d2
d1

الحمداللہ دسمبر 1990 میں عصرِ حاضر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ  بانی و سرپرست عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام رجسٹرڈپاکستان کے چند رفقاء جن میں اُس وقت کے مرکزی صدر محمد عارف میمن (مرحوم) اور مرکزی ناظم وصی محمد قریشی (مرحوم) سمیت کئی اور ساتھیوں کی موجودگی میں حضرت نے مشن کے فروغ کے لئے اور مذہبی اور روحانی ترجمان کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے تنظیم کے ذمہ داران کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔

آپکی ذاتی خواہش اور دلچسپی کو دیکھ کر مرکزی عہدیداران نے فوری فیصلہ کیا کہ جنوری 1991 میں تنظیم کا ترجمان منظرِ عام پر لایا جائے اور حضرت نے اس ترجمان کا نام (صدائے سرفروش) تجویز فرمایا۔مرکزی صدر نے مرکزی ناظم کی نگرانی میں سید ظفر علی کاظمی (مرحوم)، سلطان جاوید(مرحوم) و دیگر افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی، جس نے صحافتی نا تجربہ کاری کے باوجود یکم جنوری 1991 کو پندرہ روزہ صدائے سرفروش کا اجراء پیرومرشد حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالیٰ کے ہاتھوں سے 181/ب ایوب کالونی لطیف آباد نمبر 11 سے دعاؤں کے ساتھ فرمایا۔حضرت نے پندرہ روزہ صدائے سرفروش حیدرآباد کا پہلا شمارہ دیکھ کر نا صرف خوشی کا اظہار فرمایا بلکہ اس کے اجراء کو مستحسن قراردیتے ہوئے ادارہ کے ارکان کو مبارکباد پیش کی۔اس موقع پر پورے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں نمائندے مقرر کئے گئے جو اس تقریب میں شریف ہوئے۔اس موقع پر حضرت کی موجودگی میں مرکزی صدر محمد عارف میمن (مرحوم) نے پندرہ روزہ صدائے سرفروش حیدرآباد کا پبلیشروصی محمد قریشی(مرحوم) جبکہ ایڈیٹر سید ظفر الی کاظمی(مرحوم)اور سرکولیشن مینیجر سلطان جاوید (مرحوم) کو مقرر کیا۔یوں یہ ناتجربہ کار ادارے کے افراد حضرت کی دعاؤں کے سبب رفتہ رفتہ دینی صحافت کے میدان میں اپنا نام پیدا کرنے لگے۔

سال 1998 ادارے کے تحت پندرہ روزہ صدائے سرفروش کی بے پناہ مقبولیت سے خائف ہوکر نام نہاد فرقہ وارانہ مذہبی تنظیم کے مولانا حمادی آف ٹنڈوآدم نے یک بعد دیگر حضرت اور ادارے کے عہدیداران وصی محمد قریشی(مرحوم)، سید ظفر علی کاظمی(مرحوم)، محمد صابر روشن اور محمد زبیر شاہی کے خلاف مسلکی اختلاف کی بنیاد پر 295/abc کے مقدمات قائم کئے، لیکن حضرت کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی تائید سے ادارہ کے پائے استقلال میں لغزش ناآئی اور یوں مخالفین کی سازشیں دم توڑتی چلی گئیں۔سال 2000 میں پندرہ روزہ صدائے سرفروش حیدرآباد سے نکل کر یورپ اور امریکہ میں بھی مقبول ہونے لگا ۔ادارے نے پیرومرشد اور انکی تنظیم کے خلاف مخالفین اور ناعاقیبت اندیش حکمران اور اس وقت کے منفی میڈیاٹرائل کا بڑی خوش اسلوبی سے جواب دیا اور حضرت کے پیغام اور انکے مشن کی صحیح انداز میں انکی خواہش کے مطابق ترجمانی کی۔

2001 میں حضرت کے پردہ فرمانے کے بعد بھی ادارہ کے ذمہ داران نے نامسائدحالات کے باوجود بڑی خوش اسلوبی سے حضرت پیرومرشد کے پیغام کو عام کیا۔اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے اور مرشد کریم کے وسیلے سے ادارہ کی کاوشوں کو درجہ قبولیت عطاء فرمائے اور انہیں مزید حوصلہ عطاء فرمائے ۔۔۔آمین

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam