راہِ تصوّف صرف وہی پاسکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں۔۔

صَلَّ اللّٰهُ عَلَيْهِ وٙآلِہِ وٙاصحابِہِ_وَسَلَّم

تصوف کیاہے۔۔۔۔۔!

تصوف کو قرآنی اصطلاح میں

تزکیۂِ_نفس اور

حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔

تصوف صرف روحانی، باطنی کیفیات اور روحانی اقدار و اطوار کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ علمی، فکری، عملی، معاشرتی اور تہذیبی و عمرانی تمام جہتوں میں اخلاص و احسان کا نام تصوف ہے۔
ائمہ تصوف نے اپنے تمام معتقدات، تصورات اور معمولات کی بنیاد قرآن و سنّت کو ٹھہرایا ہے

حضرت جنیدبغدادی رح فرماتے ہیں۔

’’راہِ تصوّف صرف وہی پاسکتا ہے جس کے دائیں ہاتھ میں قرآن حکیم اور بائیں ہاتھ میں سنتِ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم ہو اور وہ ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راستہ طے کرے تاکہ نہ شک و شبہ کے گڑھوں میں گرے اور نہ ہی گمراہی کے اندھیروں میں پھنسے۔‘‘

حضرت داتاگنج بخش علیہ جویریرح

نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں شیخ خضری کا یہ قول نقل کیا ہے :

التصوف صفاء السر من کدورة المخالفة.
’’باطن کو مخالفت حق کی کدورت اور سیاہی سے پاک و صاف کردینے کا نام تصوف ہے۔‘‘

حقیقت صوفیاء کے نزدیک رب کے ظہور کو کہتے ہیں جو بے حجاب ہو یعنی پردے سے باہر جس میں صرف وحدانیت ہو کثرت موہومہ جو ظاہر میں نظرآتی ہے اس کے نور میں محو ہوچکی ہے۔

صوفیاء کی اصطلاح میں حق اللّہ کی ذات کا نام ہے اور حقیقت اس کے صفات کا۔
شریعت بندہ کا عبادت الہیہ کا التزام اور حقیقت رب کا مشاہد کرنا ہے۔

جو شخص وہ کرتا ہے جو پیغمبرؐ نے کیا ہے وہ اہل شریعت میں سے ہے اور جو وہ کرتا ہے جو پیغمبرؐ نے کہا ہے وہ اہل طریقت میں سے ہے اور جو شخص وہ دیکھتا ہے جو پیغمبرؐ نے دیکھا ہے وہ اہل حقیقت میں سے ہے۔

صوفیاء کی اصطلاح میں شریعت جنت تک جانے کا راستہ ہے اور طریقت براہ راست رب تعالی کی ذات تک جانے کا راستہ ہے
مشائخ صوفیاء کی اصطلاح میں حق تو ذات ہے اورحقیقت صفات اور اس سے مراد ذات و صفات حق تعالی لیتے ہیں۔
چنانچہ جب مرید خواہشات نفس چھوڑکر اور خواہشات نفس کی حدود سے نکل کر عالم احسان تک پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ علم حقیقت تک پہنچ گیا اور حقیقتوں کا عالم بن گیا اگرچہ ابھی وہ عالم صفات و اسماء میں ہوتا ہے
اور جب مرید ذات تک پہنچ جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ حق تعالی تک رسائی پاگیا۔
_
جد دا مرشد ملیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باھو
چُھوٹـے سب عذابے ۔۔۔۔۔۔۔۔ھو.!

۔تصوف اور صوفی۔ دراصل لفظ ۔صفا۔ سے مشتق ہیں۔ اس کی ضد کدر (کدورت) ہے- پس جس شخص نے اپنے اخلاق اور
معاملات کو مہذب بنایا اور اپنی طبیعت کو کدورتوں سے پاک صاف کرلیا اور اسلام یعنی اللہ تعالٰی کی سچی عبودیت کا وصف اپنے اندر پیدا کر لیا تو وہ صوفی بن گیا اور اہل تصوف میں شامل ہو گیا۔ گویا صفا کی اصل غیر اللہ سے دل کو منقطع کرنا اور دنیاء فانی سے دل کو خالی کر لینا ہے۔
تصوف کی آٹھ خصلتیں ہیں، جو ان انبیاء ع سے منسلک ہیں
سخاوت، رضا، صبر، اشارت، غربت (اجنبی ہو جانا)، لباس صوف، سیاحت اور فقر۔
سخاوت کا نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں
رضا کا نمونہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں
صبر کا نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام
اشارت کا نمونہ حضرت زکریا علیہ السلام ہیں
غربت کا نمونہ حضرت یحیٰ علیہ السلام ہیں
صوف پوشی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نمونہ ہیں،
سیاحت کے لیے حضرت عیسٰی علیہ السلام نمونہ ہیں
فقر کا نمونہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں

اللہ پاک بہتر جاننے والا ہے!

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام پاکستان