سالانہ عظیم الشان عرس مبارک 06 رجب المرجب حضرت خواجہ غَریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ۔۔


810 سالانہ عظیم الشان عرس مبارک 06 رجب المرجب 1443ھ
سلطان الہند
حضرت خواجہ غَریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ
کی زندگی کے مختصر فضائل و مناقب قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہیے ہیں
عرصۂ درازسے پاک و ہند اللّہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی توجُّہ کا مرکز رہا ہے۔ مُختلف اَدوار میں یکے بعد دیگرے بے شُمار اولیائے کبار عَلَیْہِم رَحمَۃُ اللہ ِنے ہند کا رُخ کیا اور لوگوں کو نہ صرف دینِ اسلام کی دعوت دی بلکہ کُفْر و شِرْک کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے اَن گِنت غیرمُسلموں کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وَحداِنیَّت اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی رِسالت سے آگاہ کرکےانہیں دائرہ اسلام میں داخل بھی فرمایا۔
تاجُ الاولیاء،سَیِّدُ الاصفیاء،وارثُ النبی،
عطائے رسول ،سُلطانُ الھند،
حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نوازسَیِّدمُعینُ الدّین حسن سَنْجری چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا شمار بھی انہی بُزرگوں میں ہوتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ چھٹی صدی ہجری میں ہند تشریف لائے اور ایک عظیمُ الشان روحانی و سماجی انقلاب کا باعث بنےحتی کہ ہندکا ظالم و جابر حکمران بھی آپ کی شخصیت سے مرعوب ہوکرتائب ہوااورعقیدت مندوں میں شامل ہوگیا۔آئیے !خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی کےحسین پہلوؤں کو مُلاحظہ کیجئے۔
وِلادتِ باسعادت
حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز سَیِّدمُعینُ الدین حسن سَنْجَری چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی ۵۳۷ ھ بمطابق 1142ء میں سِجِسْتان یاسیستان کے علاقہ” سنجر“میں پیداہوئے ۔
نام وسلسلۂ نسب
آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کااسمِ گرامی حسن ہےاورآپ نَجیبُ الطرفین حسنی وحسینی سَیِّدہیں۔آپ کے القاب بہت زیادہ ہیں مگرمشہور ومعروف القاب میں مُعینُ الدین ، خواجہ غریب نواز،سُلطانُ الہند، وارثُ النبی اور عطائے رسول وغیرہ شَامل ہیں آپ کا سلسلہ ٔ نسب سَیِّدمُعینُ الدّین حسن بن سَیِّدغیاثُ الدّین حسن بن سَیِّدنجمُ الدّین طاہر بن سَیِّدعبدالعزیز ہے۔
والدین کریمین
آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے والدِماجدسَیِّدغیاثُ الدّین رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جن کا شمار”سنجر “کے اُمَراورُؤسا میں ہوتاتھا اِنْتہائی مُتقی وپرہیز گاراورصاحبِ کرامت بُزرگ تھے ۔نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ ماجدہ بھی اکثر اوقات عبادت و ریاضت میں مشغول رہنےوالی نیک سیرت خاتون تھیں۔
جب حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پندرہ سال کی عُمر کوپہنچے تو والدِمُحترم کا وصالِ پُرملال ہوگیا۔وراثت میں ایک باغ اور ایک پَن چکی ملی آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی کو ذریعہ معاش بنالیا اورخود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اوردرختوں کی آبیاری فرماتے۔
وَلیُّ اللہ کے جُوٹھے کی برکت
ایک روزحضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی باغ میں پَودوں کو پانی دے رہے تھے کہ ایک مَجذوب بُزرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم قندوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باغ میں تشریف لائے۔ جُوں ہی حضرت سَیِّدُناخواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کی نظر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِس مقبول بندے پرپڑی، فوراً دوڑے ،سلام کرکے دَسْتْ بوسی کی اور نہایت اَدَب واِحترام کے ساتھ درخت کے سائے میں بٹھایا۔ پھر ان کی خدمت میں اِنتہائی عاجِزی کے ساتھ تازہ انگوروں کا ایک خَوشہ پیش کیا اور دو زانوبیٹھ گئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی کو اس نوجوان باغبان کا انداز بھا گیا، خوش ہو کرکَھلی (تل یا سرسوں کا پھوک) کاایک ٹکڑا چبا کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُنہ میں ڈال دیا۔ کَھلی کا ٹکڑا جُوں ہی حَلق سے نیچے اُترا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل کی کیفیت یکدم بدل گئی اور دل دنیا کی محبت سے اُچاٹ ہوگیا۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے باغ، پَن چکی اورسارا سازو سامان بیچ کر اس کی قیمت فُقَرا ومَساکین میں تقسیم فرمادی اورحُصولِ علمِ دین کی خاطِر راہِ خداکے مُسافِر بن گئے۔
!بیان کردہ واقعے سے ہمیں یہ درس ملتاہے کہ جب ہم کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اورہمارے بُزرگ،اساتذہ ،ماں باپ،یا پیرومُرشد
آجائیں توہمیں ان کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوجانا چاہیے انہیں عزت واِحترام کے ساتھ بٹھانا چاہیے۔یادرکھئے !ادب ایسی شے ہے کہ جس کے ذریعے انسان دُنْیَوی واُخْرَوی نعمتیں حاصل کرلیتا ہے اورجو اس صفت سے محروم ہوتا ہے وہ ان نعمتوں کا بھی حقدار نہیں ہوتا۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’باادب با نصیب بے ادب بے نصیب‘‘ یقیناً ادب ہی انسان کو ممتاز بناتا ہے،جس طرح ریت کے ذروں میں موتی اپنی چمک اور اَہمیَّت نہیں کھوتا اسی طرح باادب شخص بھی لوگوں میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔لہٰذا ہمیں بھی اپنے بڑوں کا اَدب واحترام کرنے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آنا چاہیے آئیے !اس ضمن میں 3 احادیثِ مُبارکہ سنئے اور عمل کا جذبہ پیدا کیجئے ۔

  1. دوجہاں کےتاجْوَر،سلطانِ بَحروبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: اے انس ! بڑوں کا اَدب و اِحترام اور تعظیم وتوقیر کرو اورچھوٹوں پرشفقت کرو ، تم جنَّت میں میری رفاقت پالو گے ۔
  2. نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔
  3. سَیِّدِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کی عمر کی وجہ سے اِکرام کرے اس کے بدلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کے ذریعے اس کی عزت افزائی کرواتاہے ۔
    حصولِ علم کے لیے سفر
    حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 15برس کی عمر میں حصول ِعلم کے لیے سفر اختیارکیا اورسمرقندمیں حضرت سَیِّدُنا مولانا شرفُ الدّین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی بارگاہ میں حاضر ہوکرباقاعدہ علمِ دین کا آغاز کیا۔پہلے پہل قرآنِ پاک حفظ کیا اور بعد ازاں انہی سے دیگر عُلوم حاصل کئے۔
    مگر جیسے جیسے علمِ دین سیکھتے گئے ذوقِ علم بڑھتا گیا،چنانچہ علم کی پیاس کو بجھانے کے لئے بُخارا کا رُخ کیا اورشُہرۂ آفاق عالمِ دین مولانا حسامُ الدّین بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے سامنے زانوئے تَلمُّذتہ کیا اور پھرانہی کی شفقتوں کے سائے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تھوڑے ہی عرصے میں تمام دینی عُلوم کى تکمیل کی۔اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجموعی طور پر تقریباً پانچ سال سمرقند اور بُخارا میں حُصولِ علم کے لئے قیام فرمایا۔
    طالب مطلوب کے در پر
    اس عرصے میں عُلومِ ظاہرى کی تکمیل تو ہو چکی تھی مگر جس تڑپ کی وجہ سے گھربارکوخیربادکہاتھااس کی تسکین ابھی باقی تھی۔ چنانچہ کسی ایسے طبیبِ حاذِق (ماہر) کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئےجو درد ِدل کی دَوا کر سکے۔چنانچہ مُرشدِ کامل کى جُسْتْجُو میں بُخارا سے حجاز کا رختِ سفر باندھا۔راستے میں جب نیشاپور(صوبہ خُراسان رضوی ایران ) کے نواحی علاقے” ہاروَن “سے گزر ہوا اورمردِ قلندر قُطبِ وقت حضرت سَیِّدُنا عُثمان ہاروَنى چشتی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کاشُہرہ سناتوفوراً حاضرِ خدمت ہوئےاوران کے دستِ حق پرست پربیعت کرکےسلسلۂ چشتیہ میں داخل ہوگئے۔
    یَک دَرگیر مُحکم گیر
    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئی سال تک مُرشدِ کامل کی خدمت میں حاضر رہے اور مَعْرِفَت کی مَنازل طے کرتے ہوئے باطنى عُلوم سے فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت سَیِّدُنا خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی جہاں بھی تشریف لے جاتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کا سامان اپنے کندھوں پر اُٹھا ئے ساتھ جاتے نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کئی مرتبہ مُرشد کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جب میرے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی نے میری
