام اور صوفیاء کرام میں شامل ہیں جنہوں نے مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں اس ملک کے مختلف اطراف میں نور اسلام پھیلانے کیلئے انتھک جد و جہد کی یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام کی تبلیغ میں جہاں اس کے اعلی اصولوں اور لاثانی ضابطہ حیات کا حصہ ہے وہاں بزرگان دین کی جد و جہد اور روحانی کمالات کا بھی بڑا کردار ہے ۔ سید عبدالطیف بری امام کاظمی رحمتہ اللہ علیہ1617(عیسوی اور (1026) ہجری میں ضلع چکوال کے علاقے چولی کرسال میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمودؒ بادشاہ کاظمی اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ غلام فاطمہ کاظمی تھا۔ آپ کے والد گرامی بھی ایک ولی تھے بری امام سرکار نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سید محمود بادشاہ سے حاصل کی ۔ آپ نے فقہ و حدیث اور دیگر علوم اسلامی کی تعلیم نجف اشرف عراق میں حاصل کی ۔ سید محمود بادشاہ جو کہ نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی تھی ۔ حضرت سید شاہ عبداللطیف المشہدی کاظمی نے مقدس اسلامی شہروں نجف اشرف ٗ کربلا ٗ سامرہ ٗ مشہد مقدس میں مختلف علماء سے دینی علوم کے علاوہ روحانی فیض بھی حاصل کیا ۔جب ایران و عراق کے بارہ سال کے طویل سفر کے بعد آپ سید کسران میں واپس آئے تو آپ کی کشف و کرامات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگا جس کی وجہ سے آپ کی شہرت ہر سو پھیل گئی لوگ دور دراز علاقوں سے بری سرکار کی خدمت اقدس میں حاضری دیتے اور آپ کی تعلیم و تبلیغ ٗ و عظ و نصیحت اور پند و نصائح سے فیض یاب ہوتے ۔ کچھ عرصہ یہاں گزارنے کے بعد بری سرکار نے اس وقت کے ضلع راولپنڈی کے شمالی علاقے کا رخ کیا اور باغ کلاں ( موجودہ آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد ) میں اقامت پذیر ہوئے ۔باغ کلاں کے باشندوں نے عزت و احترام کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا اور کچھ اراضی بطور نذرانہ عقیدت پیش کی ۔ بری امام کاظمی ؒ نے کچھ عرصہ یہاں قیام کیا اور تبلیغ دین میں مصروف رہے یہاں بسنے والے سب لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے یہاں پر آپ سے کئی کرامات ظاہر ہوئیں ۔ ان ہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک روز آپ عبادت الہی میں مشغول تھے ٗ توجہ کے ارتکاز کی وجہ سے آپ کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ کس وقت آپ کے مویشی زمیندار کے کھیت میں گھس گئے اور انہوں نے ساری فصل تباہ کر دی ۔ فصل کا مالک شکایت لے کر آپ کے والد بزرگوار سید محمود شاہ ؒ کے پاس آیا ۔ آپ کے والد زمیندار کے ہمراہ آپ کے پاس آئے اور سرزنش کی کہ آپ کی بے توجہی کی وجہ سے زمیندار کی ساری فصل برباد ہوگئی ہے اس پر تھوڑی دیر آپ خاموش رہے ۔ آپ کے والد نے انہیں مزید ڈانٹا جب آپ کے والد نے اچھی طرح سرزنش کرنے کے بعد خاموشی اختیارکی تو آپ نے بڑے سکون کے ساتھ آہستہ سے سر اوپر اٹھایا اور نہایت ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئے ۔ابا جی ذرا فصل کی طرف تو دیکھئے ٗ جونہی آپ کے والد محترم نے فصل کی طرف دیکھا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چند لمحے پہلے جو فصل تہس نہس تھی اب ایک سر سبز و شادات کھیت کی صورت میں لہلہاتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔ یہ دیکھنا تھا کہ زمیندار کی حالت عجب ہوگئی وہ آپ کے قدموں میں گر کر گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا ۔
آپ سادات کے ایک مایہ ناز گھرانے کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ کا شجرہ نسب تاجدار امامت حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ سے ہوتے ہوئے امامت کے ساتویں تاجدار امیر بغداد حضرت امام موسی کاظم ؒ سے جا ملتا ہے ۔ حضرت امام موسی کاظم ؒ علی کی اولاد ہونے کے ناطے سے آپ کو کاظمی سید کہا جاتا ہے ۔ خطہ پوٹھوہار کی بزرگ ہستی حضرت سید شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار ؒ نے اپنے جد امجد سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے اتباع کو زندہ کردیا اور اسلام کی تعلیمات کے فروغ اور عوام الناس کیلئے اعلی کردار کی مثال پیش کی ۔ قطب الاقطاب حضرت سید شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار نے آج سے ساڑھے تین سو سال پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ نور پور پوٹھوہار ( اسلام آباد ) کا یہ خطہ ایک دن نہ صرف فرزندان توحید کا مرکز بلکہ عالی شان چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا اور اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا ۔ حضرت بری امام سرکار کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور یہاں اسلام آباد کے نام سے ایک شہر بن گیا جو آج مملکت خداداد پاکستان کا دار الحکومت ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سطح پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے ترجمان کے عظیم شرف سے ہمکنار ہے ۔ حضرت بری امام سرکار کو قطب الاقطاب اور ولی اللہ کا مقام حاصل ہوا ۔ یہ مقام تصوف میں بڑی کاوشوں ٗ محنتوں ٗ جانشفانیوں ٗ محبت ٗ لگن اور عشق حقیقی سے حاصل ہوتا ہے ۔ آپ ؒ نے فقہ اور حدیث کی تعلیم نجف اشرف سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ مقدس مقامات کی زیارت کیلئے مکہ معظمہ ٗ مدینہ منورہ ٗ کربلائے معلی اوردوسرے اسلامی ممالک میں تشریف لے گئے اور وہاں موجود جید علماء اور اولیائے سے مزید دینی علوم اور روحانی فیوض حاصل کئے ۔ بری امام یہ سفر بارہ سال پر محیط ہے ۔ آپ مستقلاً وہاں ولی کامل حضرت حیات المیر ؒ سے بیعت تھے ۔ انہیں بری امام کا لقب ان کے مرشد حضرت حیات المیر ؒ ہی نے عطاء کیا تھا ۔ اللہ تعالی نے اپنے ولیوں کی تعریف قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے ۔ ترجمہ : بے شک اللہ تعالی کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے "دوسری جگہ ارشاد ہے کہ جس نے میرے کسی ولی کی مخالفت کی میری طرف سے اس کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے کام پر لگا دیا ہے اور ان کی مخالفت کرنا کسی طرح جائز نہیں اسی طرح اللہ تعالی کاقانون جن و انس میں جاری و ساری ہے اور انسانوں میں بھی اللہ تعالی کی طرف سے بعض لوگوں کو مخصوص اختیارات تفویض کرکے مقرر کیے جاتے ہیں ۔ حضرت علامہ اقبال ؒ کا شمار بھی عظیم شعراء میں ہوتا ہے ان کی شاعری میں بھی آپ کو تصوف کا رنگ بھرا نظر آئے گا ۔ اولیاء اللہ کے مقام کے بارے میں آپ کا ارشاد ہے ۔
نہ تخت و تاج نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
ایک مرتبہ آپ ؒ کہیں سفر پر جا رہے تھے اور آپ کا مرید خاص مٹھا شاہ بھی اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھے ۔ ابھی آپ نے چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ اچانک جنگل سے چند ڈاکو نکلے اور انہوں نے لوٹنے کی غرض سے آپ کا راستہ روک لیا مگر جونہی ان کی نظر آپ کے چہرہ مبارک پر پڑی اور انہوں نے آپ کی گفتگو سنی تو جرائم سے ہمیشہ کیلئے تائب ہوگئے اور اسی وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کرکے آپ کے مرید بن گئے ۔ آپ نے یہیں اقامت اختیار کرکے تبلیغ کا کام شروع کردیا اور اس طرح چور پور میں اسلام کے نور کی روشنی پھیلیا کر اسے ہمیشہ کیلئے نور پور بنا دیا ۔ یہ وہی نور پور شاہاں ہے جہاں آج آپ کا مزار مبارک ہے اور ہزاروں لوگ یہاں اپنی عقیدتوں کا اظہار کرنے آتے ہیں ۔ عام دنوں میں بھی آپؒ کے مزار شریف پر رونق ہوتی ہے روزانہ لنگر تقسیم کیا جاتا ہے لیکن عرس کے دنوں میں تو تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور فیوض و برکات سے جھولیا ں بھر کر لوٹتے ہیں لوگ نہ صرف دربار پر حاضری دیتے ہیں بلکہ دشوار گزار پہاڑی رستے سے اس غار کی بھی زیارت کرتے ہیں جہاں آپ ؒ نے عبادت و چلہ کشی کی جسے لوئے دندی کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ حضرت بری امام سرکارؒ نے چلہ کشی کرکے پہاڑوں غاروں اور ویرانوں میں مصائب جھیل کر جنگل میں منگل کا سماں پیدا کیا اور وہ علاقہ جو کبھی چور پور کے نام سے موسوم تھا نور پور کے نام سے مشہور ہوا ۔ حضرت بری امام سرکاری ؒ نے علوم ظاہری اور باطنی حاصل کرنے اور روحانی منازل طے کرنے کے بعد ضلع ہزارہ میں قیام کیا اور آپ نے سید محمد کی دختر نیک اختر بی بی دامن خاتون سے نکاح کیا آپ کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی مگر کچھ عرصہ بعد آپ کی زوجہ محترمہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ بری سے مراد ہے بر و بحر یعنی پہاڑوں ٗ بیانانوں ٗ دریائو ں ٗ ندیوں ٗ چشموں اور ایسی تمام آب گاہوں کے متولی جہاں انہوں نے یاد الہی میں تند و تیز ہوائوں اور موسمی حالات سے بے نیاز دن رات چلہ کشی کی اور وہ بھی صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے ۔ لقب بری کے بعد شاہ سے مراد آپ کا اعلی نسب سید خاندان ہے ۔ حضرت بری امام کا اعلی نسب سید خاندان ہے ۔حضرت بری امام سرکار ؒ میں بچپن ہی سے روحانی اور پاک طینت کا ظہور شروع ہوگیا تھا ۔ جب آپ کی عمر تقریباً دس سال تھی تو آپ اپنے مویشی چرانے کیلئے گائوں سے دور کھیتوں میں چلے جاتے مویشی تو گھاس چرنے لگے ۔ آپ علیحدہ یٹھ کر اپنے اللہ سے لو لگا لیتے اور عباد و ریاضت میں مصروف ہو جاتے ۔ لوگوں نے آپ کے والد محترم سے شکایت کی کہ آپ کی بچے کی لاپرواہی و غفلت سے ہماری فصلوں کا نقصان ہوتا ہے ٗ ایک روز آپ کے والد ماجد لوگوں کے ہمراہ آئے تو کیا دیکھا کہ بچہ درخت کے نیچے سویا ہوا ہے ۔ آپ نے جھنجھوڑ کر دنیاوی غفلت کی نیند سے اٹھایا تو بچے نے اپنے باپ سے عرض کیا کہ میں تو باغ جنت کی سیر کر رہا تھا آپ نے مجھے جگا دیا ۔ حضرت بری امام سرکار کی عبادات و کرامات پاک و ہند میں مشہور ہیں ۔ سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ آپ نے دو مغل شہزادوں کی بالخصوص تربیت کی اور دینی روحانی اصلاح کرکے ایک شہزادے کو راہ سلوک کی دنیا میں گم کردیا گیا اور اس کا نام آپ نے شاہ حسین رکھا۔ اگرچہ یہ شہزادہ مادی دنیا کا پرستار تھا لیکن ایک مرد کامل کی نگاہ اثر سے اس کے سوچنے کا انداز بدل دیا ۔ اس کرامت سے متاثر ہو کر شہزادے کی اپنی باقی زندگی بری امام سرکار ؒ کے قرب میں گزری اور دوسرا شہزادہ اورنگزیب عالمگیر کو تخت و تاج کا مالک اور دین کی تبلیغ کیلئے دنیاوی شہنشاہ بنا دیا ۔ اس کے علاوہ نور پور شاہاں کے قریب ایک مقام ہے جس کا نام ٗ لوئے دندی ٗ ہے یہاں بیٹھ کر حضرت بری امام ؒ اکثر عبادت الہی میں مصروف رہے جب آپ عبادت میں مصروف ہوتے تو ایک جن آ کر آپ کو پریشان کرنے لگا اور آپ کی عباد ت میں خلل ڈالنے لگا ۔ جب وہ جن اپنی شرارتوں سے کسی صورت باز نہ آیا تو آپ نے اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے دعا کی تو وہ جن وہیں پتھر بن گیا یہ نشانی ٗ لوئے دندی ٗ کے مقام پر آج بھی موجود ہے اور ملک بھر سے ہزاروں لوگ حضرت امام ؒ کی یہ کرامت دیکھنے نور پور شاہاںجاتے ہیں اور اس مقام کی زیارت کرتے ہیں جہاں بیٹھ کر آپ عبادت کیا کرتے تھے ۔ اس واقعہ کے علاوہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت امام بری سے متعلق ایک واقعہ کافی مشہور ہے امام سرکار جن دنوں ندی نیلاں میں چلہ کشی کر رہے تھے۔ اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ کچھ کھا پی نہیں سکتے تھے۔ صرف دودھ پیا کرتے تھے ٗ گوجر قوم کا ایک عقیدت مند روزانہ آپ کو دودھ دینے آتا تھا جس بھینس کا دودھ وہ گوجر آپ کے پاس لاتا وہ مر جاتی ہے ٗ گوجر دھن کا پکا تھا اپنی زبان سے یہ بات بری امام سرکار کو نہیں بتائی آخر کار ایک ایک کرکے تمام ختم ہوئیں تو اگلے روز دودھ کی خاطر تمام گائوں میں پھرا مگر ہر طرف سے مایوس ہوا چنانچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اپنی داستان سنائی ۔آپ مسکرائے اور فرمایا جائو ندی کے کنارے چلتے جائو اور اپنی بھینسوں کے نام پکارتے جائو سب تمہارے پیچھے چلی آئیں گی مگر خیال رکھنا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا چنانچہ اس گوجر نے ایسا ہی کیا جب آخری بھینس کا نام لیا جو کہ ندی سے نکل رہی تھی تو گوجر نے پیچھے موڑ کر دیکھ لیا بھینس اسی جگہ پتھر کی بن گئی ۔ گوجر پہلے تو پریشان ہوا مگر باقی بھینسوں کو دیکھ کر خوشی خوشی گھر چلا آیا ۔ علاوہ ازیں ایک روز آپ نور پور شاہاں کے جنگل میں عبادت الہی میں مصروف تھے کہ ہندوئوں کا ایک گرہ وسیع سازو سامان سے دا پھندا آپ کے قریب سے گزرا آپ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے ہم اپنے گناہوں کو دھونے کیلئے گنگا میں نہانے کیلئے جا رہے ہیں تو حضرت بری امام ؒ نے فرمایا کہ انسانوں کے گناہ دریائو میں نہانے سے نہیں دھلتے بلکہ یہ گناہ عبادت الہی اور اعمال صالح سے جھڑتے ہیں اس پر ہندئوں کے پنڈت نے کہا کہ اگر آپ کی بات درست ہوتی تو آپ جو یہاں سالہا سال سے عبادت الہی میں مصروف ہیں اس کا کچھ تو اثر ظاہر ہوتا کم از کم اتنا ہی ہو جاتا کہ جس درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ عبادت کر رہے ہیں وہی سر سبز و شاداب ہو جاتا تاکہ آپ سکون سے عبادت تو کر سکتے ۔ بارش دھوپ اور دوسری موسی سختیوں سے آپ عبادت کرتے ہوئے محفوظ رہتے ۔ اس پر حضرت بری امام ؒ نے فرمایا اس کے قبضہ قدرت میں تو سب کچھ ہے ہم نے اس سے کچھ مانگا ہی نہیں اس کے بعد آپ نے درخت کی طرف رخ کرکے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے درخت سر سبز و شاداب ہوگیا ۔ ہندئووں نے جب یہ دیکھا تو اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی وقت سارا گروہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگیا۔

بری امام کالفظی مطلب ہے ساری زمین کا رہبر ۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت حیات المیر ؒ نے آپ کو جو لقب عطا کیا آپ اپنی ساری زندگی اس لقب کی عملی تفسیر بنے رہے ۔ جب حضرت بری امام ؒ نے باغ کلاں کے گائوں میں آ کر اقامت اختیار کی اس وقت پوٹھوہار کا پورا خطہ کفر و الحاظ اور جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا تھا مگر حضرت عبدالطیف شاہ کاظمی بری امام ؒ نے اسے علاقے کو شرافت اور اسلام کی روشنی سے منور کردیا ۔ وہ گائوں جہاں حضرت بری امام نے مستقل رہائش اختیار کی چوروںاور ڈاکوئوں کا گڑھ تھا اس لئے اس کا نام چور پور تھا مگر آپ نے جو اس گائوں پر نظر خاص کی تو یہ گائوں چور پور سے نور پور بن گیا ۔ یہاں کے ڈاکو اور چور جرائم سے تائب ہو کر شرافت کی زندگی گزار لگے ۔ اندھیروں کی جگہ روشنیوں نے لے لی اور چور پور کا ظلمت کدہ نور پور کے اجالوں سے منور ہوگیا اور ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ آپ کا مزار مبارک نور پور شاہاں شریف اسلام آباد میں عقیدت مندوں کیلئے مرجع خلائق ہے.