کتاب ہذا کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

* نام کتاب مینارۂ نور

* مصنف حضرت سیّد نا ریاض احمد گوھر شاھی مدظلّہ العالی

* تعداد ایک ہزار

* چھتیسویں بار نومبر ۲۰۰۳ء

* ناشر سرفروش پبلیکیشنزپاکستان

کمپوزنگ یا پرنٹنگ کی کسی بھی غلطی کیلئے پیشگی معذرت خواہ ہیں
غلطیوں کی نشاندہی کریں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح کی جاسکے

نہ دیکھ نظر عیب سے یہ تصنیف مقام الہامی ہے
پا یا جس نے بھی راز اس سے ملی زندگی دوامی ہے

نوٹ۔ تین شخص اس باطنی نعمت سے محروم رہیں گے
ایک ازلی منافق
دوم جھوٹا کاذب
سوم بے ایمان

تین شخص صرف تنقید و تکرار سے وقت ضائع کریں گے نہ خود کوئی فیض حاصل کر سکیں گے نہ دوسروں کو کرنے دیں گے
ایک عالم بے عمل
دوم مرشد خام نگاہ
سوم فقیر بے شرع

فہرست

نمبر شمار
مضامین
صفحہ
1
عرض حال
5
2
تعارف
6
3
انسان کا ظاہر باطن
9
4
ذکر کیا ہے اور فکر کیا ہے
18
5
مرشد کامل
22
6
فقر کیا ہے
28
7
امام حق اور عالم باعمل
30
8
عمل اکسیر
41
9
لطائف کا تعلق تمام عالموں سے(نقشہ)
45
10
لطائف کے ذکر اور انکے تصور
46
11
خصوصی نوٹ
47
12
عمل تکسیر
48
13
ذکوریت
51
14
آپ کے سوال ہمارے جواب
53
15
ذکر جہر (حمائتی اور مخالف) ایک نظر میں
64

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرض حال

یہ کتاب کئی صد لوگوں کے مشاہدات یعنی مشاہدہ کشف القبور اولیا ٰ ء اللہ ومشاہدہ اشکال قلبی ، نفسی روحی اور مشاہدہ جنات ارواح وغیرہ اور تجربات یعنی ذکر اللہ سے دل میں جنبش آنا لطائف کا اپنے اپنے مقام پر ذکر کرنا اور مراقبہ و کشف ہوجانا اور تحقیقات یعنی پھر ان کا ثبوت قر آن مجید احادیث شریف اور اولیائے عظام کی تصانیف سے مہیا کرنے کے بعد خلق خدا کے فیض اور پہچان کے لئے یہ سلسلہ جاری کیا گیا اس سلسلہ کو عام کرنے کے لئے ایک انجمن ۱۹۸۰ میں تشکیل دی گئی بحمد اللہ خاطر خواہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے، ہر کام کے لئے عمل کی ضرورت ہے اسی کمی کوانجمن سرفروشان اسلام پاکستان نے پورا کیا۔

گوھر شاہی حیدر آباد

1402 ہجری

تعارف

سرکار شاہ صاحب (حضرت سید نا ریاض احمد گوہر شاہی) ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خان میں ڈھوک گوہر شاہ سے تعلق رکھتے ہیں اور سید گوہر علی شاہ کی اولاد میں پانچویں پشت سے ہیں جو آگے چل کر خاندان مغلیہ میں پیوند ہوگئے۔ کیونکہ سید گوہر علی شاہ سادات بخاری ہیں جو کشمیر سری نگر میں رہتے تھے ایک دفعہ کچھ غنڈوں نے ایک مسلمان لڑکی کو اغوا کر لیا، آپ نے تلوار اٹھائی اور سات غنڈوں کو جہنم واصل کردیا۔ انگریز حکومت نے آپ کو گرفتار کرنا چاہا لیکن آپ وطن چھوڑ کر راولپنڈی آگئے اور کچھ عرصہ نالہ لئی کے پاس بیٹھے رہے جب یہاں پر پولیس کا خطرہ ہوا توآپ تحصیل گوجر خان کے ایک جنگل میں بیٹھ گئے اور ریاضت و عبادت شروع کردی۔
کئی سال کے بعد فیض شروع ہوگیا۔ اس جنگل کا رقبہ جو گوجر برادری کے پاس تھا انہوں نے آپ کووقف کردیا۔جو اب ڈھوک گوہر شاہ کے نام سے منسوب ہے آپ نے کشمیری مغل خاندان میں شادی کی بیٹیاں اور بیٹے ہوئے۔ اس لئے سرکار شاہ صاحب کی والدہ سید گوہر علی شاہ کے پوتوں سے ہیں اور والد بابا صاحب کے نواسوں سے ہیں۔ او ر آپ کے دادا مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، بابا صاحب آخری ایام میں کسی ناراضگی کے سبب بکرا منڈی میں گوشہ نشین ہوگئے تھے اور وہیں آپ کا وصال ہوا۔ جہاں اب دربار بنا ہوا ہے۔کہتے ہیں آپ کی گدڑی اور عصا وغیرہ کو وہیں دفنایا گیا اور آپ کے جسم اطہر کو آپ کے آبائی گاؤں لایا گیا اس لئے وہاں بھی آپ کا دربار موجود ہے چونکہ آپ نے کافی عرصہ اسی مقام پر ریاضت و عبادت میں گذارا۔ اس لئے آپ کا زیاد ہ فیض بکرا منڈی کے دربار میں ہے۔ جبکہ ڈھوک گوہر شاہ میں بھی دربار سے فیض جاری ہے۔
قبلہ سرکار شاہ صاحب(حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی ) راولپنڈی میں ایف ۔کیو۔ اسٹیل انڈسٹریز (رجسٹرڈ) کے مالک تھے۔ جہاں سوئی گیس کے چولہے اور بجلی کا سامان بنتا تھا۔۲۰ سال ہی کی عمر میں پیروں فقیروں سے روحانیت کی تلاش میں نکلے۔ لیکن کہیں سے بھی دل کو تسکین نہ ہوئی۔آخر پیروں فقیروں سے بیزار اور مزاروں سے مایوس ہوکر دنیاوی کاروبار میں لگ گئے اور شادی کرلی۔شادی کے بعد آپ کے تین بچے ہوئے جب عمر تقریباً۳۴ سال کے لگ بھگ ہوئی تو حضرت امام بری سرکارؒ سامنے آئے اور کہا کہ بیٹااب تیرا وقت آچکا ہے علوم باطن کے لئے حضرت سخی سلطان باہو ؒ کے دربار پر چلا جا۔ آپ کاروبار ،بیوی بچے اور ماں باپ چھوڑ کر شورکوٹ آئے حضرت سخی سلطان باہو ؒ کی نظر کرم سے آپ کی تصنیف’’ نورالہدی‘‘ آپ کی منزل کا ساتھی بن گئی۔ اور پھر آپ مجاہدہ نفس اور سکون قلب کے لئے سہون تشریف لے گئے۔تین سال سہون کی پہاڑیوں اور لعل باغ میں مجاہدہ کیا اور پھر باطنی حکم کے تحت جامشورو ٹیکسٹ بک بورڈ کے عقب میں چھ ماہ تک جھونپڑی ڈالے بیٹھے رہے۔آخر کار منشاء ایزدی کے تحت مخلوق خدا کو آپ کے وسیلے سے فیض ہونا شروع ہوگیا۔جب زائرین کی زیادتی ہوگئی توآپ لطیف آباد بریلی کالونی منتقل ہوگئے اور فیض اور رشدو ہدایت کا سلسلہ جاری کردیا۔ آپ کے سلسلہ میں یہ فیض عام ہے کہ لوگوں کے قلبوں کا ذکر اللہ سے حرکت میں لانا، لطائف کے ذکر میں یعنی قلبی،روحی سری وغیرہ جاری کرنے کا طریقہ سکھانا۔طالبوں کو کشف القبور اور کشف الحضورؐ تک پہنچانا۔ جو لوگ وظیفوں چلوں سے رجعت،سکر یا حالت جذب میں آگئے ان کو حالت صحو میں لانا،سفلی عاملوں کے عمل کا توڑ اور جنات یا آسیب زدہ مریضوں کا علاج کرنا، الحمد اللہ ہزاروں مرد و زن آپ کی تعلیم سے فیض یافتہ ہوئے۔یعنی ذکر سلطانی کے علاوہ کشف القبور اور کشف الحضورؐ تک پہنچے۔ کئی فارغ التحصیل عالم دین بھی آپ کی نظر سے کشف اور قلب کی منزلیں عبور کر رہے ہیں۔بعض دفعہ دیکھنے میں ایسا بھی آیا ہے کہ آپ نے جب کسی کو اسم ذات کا اذن دیا ۔ اس کا قلب فوراً ذکر اللہ سے جاری ہوگیا۔ بعض کو اپنے دل پر لفظ’’اللہ‘‘ نظر آیا۔ بعض کو محفل غوثیہؒ اور بعض کو محفل حضور ﷺ نصیب ہوگئی۔
انہی وجوہات سے نوجوان طبقہ اس سلسلے میں داخل ہورہا ہے اور اس سلسلے کو برقرار رکھنے اور پھیلا نے کے لئے انجمن سرفروشان اسلام پاکستان وجود میں آئی۔

