یکم رجب المرجب ولادت باسعادتپانچویں امام حضرت محمد باقر بن امام زین العابدین

یکم رجب المرجب ولادت باسعادت
پانچویں امام
حضرت محمد باقر بن امام زین العابدین
تمام مومنین مومنات اور ذاکرین و ذاکرات کو مبارک ھو
مرشد کریم سلطان الفقرحضرت سیّدناریاض احمدگوھرشاھی مدظلہ العالٰی فرماتے ہیں
”سلسلہ فقر بارہ اماموں سے ہوتا ہوا سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ تک پہنچا اور اب اس کی کنجی امام زماں حضرت مہدیؑ کے پاس ہے”

آپ کا نامِ مبارک بزرگوار حضرت رسول خداؐ کے نام پر محمد تھا اور باقر لقب اسی وجہ سے محمد باقر کے نام سے مشہور ہوئے

بارہ اماموںؑ میں سے یہ آپؑ ہی کو خصوصیت تھی کہ آپؑ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف حضرت رسول خداؐ تک پہنچتا ہے۔ دادا آپ کے سید الشہداء حضرت امام حسینؑ تھے جو حضرت رسول خدا محمد مصطفے ٰ صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے نواسے ہیں اور والدہ آپؑ کی ام عبد اللّہ فاطمہ حضرت امام حسنؑ کی صاحبزادی تھیں جو حضرت رسول خداؐ کے بڑے نواسے ہیں
اس طرح امام محمد باقرؑ رسولؐ کے بلند کمالات اور علیؑ و فاطمہؑ کی نسل کے پاک خصوصیات کے باپ اور ماں دونوں سے وارث ہوئے۔

نام ونسب
محمد نام، ابو جعفر کنیت، باقر لقب،حضرت امام زین العابدینؑ کے فرزند ارجمند ہیں ،ان کی ماں ام محمد حضرت امام حسنؑ کی صاحبزادی تھیں، اس لیے آپ کی ذات گویا ریاض نبوی کے پھولوں کا وہ آتشہ عطر تھی۔
پیدائش
صفر ۵۷ ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے،اس حساب سے ان کے جدبزرگوار حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے وقت ان کی عمر تین سال کی تھی۔

فضل وکمال
باقرؑ اس معدن کے گوہر شب چراغ تھے،جس کے فیض سے ساری دنیا میں علم وعمل کی روشنی پھیلی،پھر حضرت امام زین العابدینؑ جیسے مجمع البحرین باپ کے آغوش میں پرورش پائی تھی،ان موروثی اثرات کے علاوہ خود آپؑ میں فطرۃتحصیلِ علم کا ذوق تھا، ان اسباب نے مل کر آپ کو اس عہد کا ممتاز ترین عالم بنادیا تھا، وہ اپنے وفور علم کی وجہ سے باقر کے لقب سے ملقب ہوگئے تھےبقر کے معنی عربی میں پھاڑنے کے ہیں اسی سے البقرا لعلم ہے،یعنی وہ علم کو پھاڑ کر اس کی جڑ اوراندرونی اسرار سے واقف ہوگئے تھے بعض علماء ان کا علم ان کے والد بزرگوار سے بھی زیادہ وسیع سمجھتے تھے، محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میری نظر میں کوئی ایسا صاحب علم نہ تھا،جسے علی ابن حسینؑ پر ترجیح دی جاسکتی ہے،یہاں تک کہ ان کے صاحبزادے محمد کو دیکھا وہ اپنے عہد میں اپنے خاندان بھر کے سردار تھے،علامہ ذہبی لکھتے ہیں، کان سید بنی ھاشم فی زمانہ امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ جلیل القدر تابعی اورامام بارع تھے، ان کی جلالت پر سب کا اتفاق ہے ان کا شمار مدینہ کے فقہا اور ائمہ میں تھا۔

تلامذہ
اس عہد کے بڑے آئمہ امام اوزاعی،اعمش،ابن جریج،امام زہری ،عمرو بن دینار اورابو اسحٰق،سبیعی وغیرہ کا برتابعین اورتبع تابعین کی بڑی جماعت آپ کے خرمن کمال کی خوشہ چین تھی۔
فقہ
فقہ میں آپ کو خاص دستگاہ حاصل تھی،ابن برتی آپ کو فقیہ وفاضل کہتے ہیں امام نسائی فقہائے تابعین میں اور امام نووی مدینہ کے فقہا اورآئمہ میں شمار کرتے ہیں۔
زہد وعبادت
آپ نے ان بزرگوں کے دامن میں پرورش پائی تھی جن کا مشغلہ ہی عبادت تھا اورایسے ماحول میں آپ کی نشو ونما ہوئی تھی جو ہر وقت خدا کے ذاکر اوراس کی تسبیح وتمحید سے گونجا کرتا تھا، اس لیے عبادت کی وہی روح آپ کے رگ وپے میں سرایت کر گئی تھی،عبادت وریاضت آپ کا محبوب مشغلہ تھا،شبانہ یوم میں ڈیڑھ سورکعتیں نماز پڑھتے مسجدوں کی کثرت سے پیشانی پر نشان سجدہ تاباں تھا،لیکن زیادہ گہرانہ تھا۔
شیخین کے ساتھ عقیدت
اپنے اسلاف کرام اور بزرگان عظام کی طرح شیخین کے ساتھ قلبی عقیدت رکھتے تھے،جابر کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ محمد بن علی سے پوچھا کہ آپ کے اہل بیت میں کوئی ابوبکرؓوعمرؓ کو گالیان بھی دیتا تھا، فرمایا نہیں میں انہیں دوست رکھتا ہوں اوران کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ سالم بن ابی حفصہ کا بیان ہے کہ میں نے امام باقر اوران کے صاحبزادے جعفر صادق سے ابوبکرؓ وعمرؓ کے بارہ میں پوچھا،انہوں نے فرمایا سالم میں انہیں دوست رکھتا ہوں اوران کے دشمنوں سے تبری کرتا ہوں، یہ دونوں امام ہدی تھے میں نے اپنے اہل بیت میں سے ہر شخص کو ان کے ساتھ تو لا ہی کرتے پایا۔
صحت عقیدہ
بعض جماعتوں نے بہت سے ایسے غلط عقائد ان بزرگوں کی طرف منسوب کردیئے ہیں، جن سے ان کا دامن بالکل پاک تھاوہ امور دین میں خالص اور بے آمیز اسلامی عقائد کے علاوہ کوئی جدید عقیدہ نہ رکھتے تھے،جائز روایت کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی سے پوچھا کیا اہل بیت کرام میں سے کسی کا یہ خیال تھا کہ کوئی گناہ شرک ہے،فرمایا نہیں میں نے دوسرا سوال کیا،ان میں کوئی رجعت کا قائل تھا فرمایا نہیں۔
وفات
مقام حمیہ میں انتقال فرمایا
جسمِ مبارک مدینہ لاکر جنت البقیع میں جائے مدفن بنائی گئی
سنہ وفات کے بارے میں بیانات مختلف ہیں،بعض ۱۱۴،بعض ۱۱۷ اوربعض ۱۱۸ بتاتے ہیں عمرکے بارے میں وہ روایتیں ہیں ایک یہ کہ وہ اٹھاون سال کے تھے،دوسری یہ کہ وہ ۷۳ سال کے تھے،لیکن دوسری روایت قطعاً غلط ہے،پہلی اقرب الصحۃ ہے، اس لیے کہ ان کی پیدائش بالاتفاق ۵۷ میں ہوئی، اس حساب سے آپ کی عمر پہلے سنہ وفات کے مطابق اکسٹھ سال سے زیادہ ہوگی۔
اولاد
امام باقر کی کئی اولادیں تھیں، جعفر،عبداللّہ،یہ دونوں حضرت ابوبکرصدیقؓ کی پوتی ام فردہ کے بطن سے تھے، ابراہیم یہ ام حکیم بنت اسید کے بطن سے تھے،علی اورزینب یہ دونوں ام ولد سے تھے،ام سلمہ یہ بھی ام ولد سے تھیں ،ا ن میں جعفر المقلب بہ صادق سب میں نامور ہیں اور آپ کے جانشین تھے

اس زمانے کے تمام سیاہ دل اور شیطان صفت دشمنوں کی پھیلائی ہوئی تاریکی کے باوجود آپ(ع) کا وجودِ ذی جود اس طرح نور پھیلاتا تھا کہ کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا تھا۔ اہلسنت کے بزرگ عالم، ذہبی، آپ (ع) کے بارے میں کہتے ہیں:
’’وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے علم و عمل، بزرگی و عظمت اور وثاقت و متانت کو اپنے اندر جمع کر لیا تھا اور خلافت کے لئے اہل تھے۔‘‘
نیز ایک اور بزرگ عالمِ اہلسنت، ابوزہرہ، امام (ع) کی مرجعیت عمومی کے بارے میں کہتے ہیں:
’’امام باقر(ع) امامت اور ہدایت میں وارثِ امام سجاد (ع) تھے۔ اسی لئے، سرزمینِ اسلام کے تمام خطوں سے لوگ آپ کے حضور شرفیاب ہوتے اور جو کوئی بھی مدینہ آتا وہ آپ(ع) کی خدمت میں ضرور پہنچتا اور آپ (ع) کے علم کے سمندر سے استفادہ کرتا تھا۔‘‘

امام باقر(ع) کی فعالیت
تاریکی میں روشنی کا مینار: پہلی صدی ہجری کے اختتام اور کشورکشائی کے آغاز کے ساتھ مسلمانوں کی اسلام سے بے خبری اپنے عروج تک پہنچ گئی تھی۔ جنگی امور اور مالی معاملات نے لوگوں کو علمی و تہذیبی فعالیت اور دینی تربیت سے غافل کر دیا تھا۔ بعض تاریخیں تو یہ تک بتاتی ہیں کہ بہت سے لوگ تو نماز اور حج بجا لانے کے صحیح طریقے سے بھی واقف نہیں تھے۔ ٹھیک اسی زمانے میں امام باقر (ع) نے دربارِ خلافت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکالا اور علمی و فرہنگی مکتب کی بنیادیں رکھنا شروع کردیں جسے آپ (ع) کے بعد آپ (ع) کے فرزند، امام صادق(ع) نے عظیم یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا اور عظیم دانشوروں کی تربیت ہونے لگی۔

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام رجسٹر پاکستان