, ,

نیک اولاد اپنے والدین کی بخشش کا ذریعہ ہے۔محمد افضال قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ)پاکستان،فیصل آباد کے زیر اہتمام4اگست 2018 بروز ہفتہ صبح 12بجے محمدا فضل قادری کی رہائش 204چک نزد کینال روڈ فیصل آباد میں اُن کے والد (مرحوم)کے ایصال ثواب کیلئے ختم چہلم شریف کی محفل کاانعقادکیاگیا جس میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے۔حمدباری تعالیٰ،نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت عبدالعزیز قادری نے حاصل کی۔افسر علی رضوی اورعبدالمنان قادری نے بھی بارگاہ رسالت مآب ﷺمیں عقید ت و محبت کے نذرانے پیش کئے۔جناب انوارالحق قادری نے نئے ساتھیوں کو اجازت ذکر قلب سے نوازا۔
جامع مسجد نور کے پیش امام جناب سید اکبر علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہرزی روح نے موت کامزہ چکھنا ہے۔اس لئے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی قرآن و حدیث کی روشنی میں بسرکرے تاکہ اُس کا آخرت کا سفر آسان ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کوبے شمار نعمتوں سے نوازا۔مثلاًکلونجی میں سوائے موت کے ہر بیماری کا حل موجود ہے۔لیکن آخرموت آکر رہے گی تو جن لوگوں نے اپنی اولاد کی تربیت اللہ،رسول ﷺکے احکامات کی روشنی میں کی تو وہ اپنے والدین کی بخشش کا ذریعہ ہے کہ وہ اللہ پاک کی پاک کلام کی تلاوت سے اُن کی روح کو ایصال ثواب کریں جس سے روح بہت خوش ہو تی ہے اوراُس پر عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے۔
نقیب محفل محمدافضال قادری نے حاضرین محفل کو اللہ کے ولی کی پہچان کے بارے میں کہاکہ حضرت سلطان العافین حضرت سخی سلطان حق باھوؒ نے ارشاد فرمایا کہ ”اگر کوئی ہوا میں اُڑے،پانی پہ چلے اور آگ میں سوکر زندہ واپس آجائے،مٹی کو سونا کردے اورکہے کہ میں اللہ کا ولی ہوں تو وہ جھوٹاہے کیونکہ یہ سب کام ہندو جوگی استدراج رکھنے والے جادوگر بھی کر اوردکھا سکتے ہیں،فرماتے ہیں کہ اصل ولی وہ ہے جو تمہارے دل کی خالی دھڑکنوں کو اللہ اللہ میں لگادے،تمہارے مردہ دل کو زندہ کردے اورتمہارے نفس کوپاک و صاف کردے تاکہ تمہیں دربار غوثیہ ؓودربار رسالت مآب ﷺنصیب ہو سکے“۔ یہی پیغام آج کے اس مادیت پرستی کے دور میں عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام دے رہی ہے کہ آؤ اور اللہ کے مبارک نام سے اپنی زبانوں کو پاک کرو اوراپنے دلوں کے زنگ کو دور کرو،اپنے سینے کی تمام بیماریوں اور برائیوں سے نجات حاصل کرو۔یہ تب ہی ممکن ہے جب زبان کے ساتھ دل بھی تصدیق کرے گا(زبان اقرار کرے اور دل تصدیق کرے)یعنی حقیقی مسلمان کے لئے لازم ہے کہ جو اُس کی زبان سے اداہورہاہے،اُس کا دل بغیر چون وچراں کے اُس کی تصدیق کرے۔جب زبان اللہ اللہ کرے تو دل بھی اللہ اللہ کرے۔جب جسم قیام و رکوع کی حالت میں ہوتو دل بھی اللہ کی یاد میں ہو،ناکہ وہ ناپاک اور عارضی دنیا کے خیالات میں گم ہو۔انہوں نے مزید کہا افضل قادری صاحب کے والد مرحوم نے نہ صرف خود اللہ اللہ کیا بلکہ اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کی اوراُن کو اللہ،رسول ﷺکی یاد میں لگا دیا۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی بخشش و مغفرت فرمائے اوراُن کی آخرت کی منزل کو آسان کرے اورلواحقین کو صبر جمیل عطاء کرے،آمین۔اس کے بعد ختم شریف پڑھا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی۔

, ,

سرکار کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی بسر کریں۔محمد اعجاز میمن

