جیسے انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگ ہیں، یہ بہترین رفیق ہیں”

"اور جو بھی اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، جیسے انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگ ہیں، یہ بہترین رفیق ہیں” –
(النساء: ۶۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا:
"صادق، امین اور مسلمان تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا” –
(سلسله احاديث صحيحہ)

"جس شخص میں تین چیزیں ہوں وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور ذائقہ پا لیتا ہے:
۱- اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) باقی سب سے زیادہ محبوب ہوں
۲- کسی سے محبت ہو تو صرف اللہ کے لیے
اور
۳- کفر میں واپس لوٹ جانا (اسلام قبول۔کرنے کے بعد) اسی طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں پھینکے جانے کو ناپسند کرتا ہے” –
(متفق علیہ)

سیدنا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم! ایک آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے، لیکن ان جیسا عمل نہیں کرسکتا، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے”؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا :
"اے ابو ذر! آپ اسی کے ساتھ ہوں گے جس سے آپ کو محبت ہے”
انہوں نے عرض کیا:
"میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے محبت کرتا ہوں”
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے دوبارہ فرمایا:
"اے ابو ذر! آپ یقینا اسی کے ساتھ ہوں گے جس سے آپ محبت کرتے ہیں”

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی خدمت میں رات گزارتا تھا،
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کیلئے وضو کا پانی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی (دیگر) ضرورت (مسواک وغیرہ) کا خیال رکھتا تھا –
(ایک رات خوش ہوکر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے فرمایا:
"(کچھ دین و دنیا کی بھلائی) مانگ (مجھ سے دعا کرواؤ)”
میں نے عرض کیا:
"بہشت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی رفاقت چاہتا ہوں”
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا:
"اس کے علاوہ کوئی اور چیز”؟
میں نے عرض کیا:
"بس یہی”
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا:
"تو پھر اپنی ذات کیلئے سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو” –
(مسلم شریف)