حضرت خواجہ محمدباقیب اللّہ نقش بندی #رحمۃاللّہ_علیہ

25جمادی الثانی عرس م مبارک دہلی

حضرت خواجہ محمدباقیب اللّہ نقش بندی #رحمۃاللّہ_علیہ

نامونسب:

آپکا اصل نام محمد باقی المعروف خواجہ محمد باقی باللّہ بن قاضی عبدالسلام بن قاضی عبداللّہ بن قاضی اجر (علیہم الرحمہ ) ہے۔

تاریخِ_ولادت:

آپکی ولادت با سعادت ۵/ ذوالحجہ ۹۷۱ھ بمطابق ۱۵/ جولائی ۱۵۶۴ء کو کابل (افغانستان) میں ہوئی ۔

ابتدائی_تعلیم:

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وقت کے جید عالم مولانا محمد صادق حلوائی سے حاصل کی،اور مزید تعلیم کا سلسلہ بھی آپ سے ہی جاری رکھا۔ اگرچہ مروجہ طریقہ پر علوم کی تکمیل نہ ہو سکی۔ لیکن طبعی ذکاوت اور سرورِ عالم ﷺ کے فیض سے آپ کتبِ متداولہ کے مشکل سے مشکل مقامات کو بآسانی حل فرما لیا کرتے تھے۔

بیعتوخلافت:

آپ شاہِ نقشبند حضرت بہاؤالدین نقشبند کے اویسی تھے، اور ظاہری بیعت حضرت خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگی علیہ الرحمہ سے تھی۔

سیرتوخصائص:

بچپن ہی سے بزرگی و ہمت اور تجرید و تفرید کے آثار آپ کی پیشانی سے ظاہر تھے۔ سترِ احوال، عزلت نشینی اور گمنامی آپ کا شیوہ تھا۔ آپ علماء اور سادات کا غایت درجہ احترام کرتے تھے، شرعی معاملات میں بالعموم پرہیزگار علماء و فقہاء سے رجوع فرماتے تھے، اور فتویٰ حاصل کرنے والوں کو انہی علماء کی طرف بھیجتے تھے ،اور تمام درویشوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت فرماتے تھے۔ بلکہ مرید کرنے سے زیادہ آپ شریعت کے احیاء اور تبلیغ پر زور دیتے تھے۔کسی کو بڑے اصرا ر اور طویل آزمائش کے بعد مرید کرتے تھے۔ آپ کے غلبۂ عشق الٰہی کا یہ حال تھا کہ جس پر آپ کی نظر پڑ جاتی وہ مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتا اور اگر ہوش میں رہتا تو اشکباری کرتا ورنہ بے ہوش ہوجاتا اور اس کو دنیا ومافیہا کی کوئی خبر نہ رہتی۔
آپ کی شفقت و ترحم کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ لاہور میں قحط پڑا، تو آپ اُس وقت وہاں تشریف فرماتھے، کئی دن تک کھانا نہ کھایا جس وقت کھانا سامنے رکھا جاتا فرماتے:کہ یہ انصاف سے بعید ہے کہ ایک شخص تو گلی کوچہ میں بھوک کیوجہ سے جان دے رہاہو اورہم کھانا کھائیں، ماحضر کو بھوکوں کے لیے بھیج دیتے۔آپ نہ صرف انسانوں پر رحمت و شفقت فرماتے تھے بلکہ جانوروں پر بھی بے حد شفیق تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ رات کو تہجد کے لیے اُٹھے تو ایک بلی آکر لحاف پر سو گئی۔ جب آپ نماز تہجد سے فارغ ہوکر بستر پر تشریف لائے تو بلی کو لحاف پر سوتے دیکھا اُس وقت آپ نے ازراہِ شفقت بلی کو نہیں جگایا اور خود صبح تک بیٹھے موسمِ سرما کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔
آپ کی عظمت و علو رتبہ کی شہادت میں یہی کافی ہے کہ امامِ ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی، اور محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہماالرحمہ آپکے فیض یافتہ تھے۔ آپ صرف دو تین سالہ مسندِ مشیخیت پر جلوہ افروز رہے مگر اس قلیل عرصہ میں کس قدر بندگان خدا آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوئے اور کیسی کیسی برکتیں آپ کی بدولت برصغیر پاک و ہند میں ظاہر ہوئیں۔
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ ان علاقوں میں
محدود تھا آپکی بدولت عام ہوگیا۔

وصال:

بروز ہفتہ ۲۵/جمادی الثانی۱۰۱۲ھ مطابق /۲۹ نومبر ۱۶۰۳ء کو وصال ہوا۔ آپکا مزار دہلی (انڈیا ) میں مرجعِ خاص و عام ہے۔

صاحبِِ کشف و کرامت شہِ باقی باللّہ
وقفِ رُشد و ہدایت شہِ باقی باللّہ

فناکیاہےبقاکیاہے؟

حضرت خواجہ باقی باللّه رحمۃ اللّہ علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت فنا کیا ہے بقا کیا ہے؟
آپ رحمۃ اللّہ علیہ نے فرمایا کل آنا میں کل بتاؤں گا کہ فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے.
چنانچہ وہ شخص چلا گیا اور دوسرے دن جب حضرت باقی باللّہ کی جگہ پر آئے تو دیکها لوگوں کا مجمع لگا ہوا ہے.
پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو جواب ملا کہ خواجہ باقی باللّہ وصال فرما گئے ہیں پهر پوچھا کہ انتظار کس لئے کر رہے پیں جواب ملا کہ باقی بااللّہ رحمتہ اللّہ علیہ نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد مجهے غسل دے کر میت کو رکھ دینا ایک نقاب پوش گھوڑے پہ آئے گا وہ میرا جنازہ پڑھائیں گے چنانچہ وصیت پہ عمل ہو رہا ہےوہ شخص بڑا پریشان ہوا کہ کل کا کہا اور میں آج آیا تو حضرت وصال فرما گئے ہیں پهر خیال آیا کہ جو جنازہ پڑها نے آئیں گے وہ ضرور بہت بڑی شخصیت ہوں گے اس سے پوچھوں گا.
کافی دیر بعد ایک نقاب پوش گهڑ سوار آئے انہوں نے صفیں بنوا کر جنازہ پڑھایا. اور جب وہ جانے لگے تو اس آدمی نے روک لیا اور کہا کہ حضرت باقی باللّہ سے میں نے اک سوال پوچھا کہ فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے حضرت باقی باللّہ نے جواب دیا کہ کل آنا میں آپ کو جواب دوں گا لیکن جب آج آیا تو حضرت باقی باللّہ جواب دینے سے پہلے وصال کر گئے اس لئے آپ رہنمائی فرمائیں اور اس سوال کا جواب دیں.

گهڑ سوار نقاب پوش نے یہ کہہ کر نقاب ہٹا دیا کہ باقی باللّہ کہے اور جواب نہ دے..سوال کرنے والے نے دیکها کہ نقاب پوش وہی باقی باللّہ رحمتہ اللّہ علیہ ہی تهے تب باقی باللّه رحمة اللّه عليه نےجواب دیا کہ یہ بقا ہے اور یہ (جنازہ) فنا ہے

سلطان_الفقرحضرت

سیّدناریاض احمدگوھرشاھی مدظلہ_العالٰی اولیاء کاملین کی اِسی تعلیمات کو آج کی سسکتی ہوئی انسانیت میں عام فرمارہیے ہیں اپنے اندر کی مخلوقات(لطائف)کو اللّہ کے ذکر کے نور سے جگالو تم مر بھی جاو گے یہ جسم فانی ہے نقل ہے اصل تو تمہارے اندر موجود سات روحیں اور نو ان کے خلیفہ ہیں وہ باقی رہنے والی ہیں جسم فناء ہے اور وہ روحیں بقاء ہیں

یہ تو سب مانتے ہیں نہ اصل تو وہ ہے تمہارے اندر اگر تم اصل کو جگہ لو تو اصلی ہو گئے نہ یہ تو مانتے ہیں اصل وہ ہے تمہارے اندر اگر اصل نہیں ہے تو نقلی ہوگئے نقل کا کیا اعتبار ہے نقل سے کیا فائدہ نقلیوں کی نمازیں بھی نقلی ہیں جو بہتر فرقے والے پڑھتے ہیں اصل نماز تو اس انسان کی ہے جو ربّ کے سامنے جاکر نماز پڑھتا ہے
جو تمہارے اندر اصل ہے اس کی غذا گوشت روٹی نہیں اس کی غذا اللّہ کا نور ہے جو تمہارے اس جسم نقل کے ذریعے وہ نور اندر جائیگا اس کو اہمیت یہ ہے وہ اصل
اس نقل کا محتاج ہے
آئیں فنا سے بقا کی جانب اور

ذکرِقلب حاصل کریں

عالمی روحانی تحریک
انجمن سرفروشان اسلام(رجسٹرڈ)پاکستان