حضرت اویس بن عامر قرنیؒ

خیر التابعین، عاشق رسول، تاجدار اقلیم محبت خواجہ اویس قرنیاویس قرنی

Awis al-Qarni mosque1, Ar-Raqqa.jpg

پیدائش: سنہ 594 یمن

وفات: 28 مارچ657 (62–63 سال) جنگ صفین

مدفن: الرقہ،  الرقہ ضلع،  سوریہ

عملی زندگی

پیشہ: محدث

پورا نام اویس بن عامر قرنیؒ وطن یمن قبیلہ مراد۔ حضور سے غائبانہ عشق رکھتے تھے۔

نسب

اویس بن عامر بن جزء بن مالک قرنی، مرادی، یمنی۔

خیر التابعین

خیر التابعین(إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ، وَلَهُ وَالِدَةٌ، وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا رَبَّهُ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ، إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ فِي سُرَّتِهِ)

تعارف

آپ اویس ابن عامر ہیں،کنیت ابو عمرو ہے،قرن جو یمن کا شہر ہے وہاں کے رہنے والے ہیں،("ایک بستی کا نام ہم جو یمن میں واقع ہے، یہ ایک شخص قرن بن رومان بن نامیہ بن مراد کے نام منسوب تھی، جو حضرت اویس قرنی کے اجداد میں سے تھا۔ )حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے،حضور انور نے آپ کے مدینہ آنے کی بشارت دی تھی،حضر ت عمر فاروق اور دوسرے صحابہ سے ملاقات ہے،گوشہ نشینی اور زہد و تقویٰ میں مشہور تھے، 37ہجری میں جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے۔

آپ ﷺسے پوچھا گیاا: اویس قرنی کون ہے؟ ارشاد فرمایا :اس کا قددرمیانہ ،سینہ چوڑا، رنگ شدید گندمی، داڑھی سینہ تک پھیلی ہوئی اس کی نگاہیں جھکی جھکی، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، زارو قطار رونے والا ہے، اس کے پاس دو چادریں ہیں ؛ ایک بچھانے کے لیے اور ایک اوڑھنے کے لیے، دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچاہے۔ اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھالے تو اللہ ضرور اس کی قسم کو پورا کریگا، اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروزِ قیامت نیک لوگو ں سے کہا جائے گا : تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ لیکن اویس قرنی سے کہا جائے گا : تو ٹھہرجا اور لوگو ں کی سفارش کر ۔ چنانچہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگو ں کی تعداد کے برابر گناہگاروں کی سفارش کریگا ۔ اسیر بن جابر سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کے پاس جب بھی یمن سے کوئی جماعت آتی تو ان سے پوچھتے کہ کیا تم میں کوئی اویس بن عامر ہے یہاں تک کہ ایک جماعت میں حضرت اویس آ گئے تو آپنے پوچھا کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر نے فرمایا کیا آپ قبیلہ مراد سے اور قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر نے فرمایا کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو ایک درہم جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہو گئی انہوں نے فرمایا جی ہاں حضرت عمر نے فرمایا کیا آپ کی والدہ ہیں انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن کی ایک جماعت کے ساتھ آئیں گے جو قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی پھر ایک درہم جگہ کے علاوہ صحیح ہوجائیں گے ان کی والدہ ہوگی اور وہ اپنی والدہ کے فرماں بردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کروانا۔ تو آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں۔ اویس قرنی نے حضرت عمر کے لیے دعائے مغفرت کر دی۔ حضرت عمر نے فرمایا اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ حضرت اویس فرمانے لگے کوفہ۔ حضرت عمر نے فرمایا کیا میں وہاں کے حکام کو لکھ دوں۔ حضرت اویس فرمانے لگے کہ مجھے مسکین لوگوں میں رہنا زیادہ پسندیدہ ہے۔ پھر جب آئندہ سال آیا تو کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لیے آیا تو حضرت عمرنے ان سے حضرت اویس کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں حضرت اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کا گھر ٹوٹا پھوٹا اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس یمن کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت اویس بن عامر آئیں گے جو قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی جس سے سوائے ایک درہم کی جگہ کے ٹھیک ہوجائیں گے ان کی والدہ ہوں گی وہ اپنی والدہ کے فرماں بردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے اگر آپ سے ہو سکے تو ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کروانا تو اس آدمی نے اسی طرح کیا کہ حضرت اویس کی خدمت میں آیا اور ان سے کہا : میرے لیے دعائے مغفرت کر دیں۔ حضرت اویس نے فرمایا تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو تم میرے لیے مغفرت کی دعا کرو۔ اس آدمی نے کہا کہ آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ حضرت اویس پھر فرمانے لگے کہ تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو، تم میرے لیے دعائے مغفرت کرو۔ حضرت اویس نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیا تم حضرت عمر رضی اللہ سے ملے تھے؟

اس آدمی نے کہا ہاں۔ تو پھر حضرت اویس نے اس آدمی کے لیے دعائے مغفرت فرما دی۔ پھر لوگ حضرت اویس قرنی کا مقام سمجھے۔ راوی اسیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اویس کو ایک چادر اوڑھا دی تھی تو جب بھی کوئی آدمی حضرت اویس کو دیکھتا تو کہتا کہ حضرت اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آگئی؟

جنگ صفین میں شرکت

جنگ صفین کے دن ایک شامی آدمی نے پکار کر کہا کیا تمہارے درمیان اویس قرنی موجود ہیں لوگوں نے کہا ہاں اس پر انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے بہترین شخص اویس قرنی ہے۔

دعا کا حکم

حضورﷺنے اویس قرنی کا ذکر کرکے صحابہ کو حکم دیا: تم میں جو اسے پائے اپنے لیے اس سے دعائے بخشش کرائے۔ ایک روایت میں ہے حضرت فاروق کوخاص طور بھی حکم ہوا ان سے دعا کرانا کہ وہ اللہ کے حضور عزت والے ہیں، عمر فاروق کو ارشاد فرمایا: اے عمر!جب تم اویس قرنی سے ملو تو اسے سلام کہنااور کہناکہ وہ تیرے لیے دعائے مغفرت کرے کیونکہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر لوگوں کی شفاعت کریگا۔

فاروق اعظم اور شیر خدا کی ملاقات

ایک روایت میں ہے امیر المومنین فاروق وامیر المومنین مرتضٰی دونوں کو حضرت اویس سے طلب دعا کا حکم تھا۔ دونوں صاحبوں نے اپنے لیے دعاکرائی.

شہادت

ان کی وفات جنگ صفین میں سن 37 ہجری میں ہوئی ہے کہ انہوں نے علی بن ابی طالب کے ساتھ مل کر جنگ لڑی اور وہیں پر آپ شہید ہوئے، اس موقف کومستدرک حاکم نے میں شریک بن عبد اللہ اور عبد الرحمن بن ابی لیلی وغیرہ سے با سند بیان کیا ہے۔ جبکہ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ انہوں نے آذربائیجان کی جنگوں میں شرکت کی اور وہیں پر شہید ہوئے.