ولیوں کا دامن صرف دنیا میں ھی نہیں بلکہ قبر اور حشر میں بھی کام آئے گا۔

پیر و مرشد کی دستگیری
امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ھیں کہ اگر میں اعوذ بااللّہ کے مسائل نکالنا شروع کر دوں تو میں دس ھزار مسائل صرف اعوز باللّہ کے نکال سکتا ھوں۔
سوچا جائے جو شخص اتنا بڑا دعویٰ کرتا ھے کتنا علم ھو گا اسکے پاس-؟
بحرحال

جب آپ کے نزع کا وقت آیا تو ابلیس حملہ آور ھو گیا شیطان نے کہا مولوی جی ذرا یہ بتاو کہ خدا کو کس طرح پہچانتے ھو؟

امام رازی نزع کے وقت آیات پڑھ پڑھ کر دلیلیں دے رھے تھے وہ خدا ھے مالک ھے خالق ھے ابلیس نے ایک دلیل توڑی پھر دوسری پھر تیسری،
یہاں تک کہ امام رازی نے نزع کے وقت اللہ کو ماننے اور پہچاننے کی تین سو پینسٹھ دلیلیں پیش کی ابلیس نے وہ بھی توڑ دی-

قریب تھا کہ ایمان پہ حملہ ھو جاتا۔

خواجہ نجم الدین کبریٰ ؒ جو امام فخر الدین رازیؒ کے پیر ھیں، پیر خواجہ نجم الدین کبریٰ ؒ نے ھزاروں میلوں کے فاصلے پر سے اپنے مرید کو دیکھا کہ وہ مشکل میں ھے نزع کے کٹھن وقت پہ ابلیس ان سے ان کا ایمان سلب کرنےکی پوری کوشش کر رھا ھے-

خواجہ صاحب وضو کر رھے تھے تو آپ نے جلدی وضو کے پانی کی چھنیٹیں مار کر کہا :

رازی تو چرانمی کوئ کہ من خدارا بلا دلیل میشناسم.

رازی تو یہ کیوں نہیں کہتا کہ میں اللہ کو بنا کسی دلیل کے مانتا ھوں-
جب مرید نے اپنے پیر کی آواز سنی تو کہا : ابلیس میں بنا کسی دلیل کے اللہ کو مانتا ھوں یہ سنتے ھی شیطان بھاگ گیا اور ایمان محفوظ رھا۔

امام رازی کتنے بڑے عالم تھے لیکن نزع کے وقت ایک اللہ کے ولی نے حفاظت کی-

ولیوں کا دامن صرف دنیا میں ھی نہیں بلکہ قبر اور حشر میں بھی کام آئے گا پیر کے بنا یہ منزلیں طے کرنا بہت مشکل ھیں۔

مولانا روم ؒ فرماتے ھیں :
پیر را بگزیں کہ بے پیر ایں سفر ،
ھست بس پر آفت وخوف و خطر ۔

پیر کی تلاش کرو اس لئے کہ اگلا سفر بڑا خوف و خطر والا ھے اگر خطرے سے بچنا ھے تو کسی کامل پیر کا مرید بن جاو۔