از
ڈاکٹر عبدالقیوم شیخ

انسان کا ظاہر و باطن

انسان ظاہر میں کیا ہے، اس کی تشریح ضروری نہیں لیکن اس کے اندر کیا ہے۔ اس کے متعلق حضرت مولیٰ علیؓ کا فرمان مبارک ہے۔
دواء ک منک وما تبصر * وداء ک فیک وما تشعر
وتزعم انک جرم صغیر * وفیک انطوی العالم الا اکبر
ترجمہ : (تو اپنی دوا خود ہے مگر تجھے نظر نہیں آتا، تیری بیماری بھی تیرے اندر ہے مگر تجھے خبر نہیں، تو خیال کرتا ہے کہ تیرا بدن ذرا سا ہے حالانکہ تیرے اندر ایک بڑا جہان چھپاہوا ہے)۔ اس جہان کی تحقیقات پیش کی جا رہی ہیں۔
جب ماں کے پیٹ میں نطفہ پڑتا ہے تو روح جمادی پڑتی ہے جو خون کو اکٹھا کرتی ہے ۔یہ روح جمادات یعنی پتھروں وغیرہ میں پائی جاتی ہے جس طرح کچھ خاص قسم کے انسان ہر وقت ذکرِ رحمٰن کرتے ہیں، اسی طرح کچھ خاص قسم کے عقیق ، فیروزہ وغیرہ بھی ہر وقت ذکر سبحان کرتے ہیں۔ جیسے اﷲ تعالیٰ جل مجدہ‘ نے فرمایا۔
سبح ﷲ ما فی السمٰوٰات وما فی الارض وھو العزیز الحکیمo (القرآن)
ترجمہ :اﷲ کی تسبیح کرتے ہیں جو کچھ آسمانو ں اور زمین میں ہے ۔ اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔ (سورۃ حشر آیت 1)
اس کے بعد روح نباتی پڑتی ہے۔ جو خون کو بڑھاتی ہے، روح نباتی یعنی نباتات درختوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ رحمٰن میں ہے!
والنجم والشجر یسجدون o
ترجمہ :ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں (سورۃ رحمٰن آیت 6)
چھ ماہ کے بعد روح حیوانی پڑتی ہے جس کے ذریعہ بچہ پیٹ میں ہلتا جُلتا ہے اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو عالم ارواح سے ایک انسانی روح اس کے جسم میں ڈال دی جاتی ہے اس روح کے ساتھ اس کے معاون بھی ہوتے ہیں جن کو لطائف کہتے ہیں۔ یہی لطائف وسیلہ علم و عقل اور وسیلہ باریابی انوارِ مولیٰ ہیں ورنہ خالی گوشت اور دل حیوانات میں بھی ہوتا ہے۔
حدیث شریف: لا فرق بین الحیوان و الانسان الابالعلم والعقل۔
ترجمہ:حیوان اور انسان میں فرق صرف علم و عقل کا ہے (مشکوٰۃ شریف)
ایک لطیفہ قلب ہے جو گوشت کے لوتھڑے دل کے اوپر بیٹھ جاتا ہے ،یہ لطیفہ محافظ دل اور ذریعہ گزرگاہ انوارِ مولیٰ ہے۔
دوسرا لطیفہ روح ہے ۔ جو سینے کے دائیں جانب ، تیسرا سِرّی، قلب اور اخفیٰ کے درمیان میں ، چوتھا خفی ،روح اور اخفیٰ کے درمیان میں ، پانچواں لطیفہ اخفیٰ، سینے کے درمیان میں ، چھٹا لطیفۂ انّا مقام دماغ میں اور ساتواں لطیفۂ نفس مقام ناف میں مقیم ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر یہ سات لطائف موجو د ہوتے ہیں۔ جس طرح روح نظر نہیں آتی اسی طرح یہ بھی نظر نہیں آتے لیکن باطن میں ان کے الگ الگ ذکر اور الگ الگ مراتب ہیں۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے۔
ان فی جسد آدم مضغتہ فی فوء اد و فی فوء اد قلب و قلب فی الروح و روح فی السر و سر فی خفی و خفی فی انا۔
ترجمہ :انسان کے جسم میں ایک ٹکڑا فوا د ہے اور فواد قلب میں ہے اور قلب روح میں ہے اور روح سِرّی میں ہے اور سِرّی خفی میں ہے اور خفی اَنّا میں ہے
جب لطیفۂ نفس اس جسم میں آتا ہے تو پانچ برائیاں بھی لے آتا ہے اور ان لطائف کے ہمسایہ کردیتاہے۔ قلب کے ساتھ شہوت، روح کے ساتھ غصہ و غضب سری کے ساتھ حرص، خفی کے ساتھ حسد و بخل اور اخفیٰ کے ساتھ تکبر و فخر تاکہ یہ انسان کے باطنی لشکر کو گمراہ کر کے اپنے کنٹرول میں کر سکے۔ ان لطائف میں نفس اور قلب کو فوقیت ہے۔
ان میں سے جو بھی طاقتور ہوتا ہے باقی لطائف اس کے ماتحت ہو جاتے ہیںیعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔انسان کے اندر نفس ا ور قلب کا مقابلہ رہتا ہے۔ نفس کی مدد کے لئے خناس بھی نفس اور قلب کے درمیان موجود ہے خناس کا حوالہ سورۃ الناس میں بھی ملتا ہے۔
اب جب بچہ بڑھتا ہے ظاہری جسم کے لئے خوراک کھاتا ہے اس طرح اس باطنی لشکر کو خوراک کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر بچہ ہنود کا ہے یا نام نہاد مسلمان کا جس کے طور طریقے کا فرانہ ہوں اور بچے کو تربیت بھی ویسی ہی دے جس میں قرآن ، نماز اور ذکرو اذکار کا دخل نہ ہو تو اس بچے کا لطیفۂ نفس قوی ہو جاتا ہے ،اور باقی لطائف بھی نفس کے محتاج ہو کر ناری غذا لیتے ہیں لیکن قلب کا تعلق فرشتوں سے ہے ، کبھی بھی ناری غذا نہیں لیتا حتیٰ کہ چالیس سال تک تو اپنی طاقت سے زندہ رہتا ہے ۔ لیکن پھر بھی نوری غذا نہ ملے تو وہ مر جاتا ہے ۔ اور دل ایک گوشت کا لوتھڑا رہ جاتا ہے۔ خالی گوشت کا لوتھڑا کتوں میں بھی ہے انہی کے لئے اﷲ تعالیٰ جل مجدہ‘ نے فرمایا کہ : ختم اﷲ علی قلوبھم o(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 7) یعنی ان کے قلوب پر اﷲ تعالیٰ نے مہر کر دی ۔ اور پھر ان کے نفس امارہ کا حکم رکھتے ہیں۔ اس نفس امارہ میں کفار ومشرکین ، منافقین ، فاسقین و فاجرین لوگ ہوتے ہیں۔ جب بچے کو کامل والدین نے صحیح تربیت دی تو اس کا نفس کمزور اور قلب طاقتور ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک دن نفس ناری غذا نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتا ہے یا تھک ہار کر قلب سے نو ری غذا حاصل کر کے پاک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسے نفس لوّامہ کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی تشریح یوں ہے۔
لا اقسم بیوم القیمۃ o ولا اقسم بالنفس اللوامۃ o
ترجمہ :خبردار میں قسم کھاتا ہوں روز قیامت کی اور نیز قسم کھاتا ہوں گناہ پر ملامت کرنے والے نفس کی ( سورۃ قیٰمہ آیت نمبر 2-1)
پھر جب اس نفس کا تزکیہ ہوتا رہتا ہے تو وہ لوّامہ سے الہامہ اور الہامہ سے مطمئنہ ہو جاتا ہے۔ بعض بچے جب جوان ہوتے ہیں تو ان میں دونوں حالتیں پائی جاتی ہیں۔ یعنی قلب بھی طاقتور اور نفس بھی طاقتور۔ نہ مندر میں سکون نہ مسجد میں، کبھی سینما میں کبھی مزار میں کبھی بازگناہ کبھی گناہ۔ ایسے بچوں کو اگر کسی کامل کی صحبت حاصل ہو جائے تو نفس سے جلدی چھٹکارا پا لیتے ہیں یہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہونے کے اثرات ہیں لیکن خود صحیح مسلمان نہیں ہوئے کیونکہ ابھی اقرار زبان سے ہے تصدیق قلب کی منزل دو ر ہے ظاہری طہارت وضو، نماز، قرأت تو مولوی صاحب نے سکھا دیا لیکن طہارت قلب اور طہارت نفس کے لئے مرشد کامل کو پکڑنا پڑا۔ ظاہری عبادت اور زبانی کلمہ سے مسلمان ہوئے لیکن جب تک باطن کی صفائی نہ ہوئی دلوں میں نور نہ آیا مومن کہلانہ سکے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ :
قالت الا عراب امنا ط قل لم تو منو ا و لکن قو لو اسلمنا ولما ید خل الایمان فی قلوبکم o
ترجمہ :اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے جواب فرمایا۔ ’’اے محمد ﷺ ان سے کہہ دوکہ تم ایمان نہیں لائے یوں کہو بلکہ اسلام لے آئے ہیں تب مومن کہلانے کے مستحق ہوگے جب ایمان تمہارے قلوب میں داخل ہوگا ‘‘ ( سورۃ الحجرات آیت نمبر 14)
ظاہری عبادت کا تعلق شریعت سے ہے ہر وقت تلاوت کرنے والے یا نوافل پڑھنے والے و تسبیح گھمانے والے یا ذکر لسانی والے حافظ عالم قاری اس مقام شریعت میں ہی ہوتے ہیں وہ جنت اور حوروں کے طالب ہیں ان کا نفس نہ مرا اور نہ پاک ہوا البتہ سُدھر ضرور گیا ۔ ظاہری عبادت ایسی ہے جیسے سانپ سوراخ میں گھسا ہوا ہو اور باہر ڈنڈے مارے جا رہے ہوں اسے کچھ خبر نہ ہو۔ چونکہ شریعت مقام شنید ہے اور اس کا تعلق مقام ناسوت سے ہے جہاں انسان اور شیاطین و جنات اکٹھے رہتے ہیں اگر کسی کو اس مقام میں خواب ،اشارے یا کشف ہونا شروع ہو جائے تو قابل یقین نہیں اس مقام کے عابد و زاہد اور عالم تکبّر میں آجاتے ہیں، کوئی مجدّد کا دعویٰ کرتا ہے اور کوئی غوث و قطب کا۔ مرزا غلام احمد نے بھی نبوّت کا دعویٰ کر دیا تھابیشک وہ عابد زاہد تھا مگر کسی کامل مرشد سے محروم تھا کہ وہ اسے ان الہامات کی پہچان کراتا۔
ومن یضلل فلن تجد لہ‘ ولیا مرشدا o (القرآن)
ترجمہ : اور وہ جس کو گمراہ کرے ہر گز وہ نہ پاوے گا ولی مرشد۔ (سورۃ کہف آیت 17)
حدیث مبارکہ میں بھی اس طرح ہے: من لا شیخ لہ‘ فشیخہ الشیطان۔
ترجمہ : جس کا مرشد نہیں اس کا مرشد شیطان ہے ( بحوالہ علوم العارفین)
آج کل روحانی رسالوں کے ذریعہ مراقبہ کی تعلیم دی جاتی ہے جس سے کوئی ایک آدھ حقیقت کے علاوہ سب باطل ہے کیونکہ شریعت مقام مراقبہ نہیں بلکہ مقام خواب ہے مراقبہ اس شخص کے اوپر صحیح لگتا ہے جو تصفیۂ قلب تزکیۂ نفس اور تجلیۂ روح کا کوئی مقام حاصل کر چکا ہو۔ یہاں تک کا اسٹیج ایک کھچڑی ہے۔ جس میں ایمان کے ساتھ ساتھ تکبر،بغض ، حسد اور حرص وغیرہ رہتے ہیں۔ اس درجے کا مسلمان نہ ہی حقیقی مسلمان ہے اور نہ عالم با عمل ہے۔ اس درجہ والوں کی تصانیف اور تلقین بھی مشکوک ہے اس کھچڑی کو الگ اور اصل کو نکالنے کے لئے علم طریقت ہے۔ مرشد کامل اس کے نفس کو پکڑتا ہے اور قلب کو ذکر اﷲ سے ذاکر قلبی بناتا ہے۔ ہر وقت قلب کے ذکر سے جو نور بنتا ہے اس سے قلب قوی ہوتا ہے اور باقی لطائف بھی خوراک حاصل کر کے ہمسایہ برائیوں کو جلا دیتے ہیں۔ انہی ذاکرین کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے۔
رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اﷲ۔۔۔۔۔
ترجمہ: وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کو اﷲ کے ذکر سے نہ خرید غفلت میں ڈالتی ہے نہ فروخت (سورۃ النورآیت نمبر 37)
جب ان کا جُسہ قلب نوری غذا سے قوی ہو گیا تو جسم سے سوتے میں باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ مزارات اور خانہ کعبہ کے گرد منڈلاتا ہے۔ ذاکر خواب میں یہ مقام دیکھتا ہے اس ذکر سے جو جُسہ نکلا اس کو قرآن مجید نے قلب سلیم اور اس سے آگے کا قلب منیب اور انتہائی درجے والے کو قلب شہید کا خطاب دیا۔ اس کے برعکس جن کے لطیفۂ نفس ناری قوی ہوتے ہیں وہ بھی سوتے میں باہر نکل جاتے ہیں تو گندی سوسائٹیوں یا جنات کی محفلوں میں گھومتے ہیں لطیفۂ قلب کے بعد ذاکر کی روح ذکر اﷲ کرتی ہے حتیٰ کہ ساتوں لطائف اپنے اپنے مقام پر گونجتے ہیں اور اپنی ہمسایہ برائیوں کو ذکر کی گرمی سے جلا دیتے ہیںآخر نفس بھی کلمہ پڑھ لیتا ہے۔ اور اس کی چار حالتیں بدلتی ہیں اور ہر ایک حالت سے ایک جُسہ باہر آتا ہے۔ یعنی نفس امارہ ، لوامہ ، الہامہ، مطمنۂ۔ لطیفۂ نفس سے چار جُسے اور لطیفۂ قلب سے تین جُسے اور دو روحیں جمادی اور نباتی انسان کے جسم سے باہر نکل جاتی ہیں۔ یہ نو جُسے اسی سالک کے ہم شکل ہوتے ہیں کوئی کسی مزار پر یا محفل میں جا کر ان کی پناہ میں ذکر و فکر سے پروان چڑھتے ہیں۔ جن کا ثواب ذاکر کو ہی ملتا ہے ادھر سالک کے مقامی لطائف اس کے جسم کو پاک و صاف کر دیتے ہیں تب وہ حضور پاک ﷺ کے رو برو پیش کیے جاتے ہیں۔ سالک مراقبے یا کشف کی حالت میں اپنے آپ کو اس محفل میں دیکھتا ہے اس وقت اسے مرتبہ ارشاد حاصل ہو جاتا ہے ۔ اگر وہ علم ظاہری میں عالم نہ تھا تو درویش کا رُتبہ ملا اور اگر علم ظاہری میں عالم تھا تو مجدد، امام یا غوث و قطب کا درجہ ملا تب وہ عالم با عمل کہلایا اور کسی کو رجال الغیب کا درجہ ملا رجال الغیب حضور ﷺ کے سرکاری محکمے کے افراد ہوتے ہیں۔ جو ظاہری جسم سے بھی حضور پاک ﷺ کی محفل میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس راہ طریقت میں جب سالک کا قلب اور اندام پاک ہونا شروع ہو تے ہیں تو ابتداء میں سچے خواب آتے ہیں بعد میں مراقبہ لگتا ہے اور پھر ہوش و حواس میں کشف کے ذریعہ اہل ممات سے بات چیت ہوتی ہے اور پھر حقیقت و معرفت کا علم حاصل کرنے کے بعد ان کے منہ سے جو کلمہ نکلا بحکم خداوندی نکلا۔ پھر انہی کے لئے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
نحن اقرب الیہ من حبل الورید o
ترجمہ : یعنی ہم تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں (سورۃ ق آیت نمبر 16)
جب ایسا سالک مرتا ہے تواس کی انسانی روح عالم برزخ میں مقام عِلِّیین میں چلی جاتی ہے۔ اور یہی جُسے اس کی قبر میں رہتے ہیں جو لوگوں کو فیض پہنچاتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لئے قرآن مجید میں آیا ہے۔
ولا تقولو ا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء
ترجمہ : جو لوگ اﷲ کے راستے میں شہید ہوئے انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ (سورۃ بقرہ آیت نمبر 154)
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت شہیدوں کے لئے ہے لیکن یہ لوگ شہید اکبر کہلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ساری عمر اپنے نفسوں سے جہاد کیا۔ (حدیث شریف)
رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر
ترجمہ : ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹے ( ابن ماجہ شریف)
جب عام آدمی مرتا ہے تو اس کی روح بھی عِلِّیین یا سِجّین میں چلی جاتی ہے لیکن یہ جُسے قبر ہی میں رہتے ہیں چونکہ ان میں نہ نوری طاقت ہوتی ہے نہ ناری طاقت ہوتی ہے۔ اس لئے وہ قبر میں کچھ عرصہ کے بعد ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی قابو کرنا چاہے تو عمل ہمزاد کے ذریعہ انہیں طاقت پہنچا کر مطیع کیا جاتا ہے۔ جب کوئی جادو گر یا جوگی وغیرہ مرتا ہے تو اس کی روح بھی عالمِ برزخ میں چلی جاتی ہے چونکہ اس کے کچھ جُسے ناری طاقت سے بھرپور ہوتے ہیں وہ بھی مر گھٹوں وغیرہ میں رہتے ہیں او ر شیاطین کے ٹولے میں مل کر خلق خدا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کو بد روحیں کہتے ہیں۔ جس کا ذکر انجیل میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام بدروحیں نکالا کرتے تھے۔ سفلی عامل ان ہی بد روحوں شیطانی جنات اور سفلی مؤکلات کے ذریعہ عمل کرتے ہیں چونکہ ان جُسوں پر بھی جو ایک مخلوق بن جاتی ہے۔ گرمی، سردی، بارش و دھوپ کا اثر ہوتا ہے اس لئے ایسے سالکوں و عارفوں کے تو دربار بن جاتے ہیں لیکن اگر کسی عام آدمی کا دربار بنادیا جائے (چونکہ اس کے جُسے ضائع اور دربار خالی رہ جاتا ہے) تو اس میں شیطانی جنات قبضہ کر لیتے ہیں اور وہ دربار ان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس طرح خوابوں میں اشارے پاکر گھروں میں دربار بنا ڈالے اس طریقہ میں بھی خطرہ ہے۔ ممکن ہے وہ اشارہ شیاطین کی طرف ہو اور ان کا گھر شیاطین کا ٹھکانہ بن جائے جس کا چھٹکارا بعد میں مشکل ہو جائے ۔ عارفوں اور سالکوں کے جُسے طاقت میں جنات سے بڑھ کر ہوتے ہیں ا س لئے جنات کے مریض بھی ان کے دربار وں سے فیض پاتے ہیں روحانیت کے متلاشیوں کو بھی یہاں سے شفا ملتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ بھی اسی مخلوق کی دعا کو سنتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہر وقت ذکر و فکر اور عبادت و ریاضت میں مصروف رہتی ہے۔اسی عبادت کا نور ان کی غذا ہے۔ بعض دفعہ یہ کسی آدمی کے جسم میں داخل ہو کر ہمکلام بھی ہوتے ہیں لیکن ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے زیادہ تر شیاطین اور جنات جسموں میں داخل ہو کر بزرگی کا دعویٰ کر تے ہیں اور عوام کی گمراہی کا ذریعہ بن جاتے ہیں جس طرح خالی دربار پر شیاطین کا داخلہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح خالی بت میں بھی شیاطین گھس آتے ہیں وہ بت خواہ پتھر کا ہو یا آدم کا آج جب مسلمانوں کے سینے انوار الٰہی سے خالی ہو گئے تو شیاطین کی آماجگاہ بن گئے جو مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ستا کر اپنی پرستش کرا رہے ہیں۔
روایت ہے کہ فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو تیس ہزار سواروں کے ساتھ نخلہ کی طرف بھیجا تاکہ وہاں جا کر بت خانہ عُزیٰ کو توڑ کر برباد کرے۔ جب حضرت خالد بن ولیدؓ نے عُزیٰ بت کو توڑا تو اس میں سے ایک سیاہ فام بد شکل ننگی عورت چیختی چلاتی نکل کر بھاگی جو شیاطین میں سے تھی۔ اور وہ اس بت میں گھس کر اپنی پوجا کرا رہی تھی۔
یورپ والوں نے ان ہی جُسوں کو حروف تہجی کے ذریعہ قابو کیا ان سے حالات دریافت کئے۔ یہاں تک کہ ٹھوس مجسّموں میں ان کی تصاویر بھی لیں پاکستان میں بھی کئی لوگ ان نوری ناری جُسوں سے ملاقی ہوئے ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں سکھ قوم کے پائلٹوں نے ان نوری جُسوں کی تصدیق بھی کی مگر ہمارے کئی مسلمان جو ظاہری علم سے ہی مجدّد بنے بیٹھے ہیں ان کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں جبکہ ہر سلسلہ کے ولی بھی اقرار کرتے ہیں بعض نے ان کے درباروں سے فیض روحانی بھی حاصل کیا جیسا کہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے حضرت داتا صاحب ؒ کے مزار مبارک سے فیض روحانی حاصل کرنے کے بعد یہ اشعار کہے۔
گنج بخشِ فیض عالم مظہر نورِ خُدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما

ذکر کیا ہے اور فکر کیا ہے؟
اسلام کے پانچ ارکان ہیں کلمہ ، نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ، چار وقتی ہیں جو وقت مقررہ پر ادا ہوتے ہیں۔ لیکن ایک ’’کلمہ ‘‘ دائمی ہے۔
افضل الذکر کلمہ طیب یعنی کلمہ طیّب ذکر میں ہے اور ذکر کے لئے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فاذا قضیتم الصلوٰۃ فاذ کرو اﷲ قیاما و قعو دا و علی جنوبکم o
ترجمہ : جب نماز پوری کرلو تو اﷲ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤ۔ کھڑے بھی بیٹھے بھی اور کروٹ کے بل بھی۔ ( سورۃ النساء آیت نمبر 103)
کلمہ طیبہ کے چوبیس حروف ہیں : لا الہ الا اﷲ بارہ لفظ جلالی اور بارہ لفظ جمالی: محمد رسول اﷲ اس کے پورے ذکر سے انسان معتدل رہتا ہے اور یہ دوائی کی طرح ہے لیکن جلدی اثر کے لئے جو ٹیکہ کی طرح ہو وہ عرق یوں ہے بارہ لفظ کی تلخیص چار لفظ ’’ ال ل ھ ‘‘ میں ہے۔ اﷲ اس کے نام کی طرف اشارہ ہے یہ لفظ شریعت والوں کے لئے ہے اور اس کا عالم ناسوت ہے اﷲ کا الف ہٹایا جائے تو لِلّٰہ رہ جاتا ہے یہ اس کے ذریعہ اور واسطہ کو ظاہر کرتا ہے اس کا مقام طریقت اور عالم ملکوت ہے لِلّٰہ کا لام ہٹایا جائے تو لہ‘ رہ گیا جو ضمیر اسم اﷲ ذات کی طرف اشارہ ہے اس کا مقام حقیقت اور عالم جبروت ہے لہ‘ کا لام ہٹایا تو سب کا نچوڑھُو رہ گیا ۔ھُو اس ذات کی طرف اشارہ ہے اس کا مقام معرفت اور عالم لاہوت ہے اسی ھُو سے سالک فنا ہو جا تا ہے یعنی فنائے نفس اور فنائے گناہ۔ بہت سے لوگ ھُو کے ذکر سے ڈرتے ہیں کہ یہ تباہ کر دیتا ہے اور ویرانوں میں کرنے کا ہے واقعی یہ نفسوں کو تباہ کر تا ہے اور جن لوگوں پر نفس سوار ہیں وہ اس ھُو سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے کوّ ا تیر سے۔ لیکن بطور مسلمان کہلوانے کے ذکر کا انکار بھی نہیں کر سکتے، کہتے ہیں کہ ذکر خفی کرو۔ ذکر جہر کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ذکر جہر ہی و سیلہ ذکر قلبی ہے۔ زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق ہے۔ حدیث شریف میں ذکر جہر کے بارے میں آیا ہے کہ :
ان فی ذکر جہر عشر فوائد الاول صفاء القلوب و تنبیہ الغافلین و صحتہ الابدان و محاربتہ با عذاء اﷲ تعالیٰ و اظہار الدین و نفی خواطر الشیطانیتہ النفسانیتہ و التوجہ الی اﷲ تعالیٰ و الا عراض عن غیر اﷲ تعالیٰ رفع الحجاب بینہ وبین اﷲ تعالیٰ ۔(الوابل العیب)
ترجمہ : ذکر جہر میں دس فائدے ہیں -1دل کی صفائی -2غفلت سے تنبہیہ -3 جسم کی صحت -4 اﷲ تعالیٰ کے دشمنوں سے جنگ -5 اظہار دین -6 علاج شیطانی -7علاج نفسانی -8 توجہ الی اﷲ -9 غیر اﷲ سے نفرت -10 خدا اور بندے کے درمیان سے حجا ب اٹھ جانا۔ لیکن اگر کسی کے ہفت اندام ذکر خفی میں ہیں تو ذکر جہر سے وہ بیک آواز سالک کے سینے میں شور برپا کر دیتے ہیں اور ذاکر کے بال بال سے ذکر کی آواز گونجتی ہے۔
طریقۂ ذکر: ذکر جہر کے وقت دو زانوں بیٹھے دل پر ضربیں لگائے اگر شریعت میں ہے تو دل پر تصور لفظ اﷲ کا اور اگر طریقت میں ہے تو لفظ لِلّٰہ جمائے ذکر کے دوران دنیا و مافیہا سے خیال ہٹا کر یکسوئی پیدا کرے، تصور خیال اور ذکر سے جلد منزل مقصود کو پہنچے گا۔ اس قسم کا ذکر جہر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ سانس پھول جاتا ہے اور سینے میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے اور حلق خشک ہو جاتا ہے اس کے بعد ذکر خفی کرے جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ ‘ کو فرمایا:
غمض عینیک یا علی واسمع فی قلبک لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ
ترجمہ : اے علی تو اپنی آنکھیں بند کر اور اپنے دل میں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ سن۔ (مشکوٰۃ شریف)
جب بیٹھ کر ذکر خفی کر چکے تو پھر چلتے پھرتے کام کا ج کرتے حتیٰ کہ بستروں کروٹوں پر بھی اﷲ کا ذکر خفی کرتا رہے۔ آج کل جو ذکر جہر کیا جاتا ہے وہ واقعی قابل اعتراض اور بے سود ہے جیسا کہ سڑکوں پر ٹولیوں کی شکل میں ذکر جہر کرتے جا رہے ہیں خیال و نظر آنے جانے والوں اور دیکھنے والوں کی طرف ہے۔ اسی قسم کے ذکرِ جہر کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ اس میں فکر، ادب اور مراقبے کا کوئی پاس نہیں جبکہ مخالفین ہر قسم کے ذکرِ جہر پر اعتراض کرتے ہیں۔ جس طرح قرآن مجید میں بار بار نماز کا حکم آیااس طرح بار بار ذکر کا حکم بھی آیااگر کوئی شخص شریعت میں ہے تو روزانہ پانچ ہزار دفعہ ذکر کرے اگر کوئی عالم شریعت میں ہے تو اسے پچیس ہزار دفعہ روزانہ ذکر کرنا پڑتا ہے تب اس کو مقتدیوں پر فضیلت ہے اور اگر کوئی راہ طریقت میں چل رہا ہے یا پھر فقیر ہے تو وہ 72ہزار دفعہ روزانہ ذکر کرے ورنہ اس کا محض زبانی دعویٰ ہے۔ یہ ذکر خواہ جہری ہو یا قلبی لیکن ذکر جہر سے زیادہ فضیلت ذکر قلبی کو ہے البتہ قلب کا منہ کھل جائے اگر قلب ذکر خفی میں ہو اور زبان ذکر جہر میں تو یہ سونے پہ سہاگہ ہے۔
اﷲ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں صرف اﷲ ذاتی اور باقی صفاتی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا قدوس کا ورد (ذکر) کیا کرتے تھے حضرت سلیمان علیہ السلام یاوھاب کا اور حضرت داؤد علیہ السلام یا ودود کا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یا رحمٰن صفاتی اسماء ملے۔ ان اسماء سے ان کے جسم کے اندر جو نور آیا وہ بھی صفاتی تھا اگر انہوں نے اپنی حیاتی میں رب کو دیکھنا چاہا تو ذانی نور کی تاب نہ لا سکے لیکن یہ ذاتی اسم حضور پاکِ ﷺ کو ملاتب ہی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہوئے وہاں آپ ﷺ مسکرا رہے ہیں آپ ﷺ کے طفیل یہ اسم مبارک آپ ﷺ کی امت کو ملا تبھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ولیوں پر بنی اسرائیل کے نبی بھی رشک کریں گے۔
اس ذاتی اسم کے طفیل اس امت کو فضیلت دی گئی اور اسی اسم کا نور اس امت کی پہچان ہو گا وہ اسم جس کے لئے نبی بھی رشک کرتے رہے اور امتی ہونے کی التجا کرتے رہے افسوس کہ اب امت اس سے محروم ہوگئی۔
باقی ہر اسم کسبی ہے لیکن اسم اﷲ عطائی ہے یہ اپنی محنت سے کبھی بھی نہیں جمتا اس کے لئے مرشد کامل ضروری ہے۔ بعض لوگ اپنے کسب سے اسم ذات کو جمانے کی کوشش کرتے ہیں یا اس کی تاب نہ لا کر دیوانے ہو جاتے ہیں یا رُجعت میں چلے جاتے ہیں یا ان کو اس اسم سے کچھ فیض حاصل نہیں ہوتا الٹا بدگمان ہوجاتے ہیں لیکن اس اسم سے بدگمانی ’’ کافری ہے نہیں تو اور کیا ہے؟ ‘‘
بے شک یہ اسم جلالی ہے لیکن قانون قدرت ہے کہ کوئی بھی چیز گرمی کے بغیر نہیں پکتی جب کوئی چیز جلنے کو ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ باران رحمت برسا دیتا ہے جس سے وہ زیادہ نشو و نماپاتی ہے اس جلالی ذکر کی باران رحمت ذکر محمد رسول اﷲ ﷺ ہے۔ یہ عطائی ذکر دو طرح سے ملتا ہے ایک کسی مرشد کامل کی حیات سے دوسرا کسی کامل ذات کی قبر سے جسے سلسلہ اویسیہ کہتے ہیں جیسا کہ حضرت با یزید بسطامی ؒ کو حضرت اما م جعفر صادق ؓ سے روحانی فیض حاصل ہواجبکہ آپ کی پیدائس حضرت امام صاحبؓ کے فوت ہونے کے بعد ہوئی اور حضرت ابو بکر حواری ؒ کو جن سے سلسلہ حواریہ چلا ان کو فیض حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے ہوا جن میں کئی سو سال کا فرق تھا اور حضرت سخی سلطان باہو ؒ کو باطن میں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے دست بیعت کیا، تب تو آپ نے نور الہدیٰ میں لکھا ہے کہ ۔
دست بیعت کرد مارا مصطفی
ولد خود خواند است مارا مجتبیٰ

مرشد کامل
نانی ، زبانی، قصہ خوانی اور گدیوں کے سجادہ نشین
مرشد تو بے شمار ملتے ہیں لیکن کامل مرشد تین طرح کے ہوتے ہیں۔
-1 کامل حیات
-2 کامل ممات
-3 کامل ذات
-1 کامل حیات کا فیض اس کی حیات میں ہوتا ہے لیکن حیات کے بعد اس کا فیض بند ہو جاتا ہے۔ یہ طالب کو زیادہ سے زیادہ سات دن میں خدا رسیدہ کر دیتا ہے یعنی ذکر قلب جاری کر دیتا ہے، ہو سکتا ہے کہ کشفی طور پر کچھ مقامات بھی دکھا دے۔
-2 کامل ممات ،جو اس دنیا میں روپوش رہے اور مرنے کے بعد اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے آئے یہ اس کا م کے لئے تین دن لیتے ہیں۔
-3 کامل ذات،جن کا فیض حیات و ممات میں ایک ہی جیسا رہتا ہے یہ طالب کو ایک ہی نظر میں خدا رسیدہ بنا دیتے ہیں اس لئے طالب حق کو چاہیے کہ مرشد کو سات دن تک آزمائے ورنہ اس سے جدا ہو جائے اپنی قیمتی زندگی برباد نہ کرے یا پھر مرشد ناقص ہے یا اس کا نصیبہ کہیں اور ہے یا اس کی زمین بیج کے قابل نہیں ہے اگر کہیں سے بھی باطنی فیض نہ ہو تو پھر کسی کامل ذات کی قبر سے امداد حاصل کرے۔
حدیث شریف: اذا تحیر تم فی الامور فاستعینوا من اھل القبور۔
ترجمہ: جب تم کسی معاملہ میں پریشان ہو تو اہل قبو ر سے امداد طلب کرو! (بحوالہ جامع الاسرار)
جو لوگ نہ ہی زندہ ولیوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی مزاروں پر جانا گوارا کرتے ہیں وہ ساری عمر اس گوہر عظیم سے محروم رہتے ہیں۔ وہ اﷲ تعالیٰ سے براہ راست مانگتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا امر ٹل تو سکتا ہے لیکن قانون نہیں بدل سکتا۔ نبی بلا واسطہ ہوتا ہے جسے براہ راست ملتا ہے اور اس کی امت بالواسطہ ہوتی ہے جسے نبی کے ذریعہ ملتا ہے۔ جس طرح اﷲ تعالیٰ کے عوام و خواص میں فرق ہے اسی طرح عام کو نبی تک خواص ہی(ولی اﷲ ) ہی پہنچاتے ہیں۔ اور خواص کو اﷲ تعالیٰ تک نبی ہی پہنچا تے ہیں۔
قرآن مجید میں فرمان رب العزت ہے:
اھدنا الصراط المستقیم o صراط الذین انعمت علیھم۔
ترجمہ: دکھا ہم کو سیدھی راہ ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا۔ (سورۃ فاتحہ آیت 6-5)
اور اگر کسی کو ان کے راہ مستقیم پر چلائے گا تو ان سے ضرور ہدایت دلوائے گا اور اگر کوئی ان کی ہدایت سے محروم ہے جو ہر زمانہ میں (ولی) ہوتے ہیں تو سمجھ لے ابھی انعام کے راستہ پر نہیں چلا جیسا کہ سورۃ کہف کے علاوہ بھی آیا ہے۔
فاولءٰک مع الذین انعم اﷲ علیھم من النبیین والصدیقین والشھداء والصٰلحین ج و حسن اولءٰک رفیقا o
ترجمہ : وہ لوگ جن پر اﷲ تعالیٰ نے انعام کیا وہ انبیاء کا گروہ ، صدیقین کا فرقہ شہیدوں کا لشکر اور صالحین کا ٹولہ ہے۔ رفاقت رہبری کے لئے یہ بہت عمدہ اور اچھے لوگ ہیں۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 69)
کچھ لوگ ایا ک نعبد و ایا ک نستعین۔ پر ہی ڈٹے رہتے ہیں۔ یعنی اسی کی عبادت اور ا سی کی اعانت کی طرف اشارہ کر کے کسی طرف کا رخ نہیں کرتے لیکن عبادت کے لائق تب ہوئے جب کسی عالم با عمل نے کچھ سکھایا ۔ اسی طرح اعانت دلانے کا ذریعہ بھی اولیاء اﷲ ہیں۔
انسان کے جسم سے روح اﷲ کے حکم سے نکلتی ہے لیکن ا س کا ذریعہ حضرت عزرائیل ؑ ہے۔ کوئی پتا اس کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ لیکن اس کو ہلانے کا ذریعہ بھی تو ہوا کو مقرر کیا ہے اور جن کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کا تعلق بلا واسطہ تھا ان تک وحی پہنچانے کا ذریعہ بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ اسی طرح انسان کے رزق، پیدائش، رُشدو ہدایت، تعلیم و علاج کا ذریعہ بھی انسان ہی ہے اور جب کوئی سالک کسی ذریعہ سے سب عالم عبور کر کے فنافی اﷲ میں چلا جاتا ہے تب وہ سب ذریعوں کو چھوڑ کر اسی کی اعانت اور پناہ میں آجاتا ہے جن کے لئے قرآن مجید میں ہے۔
الا ان اولیاء اﷲ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون o
ترجمہ: خبردار اولیاء اﷲ کو کسی چیز کا خوف نہیں اور نہ ہی کسی بات کا غم ہے۔ (سورۃ یونس آیت 62)
آج کل اکثر ’’ علماء بے سلاسل و مرشدانِ لا حاصل ‘‘ طریقت، حقیقت اور معرفت کو مقام شریعت میں ہی سمجھتے ہیں لیکن شریعت تو سننا، سنانا، بابت، عالم غیب، حوریں، ملائک و بہشت و نار ہے۔ ان کے اوپر زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہے یہ دنیا دار نفسانی ہیں نفس کو سدھارنے کے لیے سال میں ایک ماہ روزے رکھتے ہیں ان کا علم حدیث، فقہ، منطق، فلسفہ ہے۔ جس میں ان کی عقل کو اختیا ر ہے اس کی انتہا بحث و مباحثہ و مناظرہ ہے جو مقام شر بھی ہو سکتا ہے لیکن طریقت والوں کا مقام ’’ دید‘‘ ہے۔ یہ ان غیبی چیزوں کو دیکھتے ہیں اپنے نفس کو مارنے کے لیے ریاضتیں بھوک و پیاس کی تکالیف اکثر اٹھاتے رہتے ہیں یہ تارک الدنیا کہلاتے ہیں دنیا میں رہ کر بھی ہر نفسانی چیز سے تارک ہوتے ہیں ان کی زکوٰۃ ساڑھے ستانوے فیصد ہے اور ان کا علم صرف عشق حقیقی ہے جو بحث و مناظرہ و فرقہ بندی سے دُور ہے ان کی انتہا مجلس محمدیؐ ہے۔ ان ہی کے لئے حدیث میں ہے۔
رجعنا من الجھاد الاصغر الی الجہاد الاکبر۔
ترجمہ: ہم نے جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف رجوع کیا۔ (مسلم شریف)
کیونکہ نفسوں سے جہاد کرنا ،جہاد اکبر ہے۔ جب کوئی بارہ سال نفس سے جہاد کر کے حقیقت کو پہچانتا ہے تو وہ فارغ دنیا کہلاتے ہیں۔ یعنی دنیا کے ہر جائز و ناجائز کام سے منہ مورڑلیتے ہیں ان کی زکوٰۃ سو فیصد ہے۔ ان کا دنیا والوں سے میل جول بحکم خدا اور رسول ؐ صرف دین کے لئے ہوتا ہے اس کے بعد معرفت کی منزل ہے جس میں علم لدنی باطنی ظاہری تصرف کی چابیاں عطا ہوتی ہیں۔ سنگ پارس اور زمین کے دفینے اس کی نظر میں ہوتے ہیں اس وقت وہ لا یحتاج ہوتا ہے اس کے آگے فنا و بقا کی منزلیں ہیں۔ جس میں دیدار الٰہی خواب، مراقبے یا کشف میں ہوتا ہے بعض فرقے دیدار کے منکر ہیں لیکن قرآن مجید دیدار کا گواہ ہے۔
فمن کان یرجو القاء ربہ فلیعمل عملا صالحا o
’’تو جس شخص کو اﷲ تعالیٰ کے دیدار کی آرزو ہو پس وہ عمل صالح اختیار کرے۔ ‘‘ (سورۃ الکہف آیت نمبر110)
دیدار الٰہی والوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اگر اینٹ پر نظر ڈالیں تو سونا بن جائے پھر بھی شک کیونکہ یہ طاقت ابلیس کو بھی حاصل ہے کسی کی آنکھوں کا نور یا جسم کی طاقت سلب کر لے یا آسیب زدہ مریض اچھا ہو جائے لیکن اس میں بھی شک ہے کیونکہ یہ کام بھی ابلیس کر سکتا ہے۔اس کی اصل اور آخری پہچان یہ ہے کہ ایک ہی نظر سے مردہ قلب کو خواہ کافر ہو یا مسلمان ذکر اﷲ سے زندہ کر کے خدا رسیدہ بنا دے۔
باطن میں حق و باطل کی پہچان کا ذریعہ نور اسم اﷲ ذات اور کشف ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں کسی کامل سے ہی عطا ہوتی ہیں۔ البتہ کشف کسی اور ذریعہ سے بھی ہو سکتا ہے لیکن اسم اﷲ کے بغیر جو بھی کشف ہے غیر یقینی ہے کشف جوگیوں کو بھی ہو جاتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کے ذریعہ بھی کچھ نہ کچھ حال دل معلوم ہو جاتا ہے عمل ہمزاد، جنات، مؤکلات علوی و سفلی کے ذریعہ بھی کشف ہو جاتا ہے لیکن یہ سب ناسوتی اور غیر تسلی بخش ہیں۔ ’’ناسوت‘‘یہی عالم ہے جس میں انسان اور جن اکٹھے رہتے ہیں ۔ ذکراﷲ کے ذریعہ ناسوت کو عبور کر کے کشف ملکوتی و جبروتی و لاہوتی میں پہنچتا ہے۔ جہاں شیاطین کا عمل دخل نہیں۔ لیکن جب تک ناسوت میں ہے اس کا کشف بھی بے اعتبار ہے۔ ’’ملکوت‘‘ ملکوتی تب ہوتا ہے جب اس کے ہفت اندام پاک ہو جاتے ہیں اوراس کا جُسہ قلب ملائکہ کی صفوں میں شامل ہو کر کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے اسے کہتے ہیں ’’اقراربالسان و تصدیق بالقلب‘‘
جب تک نفس کتا موجود ہے کوئی پاک چیز نماز تلاوت وغیرہ جسم میں رُک نہیں سکتی، ہفت اندام پاک ہونے سے جسم اعظم ہو جاتا ہے۔ تب ہی اسم اعظم کے قابل ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ نفسانی لوگ اسم اعظم میں سر کھپا کھپا کر رہ جاتے ہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
علم ، حفظ، قرأت یا احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے نفس کبھی نہیں مرتا یہ صرف وسائل عشق ہیں کہ ’’ بے علم نتواں خدارا شناخت‘‘ جس علم سے عمل اور عمل سے عشق حقیقی نہ آیا بلکہ الٹا تکبر و حسد میں مبتلا ہو گیا تو وہ علم حجاب الاکبر ہے۔
حافظوں کا لطیفہ اَنّا جو دماغ میں ہے ضرور پاک ہو جاتا ہے لیکن باقی لطائف جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔ حدیث پاک میں بار بار آیا ہے ۔ دع نفسک و تعال ’’ یعنی نفس کو چھوڑ اور چلا آ تاکہ اﷲ تک پہنچے۔‘‘ جس عابد اور زاہد نے نفس کو نہ چھوڑا وہ اﷲ تک کیسے پہنچا۔
بہت سے مسلمان لطائف کے نام سے بھی بے خبر ہیں بہت سے نام جانتے ہیں مگر کام سے بے خبر ہیں اور بہت سے اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ظاہری عبادت، تلاوت، نوافل سے ہی یہ پاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ انسان کے اندر غار میں بیٹھے ہیں ۔ جنہیں باہر کے ڈنڈوں سے کچھ اثر نہیں ہوتا اگر کوئی ذاکر قلبی بھی بن جائے تب بھی اس کے دوسرے لطائف بے اثر رہتے ہیں البتہ حرکت میں لانے کے لئے کچھ آسانی ہو جاتی ہے یاد رہے کہ انہیں حرکت میں لانے کے لئے علیحدہ علیحدہ ذکر و فکر ہیں جیسا کہ لطیفہ سری کا ذکر یا حی یا قیوم اور اس کا فکر ھُو بمقام توجہ لطیفہ مذکور ہے انسان کے اندر چودہ ذکر استقرار پکڑتے ہیں۔ سات ذکر اور سات ان کے فکر ۔ زبانی ذکر کرنے والوں کو ’’ ذاکر لسانی‘‘ کہا جاتا ہے جس کی ان میں کوئی اہمیت نہیں اور قلبی ذکر کی بھی خاص اہمیت نہیں۔ پھر ذاکر روحی بن جاتا ہے یہ بھی فقر سے دُور ہے۔ حتیٰ کہ اس کے سب لطائف ذکر میں لگ جاتے ہیں تب اس کو ’’ ذاکر سلطانی‘‘ بولتے ہیں لیکن جب توجہ سے ایک ہی وقت میں ساتوں لطائف حرکت میں آجائیں تو ’’ ذاکر ربانی ‘‘ کہلاتا ہے اور جب ذکر سے بند بند جدا ہو جائیں تو وہ ’ ’ ذاکر قربانی ‘‘ کہلاتا ہے اصلی فقر اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
اسی تعلیم کے لئے حضور پاک صاحب لولاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ :
’’ تعلیم حاصل کرو خواہ چین تک کیوں نہ جانا پڑے‘‘

فقر کیا ہے؟
فقر دو قسم کے ہیں ایک کے متعلق حضور پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ نعوذ باﷲ من فقر المکب oترجمہ: ’’ میں نگونسار فقر سے پناہ مانگتا ہوں‘‘ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ الفقر فخری و الفقر منی ’’ یعنی فقر میرا فخر ہے اور فقر میرا ورثہ ہے‘‘۔ (بحوالہ نور الھدیٰ)
جب کوئی سالک راہ فقر میں چلتا ہے تو ابتداء میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے جب تک عبادت، مجاہدے، ریاضتیں کرتا رہتا ہے محجوب کہلاتا ہے۔ اور جب اس کے اوپر اﷲ تعالیٰ کی خاص نظر یعنی تجلّی پڑتی ہے ، اگر اس کا شیشہ عقل ٹوٹ گیا تو مجذوب ہوا اگر ثابت قدم رہا تو محبوب ہوا اس وقت خلق کے قلوب کے تصفیہ کے قابل ہے مجذوبوں سے تلقین لینا ایک بڑا نقصان ہے کیونکہ وہ شریعت سے ہٹ جاتے ہیں بے شک یہ سلسلے سے ہوتے ہیں لیکن ان سے کوئی سلسلہ نہیں چلتا یہ اﷲ کے عشق کی خاطر نکلے اور دیوانے ہو گئے ان کا مرتبہ بھی بہت بلند ہے ۔خواہ ننگے ہی کیوں نہ گھوم رہے ہوں۔
ان کو پہچاننا بہت مشکل ہے کیونکہ دنیا دار پاگل اور نیم پاگل بھی اسی طرز کے ہوتے ہیں ان میں کچھ مجذوب سالک بھی ہوتے ہیں جن میں کچھ سدھ بدھ بھی ہوتی ہے یہ اگر کسی پر مہربان ہو جائیں تو اس کو ذکر و اذکار یا مجاہدوں، چلوں میں نہیں ڈالتے بلکہ سینہ سے سینہ یا ہاتھ ملا کر اپنے سینے کا نور اس میں منتقل کر دیتے ہیں جس سے وہ روشن ضمیر ہو جاتا ہے اور اس کا فیض اسی نور کے ذریعہ چل پڑتا ہے لیکن اگر وہ وہیں ساکن رہے لطائف کے علم سے محروم رہے جن سے نور بنتا ہے اور جو کمی کو پورا کر تے رہتے ہیں اور پھر اس سے نفس بھی پاک ہو تا ہے تو رجوعات خلق میں اس کی روحانیت ضائع ہو نا شروع ہوجاتی ہے اور ایک دن پیر سپاہی ملتان والے کی طرح خالی ہو جاتا ہے اکثر بخشش والوں سے یا تو چھن جاتا ہے یا ضائع ہو جاتا ہے لیکن اگر بخشش کے ساتھ کسب بھی ہو تو وہ برقرار رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ مادر زاد ولیوں نے بھی بلند مراتب کے لئے ذکر و فکر مجاہدے اور ریاضتیں کیں۔ محبوبو ں میں اکثر رجال الغیب کے محکمہ میں چلے جاتے ہیں ان میں سے بھی صرف غوث و قطب ہی ہدایت خلق کے لئے مقرر ہوتے ہیں باقی اپنے راز کو چھپائے رکھتے ہیں ہر چالیس میل کے علاقہ میں ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے ان کو کشف خاص ضرور ہوتا ہے جس کے ذریعہ آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت کر تے ہیںیہ حج کے موقعہ پر اکٹھے ہوتے ہیں۔
محبوبیت کے بعد غوث و قطب کے مساوی، معارف، سلطان اور عاشقین بھی ہوتے ہیں چونکہ یہ غیر سرکاری ہوتے ہیں کسی زمانہ میں نہیں بھی ہوتے اس لئے ان کو باقاعدہ کشف نہیں ہوتا بلکہ گاہے بگاہے آگاہی ہوتی رہتی ہے یہ بھی رُشد خلق کے لئے بہترین ہیں۔
چوتھی قسم ان فقیروں کی ہے جو راہ طریقت میں ہی شیطانی کشفوں یا رُجوعاتِ خلق میں الجھ کر ترقی نہ کر سکے یا کوئی چھوٹا موٹا عمل جنات یا مؤکلات کے بارے میں حاصل کر کے اسی طرح تسبیح و جُبّہ سے خلق کو پھنسا ئے ہوئے ہیں اکثر سجادہ نشیں بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں نذرانہ لینا گناہ نہیں لیکن مستحق لوگوں کی عمریں برباد کرنا سخت جُرم ہے۔
پانچویں قسم انٹرنیشنل فقیروں کی ہے جو نفس کی خاطر ہر ولی کا رُوپ دھار لیتے ہیں یعنی لمبے لمبے چُغے گلوں میں لمبی لمبی تسبیحات ہاتھوں میں لوہے کے کڑے یا زنجیریں، اکثر مونچھوں داڑھی چٹ، ایمان چٹ، نماز و روزہ سے بیزار اور بھنگ و چر س میں ہوشیار ہیں ان کو خیرات دینا بھی دین سے زیادتی ہے کیونکہ ان کے خیراتی مال سے چنڈو خانوں میں سخاوت ہوتی ہے اور پھر نشے میں کوئی خدائی دعویٰ ،کوئی نبوّت کا دعویٰ اور کوئی صحابہ کرام کو گالیاں اور کیا کیا خرافات بکتے ہیں۔العیاذ باﷲ ! ان ہی کے لئے حدیث مبارکہ میں ہے ۔ لا تجلسو ا مع اھل البدعتہ ’’ یعنی اہل بدعت کے ساتھ مت بیٹھو‘‘ دوسری جگہ ہے اھل المبتدع کلاب النار ’’ اہل بدعت دوزخ کے کُتّے ہیں‘‘ (بخاری شریف)
اب حقیقی فقیر کی پہچان بہت مشکل ہو گئی ہے پس جس کی صحبت میں بیٹھنے سے دل اﷲ کی طرف جھک جائے اور ذکر اﷲ سے دل میں جنبش پیدا ہو جائے وہی فقیر ہے۔

امام حق و عالم با عمل
جب کوئی سالک کسی روحانی سلسلے میں چل کر تزکیہ نفس و تجلیہ روح اور تصفیہ قلب کا مقام حاصل کر لیتا ہے تو وہ مرتبہ پاکر غوث یعنی امام وقت کہلاتا ہے وہ علماء کی ظاہری و باطنی اصلاح کرتا ہے اور جو عالم اپنی اصلاح میں لگ جاتے ہیں وہ بھی ان کے اذن سے امامت کے لائق ہوتے ہیں اس سلسلہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت ایک غوث اور تین قطب موجود رہتے ہیں اور ان ہی کے مساوی مراتب والے امام حق کہلاتے ہیں کوئی بھی عالم فارغ التحصیل ہو کر اس وقت تک امامت کے لائق نہیں جب تک ان کے سلسلہ میں داخل ہو کر اجازت یافتہ نہ ہو کیونکہ حافظ دماغ سے قاری زبان سے عالم کتاب سے عابد و زاہد اعمال سے لیکن امام حق زبان صلِّ علیٰ سے ہوتے ہیں اور باقی امام اس امام کے اذن سے ،تب امامت درست ہے ورنہ مشکوک ہے چونکہ شک والی ہر چیز مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ اہل نظر مشکوک کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ۔ اگر کسی نے پڑھ بھی لی تو دینی مصلحت کی خاطر پڑھ لی۔
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
بعض لوگ ممات والوں کا زبانی بہت اقرار کرتے ہیں بعض باپ دادا کے سلسلوں یا خانوادوں سے چلے آرہے ہیں ہو سکتا ہے کہ اب ان کی اولاد کامل نہ ہو اور یہ مریدین فیض سے محروم رہیں اس لئے ضروری ہے کہ کامل حیات سے ہو یا ممات سے اس کا چہرہ دیکھا ہوا ہو اور ا س سے تلقین کے ذریعہ تجربہ کر چکا ہو ورنہ بیعت نہیں ہوئی۔بیعت بک جانے کو بولتے ہیں گاہک دیکھ کر خریدتا ہے جس کو کسی کامل نے خرید لیا اسے شریعت محمدیؐ پر چلا کر ہی منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
شریعت محمدیؐ چودہ خانوادوں جن کے عقائد درست اور چا ر روحانی سلسلوں میں رہ گئی ہے ایک تو سلسلہ قادریہ ہے جو حضو رپاک ﷺکے سینہ مبارک سے سینہ بہ سینہ مشائخ کرام کو فیض باطنی ہوا اور پھر انہوں نے سینہ بہ سینہ عام کیا اور نقشبندیہ جو حضرت ابو بکر صدیقؓ کے سینہ مبارک سے سینہ بہ سینہ پھیلا اور چشتیہ جو حضرت علیؓ کے سینہ سے عام ہوا۔ نقشبندیوں اور قادریوں کے باہمی فیض سے سلسلہ سہروردیہ بھی وجود میں آیا روحانی سلسلے اور بھی تھے جیسے عثمانیہ، فاروقیہ ، اور ایک حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے اور ایک حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے اور ایک حضرت ابو ہریرہؓ سے بعد میں ایک سلسلہ حواریہ اویسیہ بھی چلا حضرت ابوبکر حواری ایک ڈاکو تھے جنہیں خواب میں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے دست بیعت کیا اور اپنا کلاہ مبارک ان کے سر پر رکھا آپ جب بیدار ہوئے تو وہ کلاہ مبارک سرپر موجود تھا۔ اہل سنت میں روحانی نو 9سلسلے تھے۔جن سے کاملین آتے رہے لیکن اب چھ سلسلے سینہ کے علم سے کٹ کر علم ظاہر میں آگئے۔ علماء کے منطق وفلسفہ نے ان کے بھی ٹکڑے کر دئیے۔ ایک کے مقابلہ میں دوسرا اور اس کے مقابلہ میں تیسرا عالم آیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں میں بہت سے فرقے بن گئے۔ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعہ فرقہ بھی وجود میں آیا اس میں بھی عالم بے عمل منطقی و فلسفی تھے اس لئے وہ بھی کئی فرقوں میں بٹ گئے، مسلمانوں میں فرقوں کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
شیعہ 32فرقے،مرجیہ 12فرقے، مثہ 3فرقے، خداریہ 1 فرقہ، اور بخاریہ 1 فرقہ، خوارج 15فرقے، معتزلہ 6فرقے، کلابیہ 1 فرقہ ، جمیعہ 1 فرقہ اور اہل سنت کی پہچان مشکل ہے 7 فرقے، لیکن یہ سب علم ظاہر کی پیداوار ہیں نہ ان میں روحانیت ہے اور نہ ہی کسی کی روحانیت کے قائل ہیں۔ امت مسلمہ ان فرقوں میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے اگر کسی کی بخت آوری ہے تو عمل اکسیر کے ذریعہ ہی ان کنوؤں سے نکل سکتا ہے جو حق و باطل کی کسوٹی ہے۔
شریعت ناقصہ کے تین مقام ہیں اوّل وہ لوگ جن کے ظاہر بھی خراب باطن بھی خراب ہیں خواہ خانوادے ہوں یا پیرزادے یا سیّد زادے ان سے تلقین لینا گناہ ہے۔ دوسرے وہ جن کا ظاہر خراب اور باطن آراستہ ہے جیسا مجاذیب وغیرہ ان سے بھی تلقین لینا جرم ہے۔ تیسرے جن کا ظاہر آراستہ اور باطن خراب ہے جیسے مولوی مُلّا وغیرہ ان سے تلقین لینا بھی مشکوک ہے چنانچہ ان ہی کے متعلق حدیث شریف میں ہے کہ :
اتقوا عالم الجاہل قیل من العالم الجاہل یا رسول اﷲ قال عالم اللسان و جاہل القلب۔
ترجمہ: جاہل عالم سے ڈرو اور بچو،کسی نے پوچھا یا رسول اﷲ ؐ جاہل عالم کون ہے۔ فرمایا کہ جن کی زبان عالم ہو اور قلب جاہل ہو۔ (بحوالہ زمرۃ ابرار)
شریعت حقّہ میں کامل وہی ہیں جن کے ظاہر و باطن آراستہ ہیں جیسے عالم باعمل و مشائخ کامل ان سے تلقین لینا خوش نصیبی ہے انہی کے متعلق حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
العلماء امتی کا الانبیاء بنی اسرائیل o
’’ میری امت کے عالم بنی اسرائیل کے نبیوں کے مانند ہیں‘ ‘ (مشکوٰۃ شریف و نسائی شریف)
مجدّد و غوث و قطب کو باطنی علوم بھی سکھائے جاتے ہیں جس کی تصدیق کے لئے اسے کرامت عطا ہوتی ہے۔ جو بحکم خدا ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ اگر کسی نے بھی خواہ غوث و قطب کا بیٹا ہو یا عالم ہو۔ باطنی اذن اور علم کے بغیر مجدّد یا غوث یا قطب کا دعویٰ کیا تو وہ سخت گناہ گار ہے فقیر نور محمد کلاچی والے کامل کی پہچان کے بارے میں فرماتے ہیں۔ (بحوالہ عرفان )
(طالب کو چاہئیے کہ مرشد کو آزمائے۔ اگر وہ طامع، حریص ہے یا عیش پرست یا نفس پرست ہے تو فوراً اس سے جُدا ہو جائے، مرشد رسمی یا خانہ زاد پیر نہ ہو بلکہ کسی کامل کی خدمت میں رہ کر ریاضتیں اور مجاہدوں سے باطنی مقام طے کئے ہوں اور سلوک کی جملہ منازل اور مراتب سے آگاہ ہو صرف تصوّف کی کتابیں پڑھنے یا فقہ ، منطق، فلسفہ ، معانی کے علوم حاصل کرنے یا بزرگوں کے گھر پیدا ہونے یا رسمی طور پر کسی دوکاندار پیر سے خلافت لینے سے ہرگز پیرو مرشد نہیں بن سکتا اور نہ ہی ایسے پیروں سے ہدایت اور فیض حاصل ہوسکتا ہے) ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عقائد کو پامال کردیا، کئی اہل سلسلہ خاندانی پیر اپنے آپ کو سجدہ بھی کراتے ہیں منطقی دلائل سے مریدوں کو مطؤن کر کے لوگوں (مریدوں) کو گمراہ کر رہے ہیں۔
حالانکہ سجدہ نہ ہی حضور پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام اور نہ ہی صحابہ کرامؓ آئمہ و اولیائے عظام ؒ نے کرایا بلکہ غیر اﷲ کے لیے سخت ممانعت فرمائی۔ کسی بزرگ کے ہاتھوں کو بوسہ دینا یا تعظیماً دل سے یا مجبوراً جھک جانا اظہار عقیدت و محبت کے لئے روا ہے کیونکہ یہ طریقہ محبانِ رسول ﷺ سے ہے اور اب تک محبانِ اولیاء اﷲ میں چلا آرہا ہے لیکن کسی بزرگ کو دل سے یا مجبوراً سجدہ کرنا شرک ہے اور یہ دجال کے لئے راہ ہموار کرنا ہے یہ طریقہ فرعون سے ہے اس سے کنارہ اور توبہ کرنا لازمی امر ہے۔ قصور امت کا بھی ہے جن کے گھر قرآن مجید ہوتے ہوئے بھی مسلمانی سے بے خبر ہے چاہیے یہ تھا کہ جو مسئلہ سمجھ میں نہ آئے اور علماء کا بھی متفقہ فیصلہ ہو جیسے نماز،روزہ،حج، زکوٰۃ ان پر دل سے عمل کرے اور جو مسئلہ سمجھ میں نہ آئے اور علماء میں بھی مختلف ہو اس طرف دھیان نہ دے اس طرح کوئی بدعت والی بات اگر پیروں فقیروں میں دیکھے تو ان سے جدا ہو جائے۔ کیونکہ افضل اور حق بات کلام اﷲ کی ہے اور کسی بھی عالم یا پیر کو قرآن پاک پر فضیلت نہیں کوئی بھی وہ کام جس سے بدعت، فسق و فجور یا دین کی تباہی کا خطرہ ہو وہ گناہ در گناہ ہے خود توخود، دوسروں کو بھی اس میں شامل نہ کریں لیکن اگر کسی مجذوب سے حالت سکر میں یا کسی محبوب و عاشق سے حالت ملامتیہ ، اتفاقیہ وجدانیہ میں کوئی نامشروع فعل سرزد ہو گیا تو وہ صرف اس تک محدود تھا نہ کہ دوسروں کے لئے ۔ کیونکہ اہل مراتب تصدیق در معافی اور نقل کرنے والے زندیق نامعافی ہوتے ہیں۔ ولایت کے پانچ درجے ہیں قلب کی ولایت حضرت آدم علیہ السلام کو ملی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو روح کے ذریعہ ولایت کے دو درجے ملے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کولطیفہ سری کے ذریعہ ولایت کے تین درجے ملے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لطیفہ خفی کے ذریعہ ولایت کے چار درجے ملے اور حضور پاک ؐ کو لطیفہ اخفی کے ذریعہ ولایت کے پانچوں درجے عطا ہوئے۔ یعنی پہلے درجے والا بقدم حضرت آدم علیہ السلام دوسرے درجے والا بقدم حضرت ابراہیم علیہ السلام تیسرے درجے والا بقدم حضرت موسیٰ علیہ السلام چوتھے درجے والا بقدم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور پانچویں درجے والا بقدم حضور پاک حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں۔
وکل ولی لہ‘ قدم وانی علی قدم النبی بدر الکمال o
ترجمہ : ’’ ہر ولی کا قدم کسی نبی کے قدم پر ہوا کرتا ہے لیکن میرا قدم جد پاک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک پر ہے‘‘ (قصیدہ غوثیہ)
ولایت کے یہ پانچوں درجے آپ ؐکے طفیل آپؐ کی امت کے بھی خواص کو ملے۔
اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم لدنی سکھایا آپ کا ظاہر باطن ایک تھا۔ آپ کو لوح محفوظ کا بھی کشف تھا یہ کرامت اس امت کے ولیوں کو بھی عطا ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوئی اس امت کے بھی کئی ولی آگ پر چہل قدمی کر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس عصا تھا جو پھینکنے سے اژدہا بن جاتا اس امت کے ولیوں کو بھی یہ طاقت حاصل ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م مردوں کو زندہ کرلیتے ان ولیوں میں سے بھی ایسی کرامت رونما ہوئی۔ وہ نبی دیدارالٰہی کو ترستے آئے اور یہ دیدار میں رہتے ہیں فرق یہ ہے کہ نبی با معجزہ ہوتا ہے جو ظاہر کرنا پڑتا ہے اور ولی با کرامت ہوتا ہے جسے چھپانا پڑتا ہے لیکن بعض سے بحالت جلالیت یا بحالت کمالیت یہ کرامتیں ظاہر ہوئیں جیسا کہ پیران پیر دستگیرؒ کا بارہ سال کی ڈوبی کشتی کا قصہ ہے۔ شاہ شمس سبزواری ؒ کا ہندو راجہ کے بچے کو قُم بِاِذْنِی سے زندہ کرنااور بعد میں فتویٰ لگنا۔ حضرت ادہم ؒ کا بادشاہ کی لڑکی کو قبر سے نکال لانا زندہ ہونا پھر اس سے شادی کرنا جس سے حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ پیدا ہوئے۔ حضرت مخدوم جہانیاں ؒ کا روضہ اقدس میں ہجوم سے اُڑ جانا۔ حضرت لعل شہبازؒ کا قلعہ کو پلٹ دینا۔ حضرت بری امام ؒ کا مردہ بھینسوں کو تالاب سے دوڑانا اور بچھڑے کا پتھر ہو جانا۔ حضرت سخی سلطان باہو ؒ کا ایک نظر سے مٹی کے ڈھیلوں کو سونا بنا کر یہ شعر پڑھنا۔
نظر جنہاں دی کیمیا ہووے سونا کردے وٹ
اﷲ ذات کریندائی کیا سیّد تے کیا جٹ
علم لدنی کے ذریعہ حالات بتانا جسے خضر وقت کہا جاتا ہے نظروں سے فوراً غائب ہو جانا اس قسم کی ہزاروں کرامتیں کسی نہ کسی بندۂ خدا سے منسلک ہیں لیکن اکثر مسلمان ان پر شبہ کرتے ہیں اور ایسی باتیں شرک سمجھتے ہیں۔ معجزوں کا ذکر تو قرآن مجید میں موجود ہے حضرت خضر علیہ السلام کا علم لُدنی جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سیکھنے گئے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک مردہ کو زندہ کر کے حال پوچھنا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کا ٹھنڈا ہوجانا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کوہ طور پر رب ذوالجلال سے گفتگو کرنا تو کیا وہ بھی شرک تھا۔ جبکہ ولی نبی کا نعم البدل ہے حالانکہ قدرت نے سحر والوں کو بھی اتنی طاقتیں بخشیں جیسا کہ سامری کا بچھڑا بنانا اور اس سے آواز آنا۔ علم نجوم کے ذریعہ (ستاروں کا )فرعون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی خبر دینا جادو گروں کا حضرت موسی علیہ السلام سے سانپ بنا کر مقابلہ کرنا۔ تو کیا ا س امت کے ولیوں کو کوئی طاقت نہیں جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ولی کا ملکہ بلقیس کا اتنا وزنی تخت اور اتنی مسافت سے چشم زدن میں حاضر کر دینا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنے ولیوں کی طاقت کا جنوں انسانوں چرند پرند کے سامنے مظاہرہ کرانا کیا یہ سب شرک ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ارشاد مبارکہ ہے کہ ’’ میرے ولیوں پر بنی اسرائیل کے نبی بھی رشک کریں گے‘‘۔
ایک قصّہ ہے کہ حضرت شیخ جمال الدین ابو محمد بن عبدالبصری ؒ کہتے ہیں کہ میری ایک دفعہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور اس امت کے اولیاء کی بابت حضرت خضر علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ ایک دن میں بحر محیط کے کنارے سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص کو دیکھا جو عبا پہنے لیٹا ہوا تھا میں نے اسے پہچان لیا کہ یہ ولی ہے۔ میں نے اسے پاؤں سے ہلایا اور کہا کہ خدمت کے لئے کھڑا ہو جا اس نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو میں نے کہا کہ اگر تو کھڑا نہ ہوا تو لوگوں کو پکار کر کہہ دوں گا کہ یہ اﷲ کا ولی ہے اس نے کہا کہ اگر تم یہاں سے نہ جاؤ گے تو میں بھی پکار اٹھوں گا۔ کہ یہ ’’خضر ‘‘ہے میں نے کہا تم نے مجھے کیسے پہچانا کہ میں خضر ہوں اس نے کہا کہ اب تم ہی بتاؤ میں کون ہوں حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ میں نے علم لدنی کے ذریعہ پتہ لگانا چاہا لیکن کچھ نہ پتہ چلا پھر میں نے اپنی ہمت خدا تعالیٰ کی طرف بڑھائی اور دل میں کہا’’ اے میرے رب میں نقیب اولیاء ہوں اور یہ ولی میری سمجھ سے باہر ہے‘‘ آواز آئی’’ اے خضرتو ان کا نقیب ہے جو مجھے دوست رکھتے ہیں اور یہ شخص ان میں سے ہے جن کو میں دوست رکھتا ہوں‘‘۔ اس کے بعد وہ شخص نظروں سے غائب ہو گیا۔ حالانکہ اولیاء مجھ سے غائب ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ’’ اے جمال الدین اس امت کے ولی میری دسترس سے باہر ہیں ا س کا مطلب یہ نہیں کہ اولیاء کرام انبیاء علیہم السلام کے درجہ سے بڑھ کر ہیں۔ بلکہ اس کی ذات میں اسم ذات کے ذریعہ اس طرح گم ہوئے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک عاشق کا جسم کا گوشت کا ٹ کر دینے کا حال ہے۔ کچھ مسلمان حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا علم غیب یا چاند کا دو ٹکڑے ہونا اور معراج جسمانی پر بھی شبہ کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ جب ولایت کے چار درجے والا ظاہری جسم سے آسمان پر جا سکتا ہے تو انتہائی درجے والے پر شک کیوں کیا جاتا ہے۔
دو نبی ظاہری جسم سے ملکوت میں ہیں جنہیں ابھی تک موت نہیں آئی وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام اور زمین پر حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام زندہ ہیں۔ آپؐ کی شان تو یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو آپ کے نام کی بدولت معافی ہوئی۔ سب نبی آپ کے امتی ہونے کی التجا کرتے تھے۔ آپ کی بدولت یہ دنیا وجو دمیں آئی۔ حدیث قدسی ہے: لولا ک لما خلقت الافلاک o
’’اے حبیب ﷺ اگر آپ کو پیدانہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔‘‘
براق و جبرائیل و رفرف جہاں جلنا شروع ہوئے لیکن آپ بڑھتے ہی گئے جب ہر سواری جواب دے گئی تو جناب حضر ت پیران پیر شیخ محی الدینؓ کی روح مبارک آپ کو اپنے کندھے پر بٹھا کر منزل تک لے گئی تبھی تو آپ نے خوش ہو کر کہا تھا۔ آج میرے قدم تمہارے کندھوں پر ہیں کل تمہارے قدم میرے ولیوں پر ہوں گے۔ تب ہی پیر دستگیرؓ نے بغداد میں اثناء وعظ میں کہا۔ قدمی ھذہ علی رقبتہ کل ولی اﷲ o
’’ یعنی میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے !‘‘
آپ کی شان ایک نفسانی عالم کیا جانے، جس نے شاید بوجہ قلب سیاہ ابلیس کو بھی نہ دیکھاہو آپ کی روح مبارک حضرت آدم علیہ السلام سے ستر ہزار سال پہلے ہی وصل یار تھی۔ تبھی تو آپ نے پیدائش کے بعد سجدہ کر کے فرمایا تھا ہم دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھے۔ منافقین کہتے ہیں کہ بچہ کیسے بول سکتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے بولے تھے۔ ان کے متعلق قرآن مجید میں ہے ۔
ویکلم الناس فی المھد وکھلا و من الصالحین o
ترجمہ: اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔ (سورۃ آل عمران آیت 46)
آپ کا اسم مبارک کرسی عرش پر کلمہ طیبہ میں درج تھا! اور جب حضرت آدم علیہ السلام نے دوبارہ کشف میں’’ محمد رسول اﷲ ‘‘ لکھا دیکھا تو اس نام کا واسطہ دیا تب حضرت آدم علیہ السلام کو معافی ہوئی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام نے خواہش ظاہر کی کہ اس عظیم ہستی کا دیدار کرایا جائے۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے حضور پاک ﷺ کا نور حضرت آدم علیہ السلام کو انگوٹھوں میں دکھایا۔ جسے دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام نے چوم لیا۔ اسی مناسبت سے آج بھی بہت سے مسلمان بوقت اذان نام محمد ؐ پر انگوٹھے چومتے ہیں کہ یہ سنت حضرت آدم علیہ السلام ہے۔ چونکہ اسم محمد ؐ کا نور مقام یاہوت میں جمالی تھا جسے مقام محمدیؐ بھی کہتے ہیں اور روح مبارک کا نور بوجہ وصل جلالی تھا روح اور اسم جب جسم میں داخل ہوئے تو جسم ان کی تپش کی تاب نہ لا کر نور علی نور ہو گیا یہی وجہ ہے کہ آپ کے دائیں پاؤں کے نیچے جمالیت اور بائیں پاؤں کے نیچے جلالیت ہے۔ جس طرح اسم اﷲ کا ورد جلالی و ذاتی نور پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اسم محمد ﷺ کا ورد جمالی نور بناتا ہے۔ بعض عارف اس جمالی اسم کے ذریعہ بھی مجلس محمدیؐ میں پہنچے۔ کل کائنات جلالی و جمالی اسماء کے اثرات کی محتاج ہے۔ جیسا کہ سورج جلالیت کا اور قمر جمالیت کا قرآن مجید کی بھی سورتیں کچھ جلالیت اور کچھ جمالیت کا حکم رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ انسانوں پر بھی بلکہ اشیائے خوردنی پر بھی ان کا اثر ہے۔بعض مسلمان آپؐ کے حیات النبی پر شبہ کرتے ہیں اور شہیدوں کو زندہ مانتے ہیں کیا شہیدوں کا مرتبہ آپ ﷺ سے زیادہ ہے شک ان کی کوتاہ بینی اور سیا ہ قلبی کا ہے۔ جو آپ ؐ کی زیارت خواب یا ظاہر سے محروم ہیں جب تک آپؐ کسی کو زیارت نہ دیں اس کے امتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں اﷲ تک پہنچنے کا وسیلہ آپؐ کی زیارت اعانت ہے آپ تک پہنچنے کا وسیلہ باطنی صفائی ہفت اندام ہے۔ اور باطنی صفائی کا وسیلہ کامل مرشد ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔
یا ایھا الذین امنو اتقو اﷲ وابتغو آ الیہ الوسیلتہ وجاھدو ا فی سبیلہ لعلکم تفلحون o
ترجمہ : اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ! (سورۃ المائدہ آیت نمبر 35)
جس طرح آیۃ الکرسی کو فضیلت ان اسماء اﷲ اﷲ حیی قیوم سے ہے اسی طرح درود شریف کو فضیلت اسم ، جسم اور روح سے ہے فرشتے آیۃ الکرسی لکھی دیکھ کر دست بدستہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور درود شریف پڑھنے سے مست ہو جاتے ہیں۔ تبھی تو آیا ہے۔
ان اﷲ و ملئکۃ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنو اصلو اعلیہ وسلمو ا تسلیماً o
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی درود و سلام بھیجو! (سورۃ الاحزاب آیت 56)
آپ پر اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی درود پڑھا جاتا تھا جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ جب مائی حوا حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئیں تو آپ انہیں دیکھ کر بیقرار ہوئے اور ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فرشتوں نے کہا کہ اے آدمؑ صبر کرو پہلے اس کا مہر ادا کرو انہوں نے دریافت فرمایا کہ مہر کیا ہے تو فرشتوں نے کہا کہ تین دفعہ رب کے حبیب ﷺ پر درود پا ک پڑھو!
اصل قرآن مجید جو نوری الفاظ میں حضرت جبرائیل امین لے کر آئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر اترا جو بعد میں سینہ در سینہ سلسلہ در سلسلہ مستحق لوگوں کو ملتا رہا اور ان لوگوں کی کرامتیں اور فیض اس باطنی قرآن مجید سے ہیں۔ یہ ظاہری قرآن مجید اس کا عکس ہے جو بذریعہ کاغذ محفوظ ہوا۔ جو کہ علماء و حفاظ کرام کے حصہ میں آیاپھر علماء نے ظاہر سے ظاہر کو آراستہ کیا اور اولیاء نے باطن سے باطن کو پاک کیاا بدال تک بے اِذن ارشاد ہے۔ قطب آدھا پیر اور غوث کامل پیر ہوتا ہے جو شریعت والوں کی ظاہری باطنی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے بعد معارف ہے جو مکمل ہے وہ طریقت کے منازل طے کراتا ہے اس کے بعد اکمل ہے جو حقیقت والوں کی تلقین کے لئے ہے اور پھر نور الہدیٰ ہے جو معرفت کی تعلیم سکھاتا ہے۔ پھر نو ر علیٰ نور کا رُتبہ ہے جو بقا و لقا میں پہنچاتے ہیںیہ مقام معراج ہے فقراء کے لئے روحانی اور حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جسمانی معراج کی منزل ہے۔

عمل اکسیر
پاک و صاف ہو کرآدھی رات کے بعد یا صبح صادق سے اشراق تک کسی پاک جگہ یا کسی کامل کے دربار پر تنہائی میں بیٹھ جائیں ! آغاز کے لئے جمعرات یا جمعہ یا اتوار کے دن زیادہ موزوں ہیں، کلمہ طیبہ، آیۃ الکرسی ، چاروں قل اور سوۃ مزمل ہر ایک کو تین بار پڑھ کر اپنے ارد گرد دائرہ (حصار ) کھینچ لیں ہاتھوں پر دم کر کے جسم پر مل لیں پہلے پہل دھیان و خیال دنیا و مافیھا سے ہٹا کر پوری دل جمعی کے ساتھ آنکھیں بند کر لیں انگلی کو قلم خیال کریں اور تصور کے ذریعہ دل پر اسم اﷲ لکھنے کی کوشش کریں سانس اندر لیتے وقت اﷲ اور باہر نکالتے وقت ھُو پڑھیں اگر کسی کا مرشد کامل ہو خواہ عالم حیات میں یا ممات میں وہ ضرور طالب کی مدد کو پہنچے گا۔ ممکن ہے کہ وہ کسی جُسہ کے ذریعہ سامنے آئے یا بذریعہ دلیل دل میں آنے کا پیغام دے۔ بعض طالبوں کو اس وقت کسی بھی ولی کی مدد ہو سکتی ہے۔بعض کو نبی پاک سید لولاک کا سبز گنبد روضہ نظر آجاتا ہے بعض ایسے بھی فطری ولایت والے ہوتے ہیں کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام کی روح مبارک سے ہمکلام ہوجاتے ہیں۔
جب طالب یہ عمل شروع کرتا ہے تو شیطان کو آگ لگ جاتی ہے اور وہ ہر حیلہ سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے جب کسی کامل کا ہاتھ ہو جاتا ہے تو اس کا شوق دن بہ دن بڑھتا ہے اور اس عمل سے اسے لطف و سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے ایسے حضرات ایک دن اسم اﷲ کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں اور ان کو دل پر صاف طور سے اسم اﷲ لکھا نظر آتا ہے دیکھنے سے ان میں استغراق کی حالت ہو جاتی ہے اس وقت ذکر قلب بھی جاری ہو جاتا ہے یعنی دل سے خود بخود ذکر جاری رہتا ہے اور دل کی اصلاح جاری رہتی ہے۔ حدیث شریف:
ان فی جسد بنی آدم مضغتہ اذا صلحت صلح الجسد کلہ الا وھی القلب
ترجمہ: بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب اس کی اصلاح ہو جاتی ہے تو تما م بدن اور جسم کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)
اور پھر ان کے لئے فرمان باری تعالیٰ ہے:اولئک کتب فی قلوبھم الایمان o
’’ یعنی یہ وہ لوگ ہیں۔ جن کے دلوں پر اﷲ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا۔‘‘ (سورۃ المجادلہ آیت نمبر 22)
جب طالب کے وجود میں اسم اﷲ کا نور سرایت ہونا شرو ع ہو جاتا ہے تو پہلے پہل طالب کو نیند نہیں آتی بائیں پہلو میں درد شروع ہو جاتا ہے بھوک نہیں لگتی بدن میں حرارت سی محسوس ہوتی ہے طالب کو ان علامات سے نہیں گھبرانا چاہیے کیونکہ اس کے جسم سے پاک نام کی برکت سے غلاظتیں نکلتی ہیں اور آخر میں صحت کل کے آثار ہویدا ہوتے ہیں ۔جب قلب ذکر سے عروج میںآتا ہے تو سوتے میں بھی ذکر قلب جاری رہتا ہے۔
حدیث شریف: ینام عینی ولا ینام قلبی
’’ یعنی میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا قلب نہیں سوتا۔‘‘ (بحوالہ نور الہدیٰ)
جب اسم اﷲ کا نور آنکھوں میں آتا ہے تو باطنی نظر کھل جاتی ہے طالب غیبی چیزیں، ارواح، مؤکلات، اور جنات وغیرہ دیکھ سکتا ہے بعض دفعہ طالب کا دل دنیا سے اچاٹ ہو جاتا ہے اور طبیعت میں روکھا پن اور غصہ کی سی حالت ہو جاتی ہے ایسی حالت میں درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہیے۔ طالب حق کے لئے ہر حال میں شریعت کی پابندی ضروری ہے۔ بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو کسی کامل کی مدد سے محروم رہتے ہیں بعض کے دلوں پر اﷲ تعالیٰ کی مہر لگی ہوتی ہے انہیں یہ عمل کرنے سے کوفت ہوتی ہے دوران عمل شیطانی خیالات میں گھر جاتا ہے اور خوف آنے لگتا ہے ایسے حضرات کو چاہیے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی اچھا شگون نہ ملے تو ا س عمل کو ترک کر دیں ورنہ نقصان کا اندیشہ ہے کیونکہ ہر شجر با ثمر نہیں اور ہر بوٹی کیمیا ء نہیں ہے جب طالب حق اس عمل سے بڑھتا ہے تو اسے خواب یا کشف ہونے لگتا ہے تو کبھی شہیدوں کی ارواح یا اولیاء کے جُسوں یا ملائک کی طرف سے خوشخبری کا اشارہ ہوتا ہے اور کبھی شیاطین ان کے روپ میں اشارہ کرتے ہیں جسے ابتداء میں طالب نہیں سمجھ سکتا اکثرانہی اشاروں کو صحیح سمجھ کر راتوں رات بغیر تزکیہ و تصفیہ کے ولی بن جاتے ہیں۔ اور جھوٹے دعوؤں سے رُجوعات خلق اور غلط الہامات یا اشاروں سے تکبر و حرص اور گمراہی میں پھنس کر خاتمہ ایمان ہو جاتاہے ایسے موقعہ پر طالب حق کو چاہیے کہ جو بھی اشارہ شریعت کے خلاف ہو تو اس پر قطعاً عمل نہ کرے اسی میں سلامتی ہے شیطان ہر ولی کی شکل ہر دربار حتیٰ کہ سیاروں اور ستاروں کی بھی شکل میں آسکتا ہے لیکن صرف تین شکلوں میں نہیں آسکتا اگر ایسا بھی ہو جائے تو دنیا سے حق و باطل کی تمیز اٹھ جائے۔ ایک تو قرآن پاک کی اصل میں، لیکن قرآن مجید کی طرح موٹی کتاب بن سکتا ہے اور عربی میں بجائے آیات شریفہ کے کوئی اور تحریر ہوگی۔ دوسرا خانہ کعبہ کی اصلی شکل میں نہیں آسکتا لیکن مصنوعی خانہ کعبہ بنا کر دھوکہ دے سکتا ہے۔
تیسرا حضور ﷺ کی اصلی شکل میں نہیں آسکتا مگر تمیز وہی کر سکتا ہے جس نے اس سے قبل بھی خواب یا مراقبہ مکاشفہ میں دیدار سے شرف حاصل کیا ہو جس کو یہ ملکہ حاصل نہیں وہ دھو کہ کھا سکتا ہے بلکہ اس زمانہ میں ہزاروں لوگ دھوکہ کھا کر ولی بن بیٹھے ہیں جیسا کہ مُلاّجیون کا خواب کہ میں نے تین دفعہ حضور ﷺ کو تھانوی کی شکل میں دیکھا(صدق الرویاء) یا مولوی حسین علی کا خواب کہ میں نے حضور ﷺ کو پل صراط سے گرنے سے بچا لیا۔ (بلغۃ الحیران) اور ! یہ لوگ اسی حدیث شریف کے حوالہ سے مطمئن ہیں کہ : من راء نی فقد راء ی الحق o’’ یعنی جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے سچ مچ دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
یہ حدیث شریف آپ ؐ نے صحابہ کرام کو ارشاد فرمائی کیونکہ وہ بچشم دیدمشاہدہ سے مشرف تھے انہوں نے جب بھی خواب میں دیدار کیا سچ کیا لیکن جن لوگوں کو یہ شرف حاصل نہیں تو وہ خواب میں کیسے تمیز کر سکیں گے!
در شریعت خاص کر طریقت والوں کو ایسے دھوکے ہوتے رہتے ہیں اس لئے آپؐ کی زیارت کی صحیح پہچان کا راز کھولا جاتا ہے۔ خواب، مراقبے یا کشف میں جب مجلس محمدیؐ میں پہنچے گا تو دیواروں سے اتنا نور برس رہا ہوگا کہ آنکھیں خیرہ ہو ں گی یعنی نظر کا ایک جگہ ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا جب بھی سامنے آئے گا تو تجلیات کا یہ عالم ہوگا کہ دیکھے تو جان جائے نہ دیکھے تو حیران و پریشان ہو اور مجلس میں تلاوت یا کلمہ طیبہ یا درود شریف کا ذکر ہو رہا ہوگا۔ دیدار ہوگا۔ دیدا ر کے بعد اس کا دل دنیا سے سرد ہو چکا ہوگا۔ عبادت میں شوق آنکھوں میں نمی، عاجزی اور نفسانی خیالات کا فور ہو چکے ہوں گے تب وہ مجلس حقیقی متصور ہوگی۔ اور کوئی اگر مجلس خاموش ہو اور یہ حالت پیدا نہ ہو الٹا تکبر غرور، نفسانی خواہشات کا زور ہو جائے تو وہ مجلس باطل متصور ہوگی۔
خواب و مراقبے والے بے اختیار ہوتے ہیں لیکن کشف والے ہوشیار رہتے ہیں کشف والوں کو چاہیے کہ جب کبھی ایسی محفل میں جائیں تو درود شریف اور لاحول ولا قوّۃ زیادہ پڑھیں تاکہ حق کی پہچان میں اور بھی سہولت ہو۔ دیدار والا اس حُلیہ مبارک سے مشرف ہوگا آنحضرت ﷺ کا رنگ گندم گوں، ناک بُلند پیشانی کشادہ، ہاتھ لمبے، دانت کشادہ آنکھیں سیاہ اور داڑھی مبارک گھنی اور گنجان ہے لیکن یاد رکھیں کہ یہ دیدار اس کے اس جُسہ کے ہی ذریعہ ہوگا جو پاک ہو کر قابل مجلس محمدیؐ ہو چکا ہو گا! ان جُسوں کے بھر جانے سے ہی عمل تکسیر پڑھنے کے لائق ہو تا ہے عمل تکسیر کے ذریعہ طالب ارواح اور ملائکہ سے امداد حاصل کرتا ہے۔ اس کی تفصیل عام فہم سے بالا تر ہے پہلے اپنی زبان سے پھر جُسوں کی زبان سے تسخیر قلوب ، تسخیر حیات،تسخیر مؤکلات اور حاضرات ملائک و ارواح کے عمل سیکھتا ہے آج کل لوگ آئینہ بینی یا کسی ذریعہ سے ارواح کو حاضر کرتے ہیں۔ یہ استدراج ہے۔ شیاطین روحوں کی شکل میں آکر لوگوں کو گمراہ اور عمل تکسیر کو بدنام کرتے ہیں۔
ایک رات تکسیر کا عمل کسی ولی کی قبر پر پڑھنا گویا سینکڑوں چلوں، اعتکاف اور برسوں کی ریاضت و مجاہدہ سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے اگر اہل قبر روحانی تعاون کرے تو ایک ہی رات میں عامل کو وہ مقامات طے کرادیتا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں طے کئے ہوں یہ عمل سیکھنے کے لئے بالمشافہ ملاقات ضروری ہے۔جب آدمی ذکر قلب میں کامیاب ہوجائے تو پھر لطائف کی طرف رجوع کریں۔ لطائف کا طریقہ بھی وہی ہے صرف تصوّر لطائف کے اپنے اپنے مقام پر کرنا پڑتے ہیں۔ بعض ذکر و فکر اسم اﷲ ہی سے کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جس طرح لطائف الگ الگ مقام رکھتے ہیں۔ اسی طرح ان کی غذا (نور) بھی الگ ہے اور اسماء بھی الگ ہیں اگر ان کو ان کی مخصوص غذا دی جائے تو وہ جلدی پروان چڑھتے ہیں۔ ذاکر قلبی شریعت کی انتہا تھا۔ اور ذیل کے اذکار طریقت کی ابتداء ہیں۔

تصور                                       ذکر                               نام لطیفہ
ﷲ                                لا الہ الا اﷲ                               -1 قلب
لہ‘                                     یا اﷲ                                -2 روح
ھو                             یا حیی یا قیوم                             -3 سری
محمد ؐ                                 یا واحد                                -4 خفی
فقر                                      یا احد                             -5 اخفی
اﷲ محمد                                   یا ھو                                -6 اَنّا
اﷲ                      لا الہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ                 7 نفس
ان اذکار کو جو ترتیب دی گئی ہے یعنی ابتداء قلب اور انتہا نفس ہے روزانہ ایک یا دو تسبیح یا جتنا کر سکیں باری باری حرکت میں لائیں چلتے پھرتے ذکر قلب لفظ اﷲ‘ یا لِلّٰہ کا ورد جاری رکھیں یا جو لطیفہ حرکت میں آ جائے سب لطائف کی حرکت سے ذاکر سلطانی اس کی انتہا کے بعد ذاکر ربانی اور اس کی انتہا کے بعد ذاکر قربانی ہوتا ہے۔ غوث و قطب یہاں تک پہنچتے ہیں تب مرتبہ ارشاد کے قابل ہوتے ہیں اور انہی کی محبت و نظر اور تعلیم صراط مستقیم کی طرف دلالت کرتی ہے۔ مساوی قطب و غوث بھی ان اذکار اور مراحل سے گزرے ہوتے ہیں لطائف کے جاگنے اور ذکر کرنے کی پہچان یہ ہے کہ یہ اپنے اپنے مقام میں بوقت توجہ قلب کی طرح حرکت کریں گے۔ اور رقت جیسی حالت طاری ہو جائے گی۔
جب ذاکر سلطانی کی انتہا ہو جائے تو اس کے ہفت اندام پاک ہو جاتے ہیں اس وقت وہ عمل تکسیر کے قابل ہوتا ہے۔

خصوصی نوٹ
نوٹ: حضور پاک کی روح مبارک سے سات ہزار سال پہلے اﷲ نے آپ کے لطیفہ قلب کو بنا یا اور اسے مقام محبت میں رکھا اور پھر لطیفہ اَنّا کو روح سے ایک ہزار سال پہلے بنایا اور اسے مقام وصل میں رکھا ۔اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کے بنانے سے ستر ہزار سال قبل حضور پاک ؐ کی روح مبارک کو بنایا جسے رو برو رکھا حضرت آدم علیہ السلام کے پانچ ہزار آٹھ سو اُناسی سال کے بعد آپ کے جسم کی تخلیق ہوئی۔ پھر اَنّا کو روح میں روح کو دل میں اور دل کو جسم میں قید کر دیا۔
قلب پر ۳۶۰ مرتبہ اور اَنّا پر ۵۰۰ مرتبہ روزانہ نظریں ڈالی جاتیں اور پھر روح مبارک تخلیق کے بعد عاشق معشوق کی طرح آمنے سامنے رہنے لگ گئی جب یہ لطیفے جسم میں قید ہو گئے تو اس جسم پر ہر وقت اﷲ تعالیٰ کی نظر رحمت پڑنا شروع ہو گئی۔ ایک نظر رحمت سات گناہوں کو جلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ ؐ کی صحبت میں بیٹھنے والوں کے گناہ جلنا شروع ہو گئے اور وہ بغیر وظیفوں او رچلوں کے ولایت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔
حضرت آدم علیہ السلام ۹۳۰ سال زندہ رہے اور تین ہزار بائیس سال کے بعد اولوالعزم رسولوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ۔ اور پھر ۲۱۵۷ سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ۱۰۰ سال بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ۶۰۰ سال بعد حضور پاک ﷺ دنیا میں تشریف لائے آپ کو تشریف لائے ہوئے ۱۴۵۸ سال ہوگئے۔

عمل تکسیر
عمل تکسیر کا عامل بننے کے لئے پہلے اس کی زکوٰۃ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ پورا قرآن مجید کسی جنگل میں یا غوث و قطب کے دربار پر دو رکعت میں ختم بوقت رات کرے تین دن متواتر ایسا کرتا رہے یا سورۃ مزمل روزانہ دو سو دفعہ ہر بار پڑھنے سے پہلے اﷲ لا الہ الا ہو پڑھے تاکہ رُجعت سے محفوظ رہے۔ نوچندی جمعرات کو شروع کرے اور پانچ دن میں ایک ہزار کی زکوٰۃ پوری کرنی ہوگی ہر روز پڑھنے سے پہلے غسل کرے پاک لباس زیب تن اور خوشبو لگائے دوران زکوٰۃ جلالی و جمالی چیزوں کا پرہیز اور ترک حیوانات کرے بہتر ہے کہ پانچ دن ایک ہی جگہ خلوت میں گزارے زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی روزانہ گیارہ مرتبہ سورۃ مزمّل پڑھتا رہے تاکہ عمل قابو میں رہے۔
اب اہل قبور اولیاء اﷲ سے رابطہ یا امداد کے لئے طریقہ یہ ہے کہ نصف شب کے بعد روحانی کی قبر پر جائے۔ پہلے درود شریف پھر الحمد شریف پھر درود شریف پھر سورۃ اخلاص پڑھ کر روحانی کو بخشے اور پھر چاروں کونوں پر باری باری اذان دے پھر قبر سے مخاطب ہو کر یہ کہے۔ یا عبداﷲ قُم باذن اﷲ امداد کن فی سبیل اﷲ۔ اس کے بعد سرہانے کی طرف بیٹھ کر گیارہ مرتبہ سورۃ مزمّل پڑھے اگر روحانی کی طرف سے کوئی اشارہ نہ ہو تو پھر سرہانے کے دائیں پھر بائیں پڑھے پھر بھی اشارہ نہ ہو تو پاؤں کے دائیں پھر بائیں طرف پڑھے۔ ضرور اشارہ ملے گا کیونکہ روحانی قبر میں تنگ ہو کر مجبور ہو جاتا ہے اور اگر کشف نہ ہو تو روحانی کے آنے کا اشارہ یوں ہو گا۔ قبر میں جنبش اور وحشت یا خوشبو یا آنکھوں میں چمک دل میں رقت یا کانوں میں ٹن ٹن ، شائیں شائیںیا جسم بھاری ہو جائے گا جب ایسے اثرات کسی بھی وقت پڑھنے میں نمودار ہوں تو پڑھنا موقوف کر دے ذکر و تصوّر اﷲ محمدؐ سے مراقبہ کرے حتیٰ کہ وہیں سو جائے اسی طرح عمل تکسیر سے روحانیوں سے رشتہ جڑ جاتا ہے اور وہ اس کے ہر کام میں مدد کرتے ہیں۔ یہ عمل آسان قسم کا ہے اس کے بعد عمل تکسیر حضوری ؐ ہے جو کہ حضور پاک ﷺ سے رابطہ کے لئے ہے لطیفہ قلب، لطیفہ روح اور لطیفہ نفس بھی اپنی اپنی زبان سے عمل تکسیر پڑھتے ہیں۔ جن کے حالات و مراتب عام سمجھ سے باہر ہیں ہر قسم کی تکسیر کے لیے اجازت کامل ضروری ہے ورنہ سر کھپانے یا رُجعت کا خطرہ ہے کیونکہ خاصوں کی بات عاموں میں کرنا مناسب نہیں لیکن ان علوم کا راز اس واسطے کھولا گیا ہے کہ طالبان حق اپنے اپنے مرشدوں سے یہ علوم حاصل کریں محض طفل تسلیوں سے اپنی عمر عزیز برباد نہ کریں اسی عمل اکسیر اور تکسیر کا حاصل کھرے کھوٹے کی تمیز ہے اگر کسی نے ان علوم کو وسیلہ بنا لیا تو وہ کبھی راہ مستقیم سے نہیں بھٹک سکتا۔بصورت دیگر قدم بہ قدم فرقہ در فرقہ آستانہ در آستانہ پھرنا بھٹکنا گمراہی کا امکان موجود ہے۔
سوال : اگر کوئی شخص نماز پنجگانہ نہ پڑھتا ہو سنت رسولؐ یعنی داڑھی بھی نہ ہو عمر میں کم یا جوان سالہ ہو تو کیا اس کا ذکر قلب جاری ہو سکتا ہے؟
جواب: فقرِ محمدیؐ میں قادری، چشتی، نقشبندی اور سہروردی کے علاوہ بھی مختلف قسم کے سلسلے ہیں جیسے ایک فرقہ ملامتیہ بھی ہے جن کو نانگا بھی کہتے ہیں۔ اس سلسلے والے بارہ سال تک ننگے رہتے ہیں۔ ان کو ملامت ہوتی رہتی ہے اور دنیا سے بھی کٹ جاتے ہیں جب ملامت ، بھوک، پیاس، سردی، گرمی سے ان کا نفس سدھر جاتا ہے تو پھر ان کو ذکر قلبی عطا ء ہوتا ہے ذکر قلبی کے بعد دوبارہ دنیا میںآکر مفید بن جاتے ہیں اور شریعت کے پابند ہو جاتے ہیں اور کئی اپنے اسی حال میں مست رہ کر منفرد کی زندگی گزار جاتے ہیں۔ واقعہ ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز ؒ کے زمانے میں ایک عورت بالکل ننگی گھومتی تھی لیکن جب شاہ صاحبؒ کو دیکھتی تو ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ جاتی شاہ صاحب ؒ کے ایک خلیفہ نے شاہ صاحب ؒ سے اس کے سمٹنے کا راز پوچھا ۔ شاہ صاحب ؒ نے اپنی انگوٹھی اس خلیفہ کو دی اور کہا جب وہ عورت نظر آئے تو یہ انگوٹھی پہن لینا۔ جب وہ عورت سامنے آئی تو خلیفہ نے انگوٹھی پہن لی۔ دیکھا ہر شخص جانور نظر آرہا ہے کوئی کتا کوئی گدھا کوئی بیل خلیفہ نے خود کو دیکھا تو بکرا نظر آیا لیکن وہ عورت اور شاہ صاحب ’’ انسان نظر آئے۔ تب شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس عورت کو بھی ہر شخص جانور ہی نظر آتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ جانوروں سے کیا پردہ۔ سلسلہ چشتیہ و ردو وظائف اور روزانہ تین ہزار درود شریف پڑھتے ہیں۔ کلمہ شریف کی ضربیں بھی لگاتے ہیں ۔ تقریباً بارہ سال تک جب ان کا نفس پاک ہو جاتا ہے۔ پھر ذکر قلبی عطا ہوتا ہے۔ نقشبندیہ اور سہروردیہ کے بھی بہت سے اسباق ہیں یہ اسباق بھی کئی سال کے بعد ختم ہو جاتے ہیں پھر ذکر قلبی عطا ہوتا ہے قادری زاہدی بارہ سال تک اناج نہیں کھاتے اور شریعت کی سخت پابندی کرتے ہیں نفس کی پاکیزگی کے بعد ذکر قلب عطا ہوتا ہے۔ قادری سروری بھی شریعت کے ساتھ ساتھ ذکر پاس انفاس بھی کرتے ہیں پھر کئی سال کے بعد نفس کی اصلاح کے بعد ذکر قلبی عطا ہوتا ہے قادری منتہی کا پہلا سبق ہی ذکر قلب کا ہے دوسرے سلسلے نفس کی اصلاح کے بعد ذکر قلب میں پہنچے اور اب نفس کی مزاحمت کے بغیر تیزی سے گامزن ہوئے لیکن سلسلہ منتہی نفس کی اصلاح کے بغیر قلب تک پہنچا اس لیے نفس کی رکاوٹیں بھی ہوتی رہیں جو ں جوں قلب ترقی کرتا گیا نفس کمزور ہوتا گیا اور جب بارہ سال تک نفس کی اصلاح ہوئی اس وقت تک قلب بھی اپنی منزلیں طے کر چکا تھا اس لئے قادری منتہی والے زیادہ سے زیادہ سات دن تک ذکر قلب تک پہنچا دیتے ہیں ان کی نظروں میں چہ مسلم وچہ کافر، چہ زندہ وچہ مردہ سب برابر ہیں۔

ذکوریت
قرآن و حدیث اور اقوال اولیائے عظام کی روشنی میں:
-1 ذکر کرو اﷲ کا کھڑے بیٹھے اور کروٹیں لیتے بھی۔
(قرآن)
-2 تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔
(قرآن)
-3 ہر چیز کے لئے صیقل ہوتی ہے۔ اور قلب کی صیقل ذکر اﷲ ہے۔
(حدیث)
-4 طالب اﷲ کو ذکر اﷲ کے سوا اور کسی چیز سے تشفی نہیں ہوتی۔
(حدیث)
-5 دنیا و ما فیھا ملعون ۔ مگر ذکر اﷲ ۔
(حدیث)
-6 اگر کوئی مجھے دل میں یا د کرتا ہے تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر کوئی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے فرشتوں کی محفل میں یاد کرتا ہوں۔
(حدیث)
-7 اگر کوئی شخص تمام عمر نماز، روزہ، حج ،زکوٰۃ ادا کرتا رہے مگر اسم اﷲ اور اسم محمدؐ سے بے خبر ہو اور اس کے مطالعہ میں نہ رہے تو ساری عبادتیں رائیگاں ہیں۔
(سخی سلطان باہوؒ )
-8 جس شخص کو ذکر اﷲ سے غصہ آتا ہے وہ دشمن خدا ہے یا منافق، کافر یا حاسد متکبر ہوگا۔
(سخی سلطان باہوؒ )
-9 ذکر قلبی کا ثواب درود شریف کے ثواب سے کئی گناہ زیادہ ہے۔
(مجدد الف ثانی ؒ )
-10عورتیں بھی ذکر جہر کر سکتی ہیں۔
(پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ )
-11معلوم ہو کہ تیرا دل چھاتی کی بائیں جانب ہے اس کے دو دروازے ہیں اوپر کا دروازہ ذکر جلی سے کھلتا ہے اور نیچے کا ذکر خفی سے ۔
(شاہ ولی اﷲؒ )
-12مجدد صاحب ؒ سے ایک خادم کا سوال۔ ذکر جہر سے منع کیوں کرتے ہیں؟
مجدد الف ثانی ؒ کا جواب! میرے مخدوم ! آنحضرت ﷺ کا عمل دو طرح پر ہے ایک عبادت کے طریق پر اور دوسرا عرف و عادت کے طور پر وہ عمل جو عبادت کے طور پر ہے اس کے خلاف کرنا بدعت منکرہ جانتا ہوں اور اس کے منع کرنے میں بہت مبالغہ کرتا ہوں کہ یہ دین میں نئی بات ہے اور وہ بات مردود ہے اور دوسرا عمل جو عرف و عادت کے طور پر ہے اس کے خلاف کو بدعت منکرہ نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے منع کرنے میں مبالغہ کرتا ہوں کہ وہ دین سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کو ہو نا یا نہ ہونا عرف عادت پر مبنی ہے نہ کہ دین و مذہب پر۔
کیونکہ بعض شہروں کا عرف بعض دوسرے شہروں کے عرف کے بر خلاف ہے اور ایسے ہی ایک شہر میں زمانوں کے تفاوت کے اعتبار سے عرف میں تفاوت ظاہر ہے۔ البتہ عادی سنت کو مدنظر رکھنا بھی بہت سے فائدوں اور سعادتوں کا موجب ہے۔
مکتوبات مجدد الف ثانی ؒ صفحہ نمبر ۲۳۱

آپ کے سوال ہمارے جواب
مینارہ نور کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں لوگوں نے پڑھنے کے بعد کچھ سوال بھیجے جن کا جواب اس ایڈیشن میں دیا جا رہا ہے۔
سوال : درود شریف پڑھنا بہتر ہے یا ذکر اﷲ کی ضربیں بہتر ہیں؟
جواب: سب سے پہلے مومن ہونا بہتر ہے۔ سورۃ الحجرات میں مومن کی تشریح یوں ہے۔
ترجمہ: اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔۔۔۔۔ انہیں کہہ دو ابھی صرف اسلام لائے ہو مومن تب بنو گے جب نور تمہارے دلوں میں اترے گا۔۔۔۔ ۔نور کے دل میں داخل ہونے کے دو طریقے ہیں ایک حضور پاک ؐ کی نظر خاص اگر پڑ جائے تو سینہ منوّر کر دیتی ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر حواریؒ پر حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ایک نگاہ اویسی طور پر ڈالی تو ولایت کے درجے پر پہنچ گئے جناب غوث پاک ؒ نے ایک چور پر نگاہ خاص ڈالی تو وہ قطب کے درجے تک پہنچ گیا یہ طریقہ وہبی کہلاتا ہے اور کسی کسی کو ملتا ہے۔
دوسرا طریقہ ذاتی یا صفاتی اسماء کا ذکر قلبی ہے لیکن اس میں کچھ عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس طریقے کو کسبی بھی کہتے ہیں۔
جب کسی ایک طریقے سے کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا سینہ منوّر اور دل صاف ہو جاتا ہے۔ حرص ، حسد اور تکبّر وغیرہ سینے سے نکل جاتے ہیں اور وہ اس حدیث کی زد سے بچ جاتا ہے کہ جس میں ذرہ برابر بھی کبر اور بخل ہے جنت کے قابل نہیں اب اس کا جسم اعظم ہو جاتا ہے اور اسم اعظم کے قابل ہو جاتا ہے اس کے قلب کا منہ کھل جاتا ہے جس کا تصرف عرش معلیٰ تک ہے اب اس کی نماز معراج بن جاتی ہے اگر حافظ ہو تو علامہ اقبال کے بقول
؂قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
پھر اگر درود شریف کثرت سے پڑھے گا تو فقر کا درجہ حاصل کر کے محفل حضوری میں پہنچ سکے گا اور عاشق رسول ؐ کا درجہ پا لے گا۔
اگر اسم ذات کا قلبی ذکر کرے گا تو فقر بکمالیت کا درجہ پا لے گا اس مقام پر درودشریف اور تلاوت قرآن اس کی ترقی کا وسیلہ بن جائے گا یہ مقام عاشق مولا کا ہے۔
مجدد الف ثانی ؒ مکتوبات صفحہ ۳۲۳ میں فرماتے ہیں۔ ذکر حق تعالیٰ درود شریف کے پڑھنے سے افضل ہے بشرطیکہ و ہ ذکرالٰہی کسی خاصان خدا سے اخذ کیا ہو مگر بغیر شیخ کے بتلائے ہوئے ذکر سے درو د شریف پڑھنا ہی افضل ہے ذکر قلبی کا ثواب درود شریف کے ثواب سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ (از مکتوبات)
سوال: ذکر فرض ہے یا سنت؟
جواب: ذکر اﷲ سنت بھی ہے فرض بھی۔ قرض بھی اور حکم الٰہی بھی ہے۔
نو سال کی عمر میں حضور پاک ؐ کا سینہ مبارک چاک کیا گیا اور سینہ مبارک میں طفل نوری اور جُسہ توفیق الٰہی کو رکھا گیا چونکہ ان عطائی لطیفوں کا تعلق انوار الٰہی سے ہے اس لئے آپؐ کے سینے میں اسم اﷲ گونجنے لگا۔
جب ذکر سے آپؐ میں جذب یا وجد کے آثار ہویدا ہوتے تو آپؐ غار حرا میں چلے جاتے اور ذکر الٰہی کرتے رہتے کیونکہ اس وقت نماز نہیں اتری تھی۔ ثابت ہوا کہ ذکر پہلی سنت ہے۔ اسلام میں پانچ رکن فرض ہیں۔پہلا رکن کلمہ طیبہ ہے اور افضل ذکر بھی کلمہ طیبہ ہے یعنی کلمہ طیبہ ذکر ہوا اور ذکر کے لئے اﷲ کا حکم ہے۔
القرآن : کہ جب تم نماز پڑھ لو تو اﷲ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤ اٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ کروٹوں کے بل بھی۔ چار وقتی ارکان کا معاوضہ یوم حساب سے ہے لیکن دائمی اور قلبی ذکر کا معاوضہ اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ یعنی ذکوریت سے ولایت کا کوئی مقام پا کر (فاذ کرونی اذ کرکم ) کا درجہ حاصل کر کے الا ان اولیاء اﷲ لا خو ف علیہم ولا ہم یحزنون ۔ تک پہنچ جاتا ہے۔
سوال : درویش اور عالم ایک دوسرے کی ضد کیوں ہیں ، جبکہ دونوں حق کی تلقین کرتے ہیں؟
جواب: ایک طالب علم دس بارہ سال تک حصول دین کے لئے نکلتا ہے مسئلے مسائل ، منطق، حدیث سیکھتا ہے اسے مدرسوں میں یہی سمجھایا جاتا ہے کہ تیرا کوئی قدم سنت نبویؐ سے باہر نہ ہو۔ تو ہی حضور پاک ؐ کے دین کا وارث ہے کہ تیرے ہی لئے حدیث ہے کہ میرے علماء بنی اسرائیل کے بنیوں کے مانند ہوں گے اور تجھے ہر شخص پر فضیلت ہے۔ ان باتوں سے اس میں تکبّر ، انا ، غرور پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ مدرسہ روحانی ہے اور کوئی ولی معلم ہے تو اس کی باطنی تعلیم بھی پوری کرائی جاتی ہے۔ اسے پھر یہ حدیث بھی سنائی جاتی ہے کہ جاہل عالم سے ڈرو اور بچو! صحابہ نے پوچھا عالم بھی اور جاہل بھی؟ آپ ؐ نے فرمایا۔ جس کی زبان عالم اور دل سیاہ یعنی جاہل ہو۔ اس کے تکبر، حرص، حسد کو ختم کرنے کے لئے مجاہدہ اور ریاضتیں کرائی جاتی ہیں اور جب وہ تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کا مقام پا لیتا ہے اس وقت عالم بھی اور درویش بھی بن جاتا ہے۔ یعنی نور علیٰ نور ۔۔۔۔۔، اس وقت کسی پر علم کا غلبہ زیادہ ہو جاتا ہے ۔ جیسے حضرت اما م غزالی ؒ ، حضرت جنید بغدادی ؒ اور حضرت امام ابو حنیفہ ؒ وغیرہ ۔۔۔۔۔ کسی پر عشق کا غلبہ زیادہ ہو جاتا ہے جیسے غوث پاک ؒ ، خواجہ صاحبؒ اور داتا صاحبؒ وغیرہ جبکہ دونوں ہی درست ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور وہ عالم جو تزکیہ اور تصفیہ کا مقام نہیں جانتے جیسا کہ مودودی صاحب، مرزا غلام احمد، عبدالوہاب اور کئی ہزاروں مولوی صاحبان جو اس زمانہ میں موجود ہیں۔ اور وہ درویش جو ظاہری علم نہیں جانتے بلکہ ذکوریت سے کچھ قلب کا مرتبہ پاکر جذب یا سکر میں پھنس گئے واقعی ایک دوسرے کی ضد بلکہ دشمن ہیں۔
سوال: اگر کوئی ولی نہ ہو لیکن خود کو ولی سمجھے اور مخلوق بھی اسے ولی سمجھے اس کے بارے میں کیا رائے ہے نیز ولی کی پہچان کیا ہے؟
جواب:علمائے امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبی نہیں لیکن نبوّت کا دعویدار ہے تو وہ کافر ہے اس کے ماننے والے بھی کافر ہی کہلائیں گے نبی کے لئے وحی اور معجزہ شرط ہے اسی طرح فقرائے امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی ولی نہیں اور دعویدار ہے تو وہ کم بخت سخت گناہ گار او ر احمق ہے جس نے خواہ مخواہ طالبوں کا بوجھ سرپر لاد لیا اور ہزاروں طالبوں کی عمر برباد کر دی اس کو ولی ماننے والے بھی کم بخت اور فیض سے محروم رہتے ہیں ولی کے لئے الہام اور کشف کرامت ضروری ہیں تب وہ مفید ہے اگر کسی کو کشف کرامت الہام نہ ہوں خواہ اﷲ کے ہاں مقرب ہی کیوں نہ ہو وہ منفرد کے زمرے میں ہے اسے چاہیے کہ رُجوعات خلق سے بچ کر رہے ولی کی سب سے ادنیٰ کرامت یہ ہے کہ سات دن کے اندر اندر طالب کو ذاکر قلبی بنا دے یعنی اس کے دل کی ہردھڑکن اﷲ اﷲ کرنے لگے اور کم از کم چار مرد یا آٹھ عورتیں یہ گواہی دے سکیں کہ اس کے ذریعے انہیں محفل حضوری ؐ نصیب ہوئی ہے اور خود بھی اﷲ تعالیٰ سے ہمکلامی کا مرتبہ رکھتا ہو ۔یہ فقر با کمالیت کا درجہ ہے فقر با کرم والے بھی حضور پاک ﷺ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور طالب کو ریاضت عبادت اور وظائف کے بعد ذکر قلب اور محفل حضوری ؐ میں پہنچادیتے ہیں اگر ایسی کرامتوں والا شریعت کا پابند ہو تو اس کے درجے میں ترقی ہوتی رہتی ہے اگر شریعت میں تارک ہو جائے تو کسی ایک مقام پر ساکن ہو جاتا ہے۔
سوال : اسم ذات جلالی ہے یہ ویرانوں میں کرنے کا ہے اس سے آدمی پاگل ہو جاتا ہے یہ کہاں تک درست ہے؟
جواب: اس میں شک نہیں کہ اسم ذا ت سخت جلالی ذکر ہے۔ققنس ایک پرندہ ہے اس نے کسی درویش سے اﷲ ھُو سنا اور اس نے بھی اﷲھُو شروع کر دیا حتیٰ کہ ذکر کی گرمی سے اس کے جسم میں آگ لگ گئی راکھ سے پھر انڈا بنا۔پھر بچہ بنا اور بڑا ہو کر اس نے پھر اﷲ ھُو کہنا شروع کر دیا اور پھر جل گیا۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ اس اسم کو اﷲ نے پہاڑوں پر اتارنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا لیکن انسان کے دل نے اسے قبول کر لیا لیکن ان دلوں نے قبول کیا جن میں محمد رسول اﷲ ﷺ کی گونج اور محبت تھی کیونکہ رسول پاک ﷺ کا اسم مبارک جمالی ہے اور اسے کنٹرول میں رکھتا ہے۔
علم،عبادت،ریاضت کا تعلق ظاہر سے ہے لیکن انوار کا سلسلہ باطن سے ہے باطنی تعلق رکھنے کے لئے اس امت میں نو سلسلے تھے جو اب چاررہ گئے ہیں۔ قادری ، نقشبندی، چشتی ، سہروردی۔۔۔۔۔ سہروردی بھی ذکوریت کو چھوڑ کر صرف نعت خوانی میں لگ گیا۔ اب وہ بھی کٹتا جا رہا ہے جب تک کوئی ان سلسلوں میں داخل ہو کر کسی کامل سے وابستہ نہ ہو گا، اس وقت تک اسے اسم ذات کا ذکر عطا نہ ہوگا۔ جب عطا ہو جائے گا خود بخود کنٹرول بھی ہوتا رہے گا بغیر عطا کے واقعی ققنس کی طرح جلتا رہے گا یا اس کی تپش کو برداشت نہ کر کے دیوانہ ہو جائے گا۔
سوال: عورتوں کا مزار پر جانا کیسے درست ہے جبکہ اعلیٰ حضرت نے بھی اس کی مخالفت کی؟
جواب: شامی اور دُر مختار میں ہے کہ بوڑھی عورت کا مزار پر جانا درست اور جوانوں کا مکروہ ہے۔ کیونکہ مزاروں پر بے پردگی ہوتی ہے۔
ہندوستان میں مزارات تفریح گاہ بننے شروع ہو گئے کیونکہ اس وقت تفریح کا کوئی اور سامان نہ تھا یعنی پارک ، سینما، کلب اور لڑکیوں کے سکول کالج نہ تھے وہ زیارت کے بہانے تفریح کی غرض سے مزاروں پر جاتیں اکثر مزاروں پر عورتوں کے میلے لگنے شروع ہو گئے اور بہت سی لڑکیاں میلوں سے اغوا ہو جاتیں تب اعلیٰ حضرت نے سختی سے منع کیا تھا اور واقعی آج بھی کوئی عورت عیاشی اور تفریح کی غرض سے مزار پر جائے تو اہل مزار اس پر لعنت کرتے ہیں لیکن اگر دینی فیض یا روحانی علاج کے لئے جائے تو جائز ہے۔
سوال : جب تقدیر انسان کے بس میں نہیں تو اس کا حساب کتاب کیسے ہوگا؟
جواب: تقدیر دو قسم کی ہے۔ ایک تقدیر ازل اور ایک تقدیر مُعلق ہے۔ جبکہ ایک شخص کی ازلی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ اس کی اولاد نہیں ہوگی یا کافر ہی مرے گا ایسے آدمی کے لئے تقدیر مُعلق کام نہ آسکے گی۔ البتہ کسی کامل ذات کی دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے کہ ’’ نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘۔ یہ تقدیر اس شخص کے بس میں نہیں ہے۔ایک شخص کے مقدر میں ازل سے لکھ دیا گیا ہے کہ اس کے چار بچے ہوں یا مومن بنے گا۔ اس وقت تقدیر مُعلق اس کے کام آ سکے گی۔ یعنی شادی کرے گا تو بچے ہوں گے ورنہ ازل میں لکھا رہ جائے گا یا کوئی وسیلہ پکڑے گا تو مومن بنے گا یہ تقدیر مُعلق اس کے اختیار میں ہے اور اس کا حساب کتاب ہوگا۔ مخدوم جہانیاں سے کسی نے پوچھا، جب رزق مقدر میں لکھ دیا گیا تو اس کے لیے گھومنا پھرناکیا؟ جواب دیا کہ رزق کے لیے گھومنا پھرنا بھی مقدر میں لکھ دیا گیا۔
سوال: ماں کے پاؤں تلے جنت ہے کیا حقوق اﷲ چھوڑ کر صرف ماں کی خدمت سے جنت مل سکتی ہے؟
جواب: سب سے پہلے اﷲ رسول کا حکم مقدم ہے۔ پھر والدین کا اور پھر حقوق العباد، اﷲ رسول کا حکم ہے داڑھی رکھو ،نماز پڑھو، ذکر کے حلقوں میں بیٹھو، اگر والدین یا حقوق العباد اس میں رکاوٹ بنتے ہیں تو انہیں ترک بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ صحابہ کرام کے والدین انہیں اسلام لانے سے روکتے تھے لیکن انہوں نے اﷲ رسول کے لئے سب کو چھوڑ دیا اﷲ کا حکم ہے داڑھی رکھو۔ ماں روکتی ہے لیکن داڑھی رکھنے سے گناہ گار نہ ہوگا۔ اﷲ کا حکم ہے داڑھی رکھو ماں بھی حکم دیتی ہے داڑھی رکھو اب داڑھی نہ رکھنے سے دوہرا گناہ گار ہوگا یعنی ایک اﷲ کے حکم کی دوسری ماں کے حکم کی نافرمانی کری ماں کے پاؤں تلے جنت ہے یہ فقرہ آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی بولا جاتا تھا۔ جب ہابیل اور قابیل آپس میں لڑتے ماں منع کرتی، منع نہ ہوتے تو حضرت آدم علیہ السلام فرماتے کہ ماں کا حکم مانو اس کے پاؤں تلے جنت ہے یہی فقرہ حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچا اور جب حضرت نوح علیہ السلام نے نبوّت کا اعلان کیا تو آپ کی بیوی ایمان نہ لائی، بیٹا بھی اسی فقرہ کے مطابق ماں کا فرمانبردار ہی رہا، نتیجہ یہ نکلا کہ ماں اور بیٹا دونوں کافر ہی مرے نہ ماں کو جنت نہ بیٹے کو جنت ملی۔ ایک دن حضرت موسیٰ ؑ نے اﷲ تعالیٰ سے پوچھا کہ جنت میں میرا ہم نشین کون ہوگا۔ جواب آیا کہ فلاں شہر میں فلاں قصاب ہے جو تیرا ہم نشین ہوگا۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کو دیکھنے کے لئے چلے گئے۔ وہ خراب گوشت بیچتا رہا اور کم تولتا رہا اور جھوٹ بولتا رہا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے سوچا ایسا شخص میرے ہم نشین کیسے ہو سکتا ہے۔ شاید کوئی اور ہو۔ واپس جانے لگے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے اور کہنے لگے کہ یہی شخص ہے۔ اب شام ہو گئی تو وہ گھر جانے لگا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا میں ایک مسافر ہوں ایک رات تمہارے ہاں قیام کرناچاہتا ہوں۔ وہ شخص حضرت موسیٰ ؑ کو گھر لے گیا اس نے اپنے ہاتھوں سے کھانا پکایا ، اور ایک پلیٹ میں ڈال کر ایک درخت کے پا س پہنچ گیا ، ایک جھولا درخت پر لٹکا ہوا تھا اس نے جھولے کو اتارا۔ جس میں ایک اپاہج عورت تھی۔ اس نے اسے کھانا کھلایا۔ جب کھانا کھلا چکا تو اس عورت کے ہونٹ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہلتے نظر آئے حضرت موسیٰ ؑ نے پوچھا یہ عورت کون تھی اس نے کہا یہ عورت میری ماں تھی جو فالج زدہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے پوچھا وہ تجھ سے کیا کہہ رہی تھی، اس نے کہا کوئی موسیٰ ؑ نامی نبی ہے جس کو میں نے نہیں دیکھا لیکن میری ماں اس کے دین پر ہے اور اس کی معتقد اور محبہّ ہے میں جب بھی اس کو کھانا کھلاتا ہوں وہ یہی کہتی ہے کہ اے اﷲ میرے بیٹے کوحضرت موسیٰ ؑ کا ہم نشین بنانا۔
ثابت ہوا کہ ایک نبی زادے کو کافرہ ماں کی اطاعت دوزخ میں لے گئی۔ اور ایک گناہ گار بیٹے کو صالحہ ماں کی دعا جنت میں لے گئی اور واقعی ایسی ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔ جیسی اس قصاب کی ماں تھی۔ اس کی اطاعت جنت، اس کا حکم جنت، اس کی خدمت جنت اور اس کی دعا بھی جنت ہے۔
سوال: مینارہ نور میں لکھا ہے کہ جب تک کسی کو حضور پاک ؐ کا دیدار نہ ہو اس کے امتی ہونے میں شبہ ہے کیا یہ شرط درست ہے؟
جواب: حضور پاک ؐ کے زمانے میں بہت سے مسلمان آپ سے بیعت ہو کر امتی بنے۔ ان میں سے کئی اپنی کوتاہیوں ، بد گمانیوں اور حکم عدولی کی وجہ سے خوارج ہو گئے۔ جبکہ خوارج بھی اپنے آپ ؐ کو امتی سمجھتے ہیں جبکہ وہ بھی یہی نماز‘ یہی قرآن پڑھتے ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ اپنی نا فرمانیوں،حرص و حسد و تکبر کی وجہ سے حضور پاک ؐ نے ہمیں بھی امت سے خارج کر دیا ہو ۔ اس وجہ سے بات شبہ کی ہے۔ لیکن جب آپ ؐ کا دیدار ہو جائے گا تو یقین ہو گیا کہ واقعی ہم امتی ہیں اور شفاعت کے حقدار ہیں۔
حدیث میں ہے۔
ترجمہ: جھوٹے میرے امتی ہی نہیں۔
اور ہم تو جھوٹ سے بھی بڑے بڑے کارنامے کر جاتے ہیں۔ اﷲ رحم کرے۔ جن لوگوں کو حضور پاک ؐ نے بیعت کیاتھا جو صرف اقرار زبان تک رہے تصدیق قلب تک نہ پہنچے ان میں اکثر خوارج اور منافق ہو گئے اور جو آپ کی صحبت و محبت سے تصدیق قلب تک پہنچ گئے وہ صحابی رسول یعنی اصل امتی کہلائے۔ اور جن کو آپؐ نے پردہ کے بعد بیعت کیا وہ بھی داخل امتی ہو گئے اور جن کو بیعت کے بعد مرتبہ ارشاد ملا وہ ولی بن گئے جیسا کہ حضرت سخی سلطان باہُوؒ فرماتے ہیں کہ : دست بیعت کر د مارا مصطفیٰ ؐ۔۔۔۔۔ اور پھر جب کوئی ولی سے وابستہ ہو کر فیض یافتہ ہو ا وہ بھی امتی ہو گیا۔ ورنہ لاحق امتی ہوا جیسا کہ ہر نبی کی اولاد نبی نہیں ہو سکتی۔ ہر ولی کی اولاد ولی نہیں ہو سکتی تو ہر امتی کی اولاد کیسے اصل یا داخل امتی ہو سکتی ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن امتوں کی پہچان نور سے ہوگی یعنی جو لوگ یا رحمٰن کے نور سے چمک رہے ہوں گے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے جو یا وہاب سے چمک رہے ہیں وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی امت ہے جو یا ودود سے چمک رہے ہیں وہ حضرت داؤد علیہ السلام کی امت ہے اور جو اسم ذات سے چمک رہے ہیں، وہ حضور پاک ﷺ کے امتی ہیں۔ اور جو بغیر چمک کے ان میں کھڑے ہیں وہی امتوں میں جاسوس تھے اور وہی ذکر الٰہی سے مسجدوں میں روکتے تھے۔جیسا کہ قرآن میں ہے ’’ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو مسجد میں اﷲ کے ذکر سے روکے ‘‘ اس نور کو حاصل کرنے کے اولیاء اﷲ سختی سے ذکر کے حلقوں اور قلبی ذکر کی تلقین کرتے تھے۔ بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو دم غافل سو دم کافر۔ حدیث میں بھی ہے کہ: ذکر کرنے والا زندہ نہ کرنے والا مردہ، اس امت میں بہت سے لوگ صفاتی اسماء کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بھی عبادت اور فیض ہے لیکن ان پرافسوس ہے کہ ذاتی اسم عطا ہونے کے باوجود صفات میں گم ہیں۔ ہر نبی و مرسل اس اسم کو ترستے رہے۔ یہ صرف حضور پاک ؐ کو عطا ہوا۔ آپ ؐے نو سلسلوں کو مرتبہ ارشاد ہوا پھر بارہ اماموں سے یہ اسم غوث پاک ؒ تک پہنچا۔ تب آپ غوث اعظم ؒ کہلائے۔ اور غوث پاک ؒ کے بعد اس کی کلید حضرت امام مہدی ؑ کو مل جائے گی۔ پھر غوث پاک ؒ سے چار سلسلے اس اسم سے فیض یافتہ ہوئے اگر کوئی فرد سلسلہ یا فرقہ غوث پاک ؒ سے بغض و عناد رکھتاہے وہ کسی حالت میں بھی اسم ذات تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسم ذات قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ اس کا ذکر دلوں کو صاف کر کے دلیل اور الہام کے قابل بناتا ہے اسم ذات یا کسی بھی صفاتی ذکر قلبی کے بغیر دل سخت اور سیاہ ہو جاتا ہے انسان کبر و بخل اور حسد کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ظاہری عبادت کی چمک صرف چہروں تک ہی محدو د رہتی ہے۔ وہ شخص کبر و حسد کا دائمی مریض بن جاتا ہے کیونکہ کبر و بخل کا تعلق گناہ سے ہے یعنی دائمی گناہ گار بھی بن بیٹھا۔ اب وہ سڑک پر اکڑ کر چل رہا ہے کہ میں پنجگانہ نمازی ہوں لوگوں سے بات کرنا اور ہاتھ ملانا بھی اسے گوارا نہیں کہ میں شب بیدار ہوں اور ان سے اعلیٰ ہوں حتیٰ کہ جب اﷲ کے رو برو نماز کے لئے کھڑا ہوا تب بھی تکبر سے سینہ تانے کھڑا ہے لیکن یہ نہ جان سکا کہ ’’ تکبر عزازیل را خوار کرد‘‘ اور حدیث کہ ’’جس میں ذرہ بھر بھی کبر و بخل ہو تو وہ جنت کے قابل نہیں‘‘۔حتیٰ کہ وہ شخص امت سے خارج ہو گیا۔ اگر امتی ہوتا تو حضور پاکؐ کی شفاعت سے محروم نہ ہوتا کہ آپ کے اصل یا داخلی امتی کبھی بھی دوزخ میں نہ جائیں گے۔ اگر ان کو سزابھی ملی تو بہشت میں ہی ملے گی۔ جیسا کہ غوث پاک ؒ کو بچپن میں کسی امتی نے مذاق سے دھکا دے کر پانی میں گرا دیا مرتبہ ارشاد کے بعد ایک دفعہ آپ اس کی قبر سے گزرے۔ اس کی برزخی حالت معلوم کرنی چاہی دیکھا کہ بہشت میں ٹہل رہا ہے۔ لیکن ایک ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ آپ ؒ نے پوچھا کہ تیرا ہاتھ کیوں بندھا ہوا ہے۔ اس نے کہا اسی ہاتھ سے میں نے آپ کو دھکا دیا تھا۔ اور اس کی سزا مجھے مل رہی ہے اگر میرے اندر اسم اﷲ کا نور نہ ہوتا تو یہ سزا مجھے دوزخ میں ملتی۔ آپ نے اسے معاف کیا اور اس کا ہاتھ کھل گیا۔
سوال: کچھ لو گ ذکر الٰہی کے بعد صلی اﷲ علیک یا محمدؐپڑھتے ہیںیا محمدؐ کے بعد کوئی تعظیماً لفظ کیوں نہیں پڑھتے۔ جیسا کہ محمد رسول اﷲ ﷺ ۔
جواب: حضرت ابو بکر بن مجاہد ؒ نے خواب میں دیکھا کہ نبی رحمتؐ نے حضرت شبلی ؒ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ اور اس شفقت کی وجہ یہ بتائی کہ حضرت شبلی ؒ نماز کے بعد سورۃ توبہ کی آخری دو آیتیں پڑھ کر تین مرتبہ صلی اﷲ علیک یا محمدؐ پڑھتے تھے۔
سلسلہ چشتیہ کا افضل درود شریف یہ ہی ہے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ ذکر کے بعد یہی درود شریف پڑھتے تھے۔ معلوم ہوا اسم اﷲ جلالی ہے۔ اور اسم محمد ؐ جمالی ہے۔ لا الہ الا اﷲ میں ذاتی نام اﷲ ہے باقی اشارات اور صفات ہیں۔ محمد رسول اﷲ ؐ میں ذاتی نام محمد ؐ ہے۔ جس کا کچھ لوگ ضربو ں سے ذکر کرتے ہیں۔
محمد رسول اﷲ ؐ یا درود ابراہیمی ضربوں سے نہیں ہو سکتا۔ لیکن صلی اﷲ علیہ یا رسول ضرب سے ہو سکتا ہے۔ مگر اس کا فیض صفاتی ہے۔ اور جو لوگ اﷲ کے ذاتی اسم سے فیض حاصل کرتے ہیں وہ سرکار دوعالم کے بھی ذاتی اسم سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسم محمدؐ کی ضرب سینے پر لگاتے ہیں، اور جماتے ہیں۔ صلی اﷲ علیک یا محمد ؐ کرتے وقت سانس اند ر کی طرف کھینچتے ہیں۔ یعنی صل اﷲ علیکسے سینے کی صفائی کرتے ہیں۔ اور پھر لفظ محمد ﷺ سینے پر جماتے ہیں۔ م قلب پر، ح سری پر، م خفی پر اور د روح پر ختم کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کو نقش کرنے میں دیر لگتی ہے اس وجہ سے ہی اسم محمدؐ کو بعد میں پڑھا جاتا ہے۔
کچھ لوگ کشف کے لئے اسم جمال کی ضربیں لگاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت شیخ بہاؤالدین مشوری ؒ نے فرمایا کہ کشف ارواح کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یا احمد دا ہنی طرف اور یا محمد ؐ بائیں طرف پڑھے۔ پھر دل میں یا رسول اﷲ کی ضرب لگائے (اخبار الاخیار فارسی صفحہ نمبر 199)۔ ثابت ہوا ذاتی فیض کی خاطر ضربوں اور سینے پر نقش کے لیے یہ درود شریف بہتر ہے۔ لیکن تسبیح یا ورد و وظائف کے لئے درود ابراہیمی بہتر ہے۔

ذکر جہر
حمائتی ذکر
مخالف ذکر
حضرت ابو ہریرہؓ ذکر بالجہر جائز ہے
مولوی سرفراز گھکھڑوی۔ ذکر بالجہر حرام ہے
حضرت ابن عباسؓ ً ً ً ً ً
صاحب بزازیہ ً ً ً ً ً ً ً
حدیث مسلم ً ً ً ً ً ً ً
حدیث عبداللہ بن زید۔ ذکر بالجہر بہتر نہیں
حدیث بخاری ً ً ً ً ً ً
محمد بن عبدالرحمن ً ً ً ً ً ً ً
نسائی۔داؤد شریف ً ً ً ً ً
حضرت سعد بن ابی وقاص ً ً ً ً
ترمزی ابن ماجہ ً ً ً ً ً ً
ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ً ً ً ً
عبداللہ بن زبیرؓ ً ً ً ً ً ً

امام احمد بن حنبلؒ ً ً ً ً ً ً

غوث اعظم دستگیرؒ ً ً ً ً ً ً

امام بخاریؒ ً ً ً ً ً ً ً

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ً ً ً ً

شاہ ولی اللہ ً ً ً ً ً ً ً

شبیر احمد عثمانی ؒ ً ً ً ً ً ً

امام شافعیؒ جائز ہے جنازہ کے ساتھ بالجہر منع ہے

طریقہ نقشبندیہ میں ذکر جہر منع ہے لیکن کرنے میں کوئی حرج نہیں

مولوی اشرف علی تھانوی۔ آہستہ آواز سے جائز ہے

گنگوی صاحب۔ جائز ہے لیکن گلا پھاڑنا منع ہے

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam