حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ

اولیاء اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:
"جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا اسمِ مبارک لکھے تو اپنی انگلیوں سے پورا درود شریف لکھے – اس میں بہت بڑا ثواب اور فضیلت ہے – بعض لوگ صرف اشارہ کر دیتے ہیں جیسے مختصر کر کے "صلعم” لکھ دینا – ایسے لوگ سست، جاہل اور غافل ہیں” –

حضرت امام شمس الدین محمد بن عبدالرحمٰن السخاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
"جان لے جیسے تُو اپنی زبان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اسی طرح جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا اسم شریف لکھے تو اپنی انگلیوں سے بھی درود شریف لکھا کر کیونکہ اس میں بہت بڑا ثواب اور فضیلت ہے – اس کے ساتھ آثار کے متبعین، اخبار کے رواۃ اور حاملینِ سنت کامیاب ہوئے” –

اہلِ علم اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ کاتب جب بھی حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا نامِ نامی لکھے تو پورا درود شریف لکھے – صرف اشارہ کر دینا کافی نہیں ہے – جیسے مختصر کر کے "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” کی جگہ "صلعم” لکھ دینا –
(القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع: ۲۲۷-۲۲۸)

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
” جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا، جب تک میرا نام اس کتاب میں رہے گا فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کرتے رہیں گے” –
(الطبرانی فی الاوسط)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن لوگوں میں سے مجھ سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر زیادہ درود پاک پڑھتے ہیں” –
(ترمذی شریف: ج ۱: ۴۰۸۴)

(سبل الرشاد: دفتر ۸: صفحہ ۱۴-۱۵)