حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام کے اس قصیدے سے فقیریاں حاصل کرتے رہتے ہیں…

ایک قصیدہ ایسا ہے جو سب سے بڑا قصیدہ ہے بڑے بڑے فقیر حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام کے اس قصیدے سے فقیریاں حاصل کرتے رہتے ہیں حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام اس حال میں تھے کہ زنجیروں میں پابند سب قافلہ لٹ چکا تھا اور غم کی تمام اقسام اور کیفیات سے گزر چکے تھے غم چھوٹے آدمی کو توڑ دیتا ہے کیونکہ ایسا انسان غم کے بوجھ سے ٹوٹ جاتا ہے لیکن اگر غم میں غم دینے والے کا خیال رہے تو پھر انسان بہت بلند ہو جاتا ہے حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ عالم کہ پابند سلاسل یاد کی اذیت میں مبتلا مگر اس حال میں بھی خیال یہ ہے کہ

       ان نلت یا ریح الصبا یوم الی ارض الحرام
       بلغ  سلامی روضتہ  فیھا  النبی  المحترم 

یعنی اے ہوا صبا کی آج کے دن میرا سلام ارض حرم جا کر اس روضے میں پہنچا جہاں حضور نبی محترم صلی اللہ علیہ و آلہ واصححابہ وسلم ہیں یہ ان کے غم کی شان ہے کہ اس حال کے اندر بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو سلام پہنچایا اور ہمیں یہ بتایا کہ ہم اس حال میں بھی سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہی کو کرتے ہیں اس غم کے واقعہ کے بعد آج اس حال میں اور اس غم میں بھی ہم سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہی کو کرتے ہیں جس نے اس حال میں سلام پہنچایا وہ پھر اس حال میں پہنچ گیا اس حال کی بات عبادت سے کہیں آگے نکل جاتی ہے حالانکہ حضرت سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام سلام کے وقت اپنا رشتہ بتا سکتے ہیں مگر ادب سے حضور نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کہا یہ ادب غم کی مکمل داستان ہے
فقیر اسی حال میں سلام کہتا ہے جس حال میں اللہ تعالیٰ نے اسے پہنچایا غم کے اندر اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والا خوشی میں اللہ تعالیٰ کو نہ بھولنے والا اپنے ہر حال میں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے والا اور شکر کرنے والا یہی تو فقیر ہوتا ہے جس نے غم کے وقت اپنی پیشانی سجدے میں رکھ دی وہ فقیری میں بہت دور نکل گیا غم ازلی عنایت ہے یہ بڑے لوگوں کو ملا کرتا ہے غم تقرب الہی ہے غم اللہ تعالیٰ کے قرب کا اعلی مقام ہے غم میں درود شریف نکلے غم میں اگر اللہ تعالیٰ کی یاد آئے سجدہ ہو اور درود شریف ہو تو سمجھو کہ غم سرفراز کر گیا

گفتگو 4 صفحہ نمبر 56 57

حضرت امام واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