, ,

آج انجمن سرفروشان ِاسلام لوگوں کے دلوںاور سینوں کے اندرعشق الٰہی اور عشق مصطفی ﷺ پیدا کررہی ہے۔محمدافضال قادری

﴾ماہانہ محفل گیارھویں شریف بیادسالانہ برسی قبلہ ابا جی حضورؒ،وصی محمد قریشی ؒشہید﴿
جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہوتو ڈٹ جاﺅ حسین ؑ کے انکار کی طرح
یہ مقدس گھر تو وہ گھر ہے کہ جہاں پر ملائکہ بھی اجازت لے کر حاضر ہو تے ہیں۔ایک دفعہ امام عالی مقام ؑ قرآن کے اوپر کھڑے ہوجاتے ہیں تو صحابہ ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ حسین ّ قرآن کے اوپر کھڑے ہوگئے تو نبی رحمت ﷺنے فرمایا ”قرآن کے اوپر اگر قرآن کو رکھ دیا جائے تو قرآن کی بے ادبی نہیں ہوتی“۔ یہ خاموش قرآن ہے اور یہ بولتا قرآن ہے ۔میرے آقاﷺامام حسین ؑ کے گلے پہ پیار کیاکرتے تھے، چوما کرتے تھے، بوسے دیتے تھے۔ حضرت بی بی فاطمةالزہراہ سلام اللہ علیہاعرض کرتی ہیں کہ یارسول اللہ ﷺ لوگ تو اپنے بچوں کے رخساروں پر پیار کرتے ہیں،ماتھے کو چومتے ہیں، تو فرمایا کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اسی گلے کوکاٹاجائے گا،اسی گلے پر خنجر چلائے جائیں گے ۔ باوجود اس کے کہ وہ کلمہ بھی پڑھتے تھے ،نمازیں بھی پڑھتے تھے ،روزے بھی رکھتے تھے الغرض سارے کام کرتے تھے ۔اس کے باوجود انہوں نے نواسہ رسول ؓ ﷺ کو شہید کیا۔ایک طرف 72نفوس قدسیہ اور دوسری طرف 22ہزار کے قریب لشکر تھا۔ان ظالموں نے جس ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا تاریخ شاہد ہے اور ان واقعات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں لیکن بار بار تذکرہ کرنے کا ایک خاص مقصدہے کہ آپ کوایک اہم نقطہ کی طرف لے کر جانا ہے کہ جو شبیری تھے اُن کی زبان بھی کلمہ پڑھتی تھی اور دل بھی کلمہ پڑھتے تھے اور جو یزیدی تھے اُن کی صرف زبان کلمہ پڑھتی تھی ،اُن کادل ،اُن کا باطن ،اُنکا اندرغافل تھا،کلمے کے نور سے خالی تھا۔آج انجمن سرفروشان ِاسلام لوگوں کے دلوں کے اندر اور لوگوں کے سینوں کے اندرعشق ِالٰہی اور عشق مصطفی ﷺ پیدا کررہی ہے کہ اُن لوگوں کے دلوں کے اندر اللہ کانام پیدا ہوجائے ۔جب آپ کے دلوں کے اندر اللہ کانام آجائے گا،آپ کے اندر اللہ کا نور آجائے گاتو آپ یقین کریں اُس وقت آپ ایک چیونٹی کو مارنے سے بھی احتراز کریں گے ۔آپ بچیں گے کہ کوئی بھی اللہ کی مخلوق مجھ سے بیزار نہ ہو ۔اللہ کی کسی بھی مخلوق کو مجھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔آپ کا یہ عالم ہو جائے گا۔ حضرات محترم وہ نور کیسے پیداہوتا ہے یہ دل نور بنانے کی مشین ہے ۔اگر آپ اپنے دل کواللہ اللہ میں لگا لیں گے تو یقین کریں آپ کے اندر نور پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔ بابا بلھے شاہ ؒ فرماتے ہیں کہ
تسبیح کرنا سویو جانے جیہڑاتسبیح کر دا بلھے شاہ ؒدے دل دا منکا اللہ اللہ کردا
ان خیالات کا اظہار محمد افضال قادری نے کیا۔ اُن کا مزید کہنا تھاکہ ہتھ کار وَل تے دل یار وَل ۔آنکھیں دیکھنے کےلئے ،زبان بولنے کےلئے ،ہاتھ پکڑنے کےلئے ،پاﺅں چلنے کےلئے الغرض 18ہزار مخلوقات اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنائی ہیں ۔چھ ہزار خشکی میں ،چھ ہزار پانی میں اور چھ ہزار ہوائی اور فضائی ،تمام مخلوقات کا انسان کو سردار بنا کر تمام فرشتوں سے سجدہ کروا کر اُس انسان کو دنیا میں بھیج دیااور جب انسان گارے اورمٹی کے درمیان تھا تو فرشتے کہنے لگے کہ مولا اس کو کیوں بنا رہاہے؟ یہ دنیا میں جاکر دنگا فساد کریں گے لیکن اللہ نے فرمایا کہ جومیں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔ کوئی تو بات تھی انسان کے اند رجو صرف اللہ جانتا تھاوہ یہی بات ہے کہ بندے کا یہ جو دل ہے یہ جب ایک مرتبہ دھڑکتا ہے توساڑھے تین کروڑ مرتبہ اُس کو اللہ کا ذکر کرنے کا اجر مل جاتاہے ۔اربوں ،کھربوں جرثومے ہیں ،وائٹ سیل ،ریڈ سیل،جب یہ دل اللہ اللہ کرتا ہے تو وہ بھی اللہ کانام لیتے ہیں توپھر یقین کریں فرشتے بھی حیران رہ جاتے ہیں ۔اس بندے کی عبادت اس قدر پرواز کرتی ہے کہ یہ اللہ کے عرش کو ہلا کر رکھ دیتی ہے تو اللہ کے مقدس فرشتے عرض کرتے ہیں کہ مولا !کیاہوا آج تیرے عرش نے ہلنا شروع کردیا تو اللہ کو اپنے بندے پر فخر ہو تا ہے اور اللہ فرماتا ہے کہ فرشتو یاد کرو وہ وقت کہ جب تم نے انکار سجدہ کیا تھا ،آج میرا وہ بندہ سو رہاہے لیکن اُس کا دل اللہ اللہ کر رہاہے اس وجہ سے میرا یہ عرش جنبش میں ہے ۔اس کے بعد نئے ساتھیوں کو اجازت ذکر قلب مستقل ممبر سپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے دی۔ نقیب محفل جناب محمد افضال قادری نے لوگوں کو ذکر کا طریقہ بتایا۔
نقیب محفل جناب محمد افضال قادری نے سرکار شاہ صاحب کی ذاکرین پر کرم نوازیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکار شاہ صاحب نے ہمیں مرید نہیں پیر بنایا ہے لیکن اس کا دارومدار ہماری مرشد پاک کی تعلیمات پر عمل سے مشروط ہے کیونکہ جو اپنے روحانی اکابرین کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہیں اُن پر خصو صی رحم و کرم کے معاملات ہوتے ہیں ۔یوں تو سرکار شاہ صاحب کی بے شمار کرامات ہیں لیکن حال ہی میں دس محرم کو فیصل آباد کے سینئر ساتھی جناب محمد صدیق صداقت کو فالج ہوگیا تو اُن کے بھائی و دیگرسرفروش ساتھی اُن کو در ِمرشد پاک المرکز روحانی کوٹری شریف ،حیدرآبادپرروحانی فیض کے حصول کےلئے لے گئے تو قبلہ مرشد پاک حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی خصوصی نظر کرم کے طفیل وہ اپنے پاﺅں پر چل کر صحت یاب ہو کر واپس آئے جس پر انہوں نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
اس خصوصی موقع پر والد گرامی قدر مرشد برحق حضرت سیدنا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی عزت مآب جناب حضرت فضل حسین گوھر شاھی (قبلہ اباجی حضور)،محمد عارف میمن ؒ،شہید وصی محمد قریشیؒ(تاریخ شہادت 19محرم الحرام 2011بروز جمعرات صبح سات بجے )اورشہدائے دادن شاہ ؒسمیت دیگر شہداءکوخراج عقیدت و محبت پیش کیاگیاکہ جنہوں نے اس مشن عظیم کےلئے اپنی زندگیوں کو وقف کر رکھا تھا۔ اللہ پاک اُن کے درجات میں مزید بلندیاں عطاءفرمائے اورہمیں بھی اُن کی طرح اس مشن برحق میں بے لوث ہو کر خدمت کی توفیق عطاءفرمائے ،آمین۔
محفل پاک کاباقائدہ آغاز مغرب کی نماز کی باجماعت ادائیگی کے بعد کیا گیا ۔مناجات کے بعد خصوصی دعا جناب ماسٹر لیاقت علی قادری نے کروائی ۔اس روحانی و وجدانی محفل پاک میں حمد و نعت ،منقبت غوثیہ ؓ،منقبت امام عالی مقام اور قصیدہ مرشد پاک کی سعادت جناب محمد عثمان(کالاپہاڑ)محمد عثمان (بلوچوالا) ،محمد احتشام گوھر، محمد نعمان، میاں عبدالمنان قادری ،ابرارگوھر(جھنگ)،محمد فیصل (جھنگ)و دیگر نے حاصل کی ۔۔جناب عبدالرزاق قادری (سمندری)نے حلقہ ذکر ترتیب دیا ۔مستقل ممبرسپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے اختتامی دعا کروائی ۔شہدائے کربلا ،شہدائے دادن شاہ ؒ،شہدائے انجمن ،شہدائے پاک فوج اور دیگر امت مرحومہ کی بلندی درجات کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اللہ تعالیٰ وہ وقت جلد لائے جب دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہا ں اور ناں میں ہوں ،آمین۔اختتام محفل پر لنگر غوثیہ سے تمام شرکاءمحفل کی تواضع کی گئی ۔

, ,

شہدا کربلا کے سلسلے میں سید اظہر حسین شاہ بخاری کے گھر پر محفل میلاد

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام پاکستان فیصل آباد کے تحت بسلسلہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے محفل نعت و ذکر الہی کی پنجاب رابطہ کمیٹی کے انچارج سید اطہر حسین شاہ بخاری کے گھر پر منعقد کی گئی محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا حمد باری تعالیٰ اور نعت شریف پیش کی گئی بارگاہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں منقبت پیش کی گئی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ھے کہ جس نے حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بغض رکھا اس نے آج مجھ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بغض رکھا اور جس حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے مجھ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی ۔امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حق اور سچ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر میں محفل ذکر الٰہی وصلاۃ وسلام اور دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی سچ کے راستے پر چلنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

, ,

مرشدبرحق کے طفیل ہم سرفروشوںکو واقعہ کربلا کی حقیقت سے صحیح معنوں میں آگاہی حاصل ہوئی ہےعبدالعزیز قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام پاکستان کے زیرتحت آستانہ عالیہ فیصل آباد میں شہداے کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ ؑ کے جان نثارساتھیوں کو خراج عقیدت ومحبت پیش کرنے کیلئے خصوصی محفل پاک کا انعقاد20 ستمبر 2018، 9محرم الحرام بروزجمعرات بعد ازنمازعصرکیا گیا جس کی صدارت سپریم کونسل کے رکن حاجی اویس قادری پنجاب رابطہ کمیٹی کے انچارج سید اطہر حسین بخاری امیر فیصل آباد حاجی سلیم قادری صاحب اور ان کی کابینہ و سرفروشوں ذاکرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس میں نقابت کے فرائض عبدالعزیز قادری نے سرانجام دیئے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں مرشد پاک نے بارگاہ نبوی ﷺ میں پہنچایا ہے اور مرشد برحق کے طفیل ہم سرفروشوں کو واقعہ کربلا کی حقیقت سے صحیح معنوں میں آگاہی حاصل ہوئی ہے اس لئے ہمیں اس عظیم قربانی کو سمجھتے ہوئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اس مشن برحق کو عوام الناس تک پہنچانے کیلئے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ تاکہ کل مرشد پاک کی بارگاہ میں سرخروئی حاصل ہو سکے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ سرکار شاہ صاحب نے ہمارے اندراسم ذات اللہ کی بوٹی لگائی ہے اور ہمیں آخری امام زمانہ کی اصلی پہچان کروائی ہے اور کوئی بھی جس نے کسی بھی وسیلہ سے اپنے باطن کو روشن و منور کر لیا وہ امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی سپاہ میں شامل ہو گا۔ اس لئے ہم پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم سرفروش مرشد پاک کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے قول و فعل ،زبان و دل سے ایک ہوجائیں جو کہ اسلام کی بنیاد بھی ہے تاکہ عوام الناس ہمارے حسن اخلاق، پیارومحبت، بے مثال اخوت و یگانگت سے متاثر ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ واقعی یہ کسی عظیم ہستی سے منسلک ہیں کہ جن کی صحبت سے ان سرفروشوں کے اندر یہ روحانی انقلاب برپا ہوا ہے۔
اس محفل پاک میں شہدائے کربلا کی بارگاہ میں سلام عقیدت و محبت پیش کیاگیا اورنئے ساتھیوں کو اجازت ذکر قلب مستقل ممبر سپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے دی۔

, ,

شہبازقادری صاحب کے گھر پر شہداے کربلا کے یاد میں نعت و ذکر الٰہی

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام فیصل آباد کے تحت شہداے کربلا کے یاد میں نعت و ذکر الٰہی کی محفل محترم جناب شہبازقادری صاحب کے گھرپر منعقد کی گئی جس کی صدارت چیئرمین سپریم کونسل کے رکن حاجی اویس صاحب نےکی اس موقع پر فیصل آباد کے امیر جناب حاجی سلیم صاحب اورسرفروشوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم   سے کیا گیا اس کے بعد آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں عقیدت کے گلدستے پیش کئے گئے مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت پیش کی گئی محفل کے آخر میں صلاۃ و سلام ذکر الٰہی کی محفل اور دعا کی گئی اللہ تبارک و تعالیٰ ان پاک ہستیوں کے ذریعے ہمیں حق اور سچ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

, ,

مرکزی مشیرنشرواشاعت جناب غلام فرید قادری کے گھر پرشہدائے کربلا کے سلسلے میں محفل نعت ذکر الٰہی

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام پاکستان فیصل آباد کے تحت شہدائے کربلا کے سلسلے میں محفل نعت ذکر الٰہی کی محفل نائب مرکزی مشیرنشرواشاعت جناب غلام فرید صاحب کے گھر پر منعقد کی گئی اس موقع پر امیر فیصل آباد جناب حاجی سلیم صاحب اور ان کی کابینہ اور سرفروشوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔۔

, ,

محفل نعت و ذکر الٰہی بسلسلہ عرس مبارک حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام پاکستان فیصل آباد کے تحت محفل نعت و ذکر الٰہی بسلسلہ حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے محفل کا انعقاد فیصل آباد آستانے پر ہوا جس کی صدارت سپریم کونسل کے رکن حاجی اویس قادری صاحب نے کی ۔ اس پروگراممیں امیرفیصل آبادجناب حاجی سلیم قادری اور سرفروشوں کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی، محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا حمد باری تعالیٰ اور آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعتوں کی گلدستے پیش کئے گئے اور محفل کے آخر میں  ذکر الٰہی کی محفل منعقد کی گئی اور تمام شہدائے کربلا کے لیے خصوصی دعا کی گئی، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں ان پاک ہستیوں کے راستے پر چلنے کی ہمت اور طاقت اور توفیق عطا فرمائے آمین

,

ناموس رسالت ﷺپر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے۔صاحبزادہ حماد ریاض گوھر

, ,

حضور پاک ﷺکی محبت اصل ایمان ہے ۔ محمد شفیق قادری


محمدافضال قادری نے محفل گیارھویں شریف میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے پیارے حبیبﷺکے بارے میں فرماتا ہے کہ ہم نے آپ ﷺکے ذکر کو آپ کےلئے بلند فرمادیا ، تو جس کے ذکر کو خود خالق کائنات بلند کردے تو پھر اُن کے ذکرکوکوئی کم نہیں کر سکتا۔ہم نے آپ ﷺکو تمام جہانوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ جب مکہ فتح ہوا ،کفار مکہ گھروں میں چھپ گئے کہ اب ہماری خیر نہیں ۔جب آقا علیہ السلام تشریف لائے تو آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان کر دیا۔وہ کفار میرے آقاﷺکے اخلاق سے متاثرہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تو حضرات محترم ! ذوالحج کا مہینہ ہے اور حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ کی شہادت بھی 18ذوالحج کو ہوئی ۔تاریخ شاہد ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قربانی قبول کرتے ہوئے جنت سے مینڈھابھیجااور وہ قربان ہو گیا۔ یہ قربانی ہمیں درس دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو،اپنے جذبات کواللہ کی راہ میں قربان کریں۔اللہ کی بارگاہ میں گوشت اور خون نہیں جاتا بلکہ بندے کی نیت اور اخلاص جاتا ہے ۔ جذبہ جاتا ہے کہ اس نے میری راہ میں قربانی کس نیت سے کی ؟
انہوں نے مزید کہاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کو بنانے والے ہیں اورحضرت امام حسین علیہ السلام وشہداءکربلا اسلام کو بچانے والے ہیں ۔اسلامی سال کاآغاز بھی قربانی سے ہوتا ہے اور اسلامی سال کااختتام بھی قربانی سے ہوتا ہے یعنی پہلا مہینہ محرم الحرام اور آخری مہینہ ذوالحج۔ یہ کیساحسن امتزاج ہے کہ ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور آج ہمیں قربانی دینی پڑے گی اپنے جذبات کی ،حرص و حوس کی ،تکبرکی ،انانیت کی اورغرورکی !آج ہمارے اندر جو بت پل رہے ہیں اُن کو پاش پاش کرکے اللہ کی بارگاہ میں جھکنا پڑے گا۔جسم تو جھکتا ہے لیکن دل نہیں جھکتا ،دِل کو جھکانا پڑے گا۔اللہ عبادت سے نہیں ملتا بلکہ دل سے ملتا ہے ۔حضرات محترم! جب ہم دل سے اللہ کی عبادت کریں گے ، اللہ کو یاد کریں گے ،جب ہم سجدہ کریں گے ،ہمارا سَرتو جھکتا ہے لیکن جب ہمارادل جھکتا ہے تو اللہ کا عرش بھی ہلتا ہے ۔فرشتے عرض کرتے ہیں مولا!آج تیرا عرش ہل رہاہے ۔اس کی وجہ کیاہے؟ تو اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو!وہ وقت یادکرو جب تم نے انکار سجدہ کیاتھا۔آج میراوہ بندہ سو رہاہے لیکن اُس کادل میرا ذکر کررہاہے جس کی وجہ سے میرا عرش جنبش میں آگیا۔اور جب ہم نعت پڑھتے ہیں تو اصل میں پڑھنے والا اگر دل کی گہرائیوں سے نعت شریف پڑھے تو روح تک میں سرائیت کر جاتی ہے ۔اللہ ہمیں زبان کے ساتھ ساتھ دل سے بھی نعت پڑھنے کی توفیق دے تاکہ صحیح معنوں میں ہم بارگاہ محبوب ِدو جہاں ﷺمیں مقبول و منظور ہو سکیں۔
سینئررہنماجناب محمد شفیق قادری صاحب کا کہنا تھاکہ حضور پاک ﷺکی محبت اصل ایمان ہے ۔حضور نبی اکرم ﷺصحابہ اکرام کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہیں ۔دربار رسالت ﷺلگاہواہے ۔صحابہ حضور ﷺکے گرد ایسے جمع ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے۔ حضور پاک ﷺ کی آنکھوں میں اچانک آنسو آگئے ۔صحابہ اکرام بڑے پشیمان ہوتے ہیں کہ ہم سے نہ جانے ایسی کونسی خطا سرزد ہو گئی ہےکون سے ایسے الفاظ ادا ہوگئے کہ جس سے حضور ﷺکی ذات پاک کو دکھ پہنچا اور اُس دکھ کی وجہ سے حضور ﷺکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔عرض کی یارسول اللہ ﷺ!آقا کیا معاملہ ہوا ہے ؟ آپ ﷺکی آنکھوں میں یہ آنسو کیسے؟حضور ﷺفرماتے ہیں ”اے میرے صحابہ ؓ !میں (محمدﷺ)اُن کویاد کر کے رویا ہوں جو تمہارے بعد ہوں گے ۔انہوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا ۔وہ مجھ سے اتنی ہی محبت کریں گے جتنی تم کرتے ہو!“ایمان والے حضورﷺ سے سچی محبت کرتے ہیں اور اِس محبت کی خاطر اپنی جان بھی قربان کرنے کےلئے تیا رہو تے ہیں ۔حضور ﷺکی گستاخی کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید

“یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں کبھی روح ِمحمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو”
حضور ﷺکی محبت اصل ایمان ہے ۔ یہ شیر سویا ہواہے ۔اِسے سویا رہنے دو۔اُٹھ گیا تواے گستاخان ِرسول! تجھے چیڑ پھاڑ کر رکھ دے گا۔ نا اُٹھاﺅ اِن کو یہ اُٹھ گئے تو پھر کچھ نہیں دیکھیں گے ۔اپنے نبی ﷺکی عظمت پر اپنی جان بھی قربان کر دیں گے ۔اِس لئے کہ اُن کے دلوں میں حضورﷺکی محبت ہے اور اصل ایمان ہی یہی ہے۔ ہماری محبت پہ آنچ آئے یہ ہم گوارانہیں کر سکتے ۔ حضور سے محبت کاتقاضایہ ہے کہ اُن کاجتنا ذکرکیا جائے ،جتنا ذکر کیا جائے اُتنا ہی کم ہے ۔
محمد شفیق قادری کا مزید کہنا تھا کہ انجمن سرفروشان ِاسلام (رجسٹرڈ)پاکستان کے پلیٹ فارم پہ نعت رسول ﷺبھی ہوتی ہے ،غوث پاک ؓکا ذکر بھی ہوتا ہے ۔دیگر اولیاءاکرام کے اذکاراور اُن کی تعلیمات سے روح کو منور کیا جاتا ہے ۔ ابھی پچھلے دنوں اتوار،پیر ،منگل بابابلھے شاہ ؒ کا عرس تھا۔انہوں نے بلایا ۔میری بھی حاضری ہو گئی ۔بابا جی کی کیابات ہے اوراُنکے کلام میں کیا کمال ہے ؟ فرماتے ہیں کہ
الف اللہ دل رتہ میرامینوں ب دی خبر نہ کائی ب پڑھیاں کجھ سمجھ نہ آوے الف دی لذت آئی
ع غ دا فرق ناں جاناں ایہہ گل الف سمجھائی بلھےا!قول الف دے پورے جیہڑے دل دی کرن صفائی
فرماتے ہیں
جیسی صورت یہ دی ویسی صور ت غ اِک نقطے دا فرق ہے پُلی پھرے کونین
سرکار مرشد پاک حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ
یوں تو اللہ ھو ہے جابجامگر اک نقطے میں بات ہوتی ہے مل جائے گر یہ نقطہ پھر نور کی برسات ہوتی ہے
اِسی نقطے کی تلاش میں طالبوں کی عمر برباد ہوتی ہے خداکی قسم اِسی نقطے سے مجبور خداکی ذات ہوتی ہے ۔
مجبوری دو طرح کی ہوتی ہے ۔ایک مجبوری کمزوری کی علامت ہوتی ہے اور ایک مجبوری محبت کی علامت ہوتی ہے ۔بچہ جب روتاہے تو ماں اُسے دودھ پلاتی ہے ۔یہ کمزوری کی نہیں یہ محبت کی علامت ہے ۔ ماں مجبور ہو جاتی ہے ۔بچے کو چپ کرانے کےلئے ،جب بچہ تڑپتا ہے ،روتا ہے اُس کی بھوک مٹانے کےلئے ماں مجبور ہو جاتی ہے ۔اُ سکو دودھ پلاتی ہے ۔اور جب بندہ روتا ہے ۔اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑاتا ہے ،حضور نبی اکرم ﷺ کاوسیلہ پیش کرتا ہے اور جب کسی گوھر شاھی کا وسیلہ پیش کرتا ہے تو اللہ بھی مجبور ہوجاتاہے ۔بابابلھے شاہ ؒفرماتے ہیں کہ
اک نقطے وچ گل مکدی اے !!!
پھڑ نقطہ چھوڑ حساباں نوں چھڈ دوزخ گورعذاباں نوں
کربند کفردیاں باباں نوں کر صاف دلے دیاں خواباں نوں
گل ایسے گھر وچ رُکدی اے ایس نقطے وچ گل مکدی اے
وہ نقطہ کیا ہے؟فرماتے ہیں۔
اِکو الف پڑھو چھٹکارااے ایس الف دا نقطہ نیارا اے
اِکو الفوں دوتن چار ہوئے پھر لکھ کروڑ ہزار ہوئے
پھر ایتھوں با شمار ہوئے ایس الف دانقطہ نیارا اے ،اکو الف پڑھو چھٹکارااے
جب اللہ والے ،بزر گ لوگ لفظ الف کہتے ہیں تو اس کا مطلب اللہ ہو تا ہے ۔
سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ
الف اللہ چنبھے دی بوٹی مرشد من میرے وچ لائی ھو نفی اثبات دا پانی ملیاہررگ ہر جائی ھو
اندر بوٹی مشک مچایا جاں پھلاں تے آئی ھو جیوے مرشد کامل باھوجیں اے بوٹی لائی ھو
یہ بوٹی کون لگاتا ہے ؟یہ کامل مرشد لگاتے ہیں اور آج لاکھوں ذاکر قلبی موجود ہیں تو یہ بھی کسی کامل کی بوٹی لگائی ہوئی ہے ۔ یہ بھی مرشد کریم مرشد کامل حضرت سیدناریاض احمد گوھر شاھی مدظلہ العالی کی لگائی ہوئی ہے ۔جن کے سینے میں جو دل پہلے خالی ٹک ٹک کرتے تھے ،صرف اُن کواپنی دھڑکن محسوس ہوتی تھی،اَب اُن کی ٹک ٹک اللہ ہومیں تبدیل ہوچکی ہے ۔تو عزیزان من ،آزمائیں ،تجربہ کریں ۔تجربے کادور ہے تجربہ کر کے دیکھ لیں،دل کی دھڑکن اللہ اللہ کرتی ہے یا نہیں ۔دل نے اللہ اللہ کیا تو اس لائن میں لگ جانا نہیں تو آپ اپنے گھر ہم اپنے گھر۔ تجربہ کرنے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا ،کچھ بھی آپ کا ضائع نہیں ہوگا۔جب آپ اللہ اللہ کریں گے تو اُس کاثواب تو آپ کو مل ہی جائے گا۔اس کے بعد تمام شرکاءمحفل کواجازت ذکر قلب مستقل ممبر سپریم کونسل جناب حاجی محمد اویس قادری نے دی اوراس کے بعد ذکرکا طریقہ بتایا۔
اس نورانی ،وجدانی محفل میں نقابت کے فرائض محمد افضال قادری نے سرانجام دئیے۔ بعد از نماز ِمغرب جناب حاجی محمد اصغر قادری نے مناجات غوث الوراءؓ کا نذرانہ پیش کیا۔خصوصی دعا مرشد  جناب وحید انور قادری نائب مرکزی امیر نے فرمائی، حمد و نعت ومناقب درشان غوث الوراء،مولاعلی مشکل کشاء اورمرشد پاک کے حضور قصیدہ کی سعادت باالترتیب محمد بشیر قادری ،محمداحتشام گوھر ،بشیراحمد قادری(رڑکا)،محمد عثمان (بلوچ والا)،محمد رفیق چشتی (گولڈمیڈلسٹ محدث اعظم پاکستان)،عبدالعزیز قادری،زوہیب الحسنین (جھمرہ)اورمحمد حسن قادری نے حاصل کی ۔حلقہ ذکر ترتیب دیا گیااوردرودسلام کے بعد دعائے خیروبرکت، مرحومین کی مغفرت، بیماروں کی شفایابی اوروطن عزیز پاکستان کی سلامتی و استحقام کےلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اختتام محفل پر تمام شرکاءمحفل کی لنگر سے تواضع کی گئی ۔

, ,

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ صاحبزادہ حماد ریاض

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam