یہ نغمہ فصلِ​ گل لالہ کا نہیں پابند بہار ھو کہ خزاں، لا الہٰ الاللہ

ایک حدیث شریف کے مطابق سب سے افضل ذکر
"لا الہٰ الاللہ” ھے۔۔
تصوف کی اصطلاح میں اس ذکر کو تہلیل بھی کہتے ھیں اور "نفی و اثبات ” بھی کہتے ھیں۔
ایک اور حدیث شریف کے مطابق مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں۔اور یہ کام اسی کلمے کے ذریعے ھوتا ھے۔۔
یہ اتنا طاقتور اور بھاری کلمہ ھے کہ آگر ایک بندے کی ۹۹ دفتر گناہ کے ھوں تو یہ کلمہ آگر دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو یہ پلڑا بھاری ھوگا۔۔
قیامت تب تک قائم نہیں ھوگی جب تک ایک بھی اس کلمہ کو پڑھنے والا دنیا میں موجود ھوگا۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ آگر سارے انسانوں کو اس کلمہ کی وجہ سے معافی مل جائے پھر بھی گنجائش ھے۔اور یہ بات ان پر منکشف ہو ئی۔
ھمیں بھی چاہیئے کہ اس کلمہ کا ذکر کثرت سے کریں۔اتنی کثرت سے کریں کہ آگر موت کا وقت آئے تو اس وقت بھی یہی کلمہ زبان پر ھو۔
اس کلمہ کو پڑنے کے لیے هونٹ ہلانے کی بی ضرورت نہیں پڑتی۔ تو آگر کسی کو فالج بھی ھو جائے تو وہ بھی پڑھ سکتا ھے۔
یہ کلمہ ھمارے اندر اور باھر کے سارے معبودوں( نفس کے خواہشات،شیطان، مال ودولت ،بادشاہوں وغیرہ) کی نفی کرتا ھے اور صرف معبود حقیقی (اللہ) کا اثبات کرتا ھے۔
الله سے سب کچھ ھونے کا یقین اور مخلوق سے نہ ھونے (جب تک اللہ نہ چاھے) کا یقین دل میں پیدا کرتا ھے۔
حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بھی اس کلمہ کے بارے میں اپنا اظہار خیال کچھ اس طرح کیا ھے۔۔
خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الاللہ
خودی ھے تیغ، فساں لا الہٰ الاللہ
یہ مال و دولتِ دنیا،یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں،لا الہ الااللہ
خرد ھوئی ھے زمان و مکان کی زناری
نہ ھے زماں نہ مکاں ،لا الہ الااللہ
یہ نغمہ فصلِ​ گل لالہ کا نہیں پابند
بہار ھو کہ خزاں، لا الہٰ الاللہ۔۔۔