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان،فیصل آباد کے زیراہتمام آستانہ فیصل آباد پر 27جولائی 2018 بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز ِمغرب ماہانہ روح پرورمحفل گیارھویں شریف نہایت تذک واحتشام سے منعقد کی گئی۔جس میں مرکزی امیرانجمن ہذامحترم جناب محمد اعجاز میمن نے خصوصی شرکت کی۔اُن کے ہمراہ مرکزی نائب امیر محترم جناب وحیدانور قادری،محترم جناب حاجی محمد اویس قادری (مستقل سینئر ممبر سپریم کونسل)مرکزی عہدیداران،صوبائی عہدیداران سمیت مقامی قیادت وعوام الناس کی کثیرتعدادنے بھی بھرپور شرکت کی اور اس محفل پاک کے روحانی فیوض وبرکات سے مستفیض ہوئے۔
اس محفل پاک میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے۔ حمدباری تعالیٰ جناب ڈاکڑمحمدجاوید اقبال،نعت رسول مقبول ﷺخرم شہزاد، افسر علی رضوی اور عبدالعزیزقادری، منقبت غوثیہؓ ؓوقصیدہ مرشد پاک عبدالمنان قادری نے پیش کیا۔نئے ساتھیوں کواجازتِ ذکرقلب سے محترم جناب حاجی محمد اویس قادری (مستقل سینئر ممبر سپریم کونسل)نے نوازا۔ امیر حلقہ محترم جناب محمد اعجاز میمن(مرکزی امیر)،درودوسلام کے بعداختتامی دعامحترم جناب وحیدانور قادری(نائب مرکزی امیر) نے کروائی۔اختتام ِمحفل پر حاضرین کیلئے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔
نائب مرکزی امیر محترم جناب وحید انور قادری نے حاضرین محفل کو صوبہ پنجاب اور مرکزکے نئے ذمہ داران سے آگاہ کیا جن میں جناب بختیار منیر(آرگنائزر پنجاب)،جناب ڈاکٹر جاویداقبال(مشیرنشرواشاعت پنجاب،ٹوبہ ٹیک سنگھ)،جناب ماسٹر عنصر اقبال(مشیرمالیات پنجاب،سمندری)،جناب ماسٹر محمد ارشد،جناب شیخ محمد عظمت(رابطہ کمیٹی پنجاب،فیصل آباد)،جناب انوارالحق،جناب نسیم احمد(مرکزی معاون،فیصل آباد)جناب محمد یونس جمال(مرکزی مشیرنشرواشاعت،سندھ)،جناب غلام فرید(مرکزی نائب نشرواشاعت،فیصل آباد)اورجناب محمد منیر میمن(مرکزی مشیر مالیات،حیدرآباد)شامل ہیں۔
ان کامزید کہنا تھاکہ کسی بھی تنظیم کو چلانے کیلئے جہاں ذمہ داران ہوتے ہیں وہاں کارکنان کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ذمہ داران وکارکنان لازم و ملزوم ہیں۔جہاں کوئی بڑا نہیں ہوتا وہاں انتشار،نااتفاقی پیدا ہوجاتی ہے اورمعاملات صحیح سمت میں نہیں چلتے بلکہ اُن کے اندر بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔لہٰذاتنظیم کو چلانے کیلئے بڑوں یعنی ذمہ داران کا ہونا بہت ضروری ہے۔کارکنان کی دو اقسام ہوتی ہیں۔نظریاتی کارکن اور عمومی کارکن۔آپ گیارھویں شریف کی محفل میں تشریف لاتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جو مرشد کریم کی ذات پاک سے منسلک ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو مرشد کریم سے منسلک نہیں ہوتے۔ آپ اُن کو دعوت دے کر ساتھ لاتے ہیں تاکہ وہ یہاں کا ماحول دیکھیں اور سرکار کی ذات سے منسلک ہو جائیں۔عمومی کارکن(ذاکر)کے سامنے اگر تنظیم کا اچھے سے اچھا کام بھی رکھ دیا جائے تو نہ تووہ ذمہ داری لے گا اور نہ ہی اُس اچھے کام کو باضابطہ طور پر کرنے کی کوشش کرے گا۔اور جو نظریاتی کارکن (ذاکر) ہے،اُس کے متعلق مرشد پاک نے ارشاد فرمایا”اگر کوئی بندہ میرے ساتھ منسلک ہے،مشن کی خدمت کرتا ہے،اگر وہ مشن اور تنظیم کیلئے ایک اینٹ بھی اُٹھا کرکسی جگہ رکھ دیتا ہے تو اُس کا اجر ہم اُس کو ضرور دیتے ہیں“۔)نظریاتی ذاکرین کی اس لئے اہمیت ہے کہ عہدیداران بھی نظریاتی کارکن کی قدر کرتے ہیں۔ہم اُن کے اس جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اپنا وقت نکال کر،اپنی جیب کے اندر سے پیسے نکال کراور اپنے ضروری کام چھوڑ کر مرشد کریم کی بنائی ہوئی تنظیم کے ساتھ منسلک ہو کرجو اُن کا کام پوراکریں،اُس کام کو وہ ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں اور مرشد پاک کی رضاو خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر ہم اپنے گھر کی صفائی نہ کریں تو آہستہ آہستہ گھر کے اندر کوڑاکرکٹ جمع ہونے کی وجہ سے وہ گھر گندا ہو جائے گا۔جب گھر گنداہوگا تو مہمان تو دور کی بات ہے،اپنے آپ کوبھی برا محسوس ہوگا۔اُٹھنے،بیٹھنے میں دقعت ہوگی اس لئے کہ اُس کے اندرگندگی بہت زیادہ تھی،اچھی نہیں لگتی۔اسی طرح اگر مشن کے اندر کام کیا جائے لیکن طریقے کے مطابق نہ کیا جائے،کام تو دیا جائے لیکن کام نہ کیا جائے،کام دیاجائے لیکن اُس کے ساتھ غیر ذمہ داری برتی جائے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اپنے گھر کے اندر کوڑاکرکٹ جمع کر لیا تو کل کیا ہوگاجب مشن کاکام نہیں کیا جائیگا تو تنظیم کے کام کے اندر جب کمی, آجائے گی،کمزوری آجائے گی تو مرشد کی بارگاہ سے توجہ بھی ہٹ جائے گی اوراپنے اندر شرمندگی بھی محسوس ہو گی۔
اب 14اگست کے حوالے سے،فیصل آباد کی یہ ریت رہی ہے کہ مرکز میں ہو یا پنجاب میں جہاں بھی کوئی پروگرام ہو،بھرپور انداز میں شرکت ہو تی ہے،بھرپور انداز میں معاونت ہو تی ہے اور اسی طرح بھرپور انداز میں انتظامی معاملات ہیں ان میں معاونت ہوتی ہے تو انشا اللہ تعالیٰ ہر سال کی طرح فیصل آبادسے 14اگست کوبسیں جائیں گی اور ان کا کیا شیڈول ہے وہ آپ کو یہاں کے امیر صاحب بتائیں گے۔اس کا پوراشیڈول آپ کو بتا دیا جائے گا۔
لیکن ہم آپ بتانا چاہتے ہیں کہ مرشد کریم کے آبائی گاؤں ڈھوک گوھرعلی شاہ میں ٹھیک صبح 10بجے سے لے کے نماز ظہر تک ایک عظیم الشان پروگرام بسلسلہ عرس پاک بابا گوھرعلی شاہ ؒ اور قبلہ ابا جی حضورترتیب دیا جارہا ہے۔ ہم آپ سے یہ اُمید رکھتے ہیں کہ جو پہلے کبھی نہیں جاتاتھا،وہ انشاء اللہ اس ٹور میں جائے گا اور بابا گوھر علی شاہ ؒ اور قبلہ اباجی حضورؒ کے پرو گرام میں شرکت کرے گا۔اور اس کے ساتھ اُس کے لئے یہ کتنی بڑی سعادت ہوگی کہ جس جگہ پہ مرشد کریم کی ذات اقدس کا بچپنا گزرا،جس علاقے میں مرشد کریم کی ذات پاک کے قدم لگے وہاں اُس علاقے کی زیارت بھی کرے گااس لئے اس سلسلے میں آپ اپنی بھر پور تیاری فرمائیں۔جہاں آپ انتظامی حوالے سے معاونت کریں گے وہاں آپ مالی سطح پر بھی معاونت کیجئے گاتاکہ پروگرام بہتر انداز میں ہو سکے۔
دوسرا کام یہ ہے کہ مرشد پاک کی اجازت سے آپ کے آستانے پہ روزانہ درودشریف کی محفل،ہفتے بعد یعنی ہرجمعرات کو لطائف کی محفل اورماہانہ گیارھویں شریف ذمہ داری اورپابندی سے ہو رہی ہے،بڑے عرصے سے ہورہی ہے لیکن جب درودشریف کی محفل میں آئیں تو تعدا دمختصر ہوتی ہے،لطائف کی محفل میں تعدادکچھ بڑھ جاتی ہے اور گیارھویں شریف کی محفل میں اچھی تعداد ہو جاتی ہے۔میں صرف یہ کہنا چاہتاہوں کہ مرشد پاک کے دیئے ہوئے سبق پہ جو لوگ چلتے رہے اور چل رہے ہیں،کرم کے وہی مستحق ہیں اورجو کمزور ہوگئے وہ دنیا داری کے اندر پکڑے گئے،جو کمزور ہو گئے پریشانیوں اور بیماریوں میں گر گئے۔ایسا کیوں ہوا؟اس لئے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے اپنے پچھلے ماضی کو یاد کرو۔کبھی وہ بھی وقت ہوتا تھاکہ آپ درود کی محفل کو اٹینڈ کرتے تھے،اُس کے بعد یہاں محفل ہوتی تھی،اُس محفل کو اٹینڈ کرتے تھے۔اُس محفل کے بعد اگر لطائف کی محفل ہوتی تھی اُس محفل لطائف کو اٹینڈ کرتے تھے اورپھر جب کبھی کوئی محفل نہیں ہوتی تھی تو نئے لوگوں کو مشن بتاتے تھے او ر اُن کو آستانہ پہ لاکر ذکر دلاتے تھے۔یہ جو سستی آرہی ہے یہ ہمارے لئے پریشانیوں کا باعث بنتی جارہی ہے۔ذکر سے جب دوری ہورہی ہے تو مرشد کریم کی توجہ آہستہ آہستہ ہم سے دور ہوتی جارہی ہے۔لہٰذایاد رکھوکہ ذکرکرنے سے ہی مرشد پاک کی توجہ مضبوط رہتی ہے۔پھر ذکر کے حلقے کے اندر جہاں آپ نے ذکر شروع کیا تو میرے مرشد پاک فرماتے ہیں کہ ”جب ذکر کا حلقہ شروع ہوتا ہے تو امیر حلقہ کے قلب کے اوپرہماری طرف سے نور کی لاٹیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں اور پھر جس کی آواز اُس امیر حلقہ کی آواز کے ساتھ مل جاتی ہے پھر اُس کے دل سے نور کی شعائیں دوسرے ساتھیوں کے دلوں کے اندرجانا شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے امیر حلقہ ذکر شروع کرنے سے پہلے کہتے ہیں کہ تمام احباب دوزانو ہو کر بیٹھیں،اپنی آنکھوں کو بند رکھیں اوریہ ضرور کہتے ہیں کہ آواز کے ساتھ آواز ملا کے ذکر کریں۔کیوں کہتے ہیں؟ ذکر آگے پیچھے بھی ہوسکتاہے۔آوازملانے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی آواز ملے گی تو مرشد کریم کی توجہ سے اُس امیر حلقہ کا قلب جونور سے منور ہے،وہاں سے نور تمہارے دل کے اندر بھی جا سکے لہٰذاآواز کے ساتھ آواز ملاکے ذکر کرناتو پتہ یہ چلا کہ روزانہ مرشد کریم کی توجہ جو ہم پہ ہوتی ہے ذکرکاحلقہ کرتے ہیں،ذکر کے حلقوں میں نہیں آتے،سینٹروں میں نہیں آتے،درودشریف کی محفل ہوتی ہے وہاں نہیں آتے،لطائف کی محفل ہوتی ہے وہاں نہیں آتے۔گھر میں ٹائم اتنا ملتاہے لیکن ذکر نہیں کرتے بلکہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔وہ وقت یاد کرو آج سے کچھ عرصہ پہلے گھر میں بھی ذکر کیا کرتے تھے،ہر نماز کے بعد ذکر کرتے تھے۔مختصر یہ آج آپ کو دوسرا کام یہ دے رہے ہیں کہ آج کے بعداگر آپ کے پاس ٹائم ہے یانہیں کوشش کرنی ہے کہ درودشریف کی محفل میں شریک ہوں،لطائف اور گیارھویں شریف کی محفل میں شریک ہوں۔اس لئے کہ جیسے ہی آپ ذکر کے حلقے میں بیٹھیں گے تو مرشد کی توجہ آپ پہ ہوجائے گی۔ذکر کاحلقہ مرشد کی توجہ کیلئے ضروری ہے۔
آخر میں،میں سب سے ضروری بات کرنا چاہوں گا کہ ہمارا مرکز کوٹری شریف ہے،در مرشدپاک ہے۔ آج کے بعدجو بھی وہاں سے حکم آئے گا۔اُس پر عمل پیرا ہونا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔المرکز روحانی کوٹری شریف کے علاوہ اگر کسی طرف سے بھی کوئی حکم آئے تو ناقابل قبول ہے اور اُس کامناسب تدارک کیا جائے گااور اُن کے خلاف سخت تنظیمی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔جب تک ہم اپنے مرکز سے وابسطہ رہیں گے تو مرشد کی نگاہوں میں ہوں گے۔اُمید ہے تمام سرفروش ذاکرین ان ہدایات پر دل و جان سے عمل پیراہوں گے۔
اس موقع پر مرکزی امیر محترم جناب محمد اعجاز میمن نے فیصل آباد انتظامیہ سمیت مرکزی اور صوبائی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے ریلوے سٹیشن فیصل آباد اور آستانہ عالیہ فیصل آباد پر اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔یاد رہے کہ یہ اُن کاعہدہ سنبھالنے کے بعد فیصل آباد کاپہلا تنظیمی دورہ تھا۔اانہوں نے اپنے خطاب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ) پاکستان ایک روحانی تحریک ہے جس کا مقصد آپ کے اندر روحانیت پیدا کرنا ہے۔روحانیت ہے کیا؟مرشد کریم فرماتے ہیں کہ روحانیت کی ابتداء ذکر قلب,روحانیت کی انتہا حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک۔مرشد کریم آپ کے اندر وہ خصوصیت پیدا کرتے ہیں کہ آپ کا ذکر قلب چل گیا پھر دوسرے لطائف چل گئے۔پھر آپ کے اندر اتنی خصوصیت پیدا کردی کہ جس وقت آپ نے دھیان کیا اس وقت آپ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں پہنچ گئے۔یہ ہے مرشد کامل کی نگاہ کا کمال۔پھر جب مرشد پاک آپ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں پہنچاتے ہیں تو صحابہ کرام اولیاء کاملین عش عش کرتے ہیں کہ شاباش ہے اس مرشد پر کہ جس نے اس کتے کو پاک کیا اور اس پاک بارگاہ میں لے آیاکیونکہ ہر شخص کا نفس امارا کتے کی شکل میں ہوتا ہے اور مرشد کامل اس کو ذکر کے ذریعے سے پاک و صاف کرکے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دربار میں لے جاتے ہیں۔یہ وہ تنظیم ہے اور آپ اس تنظیم سے وابستہ ہیں۔
میری نسبت میری پہچان گوہر شاہی ہے میری عظمت میری معراج گوہر شاہی ہے۔
گوشے گوشے میں جلائیں گے محبت کے چراغ سرفروشو! یہی تعلیم گوہرشاہی ہے۔
یہ سرکار کی تعلیم ہے جس میں ہم پیچھے ہوتے جارہے ہیں جس میں ہم سست ہوتے جا رہے ہیں۔اس سُستی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے روزانہ اللہ کا ذکر کرنا ہے۔آپ دن میں کتنی دفعہ کھانا کھاتے ہیں؟ہر بندہ دن میں تین دفعہ کھانا کھاتا ہے۔اگر تین دفعہ نہیں کھا سکتا تو دن میں کم از کم دو دفعہ تو کھاتا ہی ہوگا۔ذکر کتنی دفعہ کرتے ہیں؟اپنے آپ کو خود ہی ٹٹول لو۔کیا آپ چوبیس گھنٹوں میں ایک دفعہ ذکر کی محفل کیلئے جاتے ہو؟یہ ذکر کی محفل سرکار پاک نے کیوں رکھی ہے؟سوچا ہے آپ نے کبھی! تو اس کے ذریعے سے جب آپ سارا دن دنیا کے کام کاج کررہے ہیں تو نور کی کمی ہوجائے گی۔یہ عالم ناسورہے یہاں پر آپ چل رہے ہو، پھر رہے ہوتو آپ کے اندرنار جارہی ہے تو نور کہا ں سے آ ئے گا؟نور تب آئے گا جب آپ محفل میں آؤ گے۔جب آپ محفل میں آؤ گے تو آپ کے اندر وہ نور پیدا ہوگااور نار ختم ہو جائے گی اور پھر آپ دیکھئے گا کہ آپ کے اندر کتنی چینجنگ (تبدیلی) آ ئی ہے؟روزانہ میں اپنا ٹینڈ کریں گے تو آپ کو خود محسوس ہوگا جب آپ ایک ہفتے سے محفل میں نہیں گئے اور ایک ہفتے کے بعد آ رہے ہیں تو آپ کو خودبخود پتہ چلنا شروع ہو جائے گا۔
فرض کریں آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے اور اب درود کی محفل میں نہیں آسکتے تو سینٹر میں چلے جائیں اگر وہاں بھی نہیں جا سکتے تو کم از کم اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ذکر کرلیں۔یہ آپکے لیے ضروری ہے پھر ہم نے سرکار کی کتب کو پڑھناچھوڑ دیا۔تریا ق قلب ہے،روحانی سفر ہے جو بھی سرکار کی تصانیف ہیں۔جب آپ پڑھتے ہیں تو آپ کے اندر دوبارہ وہ نورا ور روحانیت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے ان کتابوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ ان کو بار بار پڑھیں۔تجربہ کر کے دیکھ لیں۔یہ پریکٹیکل کیا ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔میں پہلے دادو کا امیر تھا۔ وہاں پر ایک بندہ آیا اس نے بولا کہ میں بات نہیں کر سکتا،میں مشن کیسے بیان کروں گا؟تو میں نے اسے بولا کہ آپ مینارہئ نور پڑھا کرو لیکن ایک دفعہ،دو دفعہ،تین دفعہ،چار دفعہ نہیں پانچ دفعہ پڑھ کے پھر آپ مجھے بتانا،آپ یقین کریں اس شخص نے پانچ دفعہ مینارہ ئنور پڑھی اور اتنے اچھے طریقے سے ذکر کیا کہ آج وہ دادو کا امیر بن چکا ہے۔یہ چیز ہے سرکار کی کرامتیں جو میں پریکٹیکل آپ کو بتا رہا ہوں۔جب آپ سرکار کی کتابیں پڑھیں گے تو آپ ان سے مستفیض ہوتے جائیں گے تو پھر ویڈیو آپ کے پاس ہے سب کے پاس اچھے اچھے موبائل ہیں رات کو سونے سے پہلے سرکار کی آ دھے گھنٹے کی پونے گھنٹے کی نشست دیکھیں،تقریر سنیں،آوازبھی سنیں۔ آپ کے کان میں سرکار پاک کی آواز بھی جائے گی اور سرکار پاک کا دیدار بھی کر لیں گے اور دیدار کرکے،محفل کر کے پھر آپ رات کو سوئیں۔یہ اپنی روٹین بنالیں انشاءاللہ اسے آپ کو بڑا فرق پڑے گا۔آآپ نے یہ کرنا ہے۔

آپ خوددیکھیں گے کہ اس سے آپ کے اندر چینجنگ (تبدیلی) شروع ہوگئی ہے۔آپ نے یہ کرنا ہے۔ روزانہ ذکر کی محفل کو نہیں چھوڑنا،لطائف کی محفل کو نہیں چھوڑنا سرکارکی تصانیف کوپڑھناہے۔سرکارکی ویڈیو دیکھنی ہے اس میں تقریر سنیں۔ سرکار کی آواز سنیں اور پھر دیکھیں کہ آپ کے اندر انقلاب برپا ہو رہا ہے کہ نہیں ہورہا ہے۔جو سستی ہورہی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔آپ ان چیزوں پر عمل کریں

سرکار پاک آپ پر نظر کرم فرمائیں گے

۔

, ,

اسم ذات اللہ کے محبت بھرے پیغام کو پوری دنیامیں پہنچا رہے ہیں۔عبدالعزیز قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان ِاسلام ہر ذی روح انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی سنوارنے کی کوشش کریں۔آؤ لوگو!اپنی زبانوں کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کوبھی اللہ کے نام کے نورکے ساتھ روشن و منورکرلو۔یہ پیغام ِحق کوئی نیا پیغام نہیں ہے۔تاریخ اُٹھا کر دیکھیں۔سرکار دوعالم ﷺفاران کی چوٹی پہ کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے ہیں کہ ”اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کا ایک لشکرجرار ہے جوتم پرحملہ کرنے کیلئے تیار ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟تمام نے یک زبان ہو کر کہا کہ مان لیں گے،پوچھا،کیوں مان لو گے؟عرض کی کہ آپﷺ ”صادق اور امین“ہیں۔آپﷺ کی زبا ن اطہر سے ہم نے کبھی جھوٹ نہیں سنا اس لئے مان لیں گے۔پھرآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”قولو لاالہ الااللہ“یعنی کہہ دو لاالہ الااللہ لیکن کسی نے نہیں کہا سوائے حضرت علی ؑکے۔کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کا دین کیسے چھوڑ دیں؟اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے آقائے دوعالم ﷺنے اس کلمہ حق کوبلند کیااوراس کی دعوت دی۔حضورغوثِ پاک ؓ،داتا گنج بخش علی ہجویریؒ ؒ،خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒسے سلطان العارفین سلطان باھو ؒ کی بارگاہ میں جا کر دیکھ لیجئے۔یہی پیغام دیا کہ
جو دم غافل،سو دم کافر سانوں مرشد اے پڑھا یا ھو
سنیاں سخن گئیاں کھل اکھیاں اساں دل مولا وَل لایا ھو
کیتی جان حوالے رب دے اساں ایسا عشق کمایا ھو
مرن توں اگے مر گئے باھوؒ تاں مطلب نوں پایا ھو
کم وبیش 300برس قبل حضرت سلطان حق باھو ؒ اس دنیا میں تشریف لائے۔آپ ؒ کے دورمیں یہ فیض اس قدرعام تھاکہ جب آپ ؒ باہر نکلتے تھے تو جس ہندو پہ نظر پڑتی تھی وہی کلمہ پڑھ لیتا تھا۔پھرجب علامہ اقبال ؒ نے اس با ت کو دیکھا کہ 300سال پہلے اس دنیا میں آپ ؒموجو د تھے اوراُن کی نظرمیں اللہ تعالیٰ نے وہ جولانیاں رکھی تھیں کہ جس کے قلب پہ پڑتی تھیں اُسے اللہ کے ذکر سے گویا کر دیتی تھیں۔اس لئے آپ ؒ نے اپنی دعا میں عرض کی کہ آج بھی کوئی ایسا مرد قلندر ہونا چاہیے۔آپ ؒ عرض کرتے ہیں کہ:۔
300سال سے ہند کے میخانے ہیں بند اب ضرورت ہے تیرا فیض عام ہوساقی!
پھراپنا قلم طریقت اُٹھایا اورلکھ دیا:۔
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیداریارہوگاسکوت تھا پردہ دارجس کاوہ راز اب آشکار ہوگا
آج وہ وقت آچکا ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا۔جس طرح آج پیرومرشد قبلہ عالم حضرت سیدناریاض احمد گوھرشاھی مدظلہ العالی نے اس اسم ِذات اللہ کے فیض کوسرعام بلا تفرق رنگ و نسل و مذہب ہرذی روح تک پہنچایا ہے،آج سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔300سال پہلے جو دعاعلامہ صاحب ؒ نے مانگی تھی،ہماراایمان ہے کہ وہ پوری ہو چکی ہے۔اور ایک مرد ِقلندر اس دنیا میں ا ٓچکا ہے کہ جو اسم ِذات اللہ کا فیض اس طرح بانٹ رہاہے کہ کوئی شیرینی بھی نہیں بانٹا۔کسی کو آوازیں دے کر،کسی کے پاس جاکر لوگوں کو اللہ کی بارگاہ میں مقبول ومنظوربنایا جارہاہے۔سرکار شاہ صاحب مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے تین شرائط منوائیں۔
پرانے وقتوں میں اس راہ طریقت میں طالبین کو جنگلوں میں چلے،وظیفو ں کیلئے بھیجا جاتا ہے،کسی کو سخت عبادات و ریاضات کی کٹھن بھٹی میں سے گزرنا پڑنا تھالیکن قربان جائیں پیرو مرشد پر کہ جنہوں نے ہمارے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ سے تین شرطیں منوائیں کہ ہم گنہگار بھی اللہ کی بارگاہ تک رسائی حاصل کر سکیں۔وہ تین شرائط یہ تھیں کہ
1۔ہمارامرید کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا یعنی گداگری نہیں کرے گا۔دردرپرجاکربھیک نہیں مانگے گا۔
2۔ہمارا مرید رہبانیت اختیار نہیں کرے گایعنی اُسے جنگلوں میں جاکر، دنیاداری چھوڑ کرعبادت و ریاضت کیلئے نہیں بھیجا جائے گاجس طرح ہمارے اکابرین اولیاء اللہ جو 12,12سال تو کسی کو 24,24اور36,36سال کے چلے کاٹنے پڑے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو راضی کر سکیں۔
3۔جو ہمارا مرید ہو گااُسے سزابھی ہم ہی دیں گے۔یعنی اگر ہمارے مرید سے کوئی غلطی سرزد ہو گی تو اُسے سزا بھی ہم ہی دیں گے۔
سرکار فرماتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ ِاقدس سے جب یہ باتیں منظور ہو گئیں تو ہم دنیا میں اللہ کی ڈیوٹی پر معمور ہو گئے۔یہ سب کچھ کس لئے،ہم سب کیلئے تبھی تو آج اس اسم ذات کو پوری دنیا میں عام کیا جارہا ہے۔سرکار فرماتے ہیں کہ یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ بندہ گھرمیں بیٹھا ہواورکہے کہ مجھے گھر بیٹھے ہی دولت مل جائے تو اُسے یقینا تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔سب سے پہلے اللہ کے ولیوں کو ماننا پڑتا ہے۔اپنی جبینوں کو اللہ کی بارگاہ میں جھکانا پڑتا ہے۔سرکار فرماتے ہیں کہ جب اللہ کسی کو اپنا بناتا ہے تو پھر اُس کو آزماتا بھی ہے کہ اس بندے کو میری بارگاہ میں کون لے کر آیا؟تو پھر وہ اللہ کا ولی جو اُسے اللہ کی بارگاہ میں لے کرآیا وہ عرض کرتا ہے کہ میں لے کرآیا۔پھراللہ پوچھتا ہے کہ کیوں لے کر آیا؟ تو پھر وہ اللہ کا درویش عرض کرتا ہے کہ یااللہ اس کو تیرا دوست بنانے کیلئے لے کر آیاتو پھر اگر اللہ اُس وقت انکار کر دے کہ میں اِسے دوست نہیں بنانا چاہتا تو پھر دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو اُسے اللہ کی بارگاہ میں مقبول و منظور بنا سکے۔پھر جس کو اللہ دوست بنا نا چاہتاہے،جس کے دل میں اپنی محبت ڈالنا چاہتا ہے تو پھر اللہ فرماتا ہے کہ اس کی گواہی کون دے گا؟اللہ کے وہ دو ولی جن کے درباروں پر اُس کا آنا جانا ہو تا ہے،وہ اُس شخص کی گواہی دیتے ہیں۔اس کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ اس کی ضمانت کون دے گا؟سرکار فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک ؒ ضمانت دیتے ہیں کہ جن کی آج ہم گیارھویں منا رہے ہیں۔پھر اللہ فرماتا ہے کہ اِس کی تصدیق کون کرے گا؟تو قبلہ مرشد پاک فرماتے ہیں کہ اس وقت پھرسرکاردوعالم ﷺاس کی تصدیق فرماتے ہیں۔پھر جاکر اللہ کے ذکرسے اُس شخص کا قلب جاری ہو تا ہے۔سرکارفرماتے ہیں کہ جس کادل ایک مرتبہ اللہ اللہ کرنے لگ پڑاتوپھرقیامت تک اللہ اللہ کرتا رہے گا۔ممبرسپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے اس موقع پر تمام نئے ساتھیوں کو اجازت ذکر قلب کی دولت نایاب سے نوازا۔
جناب عبدالعزیزقادری مشیر نشرواشاعت نے مزید کہاکہ سرکار فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم!اللہ نے اپنا اسم زمین پراُتار دیا ہے جس کو چاہیے آکر لے جاؤ۔ہم انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ) پاکستان کے پلیٹ فارم سے بلا تفرق رنگ و نسل و مذہب سب کو دعوت ذکروفکر دے رہے ہیں کہ آئیں اور اس اسم اللہ ذات کو حاصل کریں۔اپنے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کریں۔اپنے سینوں میں عشق رسول ﷺ پیدا کریں لیکن اس کیلئے آپ کواپنے دل کی خالی دھڑکنوں میں اللہ اللہ کوبسانا ہوگا۔جب دل اللہ کے ذکر سے جاری ہو جائیں گے تو پھراللہ کا نوردل میں بھرنا شروع ہو جائے گا اوردل میں اللہ کی محبت پیدا ہوجائے گی۔جب دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہو جائے گی توسینے بھی ہر قسم کے فتنہ و فسادسے پاک ہوجائیں گے اورسینے محبت رسول ﷺسے معمورہوجائیں گے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ سب کو اپنی بارگاہ میں مقبول و منظورفرمائے۔آمین۔
یہ محفل گیارھویں شریف وپندرھویں شریف آستانہ عالیہ فیصل آباد پرہر ماہ کی طرح اس ماہ بھی 29جون 2018؁ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نمازمغرب منعقد کی گئی جس کا آغازنمازمغرب کی باجماعت ادائیگی کے بعد ہوا۔حاجی محمد اصغر قادری صاحب نے مناجات غوث اعظمؒ کا نذرانہ پیش کیا۔اس محفل پاک میں نقابت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق قادری اورعبدالعزیز قادری نے سرانجام دئیے۔اس کے بعد قاری طار ق محمود طارق نے حمد باری تعالیٰ کی سعادت حاصل کی۔نعت رسول ِمقبول ﷺبحضور سرورکون ومکاں ﷺمحمد احتشام گوھر،زوہیب الحسنین (جھمرہ)،افسرعلی رضوی ودیگر ثناء خوان مصطفی اپنے اپنے مخصوص اندازمیں پیش کی۔اسکے بعد محمد بشیر قادری نے منقبت غوث پاک ؒ پیش کی۔بعد ازاں عبدالعزیز قادری نے بارگاہ مرشد ی میں نذرانہ محبت پیش کیا۔حلقہ ذکر کے بعد درودوسلام پیش کیا گیا۔ممبرسپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے دعا کروائی۔اسکے بعد تمام حاضرین محفل میں لنگر تقسیم کیا۔

  

, ,

فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پر رمضان المبارک کی طاق راتوں میں شب قدر کی محافل کا اہتمام کیا گیا

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ) پاکستان،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ عالیہ پر ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کی طاق راتوں میں شب قدر کی پر نور ساعتوں سے فیض یاب ہونے کیلئے شب بیداری کا اہتمام کیا گیا۔ رات گیارہ بجے صلوٰ ۃ التسبیح کی ادائیگی کے بعد ساڑھے گیارہ بجے پیرومرشد قبلہ عالم منبعئ رشدو ہدایت حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی زبانِ نور سے نکلے ہوئے گوھرِنایاب کو سمیٹنے کیلئے تمام طاق راتوں میں مختلف خطابات پروجیکٹر (بڑی سکرین)پر دکھائے گئے جس سے سینئر،جونیئر اور نئے ساتھی فیضیاب ہوئے۔دعاہے کہ سرکار شاہ صاحب کے فرمودات ِعالیہ جو کہ قرآن و سنت کے عین مطابق ہیں،اُن پر عمل پیرا ہو کر دین و دنیا اور اُخروی ابدی حیات میں کامیابی و کامرانی حاصل ہو۔آمین۔اسکے بعد محفل نعت و محفل ذکر لطائف ترتیب دی گئیں۔ان محافل میں جن خوش نصیب حضرات نے ہدیہ تبریک پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اُن میں محمدافضال قادری،نسیم احمد آرائیں،عبدالعزیزقادری،سینئررہنمامحمد شفیق قادری شامل تھے جنہوں نے نقابت کے فرائض سرانجام دئیے۔ان کے علاوہ حمدو نعت،مناقب غوثِ پاکؓ،قصائدمرشدپاک کی سعادت منصب علی قادری،احتشام گوھر،محمد رضوان گوھر،محمد رفیق قادری،زین بن ارشد،ذوالفقارقادری،عاصم گوھر(فرزندعمر بٹ)ودیگرنے حاصل کی اورحاضرین محفل کے دلوں میں عشق الٰہی،عشق حبیب ﷺاورمحبت اہل بیت ومحبت اولیاء کو مزید فروزاں کرنے کا باعث بنے۔اللہ تعالیٰ اُن کی حاضری کو قبول ومنظور فرمائے۔امیر فیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری،محمد شفیق قادری،حاجی محمد اصغر قادری،ماسٹر محمد ارشدنے محفل ِذکر لطائف کو ترتیب دیا۔درودوسلام کے بعد مرحومین کی مغفرت،بیماروں کی شفایابی،امت مسلمہ کی کفارسے آزادی،تمام امت مرحومہ کی بخشش ومغفرت،حالیہ نازک وقت میں امت عالم کی بیداری اور خصوصاًوطن ِعزیز پاکستان کی ترقی و خوشحالی،امن و امان کے قیام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔محفل کے اختتام پر سحری کاخصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
مقررین نے ان پرنور اور رحمتوں،برکتوں والے مبارک لمحات میں اپنے اپنے انداز میں طاق راتوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اوراس بات پر زور دیاکہ ہم صحیح معنوں میں اپنے قلب وروح کو اسم ِذات اللہ کے پاک ذکر سے روشن و منور کرکے ان مبارک ساعتوں سے فیضیاب ہو سکتے ہیں وگرنہ کچھ لوگ تو یونہی گلی بازاروں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں نفل کا ثواب بھی فرض کے برابر ہو جاتا ہے،اسی طرح عام راتوں کی نسبت آخری عشرہ کی ان طاق راتوں میں شب قدرکی تلاش بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ اُس کے خاص بندے اپنے آرام کو قربان کرکے اپنے خالق و مالک کی رضا و خوشنودی کیلئے اُس کے سامنے سربسجود ہوں،اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں،اپنی زندگیوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ اوراُس کے پیارے حبیبﷺکے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنے کا عہد کریں۔یہ مقدس رات ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔اس میں ملائکہ اور روح القدس اللہ کے حکم سے سلامتی کے ساتھ فرش زمین پر اُترتے ہیں، غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک۔مبارک ہیں وہ لوگ جن کو یہ مبارک گھڑیاں میسر آتی ہیں اور اُن کے قلب و روح نور الٰہی سے مزید روشن و منور ہوتے ہیں۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں دین ِاسلام کی سربلندی کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔آج تمام طاغوتی طاقتیں اسلام کے خلاف صف آراء ہو گئی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمار ا پیارا وطن پاکستان بھی 27رمضان المبارک کو معرضِ وجود میں آیااور ہمیں یہ بات باور کرائی گئی کہ جو ملک اللہ،رسول کے نام پر حاصل کیا گیا وہ یقیناایک دن تمام دنیا پر حکمرانی کرے گاجیسا کہ مرشد پاک اور صوفی برکت علی علیہ الرحمتہ فرما چکے ہیں۔اب یہ ہم پرہے کہ ہم آنے والے وقت کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں یا نہیں۔اس کیلئے انجمن سرفروشان اسلام (رجسٹرڈ)تمام انسانوں کو یہ دعوت ِذکر وفکر دے رہی ہے کہ آؤ اور اللہ کے ذکر سے اپنے سیاہ باطن کو پاک و صاف کرو تاکہ کل جب حق کی پہچان کا وقت آئے تو سرخروئی حاصل ہو سکے جو کہ صرف اللہ کے ذکر کے نور کو اپنے پیدا کرکے حاصل ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرشد پاک کے صدقے ہماری کوششوں کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔آمین۔

 

, ,

عید کی حقیقی خوشیوں کا دارومدار تقویٰ وپرہیزگاری پر ہے۔محمدافضال قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام( (رجسٹرڈ)پاکستان ،فیصل آباد کے زیر اہتمام آستانہ فیصل آباد پر عید ملن پارٹی کا انعقاد کیاگیاجس میں ذاکرین نے بھرپور شرکت کی ۔اس موقع پرمحفل نعت و ذکر الٰہی منعقد کی گئی اوراللہ رب تعالیٰ کے حضور ہدیہ تشکر پیش کیا گیاکہ اُس کی خاص کرم نوازی کے طفیل ہمیں رمضان المبارک کی پر نور ساعتیں میسر آئیں۔نقابت کے فرائض محمدافضال قادری اور عبدالعزیز قادری نے پیش کئے ۔محمداحتشام گوھر،محمد رضوان گوھر اورمحمد عاصم گوھر اور منصب علی قادری نے عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کئے۔ذکر الٰہی کے بعددرودوسلام پیش کیاگیااوردعائے خیر کی گئی۔بعد میں تمام ذاکرین نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور بغل گیر ہوئے ۔آخرمیں مٹھائی اور کولڈ ڈرنک سے تواضع کی گئی۔

, ,

اگر مرشد کے واقعی سچے پکے حکم پر چلنے والے ہو تووہ ظاہر و باطن میں کامیاب ہوگے- وحید انور قادری

﴾محفل گیارھویں شریف بسلسلہ جشن قلندر پاکؒ ﴿
(نمائندہ صدائے سرفروش،فیصل آباد )
نقیب ِمحفل نسیم احمدآرائیں نے کہاکہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت بھی کرے اور گناہگار بھی ہو ؟کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آج کی 21وےں صدی میں انسان گنہگار بھی ہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق بھی ہو۔ایک صحابیؓ جو شراب پیتے تھے ۔وہ شراب کے جرم میں لائے گئے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر انہیں کوڑے لگائے گئے وہ چلے گئے۔وہ پھر اسی جرم میں لائے گئے پھر کوڑے لگے۔ جب تیسری بار وہ اسی جرم میں آئے۔صحابہ کرام نے کہا کہ لعنت ہو ایسے شخص پر جو بار بار ایک ہی گناہ کرتاہے۔بار بار ایک ہی گناہ کی پاداش میں کوڑے کھانے آ جاتا ہے۔تو سرکار دوعالم ،احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” صحابہ! اس پر لعنت مت کرنا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے“۔
گناہگار پہنچے در پاک پر زاہدو پارسا دیکھتے رہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ ساری زندگی میں ایک بات سمجھ میں آگئی کہ نہ میرا کوئی کمال ہے اور نہ تیرا کوئی کمال ہے۔یہ کسی کی نظر کا کمال ہے۔آپکو کچھ عطاءہو۔آپ کی بخشش ہوجائے۔آپ بخشے جائیں ،آپ رب تک پہنچ جائیں۔آپ کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے زاہد و پارسا ذلیل و خوار اور رسوا ہوتے دیکھے گئے۔آج بہتر فرقوں میں کیا ہو رہا ہے آپ ان کی حیثیت چیک کریں۔آپ ان کے کام چیک کریں۔ساری رات تہجد میں پڑے رہیں گے۔صبح اٹھ کر کہتے ہیں تو سنی کومار توشیعہ کومار۔عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام اس کائنات میں واحد روحانی تحریک ہے جوفرقہ واریت سے بالاتر ہے۔جو مذاہب سے بھی بالاتر ہے کیوں کہ ہمارے پیر و مرشد حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی نے نہ صرف مسلمانوں میں اس پیغام کو پہنچایا بلکہ ہندوووں کے مندروں میں جاکر اِسم ذات اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔عیسائیوں کے چرچوں میں جاکر، سکھوں کے گردواروں میں جاکر، مجوسیوں کے پاس جاکر، نصرانیوں کے پاس جاکر اس اسم ذات اللہ کے پیغام محبت کو پہنچایاکیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے قلوب کو دیکھتا ہے۔ حدیث قدسی ہے” نہیں دیکھتا میں تمہارے جسموں کو، تمہاری داڑھیوں کو، تمہاری صورتوں کو،میں دیکھتا ہوں تو تمہارے قلوب اور تمہاری نیتوں کو“۔عزیز ساتھیو !ہمارا کچھ نہیں ہم کسی قابل نہیں ۔ہمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین کے صدقے سے ہمیں اتنا عظیم مرشد مل گیا۔ اس نے ہمارے قلوب کو اسم ذات اللہ سے منور کر دیا۔ آپ کو اس چیز کا پتا نہیں ہے تحقیق ہی نہیں کرتے۔آپ تحقیق تو کیجئے۔سمندری والے بابا رحمتہ اللہ علیہ کا انٹرویو آج بھی یوٹو ب پہ پڑا ہوا ہے۔اسکو سنیں وہ کیا کہہ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ سرخی پوڈر والے ا سم ِ ذات اللہ لیے پھرتے ہیں۔سراج بابا رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ مر جانا گوہرشاہی کو نہ چھوڑنا۔وقت کے قطب تھے وہ۔ آج ہم اتنے عظیم مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہیں۔اتنے عظیم مرشد کی بارگاہ سے ہم وابستہ ہیں ہمارا ایک یہی پیغام ہے کہ آپ اپنے مرشد سے تعلق کو خالص کر لیں۔ایک پرسنٹ بھی اس کے اندر دنیا نہ ہو، کسی بھی قسم کی لالچ نہ ہو، کوئی دنیا کی، کوئی پیسے کی یا کسی اور چیز کی۔اتنا خالص رشتہ ہو۔جب آپ کا اپنے مرشد سے رشتہ خالص ہو جائے گا تو یقین جانیں کہ انعامات کی اتنی بارش ہوگی کہ آپ پریشان ہو جائیں گے کہ آپ کیا ہیں اور آپ پر اتنی کرم نوازی کی جارہی ہے۔بڑے بڑے اولیاءکرام کے پاس جاکر جب کوئی ذاکر بیٹھتا تھا تو وہ اس کو اپنے قریب بٹھا لیتے تھے۔ہم مرشد کی عظمت کی بات کر رہے تھے کہ اولیاءکرام ان کی کتنی عزت کرتے تھے؟ان سے کتنی محبت کیا کرتے تھے؟وقت کے قلندر، وقت کے غوث و قطب کی نظر میں سرکار کی کتنی توقیر تھی ؟
عزیز ساتھیو عارف بھائی نے مجھے ایک دفعہ ایک بات بتائی۔آج ہم قلندرپاک ،قلندر شہنشاہ کی یاد میں ان کے دن کو منا رہے ہیں۔تو سرکار شاہ صاحب حیدرآباد سے سہون شریف اکثر موٹر سائیکل پر چلا جایا کرتے تھے۔کبھی کسی ذاکر کو پیچھے بٹھا لیا کرتے تھے۔عارف بھائی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے بھی سرکار شاہ صاحب اپنے ساتھ لے گئے۔عارف بھائی جیسا مرید ہو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنے مرشد کریم کا کتنا ادب کیا کرتے تھے اور بے تحاشا سرکار سے محبت کیا کرتے تھے ۔کبھی سرکار کے برابر بھی چلنے کی انہوں نے کوشش نہیں کی ۔وہ کہتے ہیں کہ سرکار شاہ صاحب میرے آگے آگے چل رہے ہیں اور میں ہاتھ باندھے ان کے پیچھے چل رہا ہوں۔( ایسے واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں مرشد کی محبت بڑھے اور دوسرا یہ کہ آپ کو یہ بھی پتہ چلے کہ اولیاءکرام ہم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔اس میں خاص بات یہ ہے کہ آپ کا کوئی کمال نہیں ہے میرا کوئی کمال نہیں ہے۔اس میں ہمارے مرشد کا کمال ہے کہ جن کی وجہ سے آپ ذاکرین سے محبت کی جاتی ہے)تو عارف بھائی کہتے ہیں کہ سرکار آگے آگے سہون کی گلیوں میں چل رہے ہیں۔میں پیچھے ہاتھ باندھے چلا آ رہا ہوں۔عارف بھائی سرکار شاہ صاحب سے چند قدم کے فاصلے پر ہوں گے۔توعارف بھائی نے چلتے چلتے ایک درخت سے پتا توڑ لیا۔ یہ بے اختیار عمل ہوتے ہیں جو انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں۔یہ انسان کا غیرشعوری طور پر، غیر ارادی طور پرعمل ہوتا ہے جو انسان چلتے چلتے کر جاتا ہے۔ توعارف بھائی کہتے ہیں کہ لاشعوری طور پر میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔لا شعوری طور پر وہ پتا توڑ لیا۔تو اس درخت کے نیچے ایک فقیر بیٹھا ہوا تھا۔اورتھا بھی وہ نظر والا اور قلندر پاک کا بڑاخاص۔وہ کہنے لگا۔”رک“۔ عارف بھائی رک گئے۔وہ کہنے لگا تیری اتنی جرات کہ تو نے پتا توڑا۔عارف بھائی تو عارف بھائی تھے انہوں نے پہلے تو پتا توڑا تھا۔پھر انہوں نے درخت کی شاخیں ہلادیں۔عارف بھائی کہنے لگے تو کہتا ہے کہ میرا مرشد بہت بڑا ہے۔میرے مرشد کو تونے کیا سمجھ رکھا ہے؟ تو پھر اس مقدمے کی انکوائری دربار غوثیتؓ میں ہوئی۔وہ ڈیوٹی والا بزرگ ہے۔ ڈیوٹی والا فقیر ہے آپ اسکے ساتھ کوئی ایسا ویسا معاملہ نہیں کر سکتے۔چاہتے توو ہیں پر معاملہ حل ہو سکتا تھا۔آپ اُس کے ساتھ جھگڑا نہیں کر سکتے وہ ڈیوٹی والا ہے اس کی وہاں پر ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔سرکار شاہ صاحب نے باقاعدہ عارف بھائی کی وکالت فرمائی۔ اس کیس کو جیتا بھی ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت قلندر پاک سرکار شاہ صاحب کی حمایت میں تھے۔اب آپ دیکھیں کہ مسئلہ ایک سرفروش کا ہے ڈیوٹی والے بزرگ کو چھیڑ دیا۔ حمایت کون کررہا ہے دربار غوثیت ؓمیں قلندر پاکؒ۔کیا بات ہے سرفروشوں کی ۔قلندر پاک ؒکو ہمیشہ سرفروشوں سے محبت رہی ہے۔آپ وہاں پر جائیں آپ وہاں پر محفل کرتے ہیں۔آپ ذکر الٰہی کی محفل کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جو رنگ آپ کو قلندر پاک ؒپہ ملے گا،کسی اور دربار پہ نہیں ملے گا۔آپ دھمال کرکے دیکھ لیں۔ آپ حیران ہوں گے۔سرکار نے دھمال کی اجازت صرف اور صرف قلندرپاک ؒکےدربارپہ دی ہوئی ہے۔یہ سینئر ساتھیوں کو پتہ ہے ۔سرکار نے فرمایا دھمال نہ کیا کرو۔قلندر پاکؒ میں جاکے کر لینا۔تو عزیز ساتھیو ہمیں اپنی خوش قسمتی پر ناز ہونا چاہیے۔ہمیں اس ناز کی وجہ سے باادب ہونا چاہیے کیونکہ آپ سرفروش ہیں۔ آپ کے اندر کی مخلوقیں کوئی قلندر پاک ؒپر ،کوئی بابا صاحبؒ پر، کوئی خواجہ صاحبؒ پر ہے،کوئی بیت المعمور میں سرکار نے ہماری مخلوق کو نکال کے وہاں پر پہنچایا ہوا ہے۔آپ کے ظاہری جسم کو بھی باادب ہونا پڑے گا جتناباادب ہوجائیں گے اپنے سینئر کے لئے،اپنے جونیئر کے لیے۔یہ نہ سوچیئے یہ کیا لایا یہ نہ سوچیں یہ کتنے سال پہلے آیا یہ سوچیں کہ یہ ذاکر ہے۔یہ ہمارا بھائی ہے اس سے ہمارا خون کا تو نہیں نور کا رشتہ ہے۔اس نور کے رشتے کی لاج رکھتے ہوئے آپس میں پیار محبت ،اتحاد اور یگانگت کو قائم رکھیں۔
جناب محترم وحید انور قادری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار شاہ صاحب مجھے حق اور حقیقت بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اور ہم سب کو مل کر اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق طلب فرمائیں ،(آمین )۔قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ اور جناب غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد میں آج کی اس محفل پاک کوترتیب دیا گیا۔جہاں قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی یاد ہوتی ہے تو وہاں لوگ تڑپ جاتے ہیں کہ آپ سراپا عشق ہںایا اور جو عشق والے ہوتے ہیں وہ پھڑپھڑاتے ہیں، تڑپ جاتے ہیں ۔جب اس کے معشوق کی بات کی جائے اور یہاں جو اللہ کی بات ہو رہی ہے، اس کے رسولﷺ کی بات ہو رہی ہے اور قلندر پاکؒ کی یاد میں بات ہو رہی ہے۔اللہ کرے کہ مالک کی رحمت ہم سب پر بھی ہو جائے اور ہمیں بھی یہ تڑپ اور عشق نصیب ہوجائے۔حضرت محبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں ”مرید اپنے مرشد سے جتنی محبت اور عشق رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ را ہ سلوک میں اسکو اتنی ہی استقامت اور مرتبہ عطا کردیتا ہے۔آپ اور ہم کس کے مرید ہیں سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کے۔جو ہماری پہچان ہیں، ہماری جان ہیں،ہمارا ایمان ہیں۔اب آپ کواور ہم کو کتنی محبت ہے؟اس کا اظہار اب ہمارے اور آپ کے اعمال سے واضح ہوجاتاہے۔جدھرمرشد کا عکس ہوتا ہے جو مرشد کے قریب ہوتا ہے جو مرشد کی رحمت کے اندر محصور ہوتا ہے۔مرشد کی ذات کا عکس اس میں نظر آتا ہے اور آج ہمارے اندر کتنا عکس ہے ؟میں ہوں یا آپ ہو ں،آج ہم تھوڑا سا محاسبہ کریں گے۔ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔اپنے خاص مرید بودلہ بہار سے کہ جاو سہون کی دھرتی پر چلے جاو۔وہاں جا کر لوگوں کو بتاوکہ میرا ایک پیر آنے والا ہے،اللہ کا ایک درویش آنے والا ہے ،اللہ کا ایک دوست آنے والا ہے جو لوگوں کو بتاو۔میری تشہیرکرو میرا چرچا کرو۔ یہ نہیں کہا کہ لوگوں کو کہو کہ اللہ کا نائب آرہا ہے۔اللہ کا خاص بندہ رہا ہے ایک ایسی ہستی آرہی ہے جو لازوال ہے۔جو سراپا عشق ہے جو مقرب ہیں۔جب وہ اس علاقے میں پہنچتے ہیں۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہندو ہیں اور دین کو ماننے والے نہیں ہیں۔کہنے لگے کہ جب وہ دین اسلام کو ماننے والے نہیں ہیں تو ولیوں کی پہچان کیسے کر سکتے ہیں؟ولیوں کے مرتبے کو کس طریقے سے پہچان سکیں گے۔مرشد پاک کچھ ساتھیوں کو فرماتے ہیں کہ جاو ایبٹ آباد چلے جاو،لاہور چلے جاو اور حیدرآباد چلے جاو۔ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کا وہی طریقہ کار۔ اپنے مریدوں کو بھیجا وہاں جاکے یہ بتاو۔ایک سراپاعشق تمہارے پاس آرہا ہے۔اب جس مرید نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق چرچا کیا۔اپنے مرشد کے حکم کے مطابق محنت کی۔اپنے مرشد کے حکم کے مطابق اس عظیم مشن کی تشہیر کی ۔پھر کیا ہوا کہ اس تشہیر کے عمل کے بعد جتنے لوگ آئے مرشد کی بارگاہ میں آئے۔قلندر پاک ؒکی بارگاہ میں آئے با مرتبہ اور بامقام ہوگئے۔جب وہ ہوگئے تو سارے کا سارا کریڈٹ کس کو ملا۔اس کو کہ جس کی ڈیوٹی لگی تھی اور جب وہ کریڈٹ حاصل کرلیتا ہے۔جب مرشد کی بارگاہ میں سرخرو ہو جاتا ہے جب مرشد اس کے اندر اپنی نظر خاص کر دیتے ہیں تو پھر مرشد اس مرید کے بغیر نہیں رہتا پھر وہ اپنے مرید کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہے کہ جب وہ بودلہ بہار اپنے مرشد کے حکم کے مطابق سہون کی پہاڑیوں میں آتے ہیں۔آکے لوگوں کو بتاتے ہیں۔ایک سراپا عشق آرہے ہیں۔میرے مرشد آرہے ہیں۔میرے آقا آ رہے ہیں لوگ سنیں نہ سنیں لیکن وہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے جارہے ہیں۔جب لوگوں کو سب کچھ بتا دیا لوگ ان کے مخالف ہوگئے مخالف اس لئے ہو گئے کہ جو اَمیر لوگ ہوتے ہیں ان کے اندر دین کی سوج بوجھ تو ہوتی ہے لیکن عمل میں کمی ہوتی ہے۔بظاہر میں کچھ ہوتے ہیں، باطن میں کچھ ہوتے ہیں ،ظاہر میں پیر ہوتے ہیں اندر سے پیڑ ہوتے ہیں ۔باہر سے بڑے زاہدو و پارسا ہوتے ہیں اور اندر سے خالی ہوتے ہیں۔مرشد کا چاہنے والا کیسا بھی ہو لیکن جب وہ غلطی کرتا ہے تو بودلہ بہار نے ہر عابد کوہر زاہد کو ہر گناہگار کو،ہر سیاہ کارکویہ پیغام دے دیا کہ میرا مرشد آرہا ہے۔سراپا عشق آرہا ہے اور جب وہاں پر قلندرپاک ؒپہنچتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے اس مرید کو دیکھتے ہیں۔اپنے مرید کو یاد کرتے ہیں۔مرید کو ظاہری طور پر نہیں دیکھ پاتے مرید نظر نہیں آتا۔آج جب کسی بندے کو مرشدکریم کی بارگاہ سے ڈیوٹی مل جائے۔کسی شہر میں مشن کی تشہیر کے لیے کہ جب شہر میں پہنچے تو سب سے پہلے اس کے بارے میں پوچھتے کہ وہ کہاں ہے؟
بودلہ بہار نظر نہیں آئے بودلہ بہار کو دیکھا نہیں۔قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔دائیں رخ پر اپنا چہرہ انور کرکے اے بودلہ بہار،سیدھے رخ کی طرف منہ کر کے کہتے ہیں بودلہ بہار پھر بائیں جانب رخ کرکے کہتے ہیں بودلا بہار ،بودلہ بہار کی آواز نہیں آتی بودلہ بہار کو نہیں دیکھ پاتے تو آپؒ فرماتے ہیں اے بودلہ بہار میں نے تمہیں جس مقصد کے لیے بھیجا تھا۔آج اس مقصد کی تکمیل کے لئے تمہارے پاس آیا ہوں جہاں بھی ہو۔( میرے سامنے حاضر ہوجاو۔تاریخ میں اس واقعہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں لیکن جو تاریخ میں زیادہ لکھا گیا۔اس واقعے کی بات کرتا ہوں) لوگوں نے دیکھا کہ وہ بودلہ بہار جو سراپا عشق کی بات کرتا تھا جو اس علاقے کا بادشاہ تھا اس نے بودلہ بہار کو ذبح کر کے اس کا گوشت پکا لیا۔کھا لیا ۔جب قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کو نظر نہیں آئے تو آپ نے حکم دیا جہاں ہویہاں آو۔تو لوگوں کے سینوں کو چیرتے ہوئے بودلہ بہار بنفس نفیس اپنے مرشد کی ذات کے سامنے جلوہ افروز ہو گئے۔ پتہ یہ چلا کہ مرشد جب ڈیوٹی دیتا ہے پتہ سب ہوتا ہے۔لیکن بتانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جس کو ہم نے ڈیوٹی دی اگر اس نے ڈیوٹی پوری کی تو اس مرشد کی نظر سے اس کو اتنا کمال مل جاتا ہے کہ” موتو قبل ان تموتو“ پہلے اگر وہ مر جاتا ہے ناتو دوبارہ زندہ ہو کے سامنے آ جایا کرتا ہے
آج سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کا یہ پیغام سمجھو کہ اپنے آپ کو سرکار کے مشن میں اس طرح زندہ رکھو کہ جہاں جہاں جس کی ڈیوٹی لگی ذمہ دار ہویا عام ہو۔یہ یاد رکھو ہیرا ہیرا ہوتا ہے ہیرے کو سٹیج پہ بٹھاویا پیچھے بٹھاو۔یاد رکھو کہ جس چیزپہ مرشد کی نظر ہے نہ جس کے اوپر اللہ کی نظر ہے نہ ،نیچے ہو درمیان میں ہو،ادھر ہو ادھر ہو یقین کرو وہ ان کی نظر میں ہی رہتا ہے۔ہر وقت اُن کی نظر اُسی پر رہتی ہے۔آپ گاڑی میں ٹریکر لگاتے ہو گاڑی میاں چنوں جائے، لاہور جائے وہ ٹریکر کمپیوٹر ٹریس کرتا رہتا ہے کہ گاڑی کدھر گئی۔شہر سے باہر جاتی ہے تو میسج آ جاتا ہے گاڑی ادھر جا رہی ہے۔تو مالک سمجھ جاتا ہے کہ گاڑی شہر سے باہر چلی گئی۔لوگو! مرشد نے بھی یہ ٹریکر لگا دیا۔جب تم برائی کی طرف جاتے ہو تو مرشد کی بارگاہ میں میسج چلا جاتا ہے پھر جب تم منزل سے ہٹ جاتے ہو تو مرشد کی بارگاہ میں میسج چلا جاتا ہے۔اگر لوگوں کی مخالفت کرتے ہو تو مرشد کی بارگاہ میں میسج چلا جاتا ہے۔پتہ یہ چلا کہ وہ تمہارے ایک ایک عمل سے باخبر ہیں۔
آج قلندرپاک رحمتہ اللہ علیہ کی اس محفل کے حوالے سے،جوآپ کو تین نکتے بتائے کہ مرشد کی بارگاہ سے جو ہمیں ڈیوٹی ملی ہے۔اس ڈیوٹی سے نہیں ہٹنا۔مر جانا ڈیوٹی سے نہیں ہٹنا۔دوسرا نکتہ جو میں نے اس گفتگو میں آپ کو سمجھایا۔جب ڈیوٹی پوری کرلو گے نہ میں تمہیں اجر دے سکوں گا نہ کوئی اور تمہیں اجر دے سکے گا نہ تمہیں کوئی اور نواز سکے گا۔ایک ہی مرشد کی ذات ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں۔جب مرشد تم سے راضی ہو جائیں گے تو یقین کرو تمہیں باکمال بنا دیں گے اور مرشد کی ذات کا جو رحم کرم فضل ہے نہ وہ آپ پرہو جائے گا۔
مرشد کی ذات کی طرف کرم نوازی کا ایک چھوٹا سا واقعہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔آپ سہون شریف جاتے ہیں تو قلندر پاکؒ باہر نکل کر آپ کا استقبال فرماتے ہیں۔استقبال فرمانے کے بعد آپ کو ایک لنگوٹ عطا فرماتے ہیں کہ اس راستے پر لنگوٹ باندھ کر چلنا۔لنگوٹ وصول فرماتے ہیں لیکن وہ لنگوٹ کی بات نہیں ہو رہی۔ وہ ایک اور تھا کہ آپ ظاہری طور پر ایک لنگوٹ باندھ کر اس نہر کے ساتھ جو آپ نے دیکھی ہو گی لال باغ کے ساتھ نہر کے اندر آپ نہانے کے لئے ایک لنگوٹ باندھتے تھے۔ایک دن اپنے لنگوٹ کو سوکھنے کے لیے جھاڑی کے اوپر لٹکا دیا۔کچھ شرارتی لوگ آئے انہوں نے دیکھا کہ لنگوٹ نیا ہے۔لنگوٹ پہنا ،نہائے اور ساتھ لے کر چلے گئے۔ جب ساتھ لے کر چلے گئے وہ غریب لوگ تھے لیکن تھے شرارتی۔ لنگوٹ انہوں نے تکیہ کے نیچے رکھ دیا۔ ان کے کسی جان پہچان والے نے بتا دیا۔اس بابا کالنگوٹ ہے لہٰذا یہ لنگوٹ اس کو واپس کرنا۔انہوں نے یاددہانی کے لیے اس لنگوٹ کو تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ ایسا نہ ہو کہ صبح بھول جائیں۔تکیے کے نیچے رکھا جب سونے لگے سر رکھا۔کان رکھا تو تکیے کے نیچے سے آواز آرہی تھی اب پھر وہ سر اٹھاتا ہے پتا نہیں کیا بات ہوگی۔پھر جب سر رکھتا ہے تو دما دم مست قلندر ۔سر اٹھاتا ہے تو خاموشی کہنے لگاکہ تصدیق ہوگئی کہ یہ لنگوٹ واقعی اُس بابا کا ہے۔اب یہ لنگوٹ زندہ نہیں نہ مر سکتا ہے نہ کم ہو سکتا ہے۔نا چل سکتا ہے نہ پھر سکتا ہے لیکن کسی کی توجہ کا مرکز بنا۔وہ کسی بھٹکے ہوئے کو سیدھے راستے پر لے آیا۔تمہیں اور ہمیں اس ذات نے جس راستے پر چلا دیا۔یقین کرو وہی صراط مستقیم ہے خود بھٹکو نہیں بلکہ ان لوگوں کو اس راستے پر لے کر آو تاکہ نوازے جاو کل جب مرشد کریم کی ذات کا جھنڈا ہو۔نیچے کھڑے ہوں لوگ نہ پوچھیں کہ یہ کون ہے بلکہ تمہارے چمکتے ہوئے اعضاءہی انہیں بتائیں کہ یہ گوہر شاہی کا چاہنے والا ہے۔
مرید اور مرشد کا جو تعلق ہے آج ہم آہستہ آہستہ اس سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔اس طرح سے آپ کو یاد دہانی کروانے کے لئے قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی بات ہوئی۔اب گیارہویں شریف کے حوالے سے مرید کا مرشد کہاں کہاں خیال کرتا ہے۔ابھی تو آپ کو بتایا نہ زندہ کا۔اب آپ کو مرنے کے بعد کا بھی بتائیں گے کہ مرشد مرنے کے بعد اپنے مرید کی خبر گیری کرتا ہے۔ایک دھوبی تھا کپڑے دھوتا تھا غوث پاک کے کپڑے دھوتا تھا۔مرشد کریم کی ذات پاک یہ واقعہ رقم فرماتے ہیں۔وہ قبر میں گیا منکر نکیر آئے۔نبی ہو ولی ہو مرد ہو عورت ہو اللہ کا قانون ہے۔کہ فرشتے آئیں گے ،سوال کریں گے جواب دینا پڑے گا۔اب کیا ہوا وہ بھی ان پڑھ تھا۔ساری عمر کپڑے دھوئے غوث پاک ؒکے عقیدت سے دھو ئے۔ فرشتے آئے۔سوال کیا انہوں نے سوال پوچھے۔خاموش ۔وہ ایک گرز اٹھاتے ہیں۔گرز کے متعلق ایک روایت آتی ہے اگر وہ ایک دفعہ گرز ماریں توانسان ستر گز زمین کے اندر دھنس جاتا ہے۔گرز اٹھاتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ گرز اس کی طرف لے کر آئیں۔غوث پاک ؒاس قبر کے اندر پہنچ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں۔کیا ہوا تم اسے نہیں جانتے لیکن میں تو اسے جانتا ہوں نہ۔اب پتا یہ چلا کہ ظاہر میں اگر مرشد کے واقعی سچے پکے حکم پر چلنے والے ہو تووہ ظاہر میں بھی پتہ کریں گے اور باطن میں بھی پتہ کریں گے حتیٰ کہ جب مر جاوگے تو وہاں پر بھی پتہ کریں گے۔
اب چار آپکوآج نقاط سمجھائے۔ کافی مہینوں سے مختلف شہروں کا دورہ ہوتا رہا اس دورے میں ساتھیوں کو ذکر سے فکر سے تنظیم کے معاملات سے کمزور ہوتے ہوئے پایا۔ اندر سے ایک دکھ اندر سے ایک اداسی، اسی دکھ اور اداسی کو مدنظر رکھتے ہوئےآج آپ کو دوبارہ سے اس کی یادہانی کروائی ۔ہو سکتا ہے شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔
اس محفل ِپاک میں نقابت کے فرائض غلام فرید قادری ،نسیم احمد آرائیں اور ڈاکٹر مشتاق احمد نے سرانجام دئیے۔یہ محفل ِپاک امیر ِفیصل آباد حاجی محمد سلیم قادری کی زیر ِصدارت منعقد کی گئی ۔ یہ محفل ِپاک انچارج پروگرام کمیٹی محمدافضال قادری کے زیر نگرانی انعقاد پذیر ہوئی ۔اس محفل پاک میں محمد افضل ڈوگر نے بطور مہمان ِخصوصی شرکت کی ۔اس محفل پاک میں قاری طارق محمود قادری نے تلاوت فرمائی ۔محمد بشیر قادری نے حمد ِباری تعالیٰ پیش کی ۔نعت رسول ِمقبول ﷺکی سعادت زوہیب الحسنین ،محمداحتشام گوھر ،غلام محی الدین و دیگر نے حاصل کی ۔محمد ذیشان نے بارگاہ ِغوثیت ؓ میں منقبت پیش کی ۔مشیر نشرواشاعت عبدالعزیزقادری نے قصیدہ مرشدی اور منقبت ِقلندرپاک ؒ پیش کی ۔چودھری اظہر نواز قادری نے حلقہ ذکر کوترتیب دیا ۔درودوسلام کے بعد دعائے خیرتاحیات سینئر ممبر سپریم کونسل حاجی محمد اویس قادری نے کروائی۔محفل پاک میں نئے ساتھیوں کو اجازت ِذکر قلب بھی دی گئی ۔انہوں نے اس محفل ِپاک سے فیوض و برکات سمیٹے۔اختتام محفل پر تمام شرکاءمحفل میں لنگر ِغوثیہ ؓ بھی تقسیم کیا گیا۔

, ,

انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد کے تحت جشن مولائے کائنات کی شان میں کی جانے والی محفل سے چیئرمین سپریم کونسل جناب حماد ریاض گوہر کا خصوصی خطاب

14/4/2017

, ,

انجمن سرفروشان اسلام پاکستان فیصل آباد کے تحت جشن مولا کائنات کے سلسلے میں محفل ترتیب دی گئی

, , ,

حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ جشن ولادت کے حوالے سے مختلف پروگرامات کی میڈیا کوریج

4/4/2018

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam