ایک دن شیخ علی بن ہیتی رحمتہ اللہ علیہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی خانقاہ پر گئے۔۔

ایک دن شیخ علی بن ہیتی رحمتہ اللہ علیہ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی خانقاہ پر گئے تو آستانہ غوثیہ پر ایک شخص زبوں حال پڑا ہوا تھا، اس نے شیخ علیؒ کا دامن پکڑ کر کہا کہ خدار حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے میری سفارش کرو، جب شیخ علیؒ اندر پہنچے اور پیشتر اس کے کہ شیخ علیؒ اس نوجوان کے بارے میں کچھ کہتے حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا علیؒ دروازے پر جو شخص پڑا ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں، شیخ علیؒ نے اس شخص کو بشارت دی کہ تمہاری سفارش قبول ہو گئی ہے، اتنا سنتے ہی وہ شخص ہوا میں پرواز کر کے نظروں سے غائب ہو گیا جب حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے صورتحال معلوم کی گئی تو آپؓ بتایا کہ یہ نوجوان ہوا میں پرواز کرتا ہوا بغداد پر سے گزار تو اس کے دل میں خیال آیا کہ اس شہر میں میرے مثل کوئی نہیں ہے تو میں نے اس کے غرورِ نفس کو توڑنے کے لئے یہ حال کر دیا تھا۔ (نزہتہ الخاطر الفاتر صفحہ 82) گدائے غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ۔۔