مرشد کیوں ضروری ہے؟ بیعت مرشد ، کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

مرشد کیوں ضروری ہے؟ بیعت مرشد ، کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔

يَوۡمَ نَدۡعُواْ ڪُلَّ أُنَاسِۭ بِإِمَـٰمِهِمۡ‌ۖ – (آلقران) بنی اسرائیل – 71

جس دن ہم ہرجماعت کو اس کےامام (پیر) کے ساتھ بلائیں گئے۔

وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيّاً مُّرْشِداً – الكهف17

اور جو گمراہ ہوجائے آپ اس کا کوئی ولی اور مرشد نہیں پائیں گے۔

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا – آلقران ۔ سورہ فتح ۱۸

بےشک ﷲ راضى ھوا اﻳمان والوں سے جب وه اس پیڑکے نیچے تمہاری ىبعیت کرتے تھے تو ﷲ نے جانا جو ان کے دلوں میں ھے تو ان پر اطمینان اتارا اور ان میں جلد آنے والى فتح کا انعام دیا۔

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا – آلقران ۔ سورہ فتح ۱۰

وه جو تمہارى بیعت کرتے ہیں وه تو ﷲ ھى سے بیعت کرتے ھﻳں ان کے ھاتھوں پر ﷲ کا ھاتھ ھے تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وه عہد جو اس نے ﷲ سے کیا تھا تو بہت جلد ﷲ اسے
بڑا ثواب دے گا ۔

أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ – آلقران ۔ سورہ یونس ۱۰
سن لو بے شک ﷲ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ھے نہ کچھ غم۔

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَ الْعَشِیِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه‘ط وَ لَا تَعْدُ عَيْنَاکَ عَنْهُمْ – الکهف، – 28
(اے میرے بندے) تو اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں، اُس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں (اُس کی دِید کے متمنی اور اُس کا مکھڑا تکنے کے آرزومند رہتے ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں اُن سے نہ ہٹیں۔

وَ لَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِکْرِنَا – الکهف، – 28
اور تو اُس شخص کی اِطاعت بھی نہ کر جس کے دِل کو ہم نے اپنے ذِکر سے غافل کر دِیا ہے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا – الکهف، – 65
تو ھمارے بندوں میں سے اﻳک بنده پاﻳا جسے ھم نے اپنے پاس سے رحمت دى اور اسے اپنا علم لدنى عطا کیا۔

(البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696.)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں
اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور
جب میں (اللہ تعالی) اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے
اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے
اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے
اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے
اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں“۔