حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ کا مختصر تعارف

یہ وہ گوہر شاہی ہیں جنہوں نے تین سال تک سیون شریف کی پہاڑیوں اور لال باغ میں اللہ کے عشق کی خاطر چلہ کشی کری، اللہ کو پانے کی خاطر دنیا چھوڑی، پھر اللہ کے حکم ہی سے دوبارہ دنیا میں آئے۔ لاکھوں دلوں میں اللہ کا ذکر بسایا اور لوگوں کو اللہ کی محبت کی طرف راغب کیا ، ہر مذہب والوں نے گوہر شاہی کو مسجدوں، مندروں، گردواروں اور گرجاگھروں میں روحانی خطاب کےلئے مدعو کیا، اور ذکر قلب حاصل کیا، بے شمار مرد و زن ان کی تعلیم سے گناہوں سے تائب ہوئے اور اللہ کی طرف جھک گئے۔ بے شمار لاعلاج مریض ان کے روحانی علاج سے شفا یاب ہوئے، پھر اللہ نے ان کا چہرہ چاند پر دکھایا، پھر حجر اسود میں بھی ان کی تصویر ظاہر ہوئی، پوری دنیا میں ان کی شہرت ہوگئی۔ لیکن کورچشم مولویوں کو اور ولیوں سے حسد، بغض رکھنے والے مسلمانوں کو یہ شخص پسند نہ آیا، ان کی کتابوں کی تحریروں میں خیانت کرکے ان پر کفر اور واجب القتل کے فتوئے لگائے۔

مانچسٹر میں ان کی رہائش گاہ پر پیٹرول بم پھینکا، کوٹری میں دوران ِ خطاب ان پر ہینڈگرینیڈ بم سے حملہ کیا گیا۔ لاکھوں روپے ان کے سر کی قیمت رکھی گئی۔ پانچ قسم کے سنگین جھوٹے مقدمات، اندرون ِ ملک ان کو پھنسانے کےلئے قائم کیے گئے۔ نواز شریف کی وجہ سے حکومت سندھ بھی شامل ہوگئی تھی۔ دو کیس قتل، ناجائز اسلحہ، ناجائز قبضہ کا دفعہ بھی لگا دیا گیا۔ امریکہ میں بھی ایک عورت سے زیادتی اور حبس ِ بےجا کا مقدمہ بنایا گیا۔ زرد صحافت نے انہیں زمانے میں خوب بدنام کیا، لیکن آخر میں عدالتوں نے شنوائی اور تحقیقات کے بعد تمام مقدمات جھوٹے قرار دے کر خارج کردیے اور اللہ نے اپنے اس دوست کو ہر مصیبت سے بچائے رکھا۔