, ,

محفلِ گیارھویں شریف بسلسلہ سالانہ جشن مولودکعبہ فیصل آباد

(محفلِ گیارھویں شریف بسلسلہ سالانہ جشن مولودکعبہ ؑ )
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پرماہانہ روح پرور محفل گیارھویں شریف بسلسلہ جشن مولائے کائنات ؑ نہایت عقیدت و احترام سے منعقد کی گئی ۔اس محفل کی صدارت امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے کی ۔نقابت کے فرائض محمد افضال قادری اور ڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے سرانجام دئیے۔محفل پاک کا باقائدہ آغاز قاری طارق محمود قادری نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا۔اس کے بعد حمدِ باری تعالیٰ،نعت رسولِ مقبولﷺ ،منقبت مولاعلی ؑ مشکل کشاء،منقبتِ غوث الوراءؓ اورقصیدہ مرشدی کی سعادت بالترتیب محمد بشیر قادری ،محمد شاہد قادری ،غلام محی الدین وہمنوا(دف کے ساتھ) ،طارق رؤف روفی و ہمنوا(دف کے ساتھ )،زوہیب الحسنین اورعبدالعزیزقادری نے حاصل کی ۔نعت خواں حضرات نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں حاضری کا شرف حاصل کیا اور اہلِ محبت کے سینوں کو مزید گرمایا۔ااس روحانی محفلِ پاک میں جناب رانا لیاقت صاحب (چےئرمین زکوٰۃ کمیٹی،فتح آباد)اورجناب محمد رشید بٹ صاحب نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت فرماکر اپنے باطن کو روشن و منور کیا۔انہوں نے انجمن سرفروشانِ اسلام کی طرف سے جشنِ ولادتِ مولائے کائنات کی خوشی میں اس خوبصورت محفل کے انعقاد پرانجمن کی انتظامیہ کو مبارک باد پیش کی اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔
اس موقع پر حق باھو زو ن کے علاقہ بلوچ والا کے ذاکرین کی حوصلہ افزائی کے لئے امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری نے اُن کو شیلڈز سے نوازا جن پرمرشدِ برحق ،داعی انقلابِ روحانی حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی تصویرمبارک لگائی گئی تھی جس کو ذاکرین نے خوب سراہا۔ان سرفروش ذاکرین نے جن میں بچے بھی شامل تھے ،یومِ صدیقِ اکبرؓ پر مناجات غوثیہ سے لے کر دعاتک مکمل پروگرام ترتیب دیاتھا جس پر انہوں نے ذاکرین کی طرف سے خوب داد وصول کی ۔اس خصوصی موقع پر سینئر سرفروش رہنما جناب محمد شفیق قادری صاحب نے بعد ازاُن کو تربیتی نشست دی ۔جس پر انہوں نے اِن کا شکریہ اداکیااور اُمید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ہماری حوصلہ افزائی فرمائیں گے ۔ان سرفروش ذاکرین میں جناب محمد کاشف ،محمد ساجد،فخر،ارسلان،گل زمان ،ضیاء ،فیضان ،اکرام ،اسداورذیشان الٰہی شامل تھے ۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے مرشدِ پاک کے صدقہ سے ان کے علم میں ،عمل میں خلوص عطاء فرمائے اوراِن کوبڑے ہوکر اِس روحانی مشن کی ترویج و اشاعت میں بھرپور کردار اداکرنے کی تو فیق عطاء فرمائے( آمین)۔
