اقتباسات

حاجی وارث سرکار اور ایک مجذوب ولی کا واقعہ!!!

حاجی وارث سرکار اور ایک مجذوب ولی کا واقعہ!!!

نواسہ غوث اعظم حضرتِ مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ کے دو فرزند تھے اور دونوں ہی ولایت اور فقیری کے عظیم منزل پر تھے اور آپ کے بڑے بیٹےکا نام قیومِ دوران حضرت مولانا شاہ احمد میاں تھا اور چھوٹے بیٹے کا نام حضرت سید محمد عرف سیدو میاں تھا جو خود ایک مادرزات مجزوب تھے اور ۱۷ سال کی عمر میں پردہ کر گئے ۔

بچپن کے دور میں ایک بار سیدو میاں بابا ایک دیوار کے ٹکڑے پر بیٹھ کر فرماتے ہیں کہ، "چل میرے گھوڑے ٹک ٹک”۔یہ کہتے ہی دیوار کھسک کر چلنے لگتی ہیں، جب اس بات کی خبر حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ کو ہوئی تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ، "تم نے درویشی کا راز ابھی سے ہی فاش کر دیا، ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا "

حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ سب کو اکسر بتایا کرتے تھے کہ کوئی سیدو میاں کو پریشان نہ کیا کریں اور نہ ہی خلل پیدا کیا کریں اور کسی بھی حال میں ان کو نہ چھیڑا کریں کیونکہ وہ ہمیشہ وحدانیت میں کھوئے رہتے ہیں

اور مجزوب کو ویسے بھی نہیں چھیڑنا چاہئے کیونکہ ان کی جلالی و جمالی کیفیت لوگوں سے ہمیشہ پوشیدہ ہوتی ہیں

اسی طرح ایک بار حاجی وارث علی شاہ رحمت اللہ علیہ گنج مراداباد تشریف لاتے ہیں تو حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے حضرت سیدو میاں سے ملنے کا ارادہ کرتے ہیں تو حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں بابا فرماتے ہیں، "ارے اس لڑکے کی پاس تم کہاں جاؤگے "لیکن حاجی وارث علی شاہ رحمت اللہ علیہ محبت میں ملنے چل دیتے ہیں اور سلام دعا کے بعد سیدو میاں نے زور سے، "یا الله! "کہا ۔۔۔فوراً حاجی صاحب واپس ہوتے ہوئے بولے کہ، "الحمد للہ! ہمارے بچّے بھی خدا نے ایسے بنائے ہیں، مجھے ایسا معلوم ہوتا جیسے میرا سب کچھ گُم ہو گیا ہو، میرا وہاں رکنا مشکل ہو گیا !” اس بات پر حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ حاجی وارث پاک سے فرماتے ہیں کہ، "ہم اسی لئے تم کو روکتے تھے "

حاجی وارث پاک رحمت اللہ علیہ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ سے ملنے کے لئے دو دفعہ گنج مراداباد آئے -حاجی وارث پاک کے خاص مرید شاہ صاحب وارثی سعید مکرم حسین رحمانی صاحب سے کہتے تھے کہ حاجی وارث علی شاہ رحمت الله عليه فرماتے تھے کہ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی صاحب حضور اکرم صلی الله عليه وسلم سے پونچھے بغیر کسی کو بیت نہیں کرتے تھے اور مولانا شاہ فضل رحمٰں صاحب کا واحد کمال یہ تھا کہ جس کو چاہتے اس مرید کا ہاتھ پکڑ کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیا کرتے تھے اور جسے چاہتے اس کو اسی وقت زیارت رسول کا شرف مل جاتا ۔
موصوم شاہ صاحب وارثی بیان کرتے تھے کہ حافظ پیاری صاحب کہتے تھے کہ ایک بار کسی نے حاجی وارث پاک سے مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی کے بارے میں پوچھا تو حاجی وارث پاک نے فرمایا کہ، "ہم اتنا جانتے ہیں کہ مولانا فضل رحمٰں گنج مرادابادی صاحب سردار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کوئ کام نہیں کرتے اور حدیث کی صحت خود رسولِ پاک سے کر لیتے ہیں، آگے تم خود سوچ لو”
مولوی خلیل الرحمن پیلی بھیتی نے حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی صاحب سے جب وارث علی شاہ قبلہ کی رشتہ داری کو پوچھا تو حضرت مولانا شاہ فضل رحمں بابا نے بڑی مسرت سے فرمایا کہ حاجی وارث پاک ہماری ننیحالی برادری میں آتے ہیں اور حاجی صاحب ہم کو چچا جان کہتے ہیں ۔
اس بزرگانہ محبت کی مثال نہیں ملتی کہ حاجی وارث علی شاہ صاحب نے فرمایا کہ، "جو میرا مرید ہیں وہ اس سے پہلے حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں صاحب کا مرید ہیں "اور حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ، "جو ہمارا مرید ہیں، وہ حاجی وارث پاک کا مرید ہیں "

سید شاہ محمد ابراہیم صاحب سجادہ حاجی صاحب جو تھے وہ حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰں گنج مرادابادی رحمت اللہ علیہ کے بڑے فرزند قیوم دوران حضرت مولانا احمد میاں دادا صاحب کو ماموں کہتے تھے، ان کے بعد جناب کلّن میاں صاحب گدّی پر اس لئے نہیں بیٹھتے تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ جب دیوہ شریف اور گنج مراداباد ایک ہی گھرانے سے ہیں تو دو سجادہ کیسے ہو سکتے ہیں”.اس بات پر حضرت مولانا شاہ دادا احمد میاں رحمت اللہ علیہ دیوے شریف تشریف لے گئے اور فرمایا، "بیٹا ادھر دیوہ شریف کا انتظام تم کرو اُدھر گنج مراداباد شریف کا انتظام ہم کرتے ہیں "پھر کلّن میاں صاحب کو گدّی پر حضرت مولانا شاہ احمد میاں دادا رحمت اللہ علیہ نے بٹھایا اور پگڑی باندھی

کتاب حوالہ :رحمت و نعمت صفحہ ۳۵۱۔۳۵۲۔۳۵۳