8 شوال المکرم یوم انہدام جنت البقیع :

8 شوال المکرم یوم انہدام جنت البقیع :

بقیع (جنۃ البقیع / بقیع الغَرقَد)، مدینہ کا سب سے پہلا اور قدیم اسلامی قبرستان ہے؛ چار ائمہ (ع)، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور اور تابعین میں سے کئی اکابرین اسلام اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

رسول اللہ(ص) کے ایام حیات میں بقیع بہت چھوٹا تھا بعد میں بنو امیہ نے اس کو وسعت دی۔ مہاجرین میں سے سب سے پہلے صحابی، جو اس قبرستان میں مدفون ہوئے عثمان بن مظعون تھے اور کہا جاتا ہے کہ آخری صحابی جو مدینہ میں وفات پا کر بقیع میں دفن ہوئے سہل بن بن سعد ساعدی تھے۔ ائمہ (ع) اور بعض دوسرے اکابرین کی قبروں پر گنبد و بارگاہ کا انتظام تھا جن کو (پہلی بار تیرہویں صدی ہجری 1220ہجری اور دوسری بار) چودہویں صدی ہجری میں سعودیوں نے منہدم کیا جس پر ایران اور ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے شیعہ اور سنی علماء اور عوام نے شدید رد عمل ظاہر کیا۔

لفظ بقیع کا اطلاق زمین کے ایک ایسے ٹکڑے پر ہوتا تھا جس میں "غرقد” نامی کانٹے دار پودے اگے ہوئے تھے؛ چنانچہ اس زمین کو "بقیع الغرقد” بھی کہا جاتا تھا۔ بعد میں کانٹے دار پودوں کو اکھاڑا گیا اور وہاں وفات پانے والے مسلمانوں کو دفنایا جانے لگا۔ اسی قسم کے کئی دیگر بقیع بھی مدینہ میں موجود تھے لیکن جو بقیع قبرستان میں بدل گیا وہ شہر کے انتہائی جنوب مشرق میں رسول اللہ(ص) کے حرم شریف کے قریب واقع تھا۔ شہر کا ایک دروازہ ـ یعنی باب البقیع ـ قبرستان کی طرف کھلتا تھا۔

رسول اللہ(ص) کے ایام حیات میں بقیع بہت چھوٹا تھا جس کے گرد ایک حصار تھا اور عثمان بن عفان اور حلیمۂ سعدیہ کی قبریں حصار سے باہر تھیں۔ عثمان کی قبر ابتداء میں "حشّ کوکب” میں واقع تھی اور بعد میں بنو امیہ نے اس کو قبرستان میں شامل کیا۔ نیز وہ لوگ جو مدینہ پر امویوں کے قبضے کے وقت ان کے ہاتھوں مارے گئے تھے حصار بقیع سے باہر ہے۔ حالیہ برسوں میں شہر میں توسیعی منصوبوں کی وجہ سے بقیع مدینہ کے مرکز میں قرار پایا ہے اور مسجد النبی کو توسیع دی گئی ہے اور مسجد اور قبرستان کے درمیان ایک سڑک حائل ہے۔

مہاجرین میں سے پہلے صحابی جو بقیع میں مدفون ہوئے، رسول اللہ(ص) کے گرانقدر صحابی عثمان بن مظعون تھے جو سنہ 2 ہجری کو وفات پاگئے، لیکن ابن عبدالبر مہاجرین اور انصار کے درمیان بقیع کے پہلے مدفون فرد کے سلسلے اختلاف ہے۔ انصار کا کہنا ہے کہ بقیع میں سب سے پہلے عقبہ اولی میں شرکت کرنے والے انصاری سعد بن زرارہ سپرد خاک ہوئے ہیں جو سنہ 2 ہجری میں جنگ بدر سے پہلے دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ گو کہ اس میں کوئی نزاع نہ ہونا چاہئے کہ بقیع میں سب پہلے مدفون ہونے والے مہاجر عثمان بن مظعون اور سب سے پہلے انصاری سعد بن زرارہ تھے۔

