, ,

اس مادیت پرستی کے دور میں امت ِمسلمہ اپنی حقیقی روحانی میراث سے یکسر غافل نظر آتی ہے-سید اطہر حسین شاہ

(ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف)
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) پاکستان،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ ھٰذاپر محفل ِگیارھویں شریف 2مارچ 2018؁ ء بروز جمعہ نہایت تذک واحتشام سے منعقد کی گئی۔جس کی صدارت امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے کی۔ ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اصغر قادری نے مناجات کانذرانہ پیش کیا۔اس محفل ِپاک میں حمد ونعت،منقبت در شان ِغوث الوراء ؓ اور قصیدہ  مرشدی پیش کیاگیا۔جس کی سعادت محمدرضوان قادری(کوہ ِنور فلیٹ)،محمد ذوہیب الحسنین(جھمرہ)،بدر علی،محمد احتشام گوھر، محمد شاہد،افسر علی رضوی اور عبدالعزیز قادری نے حاصل کی۔چیئرمین مرکزی مجلس شوریٰ حاجی محمد اویس قادری،ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اصغر قادری،ممبر مرکزی رابطہ کمیٹی وحید انور قادری،مشیر نشرواشاعت غلام فرید قادری،مشیر ان فیصل آباد،ذمہ داران اور سرفروش ذاکرین سمیت عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنے قلوب و اذہان کو نور ِایمان،نور ِمعرفت سے روشن و منور کیا۔
اگرآپ نے امریکہ بات کرنی ہے تو موبائل کاسہارالینا پڑے گا۔اگر موبائل کے بغیربلند آواز میں چیخیں گے بھی تو آپ کی آواز امریکہ نہیں پہنچے گی۔کیونکہ اس میں پاور کے لئے بیٹری اورسگنل بھیجنے کیلئے سم موجود ہے جس کا تعلق ٹاور سے ہے۔اگر ٹاور صحیح کام کر رہا ہے تو اس کی مد د سے امریکہ آسانی سے بات ہو جائے گی لیکن اگر خراب ہے تو لاکھ کوشش کے باوجود بھی بات نہیں ہو گی کیونکہ سگنل نہیں ہو رہا۔اسی طرح آپ کا باطن ہے۔آپ جب اس قلب کو اللہ کے ذکر سے طاقت ور کر لیں گے تو اس کا تعلق عرش ِمعلی سے ہے۔پھر یہ یہاں گونجے گا تو آواز عرش ِمعلی پر جائے گی۔اس لئے اس دل کو اللہ کے نور سے روشن کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار سید اطہر حسین شاہ بخاری نے کیا۔
انہو نے مزید کہاکہ آج آپ داڑھی رکھتے ہو مشت بھرکیوں؟حضور پاک ﷺکی سنت ہے۔ٹوپی پہنتے ہو،کیوں؟حضور پاک ﷺ کی سنت ہے۔سرمہ لگاتے ہو،کیوں؟حضور پاک ﷺ کی سنت ہے۔دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہو،خوشبولگاتے ہو،کیوں؟حضور پاک ﷺ کی سنت ہے۔دیدارِالٰہی کرنا بھی تو حضور پاک ﷺ کی سنت ہے۔اورخدا کی قسم!سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی نے فرما دیاکہ ”اگر کوئی پوری زندگی میں یہ ایک سنت پوری کر لے تو اُس کے فرضوں کا بھی کفارہ اداہو جاتا ہے۔اور وہ سنت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا۔لیکن بتائیں اللہ تعالیٰ کے دیدارکا یہ فارمولا،نسخہ کون سے مدرسے میں؟کون سی مسجدمیں؟کون سے کالج میں؟کون سے سکول میں؟کس عالم؟کس پروفیسر؟اورکس شخص کے پاس ہے؟دوستو!اگر کہیں سے بھی یہ نسخہ نہ ملے تو آئیں!آج انجمن سرفروشان ِاسلام یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی وہ ہستی ہیں جو اِک نگاہ کے ساتھ اِس دِل کو اللہ کے ذکر میں لگا رہے ہیں۔ ابتداًیہ دل اللہ اللہ کرتا ہے اور انتہاًیہ اللہ تعالیٰ کے قدموں میں گر جاتا ہے اور اُس کا دیدار کرتا ہے۔
خود کو کسی کے ذمہ کر تیرا ذمہ اُٹھائے کوئی بن کے ذمہ دار تیرا تجھے رستہ دکھائے کوئی
کاش میری باتوں کو کوئی نہ کوئی آزمائے کوئی پھر ہرگز دین و دنیا میں دھوکہ نہ کھائے کوئی
آج دھوکہ کیوں ہو رہاہے کہ ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور دِل کی آنکھ کو بند کر لیا ہے۔ علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ،
دل ِبیدار پیدا کر،دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری،نہ میری ضرب ہے کاری
فرمایا جب تک تیرادل بیدار نہیں ہوگا تو دھوکہ َدر دھوکہ کھاتا رہے گا۔آج کاروبار میں دھوکہ ہو رہاہے۔آج درویشانہ لباس پہن کے راہزن،شیطان،ابلیس جو دھوکہ دے رہیں ہیں۔ اوردھوکہ کھانے والے کون لوگ ہیں؟ہم اور آپ جیسے سادہ لوح لوگ ہیں جو ہر چوغے والے کو،ہر داڑھی والے کو ”خضر“سمجھ لیتے ہیں۔فرمایا ”لباس ِخضر میں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں“!
اُس رہزن کی پہچان کیسے ہوگی؟جب آپ اس دل سے اللہ اللہ کریں گے۔چلتے پھرتے،کام کاج کرتے،گفتگو کرتے،نماز پڑھتے،کاروبار کرتے ہمہ وقت آپ کا یہ دل اللہ اللہ کرتا رہے گا۔پھر اِس کی دھڑکن کے ساتھ جو نور پیدا ہو گا۔وہ نور آپ کے جسم کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون میں جائے گااورجب وہ نور آپ کے سینے سے گزرے گا۔آپ کے سینے کے لطائف کو بیدار کر دے گا اوروہی نور جب آپ کی آنکھوں میں آئے گاتو پھر آپ کی آنکھوں کو روشن کر د یگا۔تو پھر آپ دھوکہ نہیں کھائیں گے کہ حضور پاک ﷺ کی حدیث ِمبارکہ ہے۔”مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔وہ بیٹھا زمیں پہ ہوتا ہے۔نگاہ نیچے کریں تو زمین کے دفینے،زمین کے خزانے نظر آتے ہیں۔نگاہ اوپر کرے تو ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش ِمعلی کو بھی دیکھتا ہے اورجب یہ منزل حاصل ہو جاتی ہے دوستو!حضور پاک ﷺ اُسے اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں۔اُسے سینے سے لگاتے ہیں اور جب یہ سینہ حضور پاک ﷺ کے سینے سے لگتا ہے تو پھر کیا لطف ہو تاہے کہ کائنات کا کوئی رازمخفی نہیں رہتا۔اور پھر دوستو!یہ وہ مقام ہے جسکے بارے میں علامہ اقبال ؒ نے فرمایا کہ،
کی محمد سے وفا تو نے توہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
کہ اُس شخص کو اللہ تعالیٰ قلم بھی دے دیتاہے اور لوح ِمحفوظ پر لکھنے اور مٹانے کا تصرف بھی دے دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بندے کا کام نہیں بنتا تو ولیوں کے درباروں پر جاتا ہے۔اولاد نہیں ہوتی تو ولیوں سے منت مانتا ہے۔کاروبار نہیں چلتاتو ولیوں سے مدد مانگتا ہے۔اور اگر بیمار ہوجائے،ڈاکٹروں سے شفا ء حاصل نہیں ہوتی توولیوں کے پاس جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ولیوں کو وہ طاقت دے رکھی ہوتی ہے کہ اگر اُس کی قسمت میں اولاد نہیں ہوتی تو اُس ولی کی دعا سے اللہ تعالیٰ اُسے اولاد عطا فرمادیتا ہے۔انجمن سرفروشان ِاسلام یہ پیغام ِحق دیتی ہے کہ آئیں ذکر ِقلب کی دولت کو حاصل کریں۔ اُٹھتے بیٹھتے،کام کاج کرتے اِس دِل کے ساتھ اللہ کا ذکر کریں پھر کیا ہو گا کہ آپ کا دِل اللہ اللہ کرنا شروع کر دے گا۔آج یہ بچے،یہ لوگ جو اللہ اللہ کر رہے ہیں۔ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں انہیں دیدار ِرسول ﷺمیسر آجائے اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اُنہیں اپناجلوہ،اپنا دیداربھی عطا فرمادے۔

اگر اِن لمحات کو،اگر اِن گھڑیوں کو محض وقت گزاری کی خاطر گزار دیا تو پھر آنے والے وقت میں بہت افسوس ہو گا۔سرکار دوعالم ﷺنے ارشاد فرمایا ”اہل ِجنت کو افسوس ہو گا“صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ!اہل ِجنت کوجنت میں جانے کے بعد بھی افسوس ہو گا؟۔فرمایاحضورپاک ﷺنے ”جنتیوں کو جنت میں جانے کے بعد بھی افسوس ہوگا کہ کاش ایک لمحہ بھی ہمارا اللہ کے ذکر سے غفلت میں نہ گزرتا“۔یہی بات سلطان ِحق باھوؒ فرماتے ہیں کہ،
جو دم غافل،سو دَم کافر سانوں مرشد اے پڑھایا ھو سنیاں سخن گئیاں کھل اَکھیاں اسیں دِل مولا وَل لایا ھو
دوستو!اپنا کوئی لمحہ بھی اللہ کے ذکر کے بغیر نہ گزرنے دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی کرنسی روپیہ ہے۔آپ امریکہ میں جائیں تو آپ کو اپنے پاس ڈالر رکھنے پڑیں گے کیونکہ امریکہ میں ڈالر چلتا ہے۔انگلستان جائیں تو آپ کو جیب میں پاؤنڈرکھنے ہوں گے۔اگر آپ جاپان جائیں گے تو آپ کو ین جیب میں رکھنے ہوں گے کیونکہ وہاں کی کرنسی Yenہے۔یادرکھیں اوپر اللہ کی بارگاہ میں نہ ین چلتا ہے،نہ ڈالر،نہ روپیہ اور نہ پاؤنڈ،وہاں نور چلتا ہے۔آج کماؤگے تو کل وہاں جا کے خرچ کرو گے۔آج خالی ہاتھ گئے تو کل وہاں سوائے شرمندگی کے کچھ ہا تھ نہیں آئے گا۔ آئیں،کمائی کا وقت یہ ہے۔ورنہ غوث پاک ؓفرماتے ہیں۔”چار کندھوں پہ سوار جب تو آخری گھر کو روانہ ہوگا تو پھر تیرا کوئی عمل کام نہیں آئے گا۔اِس لئے کہ کمانے کا دروازہ،نامہ اعمال بند ہو چکا ہوگا۔پھر تو صرف لوگوں کے رحم و کرم پر رہے گا۔آج ہم بہت سے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں،قل شریف میں شامل ہوتے ہیں۔لوگ رسماًآتے ہیں،رسماًپڑھتے ہیں،رسماًچلے جاتے ہیں۔ہم بھی جب کل آخری سفر کوروانہ ہو ں گے تو ہماری قبر پر بھی لوگ رسماًہی آئیں گے۔اپنی کمائی آپ کو خود کرنی پڑے گا اور کمائی کا آسان نسخہ یہ ہے کہ اپنے دلوں کو اللہ اللہ میں لگائیں۔
اس موقع پر سید اطہر حسین شاہ بخاری نے عالم ِانسانیت کو جھنجھوڑتے ہو ئے کہا کہ اس مادیت پرستی کے دور میں امت ِمسلمہ اپنی حقیقی روحانی میراث سے یکسر غافل نظر آتی ہے جس کی وجہ سے ہم حقیقت شناسی سے کوسوں دور ہیں۔آج ہمارا مطمع نظر مادی سہولیات اور پر آسائش زندگی بن گئی ہے اور ہم بحیثیت مسلمان اپنی اسلامی روحانی اقدار کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔آج ہم نے روپیہ،پیسہ،کار،کوٹھی اور بنگلہ کو ہی سب کچھ سمجھ لیاہے اوراپنی اُخروی زندگی کو بھلا بیٹھے ہیں۔اُن کامزید کہنا تھاکہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور انسان یہاں پر جو بوئے گا کل وہی کاٹے گا۔آج ہم غوث الوراء ؓ کی یاد میں محفل گیارھویں شریف میں شامل ہیں۔اُن کا ارشادمبارک ہے۔”آج یہاں پرجو تم بوؤ گے کل وہاں وہی کاٹو گے“۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ دنیا کو چھوڑو اور دین کو حاصل کرو۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ ”اہل ِدل کی صحبت اختیار کرتاکہ تو بھی صاحب ِ دل ہو جائے“۔اہل دل کون لوگ ہیں؟وہ کہ جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی محبت اور اُس کا عشق حاصل کرنے میں صرف کردی۔انہوں نے اپنے من میں اپنے خالق کو بسایا یعنی اسم ِذات اللہ سے اپنے دلوں کو روشن و منور کیا۔اس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو سخت مجاہدات و ریاضت کی بھٹی میں سے گزارا۔اس کٹھن راہ میں بہت سارے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جن کو اللہ نے اپنا محبوب بنانا چاہا اُن خوش نصیبوں کو اپنے دیدار سے بہرہ ور کیا۔اس طرح وہ اللہ کی بارگاہ میں منظور ِنظر بن گئے اورمخلوق ِخدا کی خدمت پر معمور ہوئے۔انہیں ہستیوں میں ایک برگزیدہ ہستی حضرت سید ناریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی ہیں جوکہ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام کے بانی و سرپرست ِاعلیٰ ہیں جن پر وقت کے فرعونوں نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر جعلی مقدمات کے ذریعے انہیں طالبین ِحق اورمخلو ق ِخداسے دور کرنے کی مذموم کوشش کی لیکن اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔اللہ رب العزت نے آپ کو صدیوں سے سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے مسیحابنا کر بھیجا جنہوں نے بلا تفریق رنگ و نسل ومذہب ہر ذی روح تک اسم ِاللہ ذات کو پہنچانے کے لئے دور دراز کاکٹھن اورتکلیف دہ سفر کیا۔ہر گلی کوچہ،مساجد،امام بارگاہ،گردواروں،مندروں اور گرجاگروں میں جاکر اللہ کی محبت کا درس دیا۔اُن کے اس اللہ ھو کے لافانی پیغام محبت کو ہرصاحب ِدل نے قدرکی نگاہ سے دیکھا اور خوش نصیب روحوں نے اُن سے یہ روحانی فیض حاصل کرکے اپنی مردہ روحوں کو زندہ وبیدار کیا، اپنے قلب کو اللہ کے ذکر سے منور کیا اوراپنے سینوں میں عشق ِرسول ﷺکو بیدار کیا۔آپ کی ذات ِوالا صفات نے طالبین ِحق کوفنافی الشیخ،فنافی الغوثؓ،فنافی الرسول ﷺاورفنافی اللہ تک پہنچایا۔آج لاکھوں قلوب جو اللہ کے ذکر سے جاری و ساری ہیں،وہ اُن کی روحانیت پر مبنی سچی تعلیمات کا بین ثبوت ہے۔
اُن کامزیدکہنا تھا کہ آج ہم تمام عالم ِانسانیت کواللہ کے ذکر کی دعوت دیتے ہیں جوکہ دین ِاسلام کی بنیاد ہے۔اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔یہ اسلام کا پہلارکن ہے۔غار ِحرا کی پہلی سنت ہے۔اٖفضل الذکر بھی کلمہ طیبہ ہے۔لوگ سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی بات کرتے ہیں اور پہلی سنت کو اپنانے سے گریزاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سنتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کا دیدار بھی تو حضور پاک ﷺکی سنت ہے جس پر صحابہ کرام ؓ اور اولیائے کاملین نے عمل کیا اور اسم ِذات اللہ کو حاصل کرکے رب کے دیدار تک پہنچے لیکن آج ہمیں بھی تو چاہیے کہ اس سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔اس کے لئے آپ کو اپنے اندر اللہ کا نور پیدا کرنا پڑے گا ور اُس کیلئے اجازت ِذکر ِقلب ضروری ہے۔آپ ایک دفعہ اجازت ِذکر قلب حاصل کر کے اپنی قسمت کو آزمائیں۔اگر اللہ اور اُس کے پیارے حبیب ﷺنے چاہا توآپ کواپنی محبت کے لئے چن لے گااورآپ کے دل کی خالی دھڑکنیں اللہ اللہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔آپ کا سینہ محبت ِرسول ﷺسے سرشار ہو جائے گا اوراللہ تبارک وتعالیٰ  آپ کو اپنے دیدار سے مشرف کر ے گا۔نماز،روزہ،حج،زکوٰ ۃ اورذکر ِالٰہی کا ماحاصل دیدار الٰہی ہے اور جن کو اللہ نے اپنی محبت کے لئے پسند فرمایا آج ہزاروں سال کے بعد اُن کا فیض جاری و ساری ہے اور لوگ اُن کے درباروں پر حاضر ہو کر اپنی حاجت روائی کرتے ہیں۔کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھاکہ ”تم میرا ذکرکرومیں تمہارا ذکر کروں گا“۔اوراللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ہمیں چاہیے کہ اللہ کے ولیوں کے یہاں ہم دنیاداری نہ مانگیں بلکہ اُن سے اللہ کی محبت طلب کریں اور حقیقتاًاسی کام کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان برگزیدہ ہستیوں کو ہم میں بھیجاتاکہ وہ مخلوق کا اپنے رب سے ٹوٹاہوا ناطہ پھر سے جوڑ دیں اور اسی بابت حکم فرمایاکہ ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقوں میں مت پڑو“سلطان باھوؒ ارشاد فرماتے ہیں۔اللہ کے ولی ہی وہ رسی ہیں جنہوں نے ان اللہ والوں سے رشتہ مضبوط کر لیا وہ اللہ کی بارگاہ تک پہنچ گئے۔آئیے اور اسم ِاللہ ذات کے ذریعے اس رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور دلوں سے ایک ہو جائیں۔فرقہ پرستی کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اللہ کے ذکر کواپنے اندرپیداکر لیں گے اوراپنے دلوں کو اللہ اللہ میں لگا لیں گے۔یہی عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام کا پیغام محبت ہے۔”شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات“۔
بعد ازیں حلقہ ذکر الٰہی چیئرمین مرکزی مجلس شوریٰ حاجی محمد اویس قادری نے ترتیب دیا۔ ذکرکے بعد درودوسلام پیش کیاگیااور دعائے خیر وحید انور قادری نے کروائی۔ملکِ خداداد پاکستان کی ترقی وخوشحالی،امن وامان کے قیام کے لئے اور اس وطن ِعزیزپاکستان میں ذمہ دار کرسیوں پر اہل اللہ کے بیٹھنے کیلئے خصوصی دعاکی گئی۔اختتام محفل پر شرکاء میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

,

سالار سرفروش محترم محمدعارف میمن شہید کی یاد میں خصوصی محفل ِپاک۔

سالار سرفروش محترم محمدعارف میمن شہید کی یاد میں خصوصی محفل ِپاک۔

https://www.facebook.com/Sarfrosh.official/videos/147345459283362/

, ,

روحانی کانفرنس 1993 فیصل آباد خصوصی خطاب حضرت سیّدنا ریاض احمدگوہرشاہی مدظلہ العالی

, ,

(سالانہ محفل ایصالِ ثواب)

    (نمائندہ صدائے سرفروش فیصل آباد)عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام فیصل آباد کے زیر اہتمام یہ محفل پاک 9فروری 2018؁ ء بروز جمعہ صبح 11بجے یوسف آبادفیصل آباد میں منعقد کی گئی۔
یہ جسم نقل اصل اس کا باطن ہے۔سات لطائف نو جسے سولہ مخلوقیں ہیں اس جسم کے اندر۔اللہ فرماتا ہے ”نہ میں زمیں میں سماتا ہوں نہ آسماں کی وسعتوں میں،میں اگر سماتاہوں تو بندہ ئ مومن کے دل میں“۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان حق باھوؒارشاد فرماتے ہیں کہ
دل دریا سمندروں ڈوہنگے، کون دلاں دیا جانے ھو؟
وچے ای بیڑے،وچے ای جھیڑے،وچے ای ونجھ مُہانے ھو
چودا ں طبق دِلے دے اندر،تمبووانگر تانے ھو
جوکوئی دِل دا محرم باھو،سوئیو رب پچھانے ھو(سلطان باھوؒ)
اللہ تعالیٰ اس دل میں سماتا ہے جس میں اس کاذکر سما جاتا ہے۔جیسے یہ دنیا،یہ کائنات نقل ہے، ناری ہے۔جنات اور مؤکلات کی ہے۔یہ دنیا نقل ہے اصل جنت ہے۔ہمارا اصل ٹھکانہ جنت ہے۔یہ بجلی کا نظام نقل ہے۔اصل نور ہے۔عورت ذات نقل ہے،اصل حور ہے۔بندے کا جسم نقل ہے،اصل باطن ہے۔یہ قرآن ِپاک عکس ہے،اصل کہاں ہے؟اصل حضور پاک ﷺکے سینہ مبارک میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ!ہم نے قرآن کو آپ ﷺکے قلب ِاطہر پر اُتارا۔پتہ یہ چلاکہ اصل قرآن سینہ مصطفی ﷺمیں ہے۔اور یہ قرآن عکسی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔جب وحی نازل ہوتی تھی تو نبی پاک ﷺکے قلب ِاطہر پر نازل ہوتی تھی۔جب میرے آقاﷺلب کشائی فرماتے تو صحابہ کرام لکھ لیا کرتے تھے۔حضرت عثمان ِغنی ؓ کے دور میں اِس کو اکٹھا کر کے کتابی شکل دی گئی تو ساتھ لکھا گیا عکسی قرآن ِمجید۔
ان خیالات کا اظہار محمدافضال قادری نے کیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ انجمن سرفروشان ِاسلام آج آپ کو یہی پیغام ِخاص دے رہی ہے کہ یہ ہماری دھڑکن ضائع جارہی ہے۔یہ جاگتے بھی ٹک ٹک کرتی ہے۔یہ سوتے بھی ٹک ٹک کرتی ہے۔شا ہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے جسم کے اندر موجود دل ایک دفعہ اللہ کرتا ہے تو تمہارے جسم کے اندر ساڑھے تین کروڑ نسیں بھی اللہ اللہ کرتی ہیں۔انجمن سرفروشان ِاسلام کا یہ پیغام ہے کہ اے بندے اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے روشن و منور کر لے۔یہ دل جب چوبیس گھنٹے اللہ اللہ کرے گا تو تمہارا سونا بھی عبادت بن جائے گا۔تمہارا جاگنا،تمہارا اُٹھنا،تمہارابیٹھنا،تم کاروبار کرتے ہو،لین دین کرتے ہو،زبان سے گفتگو کرتے ہو۔اسی لئے تو فرمایا گیاناکہ ”ہتھ کار وَل تے دل یار وَل“۔جب یہ دل چوبیس گھنٹے اللہ اللہ کرے گا توآپ 24گھنٹے اللہ کے ذکر میں ہوں گے۔یہ ایک طریقہ کار ہے اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو اگر اللہ تعالیٰ نے چاہاتو ایک دن آپ کے دل کی خالی دھڑکنیں اللہ اللہ میں تبدیل ہوجائیں گی۔رات کو سونے لگیں تو شہادت کی اُنگلی کو قلم تصور کرتے ہوئے اپنے قلب پر اللہ کا نام لکھتے لکھتے سو جائیں۔سفید کاغذپر کالی مارکر،پین یا پنسل سے 66دفعہ اسم ذات اللہ لکھیں۔جب بھی لکھیں 66دفعہ ہی لکھیں۔یہ ایک عمل ہے۔کم یا زیادہ نہ لکھیں۔وہ جس کاغذ کے ٹکڑے پر آپ اسم ِذات اللہ لکھتے تھے،اُس کو بڑے پیار،بڑی محبت اور چاہت سے دیکھنے کی کوشش کریں۔جب آپ دیکھیں گے،آنکھیں بند کریں گے تو وہ جو آپ اللہ اللہ لکھتے تھے،وہ آپ کی آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے گا۔جب آنکھوں میں تیرنا شروع ہو جائے تو اُس کو دل پر اُتارنے کی کوشش کریں۔چلتے پھرتے،اُٹھے،بیٹھتے ہر وقت تصور میں اللہ ھو اللہ ھو پڑھتے رہیں کیونکہ دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے نور سے ہوتا ہے۔وضو ہو،نا ہو،اللہ ھو اللہ ھو کرتے رہیں۔
جب محبوب شب معراج عرشوں کی سیر فرماتے سدرۃ المنتہیٰ،عر ش معلی،قاب و کوسین،جہاں پر رب کی ذات جلوہ فرماہے۔جب محبوب ﷺرب کے روبرو پہنچتے ہیں عرش معلی پر تو ذراخم ہو تے ہیں اور جھکتے ہیں۔اپنی نعلین مبارک کو اُتارنے لگتے ہیں تو رب کی طرف سے حکم آتا ہے کہ محبوب ﷺ!جوڑوں سمیت میری بارگاہ میں آجاؤتو محبوب ﷺعرض کرتے ہیں کہ مولا!تو نے موسیٰ ؑکو حکم دیا کہ موسیٰ !ؑ اگر تونے طور پر مجھ سے ہم کلام ہونا ہے تو اپنے جوڑوں کو پہلے اُتار دیا کرو۔مولا!یہ تو تیرا مقدس عرش ہے جہاں پر تو جلوہ فروز ہے۔فرمایا کہ یہ کلیم اورحبیب کی بات ہے۔وہ کلیم تھے،تم حبیب ہو۔موسیٰ ؑ کو اس لئے حکم دیا جاتا تھا کہ موسیٰ ؑکے قدم طور پر لگیں اور انہیں عظمت ملے اور تمہیں اس لئے حکم دیا جارہا ہے کہ تیرے جوڑے میرے عرش کو لگیں اور میرے عرش کو عظمت مل جائے۔
سر پہ رکھنے کو جو مل جائیں نعلین پاک حضور تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں
آج کی یہ محفل ِایصال ِثواب عبدالعزیز قادری کی والدہ ماجدہ کے سالانہ ختم شریف کے سلسلہ میں انعقاد پزیر ہے۔دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنی جوار ِرحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔یقین جانئے وہ بڑی ہی شفیق اور محبت کرنے والی تھیں۔اُن کی بخشش و مغفرت کیلئے یہی کافی ہے کہ اُن کے بیٹے سرکار ﷺکے ثناء خواں ہیں۔دعا ہے انہیں عبدالعزیز قادری کو اپنے والد کی خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اُن کی والدہ کی قبر پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔
اس محفل ِپاک میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری صاحب نے سر انجام دئیے۔اس محفل ِپاک کا آغاز تلاوت ِکلام ِمجید سے کیا گیا جس کی سعادت عبدالمجید نے حاصل کی۔اسکے بعد حمد ِباری تعالیٰ منصب علی قادری نے پڑھی۔بارگاہ ِحبیب ِعرب وعجم میں محبت کے نذرانے،حماد علی،واحد علی،عبدالمجید،محمد اسلم اور افسر علی رضوی نے پیش کئے اور منقبت ِغوثیہ ؓ ڈاکٹر محمد ناصر نے پیش کی۔عبدالعزیزقادری نے بارگاہ ِمرشد ی میں ہدیہ قصیدہ پیش کیا۔حلقہ ذکر محمدافضال قادری نے ترتیب دیااور مرحومین کی بخشش و مغفرت کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔اختتام ِمحفل پر لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

, ,

تسبیح کرنا سوئیو جانے جیہڑا تسبیح کردا بلھے شاہ ؒ د ے دل دا منکا اللہ اللہ کر دا۔عبدالعزیز قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)فیصل آباد،شانی بابا زون کے زیراہتمام اطہر اقبال قادری کی رہائش گاہ طارق آباد میں ماہانہ محفل گیارھویں شریف 6فروری 2018؁ ء بروز منگل بعد از نماز ِعشاء نہایت عقیدت و احترام سے منعقد کی گئی۔
پیارے آقا علیہ السلام کی ذات ایک ایسی ذات ہیں کہ اُن کے بچپن سے لے کر اُن کے لڑکپن تک،اُن کی جوانی،اُن کے بڑھاپے تک جو بھی آپ ﷺنے کام کیے،اپنی زبان ِاطہر سے بیان کیا ہے اور جو بھی اعمال آپ نے ادا فرمائے،وہ امت کے لئے سنت بن گئے۔اب اگر ہم اعلان ِنبوت سے پہلے 40سالا دور پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ ﷺنے اپنے اخلاق و کردار،بچوں سے شفقت،بڑوں کا ادب اورسچ بولنے،امانت داری،ایمانداری سے آپ ﷺکو صادق اور امین کا لقب عطاء کیا گیااورکفار جو آپ ﷺکے جانی دشمن تھے،لیکن وہ اپنی امانتیں تک آپ ﷺکے پاس رکھواتے تھے۔گویا پورے مکہ میں آپ ﷺجیسے حسن اخلاق کاحامل شفیق انسان کوئی نہیں تھا۔اس بات کا ندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتاہے کہ وہ بڑھیا جو آپ ﷺپر روز کوڑا پھینکتی تھی لیکن ایک دن جب اُس نے کوڑا نہ پھینکاتو آپ ﷺنے اُس کی تیمارداری کی،اُ س کے گھر کو صاف کیا،پانی بھرااور اُس کے کھانے پینے کا بندوبست کیا تو وہ آپ ﷺکے حسن ِعمل سے متاثر ہوکر صاحب ِایمان ہو گئی۔اسی طرح وہ بڑھیا جو آپ ﷺکو جادوگر (نعوذباللہ)کہا کرتی تھی اور لوگوں سے کہتی تھی کہ اس سے بچنا جو بھی اس کے پاس جاتاہے،وہ اس سے نہیں بچتاتو ایک دن وہ مکہ چھوڑکر جانے لگتی ہے تو حضور رحمتہ اللعالمین وہاں چلے جاتے ہیں اور دریافت فرمانے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ اس جادوگر سے بچنے کیلئے مکہ چھوڑ کر جانا چاہتی ہے تو آپ ﷺاُس کے کپڑوں کی گٹھڑی خود اپنے سر مبارک پر اُٹھا کر مکے سے دور چلے جاتے ہیں تو وہاں پہنچ کر جب وہ بڑھیاپوچھتی ہے کہ بیٹا تم کون ہو؟تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کے ڈر سے آپ مکہ چھوڑ آئی ہیں تو وہ اس بات سے اتنا متاثر ہوتی ہے کہ اُسے وقت کلمہ پڑھ لیتی ہے اورواپس مکہ آجاتی ہے۔تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ آپ ﷺنے پوری زندگی اپنے اخلاق کو لوگوں کے سامنے پیش کیااور اسی اخلاق سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ ایک ہندو جو انڈین ملٹری سے تعلق رکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ جب ہم کسی شہر پر قبضہ کرلیتے ہیں تو اُس پر دھاوابول دیتے ہیں کہ اب ہماری حکومت آگئی ہے جو بھی ہمارے خلاف ہو گا اُس کو نیست و نابود کردیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سا ہمارا دشمن بچتا ہے؟و ہ کہتا ہے کہ ”قربان جائیں پیارے محمدﷺپرکہ جب مکہ کو فتح کرتے ہیں تو اعلان فرماتے ہیں کہ ان کی فصلوں کو نقصان نہیں پہنچانا،اِن کے جانوروں کو نقصان نہیں پہنچانا،درختوں کو نقصان نہیں پہنچانا،اِن کے بچوں کو نقصان نہیں پہنچانا،اِن کی عورتوں کو نقصان نہیں پہنچانا،اِن کے بوڑھوں کو نقصا نہیں پہنچانا،سرکار نے مزید فرمایا کہ جو مکے میں،خانہ کعبہ میں پناہ لے لے،اُ س کو بھی نقصان نہیں پہنچانا،یہاں تک جو آپ ﷺکا بہت بڑا دشمن ابو سفیان تھا،فرمایا جو اُس کے گھر میں پناہ لے لے،اُس کو بھی کچھ نہیں کہنا“الغرض کہ یہ تھا آپ کا حسن اخلاق جس سے اہل مکہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔
ان خیالا ت کا اظہار عبدالعزیزقادری نے کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکار ﷺکا پیغام کیا ہے؟ہم دیکھتے ہیں کہ محفل کے دوران ہم جھومتے بھی ہیں،واہ واہ بھی کرتے ہیں جس سے ہمیں تسکین ہوتی ہے لیکن یہ وقتی ہوتی ہے جب طرح بارش کے دوران ایک برتن جو سیدھا رکھا ہوگا،جس کا منہ کھلا ہو گا وہ بارش کے پانی سے بھر جائے لیکن وہ برتن جو الٹا پڑا ہوا ہے،بارش اُس پر بھی برس رہی ہے لیکن وہ برتن بھرے گا نہیں۔ اسی طرح جب ہم چند گھڑیاں محفل میں گزارتے ہیں تو ہمیں سرور آتا ہے،مزہ آتا ہے کہ سرکار ﷺکی باتیں ہو رہی ہیں اور اللہ کا ذکر ہو رہا ہے لیکن جب ہم گھر پہنچتے ہیں تو پھر وہی حال ہو جاتا ہے کہ ہم نے برتن کو اُلٹا کر دیا ہے۔آج انجمن سرفروشان اسلام قریہ قریہ،گھر گھر یہی پیغام دے رہی ہے کہ لوگو!ان برتنوں کو سیدھا کروکہ اللہ رب العزت کے کرم اور سرکار وعالم ﷺکی رحمت کی بارش آج بھی اُسی طرح ہو رہی ہے جیسے آج سے چودہ سو سال پہلے ہورہی تھی۔لیکن بات یہ ہے ہ اُس وقت جو لوگ صحابہ یارسول اللہ ﷺکے منصب پہ فائز ہوئے،اُ ن کے برتن سیدھے تھے اور ہمارے برتن اُلٹے ہیں۔ہم نے ان برتنوں کو سیدھا کرنا ہے یہی پیغام انجمن سرفرشان ِاسلا م دے رہی ہے۔کیسے سیدھا کرنا ہے؟ہم انجمن سرفروشان اسلام والے کہتے ہیں کہ یہ جو اللہ کا ذکر ہے،اِسے زبان تک محدود نہ رکھیں۔یقین کریں اگر زبان تک محدود رکھیں تو ہم تو اس کا بھی حق ادا نہیں کر سکے۔حضرت ابراہیم ؑ!جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں،اُن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مال مویشی کی صورت میں بہت سامال دیا تھا۔اور آپ اپنے رب کا بہت شکر اد ا کرتے تھے۔انہوں نے اپنے رب کا ذکر سننے کیلئے اپنا تمام مال مویشی قربان کردیایہاں تک کہ اپنے آپ کو بھی اللہ کا ذکر سننے کیلئے غلامی کے طور پر پیش کردیا۔کہ ان ہستیوں نے اپنے رب کی یاد کو اپنے دل میں بسا رکھا تھا،زبان تک محدود نہیں تھا۔جب اللہ کا ذکر ہوتا تو وجدانی کیفیت میں آجاتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے برتنوں کو سیدھا کرلیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کم و بیش 750مرتبہ نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔مختلف طریقوں سے،مختلف آیات میں نماز قائم کرنے کا حکم دیااور وہ قائم نہیں ہو رہی۔وہ اس وقت قائم ہو گی جب ہم برتن سیدھا کرلیں گے اور وہ برتن کیا ہے؟نبی مکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ”بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑاہے۔اگر وہ صحیح ہے تو جسم کاتمام نظام درست ہے اور اگر وہ خراب ہے توجسم کا تمام نظام خراب ہے،خوب جان لو کہ وہ گوشت کا لوتھڑا تمہارادل ہے“۔پتہ یہ چلا اگر یہ درست ہے تو تمام نظام درست ہے اور اگر یہ خراب ہے تو تمام نظام خراب ہے۔اس کو سائنس بھی بیان کرتی ہے کہ انسان کا یہ دل پمپنگ کا کام کرتا ہے۔یہ پورے جسم میں خون کو پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔یعنی سر کے بال سے لے کر پاؤں کے ناخن تک خون کی سپلائی کو یقینی بناتاہے۔تو سائنس کی روح سے اگر یہ دل صحیح انداز میں کام کر رہاہے تو ظاہری طور پر انسان صحت مند ہے اور اگر باطنی طور پر دل اللہ اللہ بھی کر رہاہے تو پھر تو وہ انسان مقبول ِبارگاہ ہو جاتا ہے۔اسی بابت بابا بلھے شاہ ؒ ارشادفرماتے ہیں کہ
”تسبیح کرنا سوئیو جانے جیہڑا تسبیح کردا بلھے شاہ ؒ د ے دل دا منکا اللہ اللہ کر دا“
ٓؒؒاللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا خلیفہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے اور ہماری کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔اور اس کو شاعر ِمشرق کچھ اس طرح بیان کرتے بیان کرتے ہیں۔
”فرشتہ مجھ کو کہنے سے میری تحقیر ہوتی ہے میں مسجود ِملائکہ ہوں مجھے انسان رہنے دو“
حالانکہ ہم غلطی کرنے پر کہتے ہیں کہ ہم کون سے فرشتہ ہیں؟یعنی ہم اپنے آپ کو فرشتوں سے کم سمجھتے ہیں لیکن علامہ اقبال ؒانسان کو فضیلت دے رہے ہیں۔اب یہ دل کن کے اختیار میں ہے؟یہ زبان ہمارے کنٹرول میں ہے کہ جب چاہے بول لیں اور جب چاہیں خاموش ہو جائیں لیکن دل اللہ والوں کے اختیار میں ہوا کرتے ہیں۔بابابلھے شاہ ؒ ارشاد فرماتے ہیں ”یہ جو تمہارے دل کی دھڑکن ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح تسبیح کرتے ہوئے دانے کے اوپر دانا گرتا ہے تو ٹک ٹک کی آواز آتی ہے،اِسی طرح جو دل کی دھڑکنوں سے ٹک ٹک ہو رہی ہے،اُس کو اللہ اللہ میں لگاؤ۔اللہ فرماتا ہے کہ ”پس جب تم نماز اد ا کر لوتواللہ کا ذکر کروکھڑے بھی،بیٹھے بھی اورکروٹوں کے بل لیٹے ہوئے بھی“۔حضرات ِگرامی!انسان تین ہی حالتوں میں ہو تا ہے۔یا کھڑاہوتا ہے،یا بیٹھا ہوتا ہے اور یا بستر پرلیٹاہوتا ہے۔اس کے علاوہ کوئی حالت نہیں ہوتی۔اب انسان کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کر لے گا،بیٹھ کر بھی ذکر اللہ کر لے گا لیکن سوتے ہوئے کیسے اللہ کاذکر کرے گا؟ یعنی اللہ فرما رہا ہے کہ سوتے ہوئے بھی میرے ذکر سے غافل نہ ہونا۔تو سوتے وقت جو تسبیح سے ہم سبحان اللہ،الحمد اللہ اور اللہ اکبر اور دیگر اذکار کررہے ہیں وہ جاری رہ سکتا ہے نہیں۔کیونکہ تسبیح ہاتھ سے چھوٹ گئی لیکن سوتے ہوئے یا جاگتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرا دل ٹک ٹک نہیں کر رہا ہے۔ہر حالت میں دل ٹک ٹک کرتا رہتا ہے جاگتے ہوئے،سوتے ہوئے،کام کاج کرتے ہوئے اورپڑھتے ہوئے بھی۔یہاں تک انسان کے مرنے کے بعد چند سیکنڈتک دل ٹک ٹک کر تا رہتا ہے۔جن لوگوں نے اس د دھڑکن کے ساتھ اللہ اللہ ملا لیاحضرت سلطان باھو ؒ ارشاد فرماتے ہیں۔
جو دم غافل سو دم کافر سانوں مرشد اے پڑھا یا ھو
سنیاسخن گئیاں کھل اکھیاں اسا ں دل مولا ول لایا ھو
کیتی جان حوالے رب دے اساں ایسا عشق کمایا ھو
مرن توں اگے مر گئے باھو تاں مطلب نوں پایا ھو
فرماتے ہیں اے باھو ؒ!”اس وقت اپنے آپ کومسلمان تصور نہ کرنا جب تم اللہ کے ذکر سے غافل ہو“
اس کا واحد ذریعہ اس دھڑکن کے ساتھ اللہ کا ذکر ملانا ہے۔جب تک یہ دھڑکتا رہے گا اس ٹک ٹک کے ساتھ اللہ اللہ ملتا رہے گا۔تو انسان بول چال،کام کاج کر تا رہے گا لیکن یہ دل دھڑکنا بند نہیں کرے گا۔بلکہ جانوروں کی طرح ہونے والی ٹک ٹک اللہ اللہ میں تبدیل ہو جائے گی۔یہی تو اللہ والوں کا پیغام ہے۔اور جس وقت یہ اللہ اللہ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اوپر اسم ِذات اللہ نقش ہو جاتا ہے۔یہ اطہر اقبال صاحب کا گھر ہے تو دروازے پر نام پہ انہی کا لکھا ہو گا۔جناب رسالتِ مآب ﷺارشاد فرماتے ہیں ”مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے اور مومن کا قلب اللہ کا گھر ہے“اگر واقعی یہ اللہ کاگھر ہے تو اس کے اوپرName Plateبھی اللہ کے نام کی ہونی چاہیے۔اور جب یہ نیم پلیٹ اس دل پر لگ گئی تو ارشاد ِبار ی تعالیٰ ہے کہ”میر ے کچھ خاص بندے ایسے ہیں جن کے دلوں پر میں ایمان لکھ دیتا ہوں“سارے نہیں ہیں جن کو اللہ چاہتا ہے اُن کو اپنی محبت کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔تو آج کے اس پر فتن دور میں عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام آپ کو یہی دعوت ذکر و فکر دے رہی ہے کہ اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کو بھی منور کرو،ذبان کے ساتھ ساتھ اس دل کو بھی اللہ اللہ میں لگا نے کی کوشش کرو۔یہ اجازت ِذکر قلب ہے۔یہ پیری مریدی نہیں ہے۔یہ نظروں کا فیض ہے۔ہم اپنے روحانی رہبرحضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے پیروکار ہیں۔آپ بھی کسی نہ کسی مرشد کے ماننے والے ہوں گے۔وہ آپ کے سر کے تاج ہیں اور ہمارے لئے قابل ِصداحترام ہیں لیکن کوئی بھی اللہ کا ولی فیض لینے سے منع نہیں کر تا۔اس کمرے میں اگر ایک بلب جل رہاہے تو اگرایک اور لگادیں تو روشنی زیادہ ہو جائے گی۔اسی طرح اگر زیاہ بلب لگادئیے جائیں تو روشنی مزید بڑھ جائے گی۔اگر ایک قلب اللہ اللہ کر رہاہے تو اس کے ساتھ اگر دوسرے کا بھی کرنا شروع کر دے گا تو نور بڑھ جائے گا اور اسی طرح اگر سب کے دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دیں تو نور ہی نور ہو جائے گا اوراللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ”میں تمہاری شکل و صورتوں کو نہیں دیکھتا،میں تمہارے اعمال کو بھی نہیں دیکھتا،میں اگر دیکھتاہوں تو تمہارے دل اور اُس کی نیتوں کو“اگردل اللہ کے نام اور ذکر سے چمک رہاہے تو اللہ خوش ہو جائے گا اور اگر اللہ خوش ہو گیا تو ہمارے یہاں پر بیٹھنے،ذکر و اذکار کرنے کا مقصد پوراہو گیا کیونکہ ہم سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کر رہے ہیں۔تو اس کیلئے آپ اجازت ِذکر قلب حاصل کریں اور اپنی قسمت کو آزمائیں۔اگر اللہ نے چاہا اور رسول اللہ ﷺکی مرضی شامل ہو ئی تو یقینا آپ کے دل کی یہ خالی دھڑکنیں اللہ اللہ سے جاری ہو جائیں گی۔اس کے بعد جناب محمد جمیل قادری صاحب نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر قلب کی نایاب دولت ِعظمیٰ سے نوازا۔بعد ازاں ذکر کا طریقہ بتایا گیا۔
اس محفل پاک میں نقابت کے فرائض محمد رفیق قادری نے سر انجام دئیے۔حمد ِباری تعالیٰ،نعت ِرسول مقبول ﷺاور منقبت ِغوثیہ ؒ بالترتیب محمد افتخار بٹ،محمد احتشام گوھر،واحد علی،افسر علی رضوی اور منصب علی قادری نے پیش کی۔قصیدہ ئمرشدی کی سعادت ڈاکٹر محمد ناصر نے حاصل کی۔حلقہ ذکر ترتیب دیا گیا اور ختم شریف،فاتحہ کے بعد محمد افضال قادری صاحب نے دعا کروائی۔حاضرین محفل کی لنگر سے تواضع کی گئی۔

, , ,

ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف

( )
(نمائندہ صدائے سرفروش فیصل آباد)
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) پاکستان،فیصل آباد کے زیراہتمام مورخہ 02فروری 2018؁ء بروز جمعتہ المبارک آستانہ عالیہ فیصل آباد پر ماہانہ روح پرور محفل ِگیارھویں شریف نہایت تذک و احتشام سے منعقد کی گئی جس کی صدارت امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے کی۔چیئر مین مرکزی مجلس شوریٰ حاجی محمد اویس قرنی نے خصوصی شرکت کی۔اس محفل ِپاک میں نظامت کے فرائض محمد شکیل گوھر (لاہور)اور ڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے سرانجام دئیے۔
آج ہر کوئی سمجھتا ہے کہ میں سب سے افضل ہوں۔یہودی کہتا ہے کہ میں افضل ہوں،عیسائی کہتا ہے کہ میں افضل ہوں اور مسلمان کہتا ہے کہ میں آخری نبی ﷺکا امتی ہوں اس لئے میں سب سے زیادہ افضل ہوں لیکن میرے مرشد ِکریم حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ افضل وہ ہے جس کے دل میں اللہ کی محبت ہے۔اور یہ پیغام کسی ایک فرقے کیلئے نہیں ہے،کسی ایک مذہب کیلئے نہیں ہے ۔اللہ کی قسم!یہ عالمگیر پیغام ہے۔ہر انسان کیلئے پیغام ہے کہ اس کو اپنے اوپر لاگو کرو،اختیار کرواور اس کو سمجھو کہ کون افضل ہے؟ان خیا لات کا اظہار ڈاکٹر مشتاق قادری نے کیا۔اُن کا کہنا تھاکہ یہ نظام قدرت ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی مرضی سے اپنی قوم،قبیلے،گھر،محلے،علاقے اور ملک میں پیدا نہیں ہوا۔اللہ نے جسے چاہا مسلمانوں کے گھر میں بھیج دیا،جسے چاہا عیسائیوں کے گھر میں بھیج دیا۔جو بندہ جس ماحول میں پرورش پاتا ہے۔یہ ماحول کا ہی اثر ہے کہ سنیوں کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ سنیت کے ماحول میں پرورش پاتا ہے،وہ سنی بن جاتا ہے۔اہل ِحدیث کے گھر میں پرورش پانے والا اُس ماحول میں پرورش پاتا ہے،وہ اہل ِحدیث بن جاتا ہے۔ایک غیر مسلم عیسائی کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ عیسائیت کے ماحول میں پرورش پاتا ہے،وہ عیسائی بن جاتا ہے۔ماحول کا اثر ہو تا ہے جیسے ایک پنجابی کا بچہ اگر برطانیہ میں جاکر پرورش پائے گا تووہ انگریزی بولے گا۔اگر انگریز کا بچہ پنجاب میں پرورش پائے گا تو وہ پنجابی بولے گا۔انسان کا بچہ اگر جنگل میں چھوڑ آئیں تو انسانی زبان نہیں بولے گاوہ جانوروں کی زبان بولے گالیکن اس سے نکلنے کا طریقہ کا ر کیا ہے؟صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے۔میرے مرشد پاک فرماتے ہیں کہ ذکر ِقلب واحد ایک طریقہ ہے جس کواختیار کرکے بندہ یہ جان سکتا ہے کہ وہ اللہ کی بارگا ہ میں منظور ِنظر ہے کہ نہیں ہے؟باقی تمام اعمال بندے کے اختیار میں ہیں۔بندہ زبان سے تسبیح و تحلیل کر سکتا ہے۔میں اگر کسی سے کہوں کہ روزانہ 1000نفل پڑھ کے سونا ہے تو وہ پڑھ سکتا ہے۔1000دفعہ فلاں تسبیح کرکے سونا ہے تو وہ کرسکتا ہے لیکن اگر میں کسی سے کہوں کہ اپنے دل کے ساتھ اللہ ھو اللہ ھوکر کے سونا ہے تو وہ بندہ نہیں کرسکتا۔کیوں نہیں کرسکتا کہ یہ بندے کے اختیار میں نہیں ہے۔یہ عطائی چیز ہے۔اللہ کی بارگا ہ سے عطاء ہوتی ہے اور جسے وہ چاہتا ہے اُس کوہی عطاء ہوتی ہے اور جس کو یہ چیز عطاء ہو جاتی ہے تو یقین جانیے کہ دنیا میں اُس شخص کے پاس گارنٹی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں منظور ِنظر ہے تبھی تو اُس کے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کر رہی ہوتی ہیں۔
اُن کامزید کہنا تھاکہ یہی ایک پیغام ِخاص ہے جو مادیت پرستی،فرقہ واریت اور دہشت گردی کے اس دور میں عالمی روحانی تحریک ا نجمن سرفروشان ِاسلا م دے رہی ہے۔میرے مرشد فرماتے ہیں کہ ”اللہ کی پہچان اور رسائی کے لئے روحانیت سیکھو،خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقہ سے ہو“وہ کیا ہے کہ اجازت ِذکر ِقلب حاصل کریں۔ذکر الٰہی کی محافل میں بیٹھ کر اپنے دل کو اللہ اللہ میں لگانے کی کوشش کریں۔انشا ء اللہ آپ کادل اللہ اللہ کرنا شروع کردے گا۔جب اللہ اللہ کرنا شروع کردے گاتو پھر دنیا میں رہتے ہو ئے آپ کو یقین ہو جائے گاکہ آپ اللہ کی بارگاہ میں منظو ر ِنظر ہیں۔جوبھی شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس کا دل جو جانور وں کی طرح محض ٹک ٹک کر رہا ہے،وہ اللہ اللہ کرنا شروع کردے تو وہ اجازت ِذکر ِقلب حا صل کرے۔اس کے بعد جناب وحید انورقادری (ممبر مرکزی عبوری کمیٹی)نے نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر ِقلب سے نوازا۔
ڈاکٹر مشتاق قادری نے مزید کہا کہ مبارک باد کے مستحق ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس عظیم محفل میں اجازت ِذکر قلب حاصل کری۔یہ وہ نایاب دولت ہے جس کو حاصل کرنے کیلئے جنگلوں میں جاناپڑتا تھا،پتے کھانے پڑتے تھے،بھوکے پیاسے رہنا پڑتا تھا،تارک الدنیا ہو نا پڑتا تھالیکن اللہ رب العزت کی رحمت جوش میں آئی۔اُس خالق ِکائنات،مالک کا ئنات نے ہم جیسے گنہگاروں کی رہنمائی کیلئے اس دولت ِعظمیٰ کو پیرو مرشد حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی کی وساطت سے سر بزم لٹایا۔اُن کی نظر ِعنائیت اور نظر کیمیا سے یہ دولت جو پہلے جنگلوں میں جاکر حاصل کی جاتی تھی،عمر عزیز گنوا دی جاتی تھی۔آج گھر بیٹھے ہوئے،نرم گرم بستروں میں بیٹھے ہوئے،آپ کے اپنے علاقے،اپنے محلے میں یہ دولت ِعظمیٰ لٹائی جارہی ہے۔لاکھوں بار شکرادا کرتاہوں اللہ رب العزت کاکہ جس نے ہم جیسے گنہگاروں کو مرشد ِکریم کی ذات کے ساتھ منسوب فرمادیااور لاکھوں بار اپنی جاں فدا کرنے کا عزم رکھتے ہوئے مرشد ِکریم کی مقدس بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتا ہوں کہ جس نے ہم جیسے گنہگاروں کو دنیاکی بدعتوں اور غلاظتوں سے نکال کرحضور غوث ِاعظم ؒ کا دیوانہ بنا دیاجن کی یاد میں آج ہم یہ محفل ِپاک سجائے بیٹھے ہیں۔
اس محفل ِپاک میں نماز ِمغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد حاجی محمد اصغر قادری صاحب نے مناجات ِغوث ِاعظم ؒپڑھی۔اسکے بعد خصوصی دعا محمد شفیق قادری صاحب نے کرائی۔باقائدہ محفل ِپاک کا نقابت سے آغاز محمد شکیل گوھر(پینٹر)جو کہ لاہور سے تشریف لائے تھے،نے کیا۔حمد ِباری تعالیٰ کی سعادت محمد بشیر قادری نے حاصل کی۔ارشد حسین شا ہ نقشبندی،محمد سلیمان قادری،احتشام گوھر (ننھابچہ)اور ذیشان الٰہی نے بارگاہ ِرسالت مآب ﷺمیں عقیدت کے گلدستے پیش کیے۔عبدالعزیز قادری نے منقبت ِغوثیہ ؓ اورقصیدہ ئ مرشد ی کی سعادت حاصل کی اور محفل میں پرکیف سماں باندھ دیا۔یہ محفل ِگیارھویں شریف امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت منعقد کی گئی۔انہوں نے حلقہ ذکر ِالٰہی کو ترتیب دیا۔بعد ازاں درودوسلام کے بعداختتامی دعامحمد شفیق قادری صاحب نے کرائی۔مر حومین کے ایصال ِثواب،بیماروں کی تندرستی اور وطن ِعزیز پاکستان کے استحکام،عروج و سربلندی اور امن و امان کے قیام کیلئے خصوصی دعا ئیں کی گئیں۔بعد ازمحفل لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔اس محفل کی کوریج کیلئے TFنیوز کے نمائندوں نے خصوصی شرکت کی۔
محمد شکیل گوھر (لاہور)نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم دنیاداری میں اس قدر مگن ہیں کہ ہمیں رب یاد ہی نہیں ہے۔ہم نے اپنی ترقی کو کار،کوٹھی،بنگلہ اور پرتعیش زندگی سے تعبیر کردیا ہے حالانکہ یہ سب فانی اور مادی چیزیں ہیں۔حقیقت میں اولیاء اللہ نے ترقی کا راز بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے ولی فرماتے ہیں کہ اگر تو اللہ کے اس فرمان پر پوا را اترنا چاہتا ہے کہ تو کھڑے،بیٹھے او رکروٹوں کے بل بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو تو پھر کسی اللہ والے کو ڈھونڈاور اُ س سے یہ دل کی دولت حاصل کر۔وہ تیرے مردہ دل پر جب اپنی نظر ِکیمیا ڈالے گا کہ جس کے بارے میں اللہ رب العزت فرماتا ہے ”مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“تو تمہارے دل سے دنیا کی محبت کو نکال با ہر کرے گا او رتجھے رب کی محبت سے آشنا کر دے گا تو پھر تم کثرت سے اُ س کا ذکرکرنا،کام کاج بھی کرنا اور اُس کا ذکر بھی کرنا۔پھر تمہارا چلنا،پھرنا،اُٹھنا،بیٹھنا حتی ٰ کہ سونا بھی عبادت میں شمار ہو گا کیوں کہ تم نے اپنے مردہ دل کو زندہ کرکے اُسے حیات ِجاویدانی سے نواز دیا یعنی تیرا دل ہمہ وقت اللہ اللہ میں لگ جائے گا۔پھر تم تو سو جاؤ گے لیکن تمہارا دل ٹک ٹک کی بجائے اللہ اللہ کرتا رہے گا۔اس کیلئے جب کسی اللہ والے کے پاس جاؤ تو اُس سے دنیا کی طلب نہ کرو جس طرح ہم عام طور پر کرتے ہیں بلکہ اُس سے دل کی دولت طلب کرو۔اگر وہ اللہ والاہو گاتو تمہیں اُس سے واصل کردے گا اور اگر دنیادار ہوا تو تعویز گنڈوں میں اُلجھا دے گا۔اس لئے اگر کہیں سے یہ نایاب دولت میسر نہ ہو تو ایک دفعہ انجمن سرفروشان ِاسلام کے بانی و سرپرست ِاعلیٰ حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی کے اس اللہ ھو کے پیغام پرعمل کرتے ہوئے اپنی قسمت آزما نا۔اگر اللہ اور اُس کے پیارے حبیب ﷺنے چاہاتو وہ تجھے اپنی محبت کے لئے چن لے گا اور اُ سکی نشانی یہ ہوگی کہ تیرا دل جو اُس کے دائرہ اختیار میں ہے،اُسے اپنے ذکر اللہ ھو اللہ ھو سے جاری و ساری کردے گا۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ آج کی اس محفل جومحبوب ِسبحانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی ؒکی یاد میں منعقد کی گئی کے صدقہ سے ہم سب کو اپنی محبت کیلئے منتخب فرما لے اورغوث ِپاک ؒکے داخلی مریدوں میں شامل فرما دے۔آمین۔

, ,

انسان اپنے دل کو اللہ اللہ میں لگا لے تو یقینا وہ نظر ِرحمت میں آجاتا ہے، عبدالعزیز قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) فیصل آباد کے زیر ِاہتمام 22جنوری 2018؁ ء بروزسوموار بعد از نماز ِعصر فرخ گوھر صاحب کی فیکٹری فیصل آباد میں نئے یونٹ کے قیام کے سلسلہ میں خصوصی محفل ِپاک کا انعقاد کیا گیا جس میں نقابت کے فرائض عبدالعزیز قادری نے سرانجام دئیے۔محفل پاک کا آغاز تلاوت قرآن ِمجید سے کیا گیا۔ اس محفل پاک میں حمد ِباری تعالیٰ کی سعادت محمد رفیق قادری نے حاصل کی۔اسکے بعد مدحت ِرسول ﷺکی سعادت محمد شاہد،واحدعلی،تنویر حیدری،قاری محمدعدیل قادری،افسرعلی رضوی،عبدالمنان قادری و دیگر نے حاصل کی۔منقبت ِغوثِ پاکؓ اور قصیدہئ مرشدی بھی پیش کیا گیا۔جناب عبدالعزیزقادری نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہرعمل کا دارومدار انسان کی نیت پر ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں تمہاری ظاہری شکل و صورت کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے قلب اور اس کی نیت کو دیکھتا ہوں۔ہم انجمن سرفروشان ِاسلام کے پلیٹ فارم سے آج کے اس مادیت پرستی،نفسانفسی کے دور میں حضرت انسان کو یہ دعوت ِفکر دے رہے ہیں کہ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی سنوارو۔ظاہر میں کلمہ، نماز،روزہ،حج اورزکوٰۃاپنی جگہ اہمیت و فضیلت کے حامل ہیں لیکن ان کی ادائیگی میں اگر انسان کا دل غافل ہے تو تمام اعمال بے معنی اور دکھاواکے مترادف ہیں۔ کیونکہ زبان کے ساتھ طوطا بھی اللہ ھو کا ذکرکرتا ہے،نماز دل کی حاضری کے بغیر درست نہیں ہے،روزہ نفس کی طہارت کا باعث ہے، اسی طرح حج اورزکوٰۃ کی ادائیگی اللہ کی راہ میں صمیم ِقلب اور خلوص نیت،خدمت خلق کے جذبے سے ہونی چاہیے۔اگر ان تمام اعمال میں ہمارا دل بھی اللہ اللہ کر رہا ہو تو زبان اقرار کررہی ہوگی اور دل تصدیق کر رہا ہوگا۔یعنی جو ہماری زبان پر ہو گا وہی ہمارے دل میں ہو گا۔تب حقیقی معنوں میں ان فرائض کی ادائیگی سے ہمارے قلب و روح روشن و منور ہو ں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی نعت لکھ کریا خوش الحان انداز میں نعت پڑھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے محبت ِرسو ل ﷺ کا حق ادا کر دیا تو یہ اس کا گمان ہے۔کیونکہ اُن کی تعریف و توصیف بیان سے باہر ہے۔میرے آقاﷺخود ارشاد فرماتے ہیں کہ میری حقیقت میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قاسم بنا کر بھیجاہے۔کائنات کے خزانوں کا مالک بنا کر بھیجا ہے اورکوئی بھی چیز مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔اس لئے ہمارا کیاہوا ہر عمل ہمارے پیارے نبی ﷺکی نظر ِمبارک میں ہے۔اگر کوئی آقاﷺکی ذات پر درود بھی پڑھتا ہے تووہ بھی ان کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے۔تو پھر اگر کوئی بندہ خدااپنی زبان کے ساتھ اپنے دل کو بھی اللہ اللہ میں لگا لے تو یقینا وہ ان کی نظر ِرحمت میں آجاتا ہے اوریہ کیسے ممکن ہے۔اسی نقطے کو سمجھانے اور اس نایاب دولت ِعظمیٰ کو بغیر طمع اور لالچ،بلا تفریق رنگ ونسل و مذہب ہر زی روح تک پہنچانا ہی انجمن سرفروشان ِاسلام کا مقصد ہے۔اس کیلئے اجازت ِذکر ِقلب حاصل کرکے اپنی قسمت کو آزمائیں۔اگر آپ کے مقدر میں یہ روحانی فیض ہواتو آپ کے ظاہر کے ساتھ ساتھ آپ کا باطن،قلب،بھی روشن و منور ہو جائے گا۔جب دل پاک و صاف ہو جائے گا توحقیقت کا ادراک بھی حاصل ہوجائے گا،کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی ہو گی۔بانی و سرپرست ِاعلیٰ حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی اپنی تصنیف ”تریاق ِقلب صفحہ نمبر25“میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
ڈھونڈکسی پار س کو کہ تو بھی سونا بن جائے ایسا نہ ہو کہ زندگی تیری رونا بن جائے
گیا وقت یہ بھی پھر کانٹوں کا نہ بچھونا بن جائے ڈر ہے یہ بھی کسی ناقص کا نہ کھلونا بن جائے
بعد ازاں محمد جمیل قادری صاحب نے نئے لوگوں کو اجازت ذکر قلب سے نوازا۔حلقہ ذکر الٰہی ستارالحق قادری نے ترتیب دیا۔ذکر کے بعد فرخ گوھر صاحب کی فیکٹری میں توسیع اور کاروبار کی ترقی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اسکے علاوہ تمام مرحومین خصوصاً حاجی رئیس احمد قادری صاحب کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی گئی۔دعا کے بعد لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔

https://www.facebook.com/Sarfrosh.official/videos/143833712967870/

, ,

اللہ ھو کا مشن انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دینا پر پھیلا دیں ،غلام فرید قادری

 فیصل آباد میں اخبار صدائے سرفروش کی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا ، جس میں ملک بھر سے صدائے سرفروش کے نمائندوں نے شرکت کی ،اللہ ھو کے ذکر کے اس عظیم مشن کو تمام دنیا کے لوگوں تک بذریعہ انٹر نیٹ ، ویب سائٹ ، سوشل میڈیا ، اور اخبار پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے،تاکہ ان لوگوں کو بھی اس مشن کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے جو اپنا زیادہ تر ٹائم انٹر نیٹ پر دیگر مصرفیت میں ضائع کر دیتے ہیں ۔ان  خیالات کا اظہارمرکزی مشیر برائے نشر و اشاعت غلام فرید قادری نےکیا،

, ,

جسم تو مر جاتا ہے لیکن جو انسان کے اندر لطائف ہیں وہ نہیں مرتے،۔افضال قادری

       عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)شانی بابا زون کے زیر ِاہتمام اطہراقبال قادری کی رہائش گاہ (طارق آباد گلی نمبر 21)میں 9جنوری 2018؁ ء بروزمنگل بعد از نماز عشاء ماہانہ محفل ِگیارھویں شریف کا روح پرور پروگرام منعقد کیا گیا جس میں نقابت کے فرائض محمد رفیق قادری اور محمدا فضال قادری نے سرانجام دئیے۔اس محفل ِپاک میں حمد ِباری تعالیٰ کی سعادت محمد افتخار قادری نے حاصل کی۔اس محفل ِپاک میں نعت ِرسول ِمقبول ﷺ کے نذرانے خالد محمود قادری،طلحہ لیاقت،محمد طاہر،محمد شاہد،غلام محی الدین و ہمنوا(دف کے ساتھ)اورافسر علی رضوی نے پیش کئے۔قصیدہ ئمرشد ی منصب علی قادری نے بڑے ہی والہانہ اور محبت بھرے انداز میں پیش کرکے حاضرین ِمحفل کے دلوں میں محبت ِرسول ﷺکو مزیدجاں گزیں کیا۔
اس محفل پاک میں محمد افضال قادری نے کہا کہ مردے کو زندہ کرنا آسان ہے اور مردہ دل کو زندہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔اور ہمارے پیرومرشد مردہ دلوں کو زندہ کرتے ہیں اور یاد رکھیں کہ جب ایک دفعہ یہ دل زندہ ہو جاتا ہے تو پھر یہ مرتا نہیں ہے۔جسم کو موت آجاتی ہے،جسم تو مر جاتا ہے لیکن جو اندر والے لطائف (قلب،روح،سری،خفی،انااورنفس)ہیں،جب یہ بیدار ہوجاتے ہیں تو ولی بن کر دربار میں،قبر میں بیٹھ جاتے ہیں اورپھر لوگوں کو فیض دیتے ہیں۔ہماراپیغام یہ ہے کہ آپ اپنے ان قلوب کو،دلوں کو،روحوں کو،ان لطائف کو بیدار کریں تاکہ اگر آپ کا یہ جسم مرتا ہے تومرجائے کیونکہ اس نے ایک دن فنا ہو نا ہے۔اس مٹی سے بنا ہے اور جانا بھی اسی مٹی میں ہے۔لیکن جب آپ کی ’روح‘امر ہو کر اللہ کی بارگاہ میں پہنچتی ہے توجب دل کے اندر سے آہ نکلتی ہے تو اللہ کا عرش ہلتاہے اورجنبش لیتا ہے تو اللہ کو پھر اپنے اس بندے پر فخر ہو تا ہے۔فرشتے عرض کرتے ہیں کہ مولا!کیا ہوا آج تیرے عرش نے ہلنا شروع کر دیا۔تو اللہ فرماتا ہے کہ اے فرشتو!یاد کرو وہ وقت جب تم نے انکار سجدہ کیا تھا۔ آج میراوہی بندہ سو رہا ہے لیکن اُس کا دل میرا ذکر کر رہاہے۔ بابا بلھے شاہ ؒارشاد فرماتے ہیں کہ
تسبیح کرنا سوئیو جانے جیڑاتسبیح کر دا بلھے شاہ دے دل دا منکا اللہ اللہ کردا
انجمن سرفروشان ِاسلام مادیت کے دور میں،پر فتن دور میں،آج کے اس گناہوں کے دور میں یہ پیغام خاص دے رہی ہے کہ آؤ اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے روشن و منور کر لو۔اسی دل کی روشنی کو بھی اعلیٰ حضرت نے قلم کیا تھا کہ
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے میر ادل بھی چمکا دے اے چمکانے والے
حضرات محترم!جب اس دل کی چمک آپ کو مل جائے گی تو پھرراستے صاف ہوتے چلے جائیں گے،کامیابی کے زینے آپ طے کرتے چلے جائیں گے اور جب آپ کامیابی کے زینے طے کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے تو پھر وہ مقام ہو گا راضیہ مرضیہ کا۔اس مقام پر علامہ صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
محمد جمیل قادری صاحب نے نئے لوگوں کو اجازت ِذکر قلب کی نایاب دولت ِعظمیٰ سے نوازا۔اس کے بعد محمد افضال قادری صاحب نے ذکر کا طریقہ بتایا۔انہوں نے مزید کہا کہ سارا دن بندہ پانی میں کھڑا رہے تو دل کا وضونہیں ہو تا۔پانی آپ کے جسم کو دھوئے گا،غسل کیلئے استعمال ہو گا۔دل کا غسل اللہ کے ذکر سے ہو گا۔جب آپ اللہ کا ذکرکرتے ہیں تو نور بنتا ہے اور وہ نور انسان کی رگوں کے اندر سرائیت کر جاتا ہے۔پھر جہاں جہاں خون جاتا ہے،وہاں وہاں نور بھی جاتا ہے اور ایک دن آپ نور علی نور بن جاتے ہیں۔اس کے لئے آپ رات کو شہادت کی انگلی کو قلم تصور کرتے ہوئے اپنے دل کے مقام پر اللہ اللہ لکھتے لکھتے سو جائیں۔اللہ تعالیٰ کے 99نام ہیں۔98صفاتی ہیں اور 1ذاتی نام ”اللہ“ہے۔جب یارحیم کاذکر کریں گے تو اس کے رحم تک پہنچیں گے،یا کریم کا ذکر کریں گے تو اس کے کرم تک پہنچیں گے۔جب اُس کے نام (اللہ)کا ذکر کریں گے تو اُس کی ذات تک پہنچیں گے یعنی آپ کی رسائی اللہ تک ہو جائے گی۔سفید کاغذ پر کالی مارکر،پین یا پنسل کے ساتھ لفظ’اللہ‘لکھ لیں۔66دفعہ لکھیں۔ایک لائن میں 6دفعہ اور 11لائنوں میں لکھیں۔جب آپ لکھ لیں تو اس کو آنکھوں میں اُتارنے کی کوشش کریں۔جب آنکھوں میں آجائے تواُس کو دل پر اُتارنے کی کوشش کریں۔اگر اللہ نے چاہا اور محبوب ِخدا ﷺ کی رضا ہوئی تو ایک دن آپ کو اپنے دل پر لفظ ”اللہ“ لکھا ہوا نظر آئے گا۔زیرو کے بلب پر اسم ذات اللہ لکھ لیں،رات کو دیکھتے دیکھتے سو جائیں کہ اُسی کی یاد میں آنکھ لگ جائے،آپ کی ساری رات عبادت میں لکھ دی جائے گی۔
بعد ازاں منقبت ِغوثیہ ؓ اور قصیدہ ئ مرشدی پیش کیا گیا۔ذکر الٰہی کی محفل ترتیب دی گئی،دعائے خیر کی گئی اور لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

, ,

نماز،روزہ کے ساتھ ساتھ ذکر ِالٰہی کرنے سے ہی منزل حاصل ہو گی، افضال احمد قادری

محفل گیارھویں شریف و پروقار تقریب تقسیم انعامات بسلسلہ جشن عید میلاد النبی ﷺ
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان،فیصل آباد کے زیر اہتمام5جنوری 2018؁ ء بروز جمعہ آستانہ عالیہ پر سالانہ بڑی گیارھویں شریف کے سلسلہ میں خصوصی محفل پاک کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے کی۔اس محفل پاک میں نظامت کے فرائض محمد افضال قادری نے سر انجام دئیے۔محفل پاک کاباقائدہ آغاز تلاوت کلام پا ک سے قاری طارق محمود قادری نے کیا۔اس کے بعد حمد ِباری تعالیٰ کی سعادت ذیشان الٰہی نے حاصل کی۔بعدازاں نعت رسول مقبول ﷺبحضور سرور کون و مکاں ﷺ انذل گوھر،آفاق گوھر،افسر علی رضوی اور غلام محی الدین وہمنوا (دف کے ساتھ)نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں پیش کرکے حاضرین ِمحفل کے دلوں میں محبت ِرسول ﷺکو مزید فروزاں کیا۔منقبت ِغوثیہ ؓ اورقصیدہ مرشدی عبدالعزیز قادری نے پیش کیا۔امیر فیصل آباد محترم حاجی محمد سلیم قادری نے حلقہ ذکر الٰہی کو ترتیب دیا۔درودوسلام کے بعد مرحومین کے ایصال ثواب،بیماروں کی شفا یابی اور وطن ِعزیز پاکستان کی ترقی وخوشحالی اور امن وامان کے قیام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
منقبت ِغو ثیہ ؓ سے قبل فیصل آباد میں جشن ِعید میلاد النبی ﷺکے سلسلہ میں تشہیری مہم (پولز پر جشن ِعیدمیلاد النبی ﷺکے پرچم آویزاں کرنے،دکانوں،ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر قلب والے سٹکر،رکشہ پر پینافلیکس،جھال چوک میں میلاد ِمصطفی ﷺکی بڑی فلیکس آویزاں کرنے)میں جن سرفروش ذاکرین نے حصہ لیا اُن کی حوصلہ افزائی کیلئے پروقار تقریب ِتقسیم ِانعامات منعقد کی گئی۔جس کا اہتمام جناب محمدصدیق صداقت صاحب نے کیا تھا۔اُن کا کہنا تھاکہ میری طرف سے تمام سرفروش ذاکرین کو بہت بہت مبارک بادجنہوں نے اس سعادت کو حاصل کیا اور اس نیک کام میں نہایت ہی سرداور ٹھٹھرتی راتوں میں بھرپور اندازمیں نہایت ہی دل لگی سے کام کیا وہ یقینا قابل صد احترام ہے اورمیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اُن کو خراج ِعقیدت پیش کرتا ہوں اوردعا گو ہوں کہ آئندہ بھی سرکار اُن کو مشن ِعظیم کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ہمت،طاقت و توفیق نصیب فرمائیں۔انہوں نے خصوصی طور پر اُن سرفروش ذاکرین (جن کے بچوں نے اس میں بھرپور حصہ لیا) کی محبت کو سراہا۔جو بڑوں کے شانہ بشانہ آقائے نامدار ﷺاورقبلہ مرشد گرامی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس تشہیری مہم میں شامل ہوئے۔اس سلسلہ میں مشیر فیصل آباد محمد صدیق ڈان کی انتھک محنت کو بھی سراہا گیا جو ان تمام امور کی نگرانی پر معمور تھے۔انہوں نے ذاکرین کے ساتھ مل جل کر بھرپور حصہ لیا۔امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری صاحب نے محمد صدیق صداقت صاحب کی طرف سے اُن کو خصوصی انعام سے نوازا۔جن سینئر ساتھیوں نے سرفروش ذاکرین کو انعامات سے نوازا،اُن میں امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری،ممبر مرکزی مجلس ِشوریٰ حاجی محمد اصغر قادری،مشیرمرکزی نشرواشاعت غلام فرید قادری،جناب محمد شفیق قادری،ماسٹر محمد ارشد قادری اورمحمد رفیق قادری شامل تھے۔امیر فیصل آباد نے نمائندہ ایث نیوز سعید اقبال کو اعزازی شیلڈ سے نوازا اور عمرہ کی مبارک باد کی اورجناب سعید اقبال (نمائندہ ایث نیوز،فوٹوگرافر)نے حاجی صاحب کو تسبیح اور کھجوروں کا تحفہ دیا۔انہوں نے اس تمام کاروائی کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جس پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
ٓ ٓٓاس خصوصی موقع پر محمد افضال قادری و عبدالعزیز قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مرشد گرامی حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کے طفیل ان نیک محافل کو منعقد کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔انہوں نے ہمارے دلوں میں محبت غوث پاک ؓ کو پیدا کیا۔ان کے فیض کرم میں دلوں کے ساتھ اللہ ھو اللہ ھو کرنا شامل ہے۔جس طرح حضور غوث ِپاک ؓ کے بعد سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے اسم ِذات اللہ کی اس نایاب دولت عظمی کو پوری دنیا میں چہ زندہ،چہ مردہ،چہ مسلم،چہ کافر ہر زی روح تک پہنچایا بالکل اسی طرح بانی و سرپرست اعلیٰ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی نے بھی اس اسم ِذات کی دولت کو بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب وفرقہ بہم پہنچایا۔آپ کے فیضان ِکرم سے مستفیض لوگوں کا تعلق ہر رنگ و نسل،مذہب و فرقہ سے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کی پہچان اور اُس تک رسائی کیلئے روحانیت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقہ سے ہو“۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ اپنے اندر اخلاص کی دولت پیدا کرو۔وہ ذکر ِالٰہی کے نور سے پیدا ہوگی۔جب تم دل کی زبان سے اللہ اللہ کرو گے توتمہارا دل پاک وصاف ہو جائے گااور اس میں رب کا جلوہ دکھائی دے گا۔پھر تم جو بھی کام کرو گے وہ دل سے کرو گے اور دل پھر خالص انداز میں تمہیں ہر قسم کی لالچ سے پاک کرکے اللہ کی محبت کی طرف بلائے گا۔اس طرح تم بندے اور رب کی نظر میں یکساں مقبول و منظور ہو جاؤ گے لیکن یہ مرتبہ حاصل کرنے کے لئے تمہیں چاہیے کہ تم کثرت سے اپنے دل کے ساتھ رب کو یاد کرو۔اس کیلئے اجازت ِذکر ِقلب حاصل کرکے اپنی قسمت کو آزماؤ۔مخلوق ِخداکی خدمت کرو۔شریعت مطہرہ پر عمل کرو۔کیونکہ شریعت و طریقت دین ِاسلام کے دو پر ہیں۔جس طرح پرندہ ایک پر کے بغیر پرواز نہیں کرسکتا اسی طرح تمہیں نماز،روزہ کے ساتھ ساتھ ذکر ِالٰہی بھی کرنا پڑے گا تب ہی تم اس منزل کو حاصل کر سکو گے۔اس کے بعداجازت ِذکر قلب دی گئی اورذکر کا طریقہ بتایا گیا۔اختتام ِمحفل پر لنگر کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔بعد ازاں شرکاء محفل میں رسالہ گوھر 2017بھی تقسیم کیا گیا۔

 

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam