تریاق قلب رکھا جس نے بھی صبر اس کا مقام انتہا ہوتا ہے

#تریاق_قلب رکھا جس نے بھی صبر اس کا مقام انتہا ہوتا ہے کہ نہیں ہے جن کا آسرا کوئی ان کا خدا ہوتا ہے ہوا گر برباد راہ حق میں وقتِ جوانی وہی ہے بایزیدؒ جو پُتلا وفا ہوتا ہے مارا گر ہوس و شہوت کو رہ کے دنیا میں وہی ہے طالع قسمت جو اک دن باخدا ہوتا ہے کی گریہ زاری گنہگار نے کسی وقت پشیمانی کبھی نہ کبھی وہ بھی کعبے میں سجدہ گراں ہوتا ہے ہوا گناہ سرزد غلبہ نفس سے اگر ہے وہ قابلِ بخشش جب آدمی فنا ہوتا ہے مگر نہیں ہے ہرگز وہ عابد لائق جنت جس میں غیبت بغض یا کِبر و اَنا ہوتا ہے ہوا تھا ابلیس بھی ملعون اسی کِبر و اَنا سے دشمن ہے وہ ناسمجھی میں بندہ اس کی رضا ہوتا ہے

حقیقی تعلیم ۔ تحریرحضرت گوہر شاہی

( حقیقی تعلیم )

ہرشہرہرعلاقےاورہرگھرمیں اہل دل موجود ہیں ہم ان اہل دل لوگوں کو غفلت و دنیا پرستی سے نکال کر دل کی درستگی کی تعلیم دے رہے ہیں ہمیں افسوس ہے کہ حضور پاکﷺ کےدین میں بگاڑ پیدا ہوریا ہے لوگوں کے دل جو بیت اللہ، عرش اللہ بن سکتے ہیں وہ دل برباد ہورہے ہیں امت مصطفیﷺحقیقی علم سے بے بہرہ ہوکر صرف ظاہری اور کتابی علوم میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اگر حقیقی علم اور حقیقی عبادے کی جانب رجوع کرنا چاہتے ہو تو آؤ اور حقیقت کو سمجھو حضور پاکﷺ کے زمانے سے دو علم اور دو عبادات رائج رہی ہیں۔ ایک زبانی علم اور ظاہری علم و عبادت دوسرے باطنی علم اور باطنی عبادت حضور پاکؐ کے دور میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم و عبادت کو سب کچھ جانا اور قرآنی تعلیم کو ہی صرف معیار ہدایت جانتے ہوئے حضور پاکؐ کی صحبت اور توجہ کو اہمیت نہ دی وہ لوگ منافق اور خوارج ہوئے دین میں فساد پھیلاتے ہی رہے علاوہ ازیں جن لوگوں نے حضور پاکﷺ کی ذات کو مرکز ایمان تصور کیا اور زبانی علم و عبادت کے ساتھ حضور پاکﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر دل کی صفائی کا علم اور دل کی عبادت کا طریقہ بھی حاصل کیا وہ لوگ صحابی رسول اللہﷺ کے منصب پر فائز ہوئے اور ان کے ذریعے دین کو فروغ حاصل ہوا اس علم کو باطنی علم اورباطنی طریقت کا علم کہا جاتا ہے، یہی علم حقیقی اور نفع مند ہے۔ قرآن پاک میں اس علم کے اشارے موجودہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام کو علم لدنی حاصل تھا اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے تو اپنے رسولوں کو علم غیب عطا فرماتا رہتا ہے۔ اس طرح حدیث شریف میں بھی اس علم کے اشارے ملتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضور پاکﷺ سے دو علم عطا ہوئے ایک تمہیں بتا دیا دوسرا بتائیں تو تم ہمیں قتل کردو۔ (بحوالہ اسرار حقیقی) حضور پاکﷺ نے فرمایا ہمیں اللہ تعالیٰ سے تین علم عطا ہوئے ایک عوام کے لئے، ایک خواص کے لئے، اور ایک صرف ہماری ذات کے لئے۔ امت مصطفیﷺ کے اولیاء کرامؒ کے اقوال و واقعات سے بھی علم ظاہر کا فرق ثابت ہوتا رہا ہے حضرت ابراھیم بن ادھمؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر بار اپنا دیدار کرایا اور ہر مرتبہ میں نے سو سے زائد مسئلے سیکھے لیکن ان میں سے صرف چار مسئلے ہی لوگوں کو بتائے تو وہ بھی لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا۔

حضرت مولانا رومؒ اپنے وقت کے بڑے عالم تھے ایک روز وہ ااپنے مکتبہ میں بیٹھے تھے کہ ایک درویش حضرت شمس تبریزیؒ مکتب میں آئے اور کتابوں کی جانب اشارہ کرکے فرمانے لگے کہ یہ کیا ہے۔ مولانا رومؒ نے کہا یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے۔ حضرت شمس تبریزیؒ نے ایک قلمی کتاب اٹھاکر پانی میں پھینک دی، مولانا رومؒ بڑے پریشان ہوئے حضرت شمس تبریزیؒ نے پانی میں سے کتاب کو خشک حالت میں نکال لیا۔ مولانارومؒ نے حیرت سے معلوم کیا یہ کیا ہے؟ حضرت شمس تبریزیؒ نے فرمایا یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے۔ ان حوالوں سے علم باطن کی اہمیت اور حقانیت واضح ہوتی ہے لیکن امت مصطفی ﷺ صرف کتابی اور ظاہری علم میں پھنس کر باطن کی حقیقی تعلیم سے دور ہوگئی ہے جس کی بنا پر امت انتشار اور تفرقہ کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

کتاب تحفتٰہ المجالس : P65

نماز حقیقت اور نماز صورت میں فرق ۔ تحریرحضرت گوہر شاہی

( نماز حقیقت اور نماز صورت میں فرق )

نماز صورت کا تعلق زبان سے ہے ۔بہتر72فرقے والے یہی نماز پڑھتے ہیں ۔خوارج بھی،منافق بھی اور جن پرعلمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ دیا وہ قادیانی بھی یہی نماز پڑھتے ہیں۔حتیٰ کہ کافر جاسوس بھی ایسی نماز پڑھ پڑھا کر چلے گئے۔حضور پاک ﷺ کے زمانے میں ایک پری نے شیطان کو بھی نماز پڑھتے دیکھا تھا۔اگر ایسی نماز جنت کی کنجی ہے تو پھر سارے ہی جنتی ہوئے۔جبکہ حدیث شریف میں ہے کہ ” ایک فرقہ صحیح اور جنتی ہو گا۔“

نماز حقیقت کیا ہے ۔اس کا ملنا بہت مشکل ہے۔اور اس کو صرف اہل دل پا سکتے ہیں۔نماز حقیقت کیلئے تین(3) شرطیں ہیں۔ایک کی بھی کمی سے نماز نا مکمل ہے۔

اول: زبان اقرار کرے زبان سے ادائیگی ہو کیونکہ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی۔

دوئم: قلب تصدیق کرے یعنی زبا ن کے ساتھ ساتھ قلب بھی نماز پڑھے یا صرف دوران نماز قلب اللہ اللہ کرتا رہے کیونکہ منافقوں کے قلب تصدیق نہیں کرتے۔دوران نماز قلب اللہ اللہ تب کرے گا جب دل کی ہر دھڑکن کو اللہ اللہ میں تبدیل کر لیا جائے جسے ذاکر قلبی کہتے ہیں۔

سوئم: جسم بھی عمل کرے یعنی نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ رکوع و سجود کرے کیونکہ فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے نما ز میں ایک اور کڑی شرط ہے کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہوں یا اللہ ہم کو دیکھ رہا ہو ۔ظاہر ہے ہم اللہ کو نہیں دیکھ رہے اور اللہ بھی ہمیں نہیں دیکھتا کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ
ان اللہ لا ینظر الی صور کم ولا ینظر الی اعمالکم ولکن ینظر الی قلوبکم و نیا تکم( بحوالہ نور الہدیٰ صفحہ 60)
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اورنہ تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے وہ تو تمہارے قلبوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے۔“ بے شک ہمارے اعمال صالح ہیں۔ لیکن جس قلب پر اللہ کی نظر پڑتی ہے وہ تو سیاہ ہے
لوگوں نے دیکھا نمازی ہے لیکن اللہ نے قلب سیاہ کی وجہ سے نہیں دیکھا تو یہ نماز دکھاوا بن گئی جس کیلئے حکم الٰہی ہے کہ
ترجمہ:۔ ان نمازیوں کیلئے تباہی ہے جو نماز حقیقت سے بے خبر ہیں اور ان کی نماز دکھاوا ہے (سورة الماعون آیت 6-5-4)

زبان کا تصرف عالم نا سوت میں ہے ۔بی بی سی لندن سے آواز پاکستان بلکہ اس سے بھی دور پہنچی ہے زیادہ زبانی عبادت سے زبان میں شیرینی اور اثر آجاتا ہے۔ ا س کی تقریروں اور وعظوں پر دنیا عش عش کرتی ہے۔بہت زیادہ عبادت اور ورد و وظائف سے ایک قسم کی ولایت مل جاتی ہے جس کا تعلق مخلوق اور اس کے درمیان ہوتا ہے۔لیکن مرنے کے بعد یہ ولا یت مخلوق میں ہی رہ جاتی ہے اور وہ خالی ہاتھ جاتا ہے۔قلب کا تعلق عرش معلیٰ سے ہے۔جب یہ یہاں گو نجتا ہے تو اس کی آواز عرش معلٰی میں پہنچتی ہے قلب کی زیادہ عبادت سے قلب میں نرمی اور شیرینی پیدا ہو جاتی ہے۔جس پر اللہ تعالیٰ عش عش کرتا ہے۔ قلب کی دائمی عبادت سے دوسری قسم کے ولایت بھی مل جاتی ہے جس کا تعلق خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے اور مرنے کے بعد یہ ولایت ساتھ جاتی ہے اور وہی قلب اس نماز کو عرش تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔اور وہی نماز پھر مومن کی معراج ہے ۔ایسی نماز اگر پورے دن میں دو رکعت بھی میسر آجائے تو پھر بھی بخشش کی امید ہے۔ نماز صورت دن رات پڑھتا رہے تب بھی رب سے دور ہی ہے۔
مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں (نماز حقیقت خاصان خدا کیلئے ہے ۔عام کو بھی اس کے حصول کی کو شش کرنا چاہیے کیوں نہ چین تک جانا پڑے)۔
تبھی تو حدیث میں ہے کہ” دل کی حضوری کے بغیر نماز قابل قبول نہیں۔ “
تشریح:۔لطیفہ ¿ قلب بذات خود عرش معلی پر حا ضر ہو تا ہے یا لطیفئہ قلب کی آواز عرش معلٰی پر حا ضر ہو تی ہے ا ورنمازی زمین پر رکو ع و سجود میں !جیسا کہ معراج میں جب حضور پاک ﷺ حضرت موسیٰؑ کی قبر سے گزرے تو موسیٰؑ قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اورآپ ﷺ جب فوراً عرش پر پہنچے تو دیکھا کہ موسیٰؑ وہاں بھی نماز پڑھ رہے ہیں ۔

پوری کتاب پڑھنے کے لئے لنک پر کلیک کریں

http://asipak.com/wp-content/uploads/2012/11/roshnas.pdf

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam