اقتباسات

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام اور یوم شہادت:۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام اور یوم شہادت:۔

اکیس رمضان تاریخ اسلام کا سیاہ دن شمار ہوتا ہے۔ اس روز مسلم اول فاتح بدر حنین و خیر مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام, لعین عبدالرحمان بن ملجم کے لگائے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے منصب شہادت پر فائز ہوئے۔
”حضرت ابوطالب کے فرزند ارجمند، حضرت فاطمہ بنت اسد کے لخت جگر حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت بیت اللہ شریف میں 13 رجب المرجب کو ہوئی۔ تین دن تک حسنین شریفین کے پدر گرامی نے کچھ نہ کھایا پیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنیعم زاد کی ولادت باسعادت کی خوشخبری سنی تو بیت اللہ شریف میں تشریف لائے۔ اپنے چچازاد بھائی کو آغوش رحمت میں لیا تو ابوطالب کے جگرگوشہ نے آنکھ کھولی اور اپنے چچا زاد بھائی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اطہر کی زیارت فرمائی۔ اس موقعہ زوجہ حضرت ابوطالب حضرت فاطمہ بنت اسد نے بتایا کہ ” محمد ص ع آپ کے بھائی نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا پیا” تو حضور علیہ السلام نے اپنی زبان اقدس اپنے بھائی علی ابن ابی طالب کے دہن مبارک۔میں رکھی، جسے مولود کعبہ نے جی بھر کر چوسا۔ گویا علی ابن ابی طالب کی دنیا میں میں تشریف آوری کے بعد سب سے پہلی غذا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب دہن بنا۔پدائش سے لیکر جوانی تک حضرت ابوطالب کے قلب کے چین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی پرورش اور تربیت آغوش رحمت اللعالمین کے پاک و پاکیزہ ماحول میں ہوئی۔حضرت علی علیہ السلام کی بچپن ہی سے تربیت میں خاص خیال رکھا گیا۔ فن حرب کے اسرارو رموز سے انہیں آشنا کیا گیا۔ یہ تربیت پیغمبر کا جوہر تھا کہ آپ کے مقابل آنے سے پہلے عرب کے شاہسوار کئی بار سوچتے کیونکہ انہیں بخوبی علم تھا کہ ابوطالب کے بہادر سپوت کے مقابل جانے کا مطلب خود کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔حضور

نبی کریم جہاں بھی جاتے علی انکے ہمراہ ہوتے۔جب حضور علیہ السلام پر وحی کا نزول ہوا اور آپ نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے ابوطالب کے دلبند و لخت جگر نے لبیک کہتے ہوئے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔اورحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اللہ کے احکامات کے تابع اپنے خاندان کے چیدہ چیدہ افراد کو اپنے ہاں ضیافت پر مدعو فرمایا (جس کا ذکر تاریخ اسلام میں ”دعوت ذوالعشیرہ ” کے نام سے محفوظ ہے۔) تو اس دعوت ذوالعشیرہ کا اہتمام جناب ابو طالب کے ذمہ سونپا گیا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے دی گئی اس ضیافت کھانے کے بعد سرداران قریش اٹھ کر چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے روز پھر سرداران قریش کو ضیافت پر مدعو کیا۔ اور مہمانان سرداران قریش اس روز بھی حضور علیہ السلام کی بات سماعت کیے بغیر ہی چلے گئے۔ لیکن رحمتہ

اللعالمین نے رشد و ہداہت کا پیغام پہنچانے کے لیے تیسرے روز بھی انہیں ضیافت پر بلایا۔ لیکن اس بار کھانا کھانے سے پہلے حضور علیہ السلام نے اپنی بات کہنے کا فیصلہ کیا اور بات کہی کہ ” اللہ واحد کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراو۔ اور جو میرے اس کام میں میری معاونت کرے گا وہ میرا وصی و جانشین ہوگا۔ جس پر حاضرین نے حضرت ابوطالب سے کہا کہ ابوطالب آج سے تیرا فرزند تجھ پر سردار مقرر ہوگیا ہے۔آغاز اسلام سے لیکر امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ساری زندگی ترویج اسلام اور اتباع رسول اللہ تعبیر ہے۔ ہر کام اور قدم خوشنودی خدا و رضا پروردگار کے لیے کیا۔ہجرت کی رات حضور علیہ السلام نے اپنے بستر پر سوہنے کی اہم ذمہ داری حضرت حسن علیہ السلام اور امام حسین کے والد گرامی قدر امیر المومنین کو سونپی یہ رات وہ رات تھی جب اہل قریش سنگینیں تانے

حضور نبی کریم کے گھرکے باہر اس ارادے سے کھڑے تھے کہ آج نعوذ بااللہ حضور نبی کریم کو ختم کردیں گے۔ لیکن اس رات کی صبح تک ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حضور علیہ السلام اللہ کی مدد و نصرت سے باحفاظت ان کا حصار توڑکر مکہ سے روانہ ہوچکے تھے۔ اور انکے بستر پرخطرپر محمد بن وبداللہ ﷺ نہیں انکا چچازاد بھائی علی ابن ابی طالب سراحت فرمارہے ہیں۔ اس رات کے سونے کے متعلق حضرت علی فرماتے ہیں جس قدر سکون کی نیند وہ اس رات سوئے ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں سوئے تھے۔صبح ہوئی تو اپنے آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کے مطابق اہل مکہ کی امانتیں انکے سپرد کیں اور مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے۔کوئی غزوہ

اور سرایا شائد ہی ایسا ہو جس میں فرزند ابوطالب نے ہاشمی جرآت و بہادری کے جوہر نہ دکھائے ہوں اور اسلام کے پرچم کو سربلند نہ کیا ہو۔ تاریخ اسلام کی پہلی جنگ ” جنگ بدر” میں ہاشمی خون نے اس طرح دشمنان دین اسلام کے چھکے چھڑائے کہ ہر گھر سے ” محمد،علی، حمزہ” کی صدائیں بلند ہوئیں اور مشرکین قریش ان ہستیوں سے بدلہ لینے کی آگ میں جل جل کر کوئلہ ہوتے رہے۔جنگ احد میں جب حضور علیہ السلام پر خطرات منڈلانے لگے تو امیرالمومنین علی ابن ابی طالب سایے کی طرح حضور نبی کریم کے ساتھ ساتھ رہے اور مشرکین مکہ کی تلواروں کو بچھاڑتے رہے اور خاتم النبین تاجدار ختم نبوت اور اپنے آقا و مولا کی حفاظت کرتے رہے۔خیبر کا قلعہ فتح ہونے کا نام نہیں

لے رہا تھا جنگ خیبر میں رحمتہ اللعالمین حضور علیہ اسلام نے 40 روز کا وعدہ کیا تھا لیکن 39 دن گزر گئے اور خیبر فتح نہ ہوا تو 40 ویں روز احمد مختبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج اس مرد جرار کو علم اسلام دیا جائے گا جس کے ہاتھ خیبر فتح ہوگا۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہر ایک کی یہ آرزو تھی کہ حضور علم اسلام انہیں دیں اس مقصد کے لیے تمام صحابہ اپنے جگہ سے بلند ہوکر حضور علیہ اسلام کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے رہے۔حضور نبی مکرم پیغمبر اعظم ختم رسل احمد مرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے چچازاد بھائی علی ابن ابی طالب کو طلب فرمایا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ حضرت علی حاضر خدمت ہوئے توعلم اسلام

ان کے سپرد کیاگیا۔خیبر کے مشہور جنگجو مرحب اور اسکے بھائی انتر کی بہت ہیبت تھی۔ انتالیسویں دن تک فتح نہ ہونے والا قلعہ خیبر مرحب اور انتر کے واصل جہنم ہوتے ہی اللہ اکبر کے نعروں سے گونجنے لگا۔بعض روایات میں مذکورہے کہ معراج کی رات اللہ تعالی نے اپنے محبوب سے ملاقات کے وقت ایسا خاص اہتمام کیا کہ ملاقات کا نظارہ اللہ کے محبوب کے محبوب علی ابن ابی طالب نے زمین پر ملاحظہ فرمایا۔
کہاجاتا ہے کہ خارجیوں نے ہی امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس قبیح کام کے لیے عبدالرحمان بن ملجم کو مامور کیا گیا۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ کوفہ پہنچا جہاں سے اسے سہولتکار دستیاب ہوئے جن کی مدد سے وہ انیس رمضان المبارک مولائے کائنات جان نشین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد کوفہ میں اس وقت اپنے ناپاک ارادوں کی تعمیل کیلیے خلیفہ وقت پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوا۔ جب وہ نماز کی امامت فرما رہے تھے۔ ا میرالمومنین خون میں لت پت مسجد کوفہ میں پڑت تھے لیکن اپنے لخت جگر امام حسن علیہ السلام سے فرمایا، بیٹا پہلے نماز مکمل کرائیں۔قاتل لعین عبدالرحمان بن ملجم گرفتار ہوا۔ زخموںسے چور امیر المومنین شوہر بتول جگرگوشہ رسول کے روبرو پیش کیا گیا تو اپنے قاتل کو شربت پلانے کا حکم دیا اور امام حسن علیہ اسلام سے فرمایا

بیٹا! اگر وہ بچ گئے تو خود بدلہ لے لیں گے لیکن اگر زندہ نہ رہے تو اس پرایک ہی وار کرنا،کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔اور نعش کا مثلہ نہیں کرنا۔ کوفہ کے معروف طبیب کو بلایا گیا اس نے امیرالمومنین خلیفتہ المسلیمین کی زندگی بچانے کی بہت کوشش کی لیکن زخم گہرے اور تلوار زہر الود ہونے کے باعث شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعونامیرالمومنین علی ابن ابی طالب کی پوری زندگی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ اور اسوہ حسنہ ہے۔ امت مسلمہ انکی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر درپیش مسائل سے نجات پاسکتے ہیں۔علامہ اقبال رح نے کہا خوب فرمایا ہے کہاسلام کے دامن میں اس کے سوا کیا ہے۔۔
اک ضرب یداللہ اور اک سجدہ شبیری۔