انچارج پروگرام کمیٹی جناب محمد افضال قادری کا کہنا تھا کہ حضرت علی المرتضیٰ ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ جورات کو ٹہنی پہ بیٹھے ہوئے پرندے کو نہیں گرنے دیتا۔اے بندے !و ہ رب تمہیں کیسے گرنے دے گا؟‘‘اللہ تعالیٰ انسان سے تمام مخلوقوں سے زیادہ محبت کرتا ہے اور تمام مخلوقات انسان کے تابع کر دی ہیں ۔آپ ؑ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا ۔اے علی ؑ ! فرمائیے انسان کی طاقت کتنی زیادہ ہے؟انسان کے اختیار میں کیا ہے ؟اور بندے کا اختیار کہاں تک ہے ؟آپؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک ٹانگ کو اُٹھاؤ۔ایک ٹانگ کو جب وہ اُٹھا لیتا ہے توفرماتے ہیں کہ اب دوسری ٹانگ کو اُٹھاؤ۔وہ کہنے لگا میں بے بس ہوں ۔میں دوسری ٹانگ کو نہیں اُٹھا سکتا۔فرمایا بس بندے کا اختیا ر اتنا ہی ہے کہ جب وہ ایک ٹانگ کو اُٹھاتا ہے تو دوسری ٹانگ کو اُٹھانا اُس کے لئے بہت ہی مشکل ہے ۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب محمد شفیق قادری صاحب کا کہنا تھاحضور پاک ﷺصحابہ کے جھرمٹ میں تشریف فرماہیں اور اپنے صحابہؓ کی تعریف فرما رہے ہیں ۔ابوبکرؓ پر رحمت ہو کہ اُس نے اپنی بیٹی میری رفیقۂ حیات بنائی ۔ہجرت میں مجھے ساتھ لے گئے اور بلال حبشیؓ کو خرید کر آزاد کیا۔پھر فرمایاعمرؓ پررحمت ہو کہ وہ ہمیشہ سچی بات کرتے ہیں اگرچہ کسی کو کڑوی ہی لگے ۔فرمایا عثمان غنیؓ پررحمت ہو ۔وہ اتنے حیادارہیں کہ اُن سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ۔پھر فرمایا علی ؑ پر اللہ کی رحمت ہو ۔ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے ہیں ۔پھر کائنات کے والی ،نبی آخرالزمان حضرت،محمدِ مصطفی ﷺارشاد فرمانے لگے کہ حشرکا میدان ہوگا ۔میرے ابوبکر صدیقؓ میرے دائیں طرف ہوں گے ۔میرے عمرِ فاروقؓ میرے بائیں طرف ہوں گے ۔میرے عثمان غنیؓ میرے پیچھے ہوں گے اورمیرے علی ؑ میرے آگے آگے ہوں گے اور’’لوائے حمد‘‘علی ؑ کے ہاتھ میں ہوگا۔ایک اعرابی اُٹھا ۔عرض کرنے لگایارسول اللہ میرےآقاﷺ!کیا علی ؑ آپ ﷺکا جھنڈا اُٹھا سکیں گے ؟فرمایاکیوں نہیں ؟اس لئے کہ میرا صبر علی ؑ کا صبر ہے اور علی ؑ کی نیکی یوسف ؑ کی نیکی کی طرح ہے ۔جبریل ؑ کی قوت علی ؑ کی قوت ہے ۔جھنڈاتو علی المرتضیٰ ؑ ہی اُٹھائیں گے ۔وہ جھنڈاجسکے ارد گرد ساری کائنات ہو گی ۔ایک دفعہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آقائے نامدار ،حبیبِ کردگار ﷺسے دریافت کیاکہ ’’آپ ﷺ کو مجھ سے زیادہ محبت ہے کہ فاطمہؓ سے؟تونبی رحمت ﷺنے ارشاد فرمایا ’’مجھے محبت فاطمہ سے زیادہ ہے لیکن علی !تو مرتبے میں اعلیٰ ہے ‘‘۔اور فرمایا ’’اے علی !تم دنیا اور آخرت میں میر ے بھائی ہو ‘‘۔خم غدیرکے موقع پر ارشاد فرمایا ’’من کنت مولا،فھذاعلی مولا،جس کامیں مولا،اُس کا علی مولا‘‘اور یہ حکم قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے ہے کہ جس نے علی ؑ کے مرتبہ مولائی کو نہ مانا یا حیل و حجت سے کام لیا تو گویا اُس نے نبی آخرالزمان ﷺکے مرتبے کو ٹھکرایا یعنی وہ رحمتِ دوجہاں ﷺکی رحمت سے محروم کر دیا اور بد بخت و نامراد ٹھہرا پھر وہ کہیں بھی جاکر صدا لگائے ،ناکامی ،ذلت و رسوائی اُس کا مقدر ٹھہری ۔فرمایا میرے آقاﷺنے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اُس کا دروازہ ہے ‘‘جس نے مجھ تک پہنچنا ہے۔پہلے علی ؑ کو ماننااور تسلیم کرنا پڑے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جشنِ ولادتِ مرتضیٰ ؑ میں ہم سب حاضر ہیں ۔تلاوت بھی آپ نے سماعت کی ،حمدِ باری تعالیٰ بھی اور نعت خوانی بھی ،ذکرِ حیدرِ کراربھی اور ذکرِ حسین ؑ بھی آپ نے سماعت کیا۔اولیاء کرام کا تذکرہ بھی ہو گیا ۔عزیزانِ من !ہم ایک پیغام دیتے ہیں ۔ہمارا ایک مشن ہے جو ہمیں مرشد کریم سے ملا ہے ۔وہ مشن کیا ہے ؟مولائے کائنات ،حیدرِ کرار،شیر خدا،حضرت علی ؑ مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے دِل کی جانب اشارہ کر کے فرماتے ہیں ۔’’اس میں ایک علم ہے ۔کاش میں اس کا حامل پاتا ‘‘۔تلاش کرتے ہیں ،ڈھونڈتے ہیں کوئی ایسا شخص مل جائے ،ایسا طالب ملے جو دِل کی دولت کو لوٹتا ہو(جو دِل کو اللہ اللہ میں لگانا چاہتا ہو)۔سلطان العارفین ،برھان الواصلین حضرت سخی سلطان حق با ھو ؒ نے بھی فرمایا تھا۔’’تیس سال تک مرشد کو تلاش کرتا رہا اور اب تیس سال سے کسی طالب کی تلاش ہے ،کوئی آئے تو میں اُسے نوازوں ‘‘تو مولائے کائنات ؑ نے فرمایا ۔’’کاش میں اِس کا حامل پاتا ‘‘تو اللہ کے نبی ؑ ،صحابۂ کرامؓ ،اللہ کے نیک بندے وہ ڈھونڈتے ہیں ایسے لوگ ،ایسے طالب جو اللہ کو پانا چاہتے ہیں ۔مرشدِ پاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ’’آج کل خاص اور عام ملے ہوئے ہیں ‘‘۔پہلے خاص لوگ ہوتے تھے ۔اللہ کی طلب میں نکلتے تھے ،جنگلوں میں بھی جاتے تھے ۔آج کل خاص اور عام ملے ہوئے ہیں ۔عام میں سے اُن خاص لوگوں کو نکالتا ہے ۔نکالنا کیسے ہے ؟اللہ ھو کی بوٹی اُن کے اندر لگائی جائے گی ۔جو خاص ہو گا ،اُس میں وہ بوٹی پھل پھول جائے گی ۔اسمِ ذات اللہ کی بوٹی دِل میں لگائی جائے گی ۔پھر اِس کو پانی دیا جائے گا۔جسے اللہ اور مرشد قبول کرلے ،وہ اللہ والوں میں شامل ہو جائے گا۔جو لوگ چاہیں کہ اُن کے دل کی خالی دھڑکنیں ٹک ٹک کی بجائے اللہ اللہ کریں ۔وہ بیٹھے ہوں ،کام کاج کررہے ہوں اور دِل اللہ اللہ کر رہا ہو۔وہ پڑھائی کر رہے ہوں الغرض وہ سو جائیں ۔آنکھیں بند ہو جائیں ۔سانس ساتھ نہ دے ،زبان ساتھ نہ دے ۔دنیاسے بے خبر ہو جائیں تب بھی دِل اللہ اللہ کرتا رہے ۔اُن سے گزارش ہے کہ وہ ذکرِ قلب کا ازن حاصل کریں ۔اس کے بعد چیئرمین مرکزی مجلسِ شوریٰ جناب حاجی محمداویس قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازتِ ذکرِ قلب سے نوازا۔
جناب ڈاکٹر محمد مشتاق قادری نے کہاکہ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ ’’دل مچھلی کی مانند ہے اور اللہ کا ذکر پانی کی مانند ہے ‘‘۔جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ،اِسی طرح دِل بھی اللہ کے ذکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔حضرت علی ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ تیری بیماری بھی تیرے اندر ہے اور اُس کا علاج بھی تیرے اندر ہے ‘‘۔حضور غوث اعظم ؒ فرماتے ہیں کہ’’ دِل اللہ کے ذکر سے زندہ ہوتے ہیں‘‘ ۔پھر فرماتے ہیں کہ ’’میرا مریدوہ ہے جو ذاکرِ قلبی ہے اور میں ذاکر اُس کو مانتا ہوں جس کا دل اللہ کا ذکر کرتا ہے ‘‘۔یہی دولت جس کو حاصل کرنے کیلئے جنگلوں میں جانا پڑتاتھا ،درختوں کے پتے کھانے پڑتے تھے ۔بھوکے پیاسے رہ کر اپنے نفس کو فناکرنا پڑتا تھا ۔تب کہیں جاکر یہ دولتِ عظمیٰ نصیب ہوتی تھی ۔آج ایک مردِ قلندر کی وساطت سے ،اللہ کریم کی مقدس بارگاہ سے ،مرشد کریم کی وساطت سے یہ دولتِ عظمیٰ ،یہ نایاب دولت (ذکر قلب) )گھر بیٹھے ہوئے ،نرم گدازبستروں پر لیٹے ہوئے آپ جیسے لوگوں کو عطاء کی جارہی ہے ۔سرِعام تقسیم کی جارہی ہے ۔افسو س اُس شخص پہ ہے کہ آج کے اِس روحانیت کے دور میں ،اسمِ ذات اللہ کے دور میں بھی اِس دولت سے بے بہرہ رہے ۔وہ اِس سے نابلد رہے ۔اللہ کی قسم اُس سے زیادہ بد بخت کوئی نہیں ہو سکتاکیونکہ اُس کو اِس دولتِ عظمیٰ کا احساس اور اِسکی اہمیت کا اندازہ اُس وقت ہو گا جب انسان قبر میں جائے گا۔قبر میں سوال کئے جائیں گے لیکن جب بندے کا دل اللہ کے ذکر کے نور سے چمک رہا ہوگا،روشن ومنور ہو گا تو فرشتے خاموش ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ تیرا دل یہ گواہی سے رہا ہے کہ اللہ تجھ سے راضی ہے اور تو اللہ سے راضی ہے ۔تبھی تو اُس اللہ نے تیرے دل کو اپنے ذکر میں لگا دیا۔ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم تجھ سے کوئی سوال کریں ۔یہی دولت نایا ب آج انجمن سرفروشانِ اسلام تقسیم کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ آپ کا دل اس لفظ اللہ کو خود میں سما لے گا اور آپ کو لفظ’’ اللہ‘‘ آپ کے دل پر لکھا نظر آئے گا۔پھر آپ کا شمار اُن لوگوں میں ہو گا جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ’’میرے کچھ خاص بندے ہیں جن کے دلوں پر میں نے ایمان لکھ دیا ہے ‘‘۔ایمان سے مراد خالقِ کائنات کا ذاتی نام’’اللہ ‘‘ہے یعنی اُس شخص کے دل پر اسمِ ذات اللہ لکھ دیا جاتا ہے ۔جس طرح پولیس کی مہر ،پولیس والا۔فوج کی مہر فوج والااور اللہ کا نام دل پر لکھا گیا تو اللہ والا۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نام لیواؤ ں میں شامل فرمائے اورکثرت سے اپنا ذکرکرنے کی توفیق عطا ء فرمائے ۔(آمین)۔اس محفلِ پاک کی میڈیا کوریج ایث نیوز اور تعریف نیوز کی طرف سے کی گئی ۔
بعد ازیں محفل ذکر الٰہی ترتیب دی گئی ۔درودوسلام پڑھا گیا اور دعائے خیر چیئرمین مرکزی مجلس شوریٰ جناب حاجی محمد اویس قادری نے کروائی ۔مرحومین کی مغفرت،بیماروں کی صحت یابی کی دعائیں کی گئیں۔یااللہ !اس ملکِ خداداد پاکستان میں ترقی و خوشحالی ،امن و امان کا قیام فرما اوراس پاک وطن میں نیک سیرت، مخلوق خدا سے محبت کرنے والے اور عوام کا درد رکھنے والے والے لوگوں کی حکمرانی عطاء

فرما ! آمین

, ,

محفل پاک بسلسلہ جشن ولادتِ بسعادت شہزادہ علی اصغر

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پر ۹رجب المرجب بمطابق 27مارچ 2018؁ ء بروز منگل بعد از نماز ِمغرب باب الحوائج لخت ِجگر امام حسین علیہ السلام حضرت علی اصغر علیہ السلام کے جشن ِولادت بسعادت کے سلسلہ میں خصوصی محفلِ پاک کا انعقاد کیا گیاجس میں نقابت کے فرائض عبدالعزیزقادری نے سرانجام دئیے۔اس محفل ِپاک میں حمدو نعت،منقبت ِغوث الوراء ؓ اور قصیدہ مرشد ی پیش کیا گیا۔جس کی سعادت منصب علی قادری،محمدجمیل قادری، عبدالعزیز قادری و دیگرنے حاصل کی۔اس موقع پر نگران پنجاب جناب وحید انور قادری،مرکزی مشیر نشرواشاعت غلام فرید قادری و دیگر نے مل کر جشن ِولادت کی خوشی میں کیک کاٹا اور آپ ؑ کی شان بیان کی گئی۔اس کے بعد محفل ذکر الٰہی ترتیب دی گئی۔آپ ؑ کے درجات کی بلندی کیلئے خصو صی دعائیں بھی کی گئیں۔

 

 

, , , , ,

بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قراردینے کی پرزور مذمت کرتے ہیں چیئرمین سپرین کونسل حماد ریاض

+

, ,

فیصل آباد میں یو م ِصدیق ِاکبرکے سلسلہ میں محفل نعت وذکر اللہ

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی یاد میں 16مارچ 2018؁ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز ِمغرب خصوصی محفل ِپاک کاانعقاد کیا۔جس میں حق باھو ؒزون کے علاقہ بلوچوالا کے ذاکرین نے اس پروگرام کو ترتیب دیا۔ان میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔انہوں نے مناجات غوث الوراء ؓ کا نذرانہ بھی پیش کیا۔نقابت کے فرائض بھی سرانجام دئیے گئے اور حمدو نعت،مناقب ِغوث الوراء ؓ کے نذرانے بھی پیش کئے گئے۔ان سرفروش ذاکرین کی رہنمائی محمد منیر قادری نے کی اور ان کی سرپرستی انچارج حق باھو زون جناب ماسٹر لیاقت علی قادری نے فرمائی۔ان سرفروش ذاکرین میں جناب محمد کاشف،محمد ساجد،فخر،ارسلان،گل زمان،ضیاء،فیضان،اکرام،اسداورذیشان الٰہی شامل تھے۔یوم ِصدیق ِاکبرؓ پر نقابت سے لے کر دعاتک مکمل پروگرام ترتیب دیا جس پر انہوں نے ذاکرین کی طرف سے خوب داد وصول کی۔اس خصوصی موقع پر سینئر سرفروش رہنما جناب محمد شفیق قادری صاحب نے بعد ازپروگرام اُن کو تربیتی نشست دی۔
سینئر سرفروش رہنما جناب محمد شفیق قادری نے اس موقع پر ان سرفروش ذاکرین کی حوصلہ افزائی فرمائی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مردو ں میں سب سے پہلے سیدنا ابو بکر صدیقؓ،عورتوں میں سیدہ خدیجہؓ نے،لڑکوں میں حضرت علیؓ اور غلاموں میں حضرت زید بن حارث ؓنے اسلام قبول کیا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ یار ِغار ہیں۔ایک لقب ایسا ہے جوباقی خلفائے راشدین کو نہیں ملا۔وہ ہے خلیفتہ الرسول ﷺ۔خلیفتہ الرسول ﷺکا لقب کسی اور کو نہیں ملا۔حضرت عمر ِفاروق ؓ کا دور آیاتو لقب تھا ”خلیفہ،خلیفتہ الرسول ﷺ۔یعنی خلیفہ کس کا ہے؟خلیفتہ الرسول ﷺ کا خلیفہ ہے۔پھر بعد میں خلیفتہ المسلمین کا لقب دیا گیا۔یہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی شان ہے۔حضرت ابو بکر صدیق ؓ معراج شریف میں جب حضور پاک ﷺ کی رفا قت میں جاتے ہیں تو کبھی دائیں طرف جاتے ہیں،کبھی بائیں طرف جاتے ہیں،کبھی آگے جاتے ہیں کبھی پیچھے جاتے ہیں۔حضور پاک ﷺ نے دریافت فرمایا۔ابوبکر ؓ!کیوں دائیں بائیں،آگے پیچھے جارہے ہو؟عرض کرنے لگے۔یارسول اللہ ﷺ!میں احتیاط کر رہاہوں۔کہیں آگے سے کوئی دشمن نہ آجائے،کوئی دائیں سے دشمن نہ آجائے،کوئی بائیں سے نہ آجائے،کوئی پیچھے سے نہ آجائے۔اگر کوئی دشمن آجائے تو آپ ﷺسے پہلے میں اُس کا مقابلہ کروں۔یار ِغار،رفیق ہیں حضور پاک ﷺ کے۔اورآپ ؓ کو مدینہ شریف میں صحبت میسر آئی۔حضور پاک ﷺ کے روضے کے ساتھ آپ ؓ بھی آرام فرما ہیں۔خوش قسمتی ہے نا۔ایک غزوہ میں صحابہ کرام مختلف سامان لے کر آئے۔ابوبکر ؓ سے پوچھا۔ساراسامان لے آئے،گھر کے لئے کیا چھوڑ کر آئے۔کسی شاعر نے ا س کی کیا خوب عکاسی کی ہے کہ:۔ ٭پروانے کو شمع بلبل کو پھول بس صدیق ؓکے لئے خدا کا رسول بس٭
حلقہ ذکر الٰہی کے بعد خصوصی دعاسینئر رہنماجناب محمد شفیق قادری نے کروائی۔بعد ازمحفل لنگر کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

, ,

فیصل آباد کے مختلف اخبارات میں شہداۓ کربلا کی یاد میں منعقدہ محفل نعت کی کوریج

, ,

ماہانہ گیارھویں شریف محفل نعتﷺ و ذکرِ اِلٰہی کی محفل فیصل آبادمیں شایانِ شان طریقے سے منعقد کی گٸ

, ,

شہدائے کربلا کی یاد میں منعقدہ گیارھویں شریف کی میڈیاکوریج

06-10-2017کی میڈیا کوریج

شہدائے کربلا کی یاد میں اآستانہ فیصل آباد میں منعقدہ محفل ذکر حسین  

, , ,

بیت المقدس کواسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔چیئر مین سپریم کونسل جناب حماد ریاض گوھر

11December 2017 بیت المقدس کواسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔چیئر مین سپریم کونسل جناب حماد ریاض گوھر 

 

, ,

جشن ِولادت ِبسعادت سلطان الفقر اوّل سیدہ فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہا

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam