سالانہ مرکزی محفل جشنِ ولادت مولاِئے کائنات حضرت علی المرتضٰی علیہ السّلام المرکز کوٹری پر انعقاد پذیر ہوئی۔


عظیم الشان سالانہ مرکزی
محفل نعتؐ و ذکرِ اِلٰہی
جشنِ ولادت مولاِئے کائنات حضرت علی المرتضٰی علیہ السّلام
ماہانہ پندرھویں شریف
دربار سلطان الفقر
حضرت سیّدناریاض احمدگوہرشاہی مدظلہ العالٰی
پر مذہبی جوش وجزبے سے منعقد کیاگیا
زیرِ سرپرستی
محترم جناب صاحبزادہ حماد ریاض احمد گوہرشاہی
محترم جناب شارخ بابرگوہرشاہی
خصوصی خطاب و مہمانانِ گرامی
1-محترم جناب مفتی فضل الرحمٰن ہمدرد
(اسکالر ریسرچر انٹر فیتھ ہارمنی )
2-محترم جناب علامہ مولانہ سیّد سجّاد شبّیر رضوی
3-محترم جناب راو ناصر جہانگیر اسکالر
چیئرمین انٹر فیتھ ہارمنی کونسل آف پاکستان
4-محترم جناب زاہد حسین قادری
(چیئرمین علماء کونسل سندھ انجمن ہٰذا)
5-مشہور معروف نعت خواں
محترم جناب اسلم ہاشمی
6-شعلہ بیاں مقرر محترم جناب محمد علی (حیدرآباد)
7-محترم جناب نور محمد سرہندی مبلغ انجمن ہٰذا
8- علامہ مولانہ شاہ محمد کٹو صاحب
9-محترم جناب سیّد انظار حسین جعفری
10-مہمانانِ گرامی حماد سائیں کے خاص دوستوں نے شرکت فرمائی
محترم جناب ملک یونس جمال مرکزی نائب امیر انجمن ہٰذا
صوبائی امیران عہدیداران کارکنان مشہور معروف نعت خوان نے خصوصی شرکت فرمائی اور عوام النّاس نے بڑی تعداد میں محفل میں شرکت فرمائی
علماء اکرام نے فضائل مولائے کائنات مولاعلی ؑ بیان فرمائے امیرسندھ حاجی یاسین مغل صاحب نے فرمایا علماء کرام کی موجودگی میں کیونکہ یہاں سارے ہی علم والے ہیں اور سارے ہی محبت والے ہیں اور مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کا ذکر چل رہا ہے مولا علیؑ شیر خدا کی محبت ہمارے ایمان کا حصّہ ہے اور وہ علم بھی بتانا ضروری ہے جو حضرت سیّدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی نے لال باغ سےنکل کر تن تنہا لوگوں میں آئے وہ کونسا علم ہے مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت سب مانتے ہیں اور ماننے کا حق بنتا ہے مگر وہ علم بھی حاصل کریں جس سے مولا علی علیہ السلام کا دیدار ہوتا ہے وہ علم کیا ہے میرے مرشد حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ عالی نے فرمایا علی نور ہیں اور نور والا ہی نور والے کو پہچانے گا جیسے مقناطیس سے جب بڑے مقناطیس کو چھوٹے مقناطیس کے سامنے کریں گے تو وہ اپنی کشش سے بڑا مقناطیس چھوٹے مقناطیس کو اپنی جانب کھینچ لے گا اسی طرح نوری ہستیوں کے سامنے جانے کے لیے ہمارے اندر نور کا ہونا ضروری ہے ہمارے مرشد کریم حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ جب اللّہ اللّہ کا رگڑا لگتا ہے جب اللّہ کی تکرار ہوتی ہے تو دل میں نور بنتا ہے پھر وہ نور دل سے ہوتا ہوا روح تک جاتا ہے اور پھر روحوں سے ہوتا ہوا نسلوں تک جاتا ہے بات مختصر کروں گا کیونکہ یہ ہماری ڈیوٹی ہے اور اس میں ذات اللّہ کا یہ پیغام دینا بھی ضروری ہے کیوں کہ نہ جانے کون سی روح جو اس کے عشق میں تڑپ رہی ہوں اگر کوئی چاہتا ہے کہ مجھے مولا علی علیہ السلام کا دیدار ہو جائے تو اس مولا علی علیہ سلام کی محفل کے صدقے میں میرے مرشد کریم حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی کا پیغام ہے آپ فرماتے ہیں کہ رات کو سوتے وقت شہادت کی انگلی کو قلم تصّور کرتے ہوئے بڑی محبت سے بڑے پیار سے دل پر خوش خط اللّہ لکھنے کی کوشش کریں اور تصور کریں کہ میری انگلی مولا علی علیہ السلام نے پکڑی ہوئی ہے اور وہ میرے دل پر لفظ اللّہ لکھ رہے ہیں یقین کریں جس طرح سے انڈے میں سے چوزہ بند ہے اسی طرح سے تمہارے دل میں بیضہ نا سوتی ہے جس میں لطیفہ قلب بند ہے انڈے کو مرغی چاہیے اور قلب کو مرشد چاہیے مرغی اپنے حساب سے انڈے کو گرماہٹ پہنچائے گی اور مرشد اپنے حساب سے تمہارے قلب کو نور میسّر کرے گا جب انڈا پھٹتا ہے تو اس میں سے ایک مخلوق چوزہ نکلتا ہے جو بغیر کسی کے سیکھے سکھائے چوں چوں کرتا ہے کیونکہ اس کی فطرت ہے چوں چوں کرنا اسی طرح جب دل کے جالے ٹوٹتے ہیں تو اس میں سے ایک نوری مخلوق قلب نکلتی ہے جو بغیر کسی کے سیکھے سکھائے اللّہ اللّہ کرتی ہے کیونکہ قلب جب زندہ ہوتا ہے تو اللّہ اللّہ کرتا ہے اور دل پر خوش خط لفظ اللّہ لکھا نظر آتا ہے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللّہ تبارک و تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا اور میرے کچھ خاص الخاص بندے ایسے ہیں جن کے دل پر ہم نے ایمان نقش کردیا یقین کریں جب بندہ اس منزل تک پہنچتا ہے تو بندہ بندہ نہیں بندہ نواز بن جاتاہے پھر غریب نہیں غریب نواز بن جاتا ہے اسی لئے تو کہتے ہیں خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے جب دِل کی دھڑکن اللّہ اللّہ میں تبدیل ہوتی ہیں تو دل میں نور بنتا ہے جب نور بنتا ہے تو نوری ہستیوں کا دیدار ہوتاہے پھر جب آپ مزارات پر جاتے ہیں تو ہری ہری چادروں اور پھول پتیوں کو دیکھ کر واپس نہیں آتے بلکے صاحب مزار سے ہمکلام ہوتے ہیں ان کا دیدار کرتے ہیں بس یہ سادہ اور مختصر سا پیغام ہے
مولائے کائنات حضرت علیؑ مرتضیٰ شیرِ خدا ارشاد فرماتے ہیں
اے انسان تیرے اندر اک جہاں پوشیدہ ہے مگر تجھے اسکی خبر نہیں
ہم کوشش تو کریں پریکٹیکل تو کریں انشاء اللّہ اگر اللّہ نے چاہا تو کامیابی مل جائیگی نہیں تو جتنے دِن آپ اللّہ کا ذکر کریں گے اس کا ثواب تو مل ہی جائے گا
اجازت ذکرِ قلب اور حلقہ ذکر
صاحبزادہ مرشد کریم محترم جناب حمادریاض احمدگوہرشاہی مدظلہ العالٰی نے فرمایا جو لوگ یہ چاہتے ہیں ان کے دِل کی خالی دھڑکن بھی اللّہ اللّہ کے ذکر سے جاری ہو وہ میری آواز سے آوازملاکر اللّہ ھو اللّہ ھو پڑہیں اجازت ذکر قلب ہوجائیگی نئے آنے والے شرکاء محفل نے اجازت ذکر قلب حاصل فرمائی اور حلقہ ذکر حماد سائیں نے منعقد فرمایا
بعد ذکر حلقہ صلاة السّلام کا نظرانہ پیش کیاگیا فاتحہ خوانی اور دعا کیگئی علماء اکرام اور مہمانانِ گرامی نے دربار مرشد حضرت سیّدناریاض احمدگوہرشاہی مدظلہ العالٰی
پر حاضری کا شرف حاصل فرمایا دوران محفل باجماعت نماز یں جامع مسجد غوثیہ متصل دربار مرشد پر اداکی گئیں اور محفل کے آخر میں لنگر عام کا اہتمام کیاگیا

نیوز رپورٹ
عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام پاکستان کراچی ڈویژن
https://www.facebook.com/goharshahi.official/
https://www.facebook.com/ASI.Karachi.Division/
https://www.facebook.com/Sarfrosh.official/