خلیفہ سوئم عثمان بن عفان کے قتل کے بعد جب اُنہیں بقیع میں دفن نہ ہونے دیا گیا تو اُنہیں بقیع سے باہر مشرقی حصے میں حش کوکب میں دفن کردیا گیا اور جب معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں مروان بن حکم مدینہ کا والی بنا تو اُس نے حش کوکب اور بقیع کی درمیانی دیوار کو ہٹا کر اُن کی قبر کو اِسی قبرستان میں شامل کر دیا اور پتھر کا وہ ٹکڑا ـ جو رسول اکرم(ص) نے اپنے ہاتھوں سے عثما ن بن مظعون کی قبر پر رکھا تھا، اُٹھا کر عثمان بن عفان کی قبر پر رکھتے ہوئے کہا: واللّٰہ لا یکون علی قبر عثمان بن مظعون حجرٌ یعرف به۔ (ترجمہ: خد اکی قسم! عثمان بن مظعون کی قبر پر کوئی پتھر نہ رہے گا جس سے ان کی شناخت کی جاسکے)۔

کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ(ص) کے آخری صحابی، جو مدینہ میں وفات پاکر بقیع میں دفن ہوئے، سہل بن سعد ساعدی (متوفٰی 91ہجری) تھے۔

بقیع کا تعلق کسی خاص جماعت سے نہ تھا بلکہ مدینہ کے تمام قبائل نے اسی قبرستان کا ایک حصہ اپنے لئے متعین کیا تھا، جس طرح کہ بعد کے سالوں میں ائمہ(ع) کی قبور کے ارد گرد کا علاقہ شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے مختص تھا اور باقی حصے دوسرے اسلامی مذاہب کے لئے تھے۔

ائمۂ شیعہ میں سے چار امام يعنی امام حسن(ع)، امام سجاد(ع)، امام باقر(ع) اور امام صادق(ع) اسی قبرستان میں مدفون ہیں اور احتمال دیا جاتا ہے کہ شاید فاطمہ(س)|فاطمہ زہرا علیہاالسلام بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں گوکہ آپ(س) کی قبر شریف کا اصل مقام نامعلوم ہے۔ قبرستان کے اصل علاقے میں ـ جہاں بزرگ صحابیوں اور ائمہ اہل بیت(ع) کی قبریں واقع ہیں، اموات کو دفن نہیں کیا جاتا۔ آپ(ص) کی بیٹیاں، آپ(ص) کے نوزاد فرزند ابراہیم بن محمد، زوجات رسول(ص) یا امہات المؤمنین اور آپ(ص) کے تمام پسماندگان ـ سوائے امام حسین علیہ السلام کے ـ یہیں مدفون ہیں۔ مسعودی امام صادق(ع) کی شہادت کی مناسبت سے لکھتے ہیں کہ انھوں نے سنگ مرمر کا ایک تختہ دیکھا ہے جس پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور چار ائمۂ شیعہ کے نام درج تھے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بھائی عقیل بن ابی طالب، خلیفۂ سوم، عثمان بن عفّان، مالکی مذہب کے امام مالک بن اَنَس، اور ان کے استاد نافع مولٰی بن عمر، رسول اللہ(ص) کی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ، رسول اللہ(ص) کے چچا عباس بن عبدالمطلب۔ وغیرہ۔ بقیع میں دفن ہونا رفتہ رفتہ اہل بیت(ع)، ائمہ(ع) اور مقدسین کے لئے تقدس اختیار کرگیا۔ اِس کے علا وہ یہاں مقداد بن اسود، مالک بن حارث، خزیمہ ذو الشہادتین، زید بن حارثہ، جابر بن عبداللہ انصاری، حسّا ن بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ، عبد اللہ بن مسعود اور معاذ بن جبل سمیت کئی جلیل القدر صحابہ کرام یہیں مدفون ہیں۔۔ اُمّہات المومنین میں زینب بنت خزیمہ، ریحانہ بنت زبیر، ماریہ قبطیہ، زینب بنت جحش، اُم ّ حبیبہ بنت ابی سفیان، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس اور عائشہ بنت ابی بکر؛ امیرالمؤمنین(ع) کی والدہ کی زوجہ فاطمہ ام البنین، رسول اللہ(ص) کی پھوپھیاں صفیہ اور عاتکہ، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے شریک حیات عبداللہ بن جعفر، امیرالمؤمنین(ع) کے فرزند محمد بن حنفیہ، شیخ القراء السبعہ نافع مولى عبد الله بن عمر، وغیرہ کی قبریں بھی بقیع میں واقع ہیں۔اسمعیل بن جعفر الصادق (ع) بھی بقیع میں مدفون ہیں۔

رسول اکرم(ص) اپنی حیات مبارکہ کے آخری دنوں میں ایک روز بقیع تشریف فرما ہوئے اور وہاں کے مدفونین کے لئے استغفار کیا۔ آپ(ص) کا یہ اقدام خدا کے حکم پر تھا اور بقیع کی طرف مسلمانوں کے رجحان کا ایک سبب شاید یہی اقدام نبوی(ص) تھا۔

بزرگوں کی قبروں پر گنبد و بارگاہ کی تعمیر کی گئی جیسے امام حسن علیہ السلام اور عباس بن عبدالمطلب کا مقبرہ، جو ابن جبیر کے مطابق بہت بلند تھا۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں جو کچھ دیکھا وہ یوں تھا:

"مالک بن انس کی قبر پر چھوٹا سا گنبد تھا، ابراہیم بن محمد(ص) پر سفید رنگ کا گنبد تھا، ازواج رسول(ص) اور امام حسن(ع) اور عباس بن عبدالمطلب کے مقبروں پر اونچا اور نہایت مستحکم گنبد تعمیر ہوا تھا، خلیفۂ ثالث کی قبر پھر اونچا گنبد تھا اور ان کے قریب ہی فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی قبر پر بھی گنبد تھا۔ صفَدی نے بھی اشارہ کیا ہے کہ چار ائمہ شیعہ اور رسول خدا(ص) کی قبروں پر گنبد تعمیر کیا گیا تھا۔

خاندان قاجار کے شہزادے فرہاد میرزا نے سنہ 1914عیسوی میں اور محمدحسین خان فراہانی نے 1924عیسوی میںبقیع میں اپنے مشاہدات یوں بیان کرتے ہیں: ایک بقعہ چار ائمہ(ع) اور عباس کی قبروں موجود تھا اور ریشمی کپڑے کی چادر، جس پر سونے اور چاندی کی زرتاروں سے برجستہ پھولوں کے نقش بنے ہوئے تھے، حضرت فاطمہ(س) سے منسوب قبر پر چڑھی ہوئی تھی۔ یہ چادر عثمان بادشاہ سلطان احمد عثمانی نے سنہ 1131 ہجری میں بطور ہدیہ بھجوائی تھی؛ ایک بقعہ رسول اللہ(ص) کی بیٹیوں کی قبروں پر بنا ہوا تھا، ایک بقعہ ازواج رسول(ص) کی قبروں پر اور کئی دوسرے بقعے۔

تاہم مغربی مستشرق جان لوئیس برکھاٹ جنہوں نے سعودیوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد حجاز کا سفر کیا ہے، بقیع کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: بقیع مشرقی دنیا کے حقیر ترین قبرستان کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یہ قبرستان احد میں مقبرہ حمزہ یا قبا کے مقام پر اسلام کی پہلی مسجد مسجد قبا کی طرح مقدس ہے اور ان مقامات مقدسہ میں شمار ہوتا ہے جن کی زیارت کو حجاج اپنے عبادی اعمال میں شمار کرتے ہیں۔

وہ گنبد اور عمارتیں جنہیں سعودیوں کی پہلی لہر نے سنہ 1221 ہجری میں مسمار کیا تھا، ان کی تعمیر نو سلطان عبدالحمید دوئم کے حکم پر انجام پائی، لیکن سنہ 1344 میں بقیع کو مدینہ کے حکمران امیر محمد نے اپنے باپ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر دو بار مسمار کیا۔

اس اقدام سے قبل اور دنیا کے مسلمانوں ـ بالخصوص اہل تشیع ـ کے احتجاج سے بچنے کے لئے آل سعود کے قاضی القضات عبداللہ بن سلیمان بن بلیہد خود مدینہ پہنچا اور باضابطہ سرکاری خطوط و مراسلات کے ذریعے مدینہ کے علماء سے قبور کے اوپر عمارتیں بنانے کے بارے میں ان کی رائے پوچھی اور مؤرخین کے مطابق انہیں ڈرایا دھمکایا جس کے نتیجے میں انھوں نے رائے دی کہ قبور پر عمارت تعمیر کرنا شرعا حرام ہے نیز ان سے پوچھے گئے سوال میں مغالطہ کرکے لکھا گیا تھا کہ "بقیع کی زمین وقف شدہ ہے اور یہاں بنا ہوا قبرستان عمومی قبرستان ہے جہاں عام مسلمانوں کو دفن کیا جاتا ہے؛ تو کیا ایسے قبرستان میں قبروں پر عمارت بنائی جاسکتی ہے؟

اس فتوے کے آنے پر وہابیوں نے تمام عمارتوں، گنبدوں اور بارگاہوں کو مسمار کیا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور ہر سال مختلف ممالک میں "یوم انہدام جنۃ البقیع” کے موقع پر جلسے اور جلوس ہوتے ہیں اور مسمار شدہ مقابر کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا جاتا ہے-