, ,

کشف المحجوب میں داتاؒ صاحب فرماتے ہیں کہ دل اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی آماجگاہ ہے۔عبدالعزیز قادری

عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام کے زیر اہتمام امیر فیصل آباد جناب حاجی محمد سلیم قادری صاحب کی زیر صدارت آستانہ عالیہ فیصل آباد میں 26اکتوبر 2018؁ء ماہانہ محفل گیارھویں شریف بیاد حضورغوث الوراء رحمتہ اللہ علیہ اور حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے حوالے سے منعقد کی گئی۔ آج کی اس محفل پاک میں نقابت کے فرائض جناب عبدالعزیز قادری صاحب نے سرانجام دیئے۔اس محفل پاک میں سابقہ ناظم جناب محمد خالدمحمود قادری صاحب نے بھی خصوصی شرکت کی۔ محفل پاک کا باقاعدہ آغاز نمازمغرب کی باجماعت ادا ئیگی کے بعد مناجات سے کیا گیا. مناجات کا نذرانہ جناب حاجی محمد اصغر قادری صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد خصوصی دعا جناب محمد اشرف قادری صاحب نے فرمائی۔ بعد ازاں حمد باری تعالیٰ سے محفل پاک کا باقاعدہ آغاز محمد بشیر قادری صاحب نے کیا۔اس کے بعدبارگاہ رحمتہ العالمین ﷺمیں گلہائے عقیدت و محبت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جناب محمد آفاق گوھر،محمد شہباز، غلام محی الدین وہمنوا(دف کے ساتھ)محمد رضوان قادری(حیدرآباد)
منقبت بحضور سیدنا غوث اعظم جیلانی رحمتہ اللہ علیہ و حضور داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اور قصیدہ مرشد پاک کی سعادت جناب قادری نے حاصل کی اور ننھے ثنا خوان جناب عثمان ریاست صاحب نے بھی بارگاہ مرشدی میں ہدیہ قصیدہ پیش کیا۔ جناب محمد ابرار گوہروہمنوا(جھنگ) نے بھی بارگاہ مولا علی مشکل کشا اور بارگاہ مرشد کریم میں قصیدہ پیش کیا۔ اس کے بعد امیرحلقہ ذکر الٰہی کے فرائض محمد صدیق صداقت صاحب نے سرانجام دیئے۔ ذکر کے بعد درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا اور اختتامی دعا جناب حاجی محمد اویس قادری صاحب نے کروائی۔ مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور تمام بیماروں کی صحتیابی کے لئے بھی خصوصی دعا کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک خداداد پاکستان کی سلامتی امن واستحکام اور خوشحالی و ترقی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس محفل پاک میں نئے ساتھیوں نے بھرپور انداز میں ذاکرین کے ہمراہ شرکت کی اور اجازت ذکر قلب حاصل کی۔
اس موقع پر اپنے خہالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب عبدالعزیز قادری نے کہا کہ
کیوں میری خطاؤں کی طرف دیکھ رہے ہو       ہے جس کو میری لاج وہ لجپال بڑا ہے
ربیع الاول شریف کی آمد آمد ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کا مہینہ ہے۔ الحمدللہ!ہرسال ہم انجمن سرفروشان اسلام کے پلیٹ فارم سے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ربیع الاول شریف مناتے ہیں۔استقبالِ ربیع الاول شریف کے حوالے سے ریلی کا اہتمام کیا جاتا ہے. پرچم لگائے جاتے ہیں جلوس بارہ ربیع الاول کو نکالا جاتا ہے یہ سارے وہ کام ہیں جو ہم اپنی عقیدت اور محبت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن پھر بھی اس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایانِ شان کچھ نہیں کرپاتے۔ اُن کی شان کیسی ہے کہ جناب آمنہ سلام اللہ علیہا آپ فرماتی ہیں کہ جب سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ اللہ نے ستاروں کو زمین کے اتنا قریب کردیا ہے کہ میں نے مکہ کے اندر کھڑے ہوکر قیصروکسریٰ کے محلات کو دیکھ لیا۔ آج اگر کوئی بندہ قمقمے لگاتا ہے، لائٹنگ کرتا ہے تو یہ سنت ہے جو وہ پوری کر رہا ہے۔ اللہ رب العزت جو اپنے محبوب کے شایان شان کام کرنا چاہتا ہے وہ ہم انسان ہونے کے ناطے نہیں کرسکتے۔عرب کے اندر یہ روایت تھی کہ جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا لیکن اس دن جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو میرے اللہ نے کیا کیا کہ کسی کے گھر میں لڑکی پیدا نہیں کی۔ وجہ یہ تھی کہ آج میرا محبوبﷺ اس کائنات میں آنے والا ہے تو کسی گھر کے اندر غم کے آثار نظر نہیں آنے چاہیئیں بلکہ ہر طرف خوشی ہونی چاہیے تو اللہ نے سب کو بیٹے عطا کردیئے۔ اللہ رب العزت کی شان ہے کہ اپنے محبوب کی ولادت کو کس طرح بناتا ہے؟ الحمداللہ اپنے طور پر انسان ہونے کے ناطے سرکار سے محبت ہے۔ مزید والہانہ انداز میں اپنے سینوں میں سرکار کی محبت جانگزیں کرنا چاہتے ہیں۔
عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام آج کیا پیغام دے رہی ہے؟ یہی درس دے رہی ہے کہ لوگواپنے سینوں کے اندرعشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا کرو۔ زبانوں تک محدود نہ رہو جو لوگ زبانوں تک محدود رہتے ہیں وہ کون ہیں؟ اور جن کے سینے بھی عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معمور رہتے ہیں وہ کون ہیں؟ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:۔
کوئی سلمان ؓ، کوئی میثم ؓ،کوئی بوذرؓ نکلے جو بھی نکلے وہ مقدر کے سکندر نکلے
یہ جو اصغرؓ کے لئے مانگ رہا ہے تجھ سے پانی مار دے خاک پہ ٹھوکر تو سمندر نکلے
مال اسلام نے بانٹا تو سارے موجود خون اسلام نے مانگا تو بہتر نکلے
دوستوضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سینے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز ہو جائیں۔ ہمارے دل جوٹک ٹک کر رہے ہیں ان دلوں کے اندر کہیں بیوی بچوں کی، دنیا کی محبت بسی ہوئی ہے یہ دل اللہ رب العزت کے ذکر سے چمک اٹھیں۔ ان دلوں کے اندر اللہ رب العزت کے نام کا نور آجائے۔ انجمن سرفروشان اسلام یہی پیغام آپ کو دے رہی ہے آج ہم غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کی گیارہویں شریف کا ختم دلارہے ہیں۔ حضورغوث پاکؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے مرید دو طرح کے ہیں ایک وہ لوگ جنہوں نے میری ظاہری زندگی میں میرے ہاتھ پر بیعت کی اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد اپنے دلوں کواللہ کے ذکر میں لگا لیا، وہ میرے داخلی مرید ہیں۔
آیئے داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں چلتے ہیں۔ ان کا بھی آج یوم منا رہے ہیں اور عرس کے حوالے سے آج کی محفل پاک ہے۔ پہلے تو آپ کو بتاتا جاؤں کہ میرے پیرومرشد داتاؒصاحب کے حوالے سے کیا ارشاد فرماتے ہیں۔سرکار شاہ صاحب اُس وقت گوجرخان میں موجود تھے، اُس وقت آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ اگر تم لوگوں کو انکی حقیقت کا پتہ چل جائے تو کبھی ان کے مزار سے نہ اٹھو۔ پھر فرماتے ہیں داتاؒ صاحب کی اہمیت عظمت پنجاب کے اندر اس طرح سے ہے کہ جیسے آسمان پر سورج چمک رہا ہے۔
باقی تمام اولیاء اللہ کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلم ہے۔ تما م اولیاء اللہ نے اپنے اپنے ادوار میں دل کی اہمیت پر زور دیا اوردلوں کو اللہ کے ذکر سے روشن و منورکرنے کی تلقین کرتے رہے۔ اپنے اپنے سلسلے کے مطابق ذکرواذکار کرتے رہے تاکہ ظاہر وباطن روشن و منور ہو جائے۔یہی دعوت ذکروفکر آج کے اس مادیت پرستی کے دور میں عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلا م (رجسٹرڈ)دے رہی ہے کہ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن یعنی قلب کو منور کرو۔ دل کی خالی ٹک ٹک کو اللہ اللہ میں لگاؤ۔ جب تمہارایہ دل اللہ کے ذکر سے پاک و صاف ہو جائے گا اورہمہ وقت اللہ اللہ کرنا شروع کر دے گاتو تمہارشمار بھی اُن لوگوں میں ہو جائے گا کہ جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی پاک کلام میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ”میرے کچھ خاص بندے ہیں جن کو نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے اور نہ فروخت“ اللہ تعالیٰ ایک اورارشاد فرماتا ہے کہ ”کچھ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پر میں نے ایمان لکھ دیا ہے“ ایمان لکھنے سے مراد اُس اللہ کا ذاتی نام ”اللہ“ کا دل پر نقش ہو جانا ہے۔ پھر پولیس کی مہر پولیس والا،فوجی کی مہر فوج والا اور دل پراللہ کے نام کی مہر تو اللہ والا کہلائے گا۔ حضرت بابا بلھے شاہ ؒاورحضرت سلطان باھو ؒبھی دل کے ذکر پر بہت ذور دیتے تھے۔سلطان باھو ؒ اپنے پیرومرشد کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے باھواگر تیرا ایک لمحہ بھی اللہ کے ذکر سے غافل گزرے تو اپنے آپ کو مسلمان تصور مت کرنا۔پھر آپ ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کا ذکر اس قدر کیا کہ وہ اللہ خود میرے اندر آگیا۔اللہ اللہ کرتے ھو نظر آیا مجھے ھو میں جب میں گم ہواتو،تو نظر مجھے۔آخر میں ذکر قلب کا طریقہ بھی بتا یا گیا اور تمام شرکاء محفل میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam