حقیقی تعلیم ۔ تحریرحضرت گوہر شاہی

( حقیقی تعلیم )

ہرشہرہرعلاقےاورہرگھرمیں اہل دل موجود ہیں ہم ان اہل دل لوگوں کو غفلت و دنیا پرستی سے نکال کر دل کی درستگی کی تعلیم دے رہے ہیں ہمیں افسوس ہے کہ حضور پاکﷺ کےدین میں بگاڑ پیدا ہوریا ہے لوگوں کے دل جو بیت اللہ، عرش اللہ بن سکتے ہیں وہ دل برباد ہورہے ہیں امت مصطفیﷺحقیقی علم سے بے بہرہ ہوکر صرف ظاہری اور کتابی علوم میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ اگر حقیقی علم اور حقیقی عبادے کی جانب رجوع کرنا چاہتے ہو تو آؤ اور حقیقت کو سمجھو حضور پاکﷺ کے زمانے سے دو علم اور دو عبادات رائج رہی ہیں۔ ایک زبانی علم اور ظاہری علم و عبادت دوسرے باطنی علم اور باطنی عبادت حضور پاکؐ کے دور میں جن لوگوں نے صرف ظاہری علم و عبادت کو سب کچھ جانا اور قرآنی تعلیم کو ہی صرف معیار ہدایت جانتے ہوئے حضور پاکؐ کی صحبت اور توجہ کو اہمیت نہ دی وہ لوگ منافق اور خوارج ہوئے دین میں فساد پھیلاتے ہی رہے علاوہ ازیں جن لوگوں نے حضور پاکﷺ کی ذات کو مرکز ایمان تصور کیا اور زبانی علم و عبادت کے ساتھ حضور پاکﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر دل کی صفائی کا علم اور دل کی عبادت کا طریقہ بھی حاصل کیا وہ لوگ صحابی رسول اللہﷺ کے منصب پر فائز ہوئے اور ان کے ذریعے دین کو فروغ حاصل ہوا اس علم کو باطنی علم اورباطنی طریقت کا علم کہا جاتا ہے، یہی علم حقیقی اور نفع مند ہے۔ قرآن پاک میں اس علم کے اشارے موجودہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام کو علم لدنی حاصل تھا اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے تو اپنے رسولوں کو علم غیب عطا فرماتا رہتا ہے۔ اس طرح حدیث شریف میں بھی اس علم کے اشارے ملتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضور پاکﷺ سے دو علم عطا ہوئے ایک تمہیں بتا دیا دوسرا بتائیں تو تم ہمیں قتل کردو۔ (بحوالہ اسرار حقیقی) حضور پاکﷺ نے فرمایا ہمیں اللہ تعالیٰ سے تین علم عطا ہوئے ایک عوام کے لئے، ایک خواص کے لئے، اور ایک صرف ہماری ذات کے لئے۔ امت مصطفیﷺ کے اولیاء کرامؒ کے اقوال و واقعات سے بھی علم ظاہر کا فرق ثابت ہوتا رہا ہے حضرت ابراھیم بن ادھمؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر بار اپنا دیدار کرایا اور ہر مرتبہ میں نے سو سے زائد مسئلے سیکھے لیکن ان میں سے صرف چار مسئلے ہی لوگوں کو بتائے تو وہ بھی لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا۔

حضرت مولانا رومؒ اپنے وقت کے بڑے عالم تھے ایک روز وہ ااپنے مکتبہ میں بیٹھے تھے کہ ایک درویش حضرت شمس تبریزیؒ مکتب میں آئے اور کتابوں کی جانب اشارہ کرکے فرمانے لگے کہ یہ کیا ہے۔ مولانا رومؒ نے کہا یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے۔ حضرت شمس تبریزیؒ نے ایک قلمی کتاب اٹھاکر پانی میں پھینک دی، مولانا رومؒ بڑے پریشان ہوئے حضرت شمس تبریزیؒ نے پانی میں سے کتاب کو خشک حالت میں نکال لیا۔ مولانارومؒ نے حیرت سے معلوم کیا یہ کیا ہے؟ حضرت شمس تبریزیؒ نے فرمایا یہ وہ علم ہے جسے تم نہیں جانتے۔ ان حوالوں سے علم باطن کی اہمیت اور حقانیت واضح ہوتی ہے لیکن امت مصطفی ﷺ صرف کتابی اور ظاہری علم میں پھنس کر باطن کی حقیقی تعلیم سے دور ہوگئی ہے جس کی بنا پر امت انتشار اور تفرقہ کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

کتاب تحفتٰہ المجالس : P65

All rights reserved 2018 Copyright - Anjuman Safroshan e Islam