    خدمت اور عقیدت دیکھی تو ایسی کمالِ نعمت عطا فرمائی جس کی کوئی انتہا نہیں۔
    مُرید ہو تو ایسا
    یقیناً جس طرح ہر مُحب کی چاہت ہوتی ہے کہ محبوب کی نظروں میں سماجاؤں اور شاگرد کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اُستاد کی آنکھوں کا تارابن جاؤں اسی طرح ایک مُرید کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں اپنے پیر و مُرشد کا منظورِنظر بن جاؤں مگر ایسے قسمت کے دَھنی بہت کم ہوتے ہیں جن کی یہ تمنا پوری ہوجائے۔حضرت خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی بارگاہِ مُرشد میں اس قدر مقبول تھے کہ ایک موقع پرخودمُرشدِ کریم خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی نے فرمایا:ہمارا مُعینُ الدین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محبوب ہے ہمیں اپنے مُرید پر فخر ہے۔
    بارگاہ ِالٰہی میں مَقْبولِیَّت
    ایک بار حج کے موقع پر حضرت سَیِّدُناخواجہ عثمان ہاروَنى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی نے میزابِ رحمت کے نیچے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہِ الٰہی میں دُعا کی: اے مولیٰ! میرے مُعین الدّین ُحسن کو اپنى بارگاہ میں قبول فرما۔غیب سے آواز آئى: مُعین الدّین ہمارا دوست ہے، ہم نے اسے قبول کیا
    بارگاہ ِرِسالت سے ہند کی سُلطانی مل گئی
    بارگاہِ رسالت میں خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کومدینے شریف کی حاضری کاشرف ملاتونہایت اَدب واِحترام کے ساتھ یوں سلام عرض کیا:’’اَلصَّلوةُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِین وَخَاتَمَ النَّبِیِّین‘‘اس پر روضۂ اقدس سے آواز آئى:وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ یَا قُطْبَ الْمَشَائِخ
    نیزحضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو ہند کی سلطانی بھی بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی سے عطا ہوئی
    سلسلہ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجہ خواجگان، سُلطانُ الھند حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کومدینہ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی حاضِری کے موقع پر سیِّدُ الْمُرسَلین، خَاتمُ النَّبِیّین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سےیہ بشارت ملی: ”اے مُعینُ الدِّین! توہمارے دین کامُعِین(یعنی دین کا مددگار )ہے ، تجھے ہندوستان کی وِلایت عطا کی، اجمیر جا، تیرے وُجُود سے بے دینی دُور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا
    سُلطانُ الہند کا سفرِہند
    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس بشارت کے بعد ہند روانہ ہوئے اورسمرقند، بُخارا، عُروسُ البِلادبغدادشریف،نیشاپور،تبریز،اوش،اَصْفہان،سَبزوار،
    خُراسان،خرقان، اِسْتَر آباد، بَلْخ اور غزنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے ہند کے شہر اَجمیر شریف (صُوبہ راجستھان ) پہنچے اور اس پورے سفر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےسینکڑوں اَوْلیاءُاللہ اور اکابر ینِ اُمَّت سے ملاقات کى۔چنانچہ
    ہَم عصر عُلما واَوْلیا سے مُلاقات
    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بغدادِمُعلّٰی میں حضرت سَیِّدُنا غوثِ اعظم مُحْیُ الدّین سَیِّد عبدالقادرجیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کى خدمت میں حاضر ہوئے اورپانچ ماہ تک بارگاہِ غوثیہ سے اکتسابِ فیض کیا۔تبریز میں شیخ بدرُالدّین ابوسعدی تبریزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی بارگاہ سے علم کی میراث حاصل کی۔ اَصفہان میں شیخ محمود اَصْفہانى قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کے پاس حاضر ہوئےاور خرقان میں شیخ ابوسعید ابوالخیراور خواجہ ابوالحسن خرقانى قُدِّسَ سِرُّہُما النُّوْرَانِی کے مزارات پرحاضری دی۔اِسْتَرآباد میں حضرت علّامہ شیخ ناصرُ الدّین اِسْتَرآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی سے کَسبِ فیض کیا۔ ہرات میں شیخ الاسلام امام عبداللہ انصارى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے مزار کى زیارت کى اور بَلْخ میں شیخ احمد خضروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکى خانقاہ میں قیام فرمایا۔
    حاکمِ سبزوار کی توبہ
    سفرِہند کے دوران جب حضرتِ سَیِّدُناخواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گزر علاقہ سبز وار(صوبہ خُراسان رضوی ایران ) سے ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے وہاں ایک باغ میں قیام فرمایاجس کے وَسْط میں ایک خُوش نما حوض تھا۔ یہ باغ حاکمِ سبزوار کا تھا جو بہت ہی ظالم اور بدمذہب شخص تھااس کا معمول تھا کہ جب بھی باغ میں آتا تو شراب پیتا اور نشے میں خُوب شور وغل مچاتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حوض سے وضو کیا اور نوافل ادا کرنے لگے۔ مُحافظوں نے اپنے حاکم کى سخت گیرى کا حال عرض کیا اور درخواست کى کہ یہاں سے تشرىف لے جائیں کہیں حاکم آپ کو کوئى نقصان نہ پہنچادے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرا حافظ وناصر(نگہبان ومددگار) ہے۔اسی دوران حاکم باغ میں داخل ہوا اور سیدھا حوض کى طرف آیا۔ اپنی عیش و عشرت کی جگہ پرایک اجنبى درویش کو دیکھا تو آگ بگولا ہوگیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک نظر ڈالی اور اس کی کایا پلٹ دی۔ حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نظرِجلالت کی تاب نہ لاسکا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑا۔ خادموں نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے،جُونہی ہوش آیا فوراً آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قدموں میں گر کر بدمذہبیت اور گناہوں سے تائب ہوگیااور آپ کے دستِ مبارک پربیعت ہوگیا۔ پیرومُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی
    انفرادی کوشش سے اس نے ظُلم و جَورسے جمع کی ہوئی ساری دولت اصل مالکوں کو لوٹادی اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى صُحبت کو لازم پکڑلیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ ہى عرصے میں اسے فُیوضِ باطنى سے مالا مال کرکے خِلافت عطا فرمائی اور وہاں سے رخصت ہوگئے
    داتا کے مزار پرخواجہ کی حاضری
    اسی سفر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت داتا گنج بخش سَیِّدعلی ہجویری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مزاراقدس پرنہ صرف حاضری دی بلکہ مُراقبہ بھی کیااورحضرتِ سَیِّدُناداتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا خُصُوصی فیض حاصل کیا
    مزارِ پُر انوار سے رخصت ہوتے وقت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی عظمت و فیضان کا بیان اس شعر کے ذریعے کیا:
    گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
    ناقِصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
    یعنی گنج بخش داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا فیض سارے عالم پر جاری ہے اور آپ نورِخدا کے مظہر ہیں آپ کا مقام یہ ہے کہ راہِ طریقت میں جو ناقص ہیں ان کے لیے پیرِکامل اور جو خود پیرِ کامل ہیں ان کے لیے بھی راہنما ہیں۔
    تلاوتِ قرآن اور شب بیداری
    حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول تھاکہ ساری ساری رات عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتےحتی کہ عشاء کے وضوسے نمازِفجر ادا کرتے اور تلاوتِ قرآن سے اس قدرشغف تھا کہ دن میں دوقرآنِ پاک ختم فرمالیتے،دورانِ سفر بھی قرآن پاک کی تِلاوت جاری رہتی

دیگر بُزرگانِ دین اور اولیائے کاملین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی زیادہ سے زیادہ عبادتِ الٰہی بجالانے کی خاطر بہت ہی کم کھانا تناول فرماتےتاکہ کھانے کی کثرت کی وجہ سے سُستی،نیندیا غُنودگی عبادت میں رُکاوٹ کا باعث نہ بنے ،چنانچہ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ سات روز بعد دو ڈھائی تولہ وزن کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر کھایاکرتے۔
لباس مُبارک اور سادگی
اللہ والوں کی شان ہے کہ وہ ظاہری زیب و آرائش کے بجائے باطن کی صفائی پر زور دیتے ہیں۔حضرت خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے لباس مبارک میں
بھی انتہا درجے کی سادگی نظر آتی تھی آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کالباس صرف دو چادروں پرمشتمل ہوتا اوراس میں بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتےگویا لباس سے بھی سُنَّتِ مصطفٰے سے بے پناہ مَحَبَّت کی جھلک دکھائی دیتی تھی نیز پیوند لگانے میں بھی اس قدر سادگی اختیار کرتے کہ جس رنگ کا کپڑا میسر ہوتا اسی کو شرف بخش دیتے۔
پڑوسیوں سے حسن سلوک
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پڑوسیوں کابہت خیال رکھاکرتے،ان کی خبرگیری فرماتے ،اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازےکے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے،اس کی تدفین کے بعدجب لوگ واپس ہو جاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت و نجات کی دعا فرماتے نیز اس کے اہلِ خانہ کو صبرکی تلقین کرتے اور انہیں تسلی دیاکرتے۔آپ کےحلم و بُردباری جُودو سخاوت اور دیگر اخلاقِ عالیہ سے مُتأثر ہوکر لوگ عُمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے اوردہلی سے اجمیر تک کے سفر کے دوران تقریباً نَوّے لاکھ افراد مُشرف بہ اسلام ہوئے۔
عفو وبردباری
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت ہی نرم دل اورمُتحمِّل مزاج سنجیدہ طبیعت کے مالک
تھے۔اگرکبھی غصہ آتا توصرف دینی غیرت و حمیّت کی بنیاد پرآتا البتہ ذاتی طور پراگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ برہم نہ ہوتےبلکہ ا س وقت بھی حسنِ اخلاق اور خَنْدہ پیشانی کا مُظاہرہ کرتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے اورایسامعلوم ہوتا کہ آپ نے اس کی نازیبا باتیں سنی ہی نہ ہو ں۔
خوفِ خدا
حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر خوفِ خدا اس قدر غالب تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمیشہ خشیتِ الٰہی سے کانپتے اور گریہ وزاری کرتے،خلقِ خدا کو خوفِ خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے: اے لوگو!اگر تم زیرِخاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ ۔
پردہ پوشی
حضرت خواجہ قُطبُ الدّین بختیارکاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی اپنے پیرو مُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی صِفاتِ مومنانہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں کئی برس تک خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہا لیکن کبھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبانِ اقدس سے کسی کا راز فاش ہوتے نہیں دیکھا،
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کبھی کسی مُسلمان کا بھید نہ کھولتے ۔
مُرشدِ کامل کے مزار مبارَک کی تعظیم
ایک مرتبہ حضرت خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے مُریدین کی تربیت فرمارہے تھے۔ دورانِ بیان جب جب آپ کی نظر دائیں طرف پڑتی توبا ا َدَب کھڑے ہوجاتے۔تمام مُریدین یہ دیکھ کر حیران تھے کہ پیرو مُرشِد باربار کیوں کھڑے ہورہے ہیں،مگر کسی کو پوچھنے کی جُرأت نہ ہوسکی الغرض جب سب لوگ وہاں سے چلے گئے، تو ایک منظورِنظر مُریدعرض گزارہوا:حضور!ہماری تربیت کے دوران آپ نے بارہا قیام فرمایا اس میں کیا حکمت تھی؟حضرت خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: اس طرف پیرو مرشِد شَیخ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی کا مزار مبارَک ہےجب بھی اس جانب رخ ہوتا تو میں تعظیم کے لئے اُٹھ جاتا،پس میں اپنے پیر و مُرشِد کے روضہ ٔمبارَک کی تعظیم میں قیام کرتا تھا
فرمان غوثِ اعظم پر سر جُھکادیا
جس وقت حضرت سَیِّدُناغوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بغدادِ مُقدّس میں ارشاد فرمایا:قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبةِکُلِّ وَلِیِّ اللهیعنی میرایہ قدم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہرولی کی گردن
پرہے۔ تواس وقت خواجہ غریب نواز سَیِّدُنامُعینُ الدّین چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی جوانی کے دنوں میں ملک خُراسان میں واقع ایک پہاڑی کےدامن میں عبادت کیاکرتے تھے،جب آپ نے یہ فرمانِ عالی سُنا تو اپنا سرجھکالیا اورفرمایا:”بَلْ قَدَمَاکَ عَلٰی رَاْسِیْ وَعَیْنِیْ“بلکہ آپ کے قدم میرے سراور آنکھوں پر ہیں
مُریدوں کی فکر
ایک بارخواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مکہ مکرمہ کی نوربار فضاؤں میں مُراقبہ کر رہے تھے کہ ہاتفِ غیب سے آواز آئى: مانگ کیا مانگتاہے؟ ہم تجھ سے بہت خوش ہیں،جو طلب کرے گا پائے گا۔ عرض کى:یا الٰہی عَزَّ وَجَلَّ !میرے تمام مُریدوں کو بخش دے۔جواب آیا: بخش دیا۔عرض کی: مولیٰ !جب تک میرے تمام مُریدجنَّت میں نہ چلے جائیں میں جنَّت میں قدم نہ رکھوں گا۔
سُلطانُ الہندحضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی زندگی کے تقریباً ۸۱برس راہ خدا
عَزَّ وَجَلَّ میں علم دین حاصل کرنے اور مخلوق کو راہِ راست پر لانے کے لئے بسر کر دئیے بلکہ کئی کتابیں بھی تحریر فرمائیں ان میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں۔
آپ کی تصانیف

  1. انیسُ الارواح(پیرو مُرشدخواجہ عثمان ہارونی کے ملفوظات)
  2. کشف الاسرار ( تصوف کے مدنی پھولوں کا گلدستہ)
  3. گنج الاسرار(سُلطان شمسُ الدّىن التمش کى تعلیم و تلقین کےلیےلکھی)
  4. رسالہ آفاق وانفس(تصوف کے نکات پرمشتمل)
  5. رسالہ تصوُّف منظوم
  6. حدیث ُالمعارف
  7. رسالہ موجودىہ

ملفوظات
سُلطانُ الہند،خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں عقیدت مندوں اورمُریدوں کا ہر وقت ہجوم رہتاجن کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے ملفوظات کا سلسلہ جاری و ساری رہتا۔ زبانِ حقِ ترجمان سے جو الفاظ نکلتے اسے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلیفۂ اکبر و سجّادہ نشین حضرت خواجہ قُطبُ الدّىن بختیار کاکى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فوراً لکھ لیا کرتے ۔ یوں حضرت خواجہ قُطبُ الدّین بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اپنے پیرو مُرشد کے ملفوظات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دى جس کا نام ’’دلیلُ العارفین“ رکھا۔ اس گلشنِ اجمیری سے چندمہکتے پھول ملاحظہ کیجئے ۔

  1. جو بندہ رات کو باطہارت سوتا ہے،تو فرشتے گواہ رہتے ہیں اور صبح اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عرض کرتے ہیں اے اللہ
    عَزَّ وَجَلَّ !اسے بخش دےیہ با طہارت سویا تھا۔
  2. نماز ایک راز کی بات ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے،چنانچہ حدیث پاک میں آیا ہے۔اِنَّ الْمُصَلِّى یُنَاجِیْ رَبَّه
    یعنی نماز پڑھنے والا اپنے پروردگار سے راز کی بات کہتا ہے۔
  3. جوشخص جھوٹى قسم کھاتا ہےوه اپنے گھر کو ویران کرتا ہےاوراس کے گھر سے خیرو برکت اُٹھ جاتى ہے۔
  4. مصیبت زدہ لوگوں کى فریاد سننا اوران کاساتھ دینا،حاجتمندوں کى حاجت روائی کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا، اسیروں کو قید سے چھڑانا یہ باتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتى ہىں۔
  5. نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر اور برے لوگوں کی صحبت بدی کرنے سے بھی بدتر ہے۔
  6. بد بختی کی علامت یہ ہے کہ انسان گناہ کرنے کے باوُجُود بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں خود کو مقبول سمجھے۔
  7. خدا کا دوست وہ ہے جس میں یہ تین خوبیاں ہوں : سخاوت دریا جیسی، شفقت آفتاب کی طرح اور تواضع زمین کی مانند۔
    سجّادہ نشین وخُلَفا
    حُضور سَیِّدی خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے خلفا میں سب سے قریبی اورمحبوب حضرت سَیِّدُناقُطبُ الدّین بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی تھے۔ خواجہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وِصالِ ظاہری کے بعدآپ ہی سجّادہ نشین ہوئے۔
    ان کے علاوہ دیگر جلیلُ القدرخُلفامیں حضرت قاضى حمیدُ الدّىن ناگورى ،سُلطانُ التارکین حضرت شیخ حمیدُالدّىن صُوفى اورحضرت شیخ عبداللہ بیابانى(سابقہ اجےپال جوگى) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا شمار ہوتا ہے۔

جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقرَّب بندے اپنی تمام ترزندگی اس کے احکام کی بجاآوری اور اس کے ذکر میں بسر کرتے ہیں ،دُنْیوی لذّتوں اورآسائشوں کوچھوڑ کرتبلیغ واِشاعتِ دین میں گزاردیتے ہیں تواللہ
عَزَّ وَجَلَّ انہیں
بطورِ انعام آخرت میں تو بلندوبالا دَرَجات اور بے شُمار نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہی ہے لیکن دنیا میں بھی ان کے مقام و مرتبے کو لوگوں پر ظاہر کرنے کےلئے کچھ خَصائص وکرامات عطافرماتاہے۔خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کوبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے شُمار کرامات سے نوازرکھا تھا آئیے ! ان میں سے چند کرامات پڑھئے اور اپنے دلوں میں اولیائے کرام کی محبت کو جگائیے !
﴿1﴾مُرد ہ زند ہ کرد یا
ایک بار اجمیر شریف کے حاکم نے کسی شخص کو بے گناہ سُولی پر چڑھا دیا اور اُس کی ماں کو کہلا بھیجا کہ اپنے بیٹے کی لاش لے جائے۔ دُکھیاری ماں غم سے نڈھال ہوکر روتی ہوئی حضرت خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئی اور فریادکرنے لگی : آہ! میراسَہارا چھن گیا، میرا گھر اُجڑ گیا، میرا ایک ہی بیٹا تھا حاکمِ نے اُسے بے قُصور سُولی پر چڑھادیا ۔ یہ سن کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جلال میں آگئے اورفرمایا: مجھے اس کی لاش کے پاس لے چلو۔جونہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لاش کے قریب پہنچے تو اشارہ کرکے فرمایا: اے مقتول! اگر حاکمِ وقت نے تجھے بے قُصُور سُولی دی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے اُٹھ کھڑا ہو۔ لاش میں فوراً حرکت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔
﴿2﴾عذابِ قبر سے رِہائی
حضرتِ سَیِّدُنا بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُنا خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک مُرید کے جنازے میں تشریف لے گئے، نَمازِ جنازہ پڑھا کراپنے دستِ مبارَک سے قَبْر میں اُتارا۔ تدفین کے بعدایک ایک کرکے سب لوگ چلے گئے مگرحُضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قَبْر کے پاس تشریف فرما رہے۔ اچانک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غمگین ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زَبان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعاٰلَمِیْنَ جاری ہوا اور آپ مطمئن ہوگئے۔ میرے اِسْتِفْسار پر فرمایا:اس کے پاس عذاب کے فرشتے آگئے تھے جس کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا اتنے میں میرے مُرشِدِ ِگرامی حضرتِ سیِّدُنا خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی تشریف لائے اور فِرِشتوں سےکہا: یہ بندہ میرے مُرید مُعین الدّین کا مُرید ہے، اس کو چھوڑ دو۔ فِرِشتوں نے کہا:یہ بَہُت ہی گنہگار شخص تھا۔یکایک غیب سے آواز آئی: اے فِرِشتو! ہم نے عثمان ہاروَنی کے صدقے مُعینُ الدّین چشتی کے مُرید کو بَخْش دیا۔
﴿3﴾چھاگل میں تالاب
حُضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چند مُرید ایک بار اجمیر شریف کے مشہور تالاب اَنا ساگر پرغسل کرنے گئے تو کافروں نے شور مچا دیا کہ یہ مسلمان
ہمارے تالاب کو” ناپاک“ کررہے ہیں۔ چُنانچِہ وہ حضرات لَوٹے اورسارا ماجرا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں عرض کردیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خادم کو چھاگل(پانی رکھنے کا مٹی کا برتن) دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اس میں تالاب کا پانی بھر لاؤ۔خادِم نےجونہی پانی بھرنے کے لئے چھاگل تالاب میں ڈالاتواس کا سارا پانی چھاگل میں آگیا۔لوگ پانی نہ ملنے پر بے قرار ہوگئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ سراپا کرامت میں حاضِر ہو کر فریاد کرنے لگےچُنانچِہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خادِم کو حکم دیا کہ جاؤ اور پانی واپَس تالاب میں اُنڈَیل دو۔ خادِم نے حکم کی تعمیل کی تو اَنا ساگر پھر پانی سے لبریز ہوگیا۔
﴿4﴾اللہ والوں کا تصرُّف
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اىک مُرید راجہ کے ہاں ملازم تھا۔ راجہ کو جب اپنے اس ملازم کےاسلام لانے کی خبر ہوئی تو اس پرظلم کرنے لگا۔ حضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو پتا چلا تو آپ نے راجہ کو ظلم سے باز رہنے کا حکم بھیجا لیکن وہ ظالم وجابرشخص اقتدار کے نشے میں مست تھا کہنے لگا:یہ کون آدمى ہےجو یہاں بیٹھ کرہم پرحکم چلارہا ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خبر پہنچی تو فرمایا:ہم نے اسے گرفتار کرکے لشکر اسلام کے حوالے کردیا۔ ابھی چندہی دن گزرے تھے کہ سُلطان مُعز الدّین محمد
غورى نے اس شہر پر حملہ کردیا۔ راجہ اپنی فوج کے ہمراہ مقابلہ کرنے آیامگر لشکرِ اسلام کی جُرأت و بہادری کے آگے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا بالاخر ہتھیار ڈال کر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوااور سپاہیوں نے اُسے زندہ گرفتار کرکے انتہائی ذِلت کے ساتھ سلطان غوری کے سامنے پیش کردیا۔
﴿5﴾ہر رات طوافِ کعبہ
حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کوئی مُرید یا اہلِ محبت اگرحج یا عمرہ کی سعادت پاتا اور طوافِ کعبہ کے لئے حاضر ہوتا تودیکھتا کہ خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ طواف ِ کعبہ میں مشغول ہیں ،اُدھر اہلِ خانہ اور دیگراحباب یہ سمجھتے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے حجرے میں موجود ہیں۔ بالآخر ایک دن یہ راز کُھل ہی گیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیت ُاللہ شریف حاضر ہوکر ساری رات طواف ِکعبہ میں مشغول رہتے ہیں اور صبح اَجمیر شریف واپس آکرباجماعت نمازِ فجر ادا فرماتے ہیں۔
﴿6﴾انوکھا خزانہ
حضرت سَیِّدُناخواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے آستانہ مُبارکہ پر روزانہ اس قدرلنگر کااہتمام ہوتا کہ شہر بھر سے غُرباو مَساکىن آتے اور سیرہو کر کھاتے۔
خادم جب اَخْراجات کے لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں دست بستہ عرض کرتاتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مُصلّے کا کنارہ اُٹھادیتے جس کے نیچے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے خزانہ ہی خزانہ نظر آتا۔چنانچہ خادم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حکم سے حسبِ ضرورت لے لیتا ۔
وصالِ پُر ملال
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کی شب بعض بزرگوں نے خواب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:میرے دین کا مُعین حسن سَنْجری آرہا ہے میں اپنے مُعینُ الدّین کے اِستقبال کے لیے آیا ہوں۔چنانچہ۶رجبُ المرجب ۶۳۳ھ بمطابق 16 مارچ 1236ء بروز پیر فجر کے وقت محبین انتظار میں تھے کہ پیرومُرشد آ کر نمازِ فجر پڑھائیں گے مگر افسوس!ان کا انتظار کرنا بے سُودرہا ۔کافی دیرگزرجانے کے بعد جب خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حجرے شریف کا دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو غم کا سمندر اُمنڈ آیا،حضرت سَیِّدُنا خواجہ خواجگان سُلطانُ الہند مُعینُ الدّین حسن چشتى اجمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی وصال فرما چکے تھے۔اور دیکھنے والوں نے یہ حیرت انگیز و روحانی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نورانی پیشانی پر یہ عبارت نقش تھی:حَبِیْبُ اللهِ مَاتَ فِیْ
حُبِّ اللهِ(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محبوب بندہ محبتِ الٰہی میں وصال کرگیا)۔
مزار شريف اور عرس مبارک
سُلطانُ الھند خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی اجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا مزار اقدس ہند کے مشہورشہر اجمیرشریف (صوبہ راجستھان شمالی ہند ) میں ہے۔ جہاں ہر سال آپ کا عرس مبارک ۶رجبُ المرجب کو نہایت تُزک و اِحتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ کی نسبت سےعُرس مُبارک کو ” چھٹی شریف“ بھی کہاجاتا ہے اس عُرس میں ملک و بیرون ملک سے ہزاروں افرادبڑے جوش و جذبے سے شرکت کرکے خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔
خواجہ کے صدقے صحت یابی
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسُنَّت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: حضرت خواجہ(غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کے مزار سے بہت کچھ فُیُوض و برکات حاصل ہوتے ہیں، مولانا برکات احمد صاحب مرحوم جو میرے پیر بھائی اور میرے والد ماجد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگرد تھے اُنہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ ایک غیرمسلم جس کے سر سے پیر تک پھوڑے تھے، اللہعَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے کہ کس قَدْر تھے ،ٹھیک دوپہر کو آتا اور درگاہ شریف کے سامنے گرم

کنکروں اور پتھروں پرلَوٹتا اور کہتا ”کھواجہ اگن(یعنی اے خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جلن) لگی ہے“۔تیسرے روز میں نے دیکھا کہ بالکل اچھا ہوگیا ہے ۔

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام پاکستان